AIOU Course Code 9005-1 Solved Assignment Autumn 2021

کورس: شعری اصناف: تعارف و تفہیم دوم (9005)            

سطح: بی ایس اردو

سمسٹر: خزاں 2021

امتحانی مشق نمبر 1

 

 

سوال نمبر 1: جوش ملیح آبادی کی نطم نگاری کی روشنی میں البیلی صبح کی توضیح و تشریح کریں؟

اردو کے پرجوش قادر الکلام شاعرو نثر نگار جوشؔ ملیح آبادی نے ایک علمی وادبی گھرانے میں آنکھ کھولی، ان کے دوھدیالی اور ننھیالی دونوں ہی خاندان شاعری کا ذوق رکھتے تھے۔ ان کے دادا نواب محمد احمد خان اور ان کے والد بشیر احمد خان بشیرؔ اپنے وقت کے معروف شاعر اور صاحب دیوان شعراء میں سے تھے۔ان کے پردادا کا شمار استاد شعراء میں ہوتا تھا وہ استاد ناسخ ؔ کے شاگرد تھے۔دوسری جانب جوشؔ ملیح آبادی کی ننھیال کا تعلق اردو کے معروف شاعر غالبؔ کے خاندان سے جا ملتا ہے۔ جوشؔ کی دادی کو شعر وادب سے خاص دلچسپی تھی انہیں اردو اور فارسی کے بے شمار اشعار ازبر تھے۔ اس اعتبار سے کہا جاسکتا ہے کہ جوشؔ کو شاعری ورثے میں ملی۔ جوشؔ نے 5دسمبر 1898میں ہندوستان کے شہر ملیح آباد (یوپی) میں آنکھ کھولی۔ ملیح آباد کی سرحدیں لکھنؤ سے ملتی ہیں۔ جوش ؔ کی جنم بھومی لکھنؤ سے چند میل کی مسافت پر ہے۔ اس لیے بھی لکھنؤ کے شاعرانہ اثرات کا جوشؔ پر ہونا لازمی تھا۔ جوشؔ لکھنوی تو نہیں لیکن لکھنوی انداز کے برعکس ان میں جوش، ولولہ اور انقلابی رنگ نمایاں ہے۔ کیونکہ جوشؔ خاندانی شاعر تھے، انہوں نے جوں ہی آنکھ کھولی اپنے بڑوں سے شاعری سننے کو ملی ۔ ایسے ماحول میں ان کا کم عمری میں شاعری کرنا کوئی اچنبے کی بات نہیں تھی ، جوشؔ نے نو سال کی عمر میں شاعری کی ابتدا کی۔ ابتدا میں عزیز لکھنوی سے تلمذ رہا ۔ دونوں کے درمیان استاد و شادگردی کا سلسلہ زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا ۔ اس کی وجہ جوشؔ میں ان خوبیوں ، صلاحیتوں کو پایا جانا تھا ، کچھ ان کا مزاج بھی ان کے تخلص کی مانند جوشیلااور انقلابی تھا۔ اس لیے وہ جلد ہی خود ہی اپنے استاد ہوگئے۔ جوشؔ نے ابتدائی تعلیم لکھنؤ ہی میں حاصل کی ، روایت کے مطابق اردو فارسی کی کتب گھر پر ہی مطالعہ کیں ۔ اردو، عربی اور انگریزی کے الگ الگ استادوں سے فیض حاصل کیا۔ ان کے اساتذہ میں مرزا ہادی رسوا، مولانا قدرت اللہ بیگ، مولانا نیاز علی خان ملیح آبادی اور مولانا طاہر شامل ہیں۔انہوں نے سیتا پور اسکول، جوبلی اسکول لکھنؤ ، سینٹ پیٹرز کالج آگرہ اور علی گڑھ کالج سے تعلیم حاصل کی لیکن بعض نہ گزیر حالات اور اپنی طبیعت کے باعث تعلیم مکمل نہ کر سکے۔

جوشؔ کا خاندانی نام شبیر احمد خان تھا پھر وہ شبیر حسن خان ہوگئے اور شبیر تخلص کیا کرتے تھے، وہ شبیر تو تھے ہی لیکن ان میں تو جوش و جنون تھا بھلا وہ شبیر کیسے رہ سکتے تھے ان کے اندر کے جوشیلی انسان نے ان کا تخلص شبیر سے جوشؔ میں بدل دیا۔ تخلص تبدیل کرنے کی روایت بہت پرانی ہے مرزا اسد اللہ خان غالبؔ نے بھی پہلے اسدؔ تخلص پھر غالبؔ کر لیا تھا۔ تخلص کی تبدیلی کا عمل بھی نو برس کی عمر میں واقع ہوگیا۔پہلا شعر بھی اسی عمر میں کہا۔ اس شعر میں شعر وادب کے ورثے میں ملنے کی جانب اشارہ ہے۔
شاعری کیوں نہ راس آئے مجھے
یہ مر ا فن خاندانی ہے

بات بہت سادہ اور حقیقت پر مبنی کہی ۔ جوشؔ کے خاندان میں دیگر زبانوں سے اردو میں ترجمہ کرنے کا فن چلا آرہا تھا چنانچہ جوشؔ نے بھی ترجمہ کرکے روزی کمانے کی روایت قائم رکھی۔ وہ سرکار نظام میں دار الترجمہ ناظر ادب کے عہدے پر فائز ہوئے لیکن جلد ہی اس سے علیحدگی حاصل کر لی۔یہاں سے جوشؔ کی شعری ، علمی و ادبی مصروفیات کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ 1934 میں اپنا رسالہ’کلیم ‘نکالا، یہ رسالہ دہلی سے نکالا گیا، کچھ عرصے سرکاری رسالے ’آجکل‘ کی ادارت بھی کی۔ قیام پاکستان کے وقت جوشؔ اس رسالے کی ادارت کر رہے تھے۔ اس دوران جوشؔ نے فلموں کے لیے بھی کام کیا، فلم ’من کی جیت‘ کے لیے لکھے گئے جوشؔ کے گانے بہت مشہور ہوئے۔جوش رسالہ آجکل سے وابستہ تھے ، پاکستان قائم ہوچکا تھا ، 1955میں جوش نے پاکستان ہجرت کا فیصلہ کیا، کہا جاتا ہے کہ جوشؔ کے جواہر لعل نہرو سے بہت دوستانہ تعلقات تھے، نہرو جی نے جوشؔ کو بہت منع کیا کہ وہ ہندوستان چھوڑ کر نہ جائیں لیکن جوش ؔ میں پاکستان سے محبت کا ایسا جوش اور ولولہ تھا کہ انہوں نے بھارت کو خیر باد کہا اور پاکستان ہجرت کی ۔ حالانکہ 1954میں بھارتی حکومت کی جانب سے جوشؔ کو بھارت کا امتیازی شہری اعزاز ’پدم بھوشن‘ بھی دیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود جوشؔ نے ہندوستان میں قیام کرنا پسند نہیں کیا اور وہ 1955میں پاکستان آگئے ، کراچی کو اپنا مسکن بنا یا۔

جوشؔ کی زندگی کے 88سالہ زندگی کے61سال ہندوستان میں گزرے جہاں پر انہوں نے ہوش سنبھالنے کے بعد انگریز کے خلاف اعلان جنگ جاری رکھا ، ایک مرتبہ انہوں نے انگریز کے خلاف ایک نظم ایسی لکھی کہ جس کا چرچا جگہ جگہ ہوا، انگریز نے جوشؔ کے اس عمل پر انہیں گرفتار کرنے کا سوچا لیکن پھر بعض انگریز وں ہی کہ کہنے پر ان کی گرفتاری کو مناسب نہ جانا۔انگریز کے خلاف نظم ’وطن‘ لکھی جس میں انہوں نے دنیا کے انسانوں کے لیے ایک خاندان کا تصور پیش کیا۔ جوشؔ کی یہ نظم انگریز کے خلاف بغاوت تھی ؂
ہم زمیں کو تری ناپاک نہ ہونے دیں گے

تیرے دامن کو کبھی چاک نہ ہونے دیں گے

پاکستان میں جوشؔ 27برس زندہ رہے ۔ یہاں بھی ان کے مزاج نے انہیں حکمرانوں کے خلاف شاعری کرنے پر مجبور کیا ، 1955سے 1982تک جوشؔ نے پاکستانی حکمرانوں کو للکارا، برا بھلا کہا، انہیں تنقید کا نشانہ بنا یا۔ یہ دور جنرل اسکندر مرزا، جنرل ایوب خان، جنرل محمد یحییٰ خان، اور ذوالفقار علی بھٹو کا تھا۔ مجھے اسکندر مرزا کا دور تو یاد نہیں لیکن ایوب خان اور جنرل محمد یحییٰ خان کا دور اچھی طرح یاد ہے، ایوب خان کے خلاف جوشؔ ہی نہیں بلکہ حبیب جالب بھی میدان میں تھے۔ حبیب جالب نے تو ایوب خان کو کالا ناگ تک کہا،’’دستور‘‘ حبیب جالب کی ایسی نظم تھی کہ جس نے عوام الناس کو حبیب جالب کے عشق میں گرفتار کردیا تھا۔ لاکھوں کے مجمعے میں حبیب جالب کی آواز لوگوں کے دلوں میں اتر جایا کرتی ؂
دیپ جس کا محلات ہی میں چلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا ، میں نہیں جانتا

جوش ؔ کی ایک نظم بھی ایوب خان کے خلاف بہت مقبول ہوئی ۔ وہ کچھ اس طرح تھی ؂
آپ کو آگاہ کرتا ہے یہ رندِ بادہ خوار
قلب انسان کو سڑا دیتا ہے لمسِ اقدار

جوش نے کالم نگاری بھی کی وہ روزنامہ جنگ سے منسلک ہوئے اور ’’علم و فکر ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھے۔ ان کا اولین کالم اکتوبر 1962کو شائع ہوا۔ جوش کی طویل ترین نظم ’حرفِ آخر‘ ہے ۔ جوش کی شاعری بلاشبہ اردو زبان و ادب کی آبرو میں اضافہ کرتی ہے۔ اس کی شاعرانہ عظمت سے انکار ممکن نہیں۔جوشؔ اردو کے ان شعراء متاخرین میں سے ہیں جو نظم و غزل دونوں پر یکساں عبور رکھتے ہیں۔بعض بعض نقادوں نے جوشؔ کا مقام و مرتبہ اقبال کے بعد قرار دیا ہے۔ جوشؔ کی مقبولیت اور عوامی پسندیدگی کا مقابلہ فیض ؔ اور فراز ؔ سے کیا جاتا ہے ۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اقبال کے بعد فیضؔ اور فرازؔ کو زیادہ مقبولیت و شہرت حاصل ہوئی لیکن جوشؔ کا مقام اور مرتبہ اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ بعض باتوں کی وجہ سے جوش ؔ کو حرفِ تنقید بنا یا گیا لیکن جوش ؔ کی شاعری میں جو جدت، انقلابیت اور سلاست ، روانی، صاف گوئی، بے باکی کا اظہار ہے وہ منفرد اور اعلیٰ ہے۔ کسی نے کہا کہ ان کے شاعری میں مردانگی پائی جاتی ہے۔ عشق و رندی ان کی غزل کا خاص موضوع ہے ۔ انہوں نے از خود اپنے آپ کو ھمتائے ’حافظ شیراز‘ کہا ہے ؂
آرہی ہے صدائے ھاتف غیب
جوشؔ ‘ ھمتائے حافظ شیراز
جوشؔ کا جوش دیکھئے ؂
ملا جو موقع تو روک دوں گا جلال روز حساب تیرا
پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے گا عذاب تیرا

غزل اپنی جگہ نظم میں جوش ؔ کا رتبہ زیادہ بلند دکھائی دیتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ جوشؔ نظم کے شاعر ہیں، درحقیقت جوشؔ نظم اور غزل دونوں اصنا ف شاعری پر یکساں عبور رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ شاعری میں الفاظ جوشؔ کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے رہا کرتے تھے، ان کے حافظہ میں الفاظ کا وسیع ذخیرہ تھا جنہیں وہ اس طرح استعمال میں لایا کرتے جیسے آسماں سے کہکشاں اتر رہی ہو۔ ان کی نظم البیلی صبح کا ایک شعر ؂
نظرجھکائے عروس فطرت ‘ جبیں سے زلفیں ھٹا رہی ہے
سحر کا تارا ہے زلزلے میں ‘ اُفق کی لو تھر تھرا رہی ہے
غزل کا ایک شعر ؂
مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شاید
لوگ کہتے ہیں تم نے مجھے برباد یا
جوش ؔ کی نظم ’مردِ انقلاب کی آواز‘ کاایک شعر ؂
اگرانساں ہوں ‘ دنیا کو حیراں کر کے چھوڑوں گا
میں ہر ناچیز ذرے کو گلستاں کر کے چھوڑوں گا

جوش ؔ نے88سال کی عمر میں 22فروری 1982کو داعی اجل کو لبیک کہا اور کراچی ان کا مستقر ٹہری۔ ان کے کلام سے انتخاب:
زندگی خواب پریشاں ہے، کوئی کیا جاے
موت کی لرزش مژ گاں ہے کوئی کیا جانے
وہ یار پری چہرہ کہ کل شب کو سدھار ا
طوفاں تھا ، چھلاوا تھا ، شرارا
تجھے اس سے زیادہ کوئی سمجھاہی نہیں سکتا
خدا وہ ہے جو حدِ عقل میں آہی نہیں سکتا
دنیا نے فسانوں کو بخشی افسردہ حقائق کی تلخی
اور ہم نے حقائق کے نقشے میں رنگ بھرا افسانوں کا
ہم گئے تھے اس سے کرنے شکوۂ درد فراق
مسسکرا کر اس نے دیکھا سب گلا جاتا رہا

جوشؔ پر بہت لکھا گیا ، لکھا جاتا رہے گا، صہبا لکھنوی مرحوم نے افکار کا ’جوش نمبر‘ شائع کیا اس سے قبل شاہد احمد دہلوی اپنے رسالے ’ساقی‘ کا 1963میں جوشؔ نمبر نکال چکے تھے۔ کتابوں کی تو بات ہی کیا ہے ۔ خود جوشؔ کو کثیر التصانیف شاعر و مصنف کہا جاتا ہے۔ ان کی نثر کی کتابوں میں ’یادوں کی بارات‘ کو بہت شہرت حاصل ہوئی جس کی ایک وجہ بے باکی، صاف گوئی تھی۔ وہ لغت کی ترتیب میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے لغت کی تدوین میں بھی اپناحصہ ڈالا۔ جوشؔ ایسا موضوع ہے کہ اسے ایک مضمون یا چند صفحات میں سمیٹنا نہ ممکن ہے۔ آخر میں جوش کے مجموعوں اور تصانیف کی فہرست پر اپنی بات ختم کرتا ہوں۔

جوش ؔ کی تصانیف میں روح ادب، آوازہ حق، شاعری کی راتیں، جوش کے سو شعر، نقش و نگار، شبنم شعلہ ، پیغمبر اسلام، فکر و نشاط، جنوں و حکمت، حرف و حکایت، حسین اور انقلاب، آیات و نغمات، عرش و فرش، رامش و رنگ، سنبل و سلاسل، سیف و سبو، سرور و خروش، سموم وسبا، طلوع فکر، موجد و مفکر، قطرہ قلزم، نوادر جوش، الہام و افکار، نجوم و جواہر، جوش کے مرثیے، عروس ادب ، عرفانیات جوش، محراب و مضراب، دیوان جوش شامل ہیں۔ نثری مجموعوں میں مقالات جوش، اوراق زریں، جذبات فطرت، اشارات، مقالات جوش، مکالمات جوش اور خود نوشت سوانح ’یادوں کی بارات‘ شامل ہیں۔

سوال نمبر 2: ن م راشد کی نظم سباویراں کا تنقیدی جائزہ پیش کریں؟

 ن۔م۔راشدحلقہء ار باب ذوق سے وابستہ شاعروں میں سے تھے جنہوں نے شاعر ی کو محض اصلاحی وسماجی انقلاب یا سیاسی پیغام کے لئے استعمال کرنے کے روئیے سے بغاوت کی اور اس طرح ترقی پسند تحریک کی نظریاتی شاعری سے انحراف کیا۔ان کی شاعری کا محور و مرکز انسانی حیات کی گوں نا گوں سچائیاں ہیں۔انہوں نے اردو شاعری کو نئی فکری و فنی جہتوں سے آشنا کیا اور روایتی اسلوب شاعری سے بغاوت کی۔انہوں نے خود اپنے پہلے شعری مجموعے ’’ ماورا ‘‘ میں خود کو ’’ قدیم اسالیب بیان کا ادنی ٰباغی قرار دیا ہے۔

 انہوں نے پابند نظموں سے زیادہ آزاد اور معریٰ نظم کو اپنی تخلیقی اظہار کا وسیلہ بنایا اور اس میں مختلف ہئیتی تجربے کئے۔’’ ماورا ‘‘،’’ایران میں اجنبی ‘‘ انسان ‘‘  اور ’’ گمان میں ممکن ‘‘ ان کے شعری مجموعے ہیں جو اردو شاعری میں نئی حسیت اور نئے تجربوں کی امین ہیں۔’’ رات کے سناٹے ‘‘،’’ اتفاقات ‘‘،’’ دریچے کے قریب ‘‘ ،’’ رقص ‘‘ ، انتقام ‘‘ ،’’ اجنبی عورت ‘‘،’’ نمرود کی خدائی ‘‘ راشد کی نمائندہ نطموں میں شمار کی جا تی ہیں۔ان کی نظم ’’ اتفاقات ‘‘ سے انکے شعری روئیے اور فکری جہات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

آسماں دور ہے لیکن یہ زمیں ہے نزدیک

آ اسی خاک کو ہم جلوہ گہہ راز کریں

روحیں مل سکتی نہی ہیں تو یہ لب ہی مل جائیں

آ اسی لذّت ِ جاوید کا آغاز کریں

صبح جب باغ میں رس لینے کوگر ہوا آئے

اس کے بوسوں سے ہو مدہوش سمن اور گلاب

شبنمی گھاس پہ دو پیکر یخ بستہ ملیں

اور خدا ہے تو پشیماں ہوجائے

 ان کی ایک اور نظم  ’’ دریچے کے قریب ‘‘ بھی ملاحظہ ہو۔

اسی مینار کے سائے سائے تلے کچھ یاد بھی ہے

اپنے بیکار خدا کے مانند

اونگھتا ہے کسی تاریک نہاں خانے میں

ایک افلاس کا مارا ہوا ملائے حزیں

ایک عفریت اداس

تین سو سال کی ذلّت کا نشاں

ایسی ذلت کہ نہیں جس کا مداوہ کوئی

 مذکورہ بالا دونوں نظموں میں دو الگ الگ فکری لہریں موجزن ہیں۔ایک میں ذاتی احساسات وکیفیات کا بیان ہے تو دوسرے میں سو سالوں سے ذلّت اور محرومیوں کے تاریک غار میں سوئی ہوئی قوم کا نوحہ ہے۔یہ نظم انکی سماجی وابستگی کا آئینہ ہے گو کہ وہ فرد کی آرزوئوں ،تمنّائوں اور اس کے وجودی مسائل کا ذکر بھی اپنی نظموں میں کرتے ہیں۔اس طرح وہ فرد کے ساتھ ساتھ سماج کو بھی ساتھ لے کر چلتے ہیںکیونکہ راشدؔ کا دور سیاسی انتشار اور سماجی اضطراب کا زمانہ تھا۔اُس دور میں بیک وقت کئی سیاسی ،ادبی اور سماجی تبدیلیاں پیدا ہو رہی تھیں۔لہذا، راشدؔ کے لئے ان تبدیلیوں اور تحریکوں سے منہ موڑنا ممکن نہیں تھا۔یہی وجہ ہے کہ راشدؔ کی نظموںمیں فرد کی داخلی اضطراب کے ساتھ معاشرے کا اجتماعی درد بھی فنی تقاضوں کے دائرے کے اندر ظاہر ہوتا ہے۔ان کی نظموں میں رومانی فضا بھی ملتی ہے مگر اس میں ایک اضطراب ،ایک بے چینی اور روحانی کرب کا اظہار بھی ملتا ہے اور وہ اس اضطراب اور بے چینی کی کیفیت سے کہیں دور نکل جانا چاہتے ہیں۔

میں نالہء شب گیر کے مانند اٹھوں گا

فریاد اثر گیر کے مانند ٹھوں گا

تُو وقت ِ سفر مجھ کو نہیں روک سکے گی

پہلو سے تیر کے مانندا ٹھوں گا

گھبرا کے نکل جائوں گا آغوش سے تیری

عشرت ِ گہہ سرمست و ضیا پوش سے تیری

  (نظم۔رخصت)

 یا پھر انکی یہ نظم ملاحظہ ہو جس میں وہ اسی خوابناک فضا سے نکل کر کسی انجان اور مثالی جہاں میں چلے جانے کی تمنّا کرتے ہیں۔

مرے محبوب جانے دے مجھے اس پار جانے دے

اکیلا جائوں گا اور تیر کے مانند جائوں گا

کبھی اس ساحلِ ویران پر میں پھر نہ آئوں گا

ّ  ( نظم۔خواب کی بستی)

 راشدؔ کے یہاں محبت کا رومانی تصور وہی ہے جو فیض ؔ کے یہاں ملتا ہے۔فیضؔ کے یہاں عشق سماجی ذمہ داریوں پر قربان ہو جاتا ہے۔ان کے یہاں عشق ہی سب کچھ نہیں ہے بلکہ معاشرے کی پریشانیاں اور محروی عشق پر مقدم ہے اس لئے وہ کہتے ہیں۔

اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کے راحت کے سوا

 اور وہ یہ بھی کہتے ہیں

مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ

 راشدؔ کے یہاں سماجی ذمہ داریوں کا یہی احساس اسے محبوب کی عشرت گہہ سرمست و ضیا پوش سے نکل جانے پر اُکساتا ہے مگر یہاں راشد اپنی باتیں رمز وایما  کے پردے میں کہتے ہیں۔ان نظموں میں زندگی سے فرار یا پھر ایک نئے جہان کی تلاش کا جذبہ جھلکتا ہے۔ان کی نظم  ’’ وادیء پنہاں ‘‘ میں یہی خواہش جا گزیں ہے۔

مجھ کو ہے اب تک تلاش

زندگی کے تازہ جولاں گاہ کی

اور بیزاری سی ہے

زندگی کے کہنہ آہنگ مسلسل سے مجھے

سر زمیں زیست کی افسردگی محفل سے مجھے

 یہی خواہش یہی تلاش راشد ؔ کے ذہن میں باغیانہ میلان کو جنم دیتی ہے جو ان کے ہمعصر میرا جیؔ اور بعد کے شعراء میں نظر آتا ہے۔فرسودہ روایات و عقائد کی زنجیر وں میں جکڑا ہوا یہ سماج راشدؔ کے اندر گٹھن کا احساس پیدا کرتا ہے اور وہ تمام سماجی حد بندیوں کو توڑ کر ایک ایسی دنیا میں نکل جانا چاہتے ہیںجہاں ’’ زندگی کا کہنہ آہنگ ِمسلسل ‘‘ نہ ہو اور زیست کی سر زمیں افسردہ نہ ہو۔وہ خدا کی ذات کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیںجو جدیدیت کے دور کی نمایاں خصوصیت ہے اور جنس کے تئیں بھی ایک باغیانہ رویہ اختیار کرتے ہیںجو میرا جی ؔ کے یہاں بھی ملتا ہے۔جنس میرا جی ؔ اور راشدؔ کے یہاں شجرِ ممنوعہ نہیں ہے اور نہ ہی جنسی خواہشات اور فرسٹریشن کے اظہار میں جھجھک ہے۔کیونکہ وہ جنس کو انسانی فطرت کا ایک اہم جز تصور کرتے ہیں۔اس کے گرد تقدیس کا ہالہ بُننے کے منافقانہ زاوئیے کا تمسخر اُڑاتے ہیں۔اپنی نطم ’’ حزنِ انسان ‘‘ میں وہ اپنے اسی مئوقف کا اظہار کرتے ہیں۔

آہ انسان کہ ہے وہموں کا پرستار ابھی

حُسن بے چارہ کو دھوکہ سا دیئے جاتا ہے

ذوق ِ تقدیس پہ مجبور کئے جاتا ہے

ٹوٹ جائیں گے کسی روز مرا پر کے تار

مسکرا دے کہ ہے تابندہ ابھی ترا شباب

ہے یہی حضرت یزداں کے تمسخر کا جواب

 انکی نظم’’  مکافات‘‘ میں بھی اسی فرسٹریشن کا بیباک اظہار ہے۔

دبائے رکھا ہے سینے میں اپنی آہوں کو

وہیں دیا ہے شب و روز پیچ و تاب انہیں

کیا نہیں کبھی وحشت میں بے نقاب انہیں

خیال ہی میں کیا پرورش گناہوں کو

کبھی کیا نہ جوانی سے بہرہ باب انہیں

یہ مل رہی ہے مرے ضبط کی سزا مجھکو

کہ ایک زہر سے لبریز ہے شباب مرا

فشار ِ ضبط سے بے تاب ہے رباب مرا

لو آگئی ہیں وہ بن کر مہیب تصویریں

وہ آرزوئیں کہ جن کا کیا تھا خوں میں نے

اے کاش چُھپ کے کہیں اک گناہ کر لیتا

حلاوتوں سے جوانی اپنی بھر لیتا

 راشدؔ جنس کے مذہبی تصور کو نہیں مانتے اور اسے ویشومت کے فلسفے کے زیر اثر روحانی تسکین کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

رہنے دے اب کھو نہیں باتوں میں وقت

اب رہنے دے

وقت کے اس مختصر لمحہ کو دیکھ

تو اگر چاہے تو یہ بھی جاوداںہوجائیگا

مطمئن باتوں سے ہو سکتا ہے کون؟

روح کی سنگین تاریکی کو دھو سکتا ہے کون ؟

  اور جنسی خواہشات کی تشکیل کے بعد غم کے بحر بیکراں میں سکون پیدا ہو جاتا ہے۔

تیرے سمن زاروں میں ،اٹھیں لرزشیں

میرے انگاروں کو بے تابانہ لینے کے لئے

اپنی نکہت اپنی مستی مجھکو دینے کے لئے

غم کے بحر بیکراں میں ہوگیا پیدا سکوں

  (نظم۔ ایک رات )

 لہذا،ن۔م۔راشد کی سطحی جنسیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں:

 ’’ اسی طرح ‘‘،’’ آنکھوں کے جال‘‘ ،’’ گناہ‘‘ اور عہد وفا ‘‘ میں راشد ؔ نے محبت کی مسرت کو گناہ کی لذ تک تک محدود کر دیا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ وہی شاعرجو ابتداء میں محبت کو گناہ سے کہیں زیادہ ارفع تصور کرتا ہے اور گناہ کی ’’ ہوس پرستی  ‘‘سے محبت کی ’’ پاکیزہ زندگی ‘‘کی طرف مراجعت کو ’’فردوس گم گشتہ ‘‘کی تلاش قرار دیتا ہے۔جب بعد ازاں بے اطمینانی کا شکار ہوتا ہے تو محض انتقاماً محبت پر گناہ کو فوقیت دینے لگتا ہے۔بہر حال ،راشدؔ کے یہاں محبت کو تصور سے انحراف کی صورت اختیار کر گیا ہے اور راشد ؔ کی بغاوت کا یہ ایک قابلِ ذکر غور پہلو ہے۔محبت کو ضمنی لذّت کے حصول تک محدود کرکے اور خواب و خیال کی غیر مادی دنیا کے مقابلے میں گزرتے ہوئے لمحے کی’’ ٹھوس مادیت ‘‘کو اہمیت دے کر راشد ؔ نے نہ صرف محبت کے سلسلے میں ماحول کے عم رجحانات سے بغاوت کی ہے بلکہ اس نقطہء نظر سے بھی نفی کی ہے جو مشرق میں زمانہء قدیم سے رائج رہا ہے اور جس کے تحت گزرتا ہوا لمحہ سراب محض ہے۔غور کیجئے تو راشدؔ کی اس بغاوت میں اس فرد کی سرکشی بھی دکھائی دیتی ہے جس نے مغربی تعلیم حاصل کرکے اور مغربی فکر سے آشنا ہوکر مشرقی روایات کا جوڑا اپنے کندھوں سے اتار پھینکا تھا اور روحانی مسائل سے سرو کار رکھنے کے بجائے مادے کی ٹھوس دنیا کو اہمیت دینے اور گزرتے ہوئے لمحے سے مسرت کا رس نچوڑ لینے کی طرف مائل ہو گیا تھا۔‘‘

  (نظم کی جدید کروٹیں از ڈاکٹر ازیر آغا،ص۔۴۱)

 جنس سے متعلق معاشرے کے روایتی مشرقی تصور کے علاوہ راشدؔ کے یہاں خدا سے متعلق ایک باغیانہ لہجہ ملتا ہے جو نطشے ؔسے متاثر ہے۔حلقہء ارباب ذوق اور بعد میں جدیدیت کے تحت ہونے والی شاعری میں خدا کی ذات سے متعلق تشکیک اور باغیانہ رویّہ عام تھا۔نطشےؔ نے خدا کی موت کا اعلان کر دیا تھا۔یہ دراصل سماجی انتشار،انسان کی بدحالی اور دنیا میں تباہی و بربادی پر شاعروں اور فلسفیوں کا غیر روایتی ردِّ عمل تھا۔راشد ؔ کے یہاں بھی خدا سے بغاوت کا کم وبیش یہی انداز ملتا ہے۔ ’’پہلی کرن ‘‘ ، ’’دریچے کے قریب ‘‘ ،شاعرِ درماندہ ‘‘  اور ’’ اتفاقات ‘‘ انکی ایسی ہی نظمیں ہیں۔

نہیں اس دریچے کے باہر تو دیکھو

خدا کا جنازہ لئے جا رہے ہیں فرشتے

اسی ساحر بے نشاں کا

جو مغرب کا آقا ہے مشرق کا آقانہیں

 (نظم۔پہلی کرن)

تکھے معلوم ہے مشرق کا خدا کوئی نہیں

اور اگر ہے تو سرا پردہء نسیاں میں ہے

 ( نظم۔ شاعرِ درماندہ )

 مگر وزیر آغا ،راشد کو منکر خدا نہیں مانتے تھے۔انکے خیال میں راشدؔ خدا کی ’’ ناانصافی ‘‘ کو طنز کا نشانہ بنا تے ہیں۔اس خدا مخالف روئیے کا نفسیاتی تجربہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

 ’’ یہ نہیں کہ راشد ؔخدا کے منکر ہیں۔انہوں نے اپنی بہت سی نظموں میں مغرب کے خدا کے وجود کو تسلیم اور مشرق کے خدا کا انکار کرکے دراصل خدا کی ’’ ناانصافی ‘‘ کو نشانہء طنز بنایا ہے۔تاہم یہ طنز ایک ایسے فرد کی طنز ہے جو بے اطمینانی کا شکار ہو کر انتقامی روش اختیار کرنے پر مجبور ہوگیا ہو۔ان نظموں میں راشد ؔ نے جو بات کہی ہے اس کی صداقت یا عدم صداقت سے بحث نہیں ہے۔دیکھنے کی چیزصرف اس قدر ہے کہ بات میں سمّیت کا عنصر کس قدر ہے۔اور ردِّعمل میں جذباتی انداز کا کیا عالم ہے۔میری رائے میں اگر راشدؔ کے فرد کے پیش نظر محض انتقامی جذبات کی تسکین نہ ہوتی تو وہ اس بات کا ایسے چبھتے ہوئے انداز میں ہر گز پیش نہ کرتا۔‘‘

سوال نمبر 3: اردو نظم کے اہم نام افتخار جالب، اختر حسین جعفری اور آفتاب اقبال شمیم کی نظم نگاری پر نوٹ لکھیں؟

افتخار جالب

اردو میں لسانی تشکیلات ساتھ /۶۰ کی دہائی میں ایک ایسا جارحانہ رویہ تھا ۔ جس میں ماضی کے لسانی ڈھانچے پر سوالات اٹھائے۔ اور لفظیات کے نئے آفاق کو ترتیب دیا۔ لسانی تشکیلات کی تحریک یا روّیے کی مباحث افتخار جالب نے شروع کی۔ ان کا انسانی مسائل اور لسانی لہجے میں اظہاری انسلاک نظر نہیں آتا۔ جس میں شاعری کے ابہام ابھرتے ہیں۔ ان کے خیال میں ماضی اور ناسٹلجیائی فضا اس سے متعلقہ تمام روایات اپنی موت آپ مرچکی ہے۔ ان کے خیال میں لغوی اور شعری معنئی کے فرق ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ لیکن افتخار جالب نے لغوی اور کشافی معنویت کے خلاف اپنا علم بغاوت اٹھا کر نعرہ قلندر بلند کیا کہ قواعد { گرائمر} ، اجتماعیت اور ابلاغ تک توسیع دے دی جس سے چند مغاطے بھی پیدا ہوئے۔ افتخار جالب نے کلاسکیل اردو شاعری کے لسانی کے جمالیاتی اور اظہاری لیجے کے علاوہ ترقی پسند شعریاتی زبان پر سخت تنقید کی۔ حالانکہ افتخار جالب کو جھکاو بائیں بازو کی جانب تھا ، وہ ٹریڈ یونینست تھے۔ اور ٹریڈ یونینسیت سرگرمیوں میں فعال حصہ لیتے کی پاداش میں ان کو الائید بنک نوکری سا ہاتھ دھونا پڑا۔ مگر بعد میں وہ اس نوکری پر بحا ل بھی ہو گئے تھے ۔ افتخار جالب دراصل نحوی ترکیب کو ” درہم برہم” مفہوم کہ کر نیا شعری باطن تخلیق کرنا چاہتے تھے۔ وہ معنی اور در معنی کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے۔ اور معنی میں معنی کو تلاش کرتے رہے۔ وہ زنگ آلود افکار ، فرسودہ تراکیب، رموز، پامال کلمات، بدبو دار تشبہیات اور استعاروں کے خلاف آواز اٹھائی۔ کیونکہ ان کو رومانیت کے متاثر اردو شاعری میں خون میں لتھٹرے خنجر، لاشین اور اور آسیب زدہ مریضانہ اور ٹھر کی پن نظر آتا ہے۔ اور انھون نے اس جامد اسلوب شعر اور پھیکے جذبات کے خلاف آواز بلند کی۔ مگر ان کے قبیلے میں شامل شعرا ان کی بات کو نہیں سمجھ سکے اور ایک مضوعی و واہماتی دنیا کی شاعری کرتے رہے اور اردو میں ” نئی نئی شاعری” خلق نہیں کرسکے۔ اس سلسلے مین افتخار جالب نے اپنی کتاب ” لسانی تشکیلات اور قدیم بنجر پن ‘ {۲۰۰۱} میں یہ سوال اٹھایا ہے۔”ہمارے گلوبلا ئزڈ پچھواڈے میں بوگن ویلیا کی بھولھوں بھری بیلین سے ہوتا ہے”۔ وہ اپنے خیال کی تشریح یوں کرتے ہیں۔ ” لسانی تشکیلات اساسی طور پر شعر وادب کی نیابت کرتی ہے۔ مواد کو اس ہیت میں دیکھنا رائج الوقت الحاقی محاکموں سے نجات ہی نہیں دلاتا بلکہ اس جوہر خاص کو بلا شرکت غیر ممیّز کرتا ہے “۔ اس سلسلے میں محمد علی صدیقی نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔۔ ’’ پاکستان میں نئی شاعری کے ہوا خواہ کسی ایک گروپ سے تعلق نہیں رکھتے اگر ایک گروہ پرانے علم الکلام اور متصوفانہ نظریات کی معطر فضاؤں میں رجعت کا خواہاں ہے تو دوسرا ’’ ویجنسائن ‘‘ دوست اور تجربیت دشمن ہے اور تیسرا جدید نظم کے مینی فیسٹوکی ابتدا سے کرتا ہے۔ بظاہر یہ کوئی مربوط اور منظم گروہ نہیں بلکہ لسانی تشکیلات کے متصوفانہ خیال سے پرائیویٹ طور سے لطف اندوز ہونے والا ایک متضاد گروہ ہے۔ جو تعمیر و ترقی کی قوتوں کی وضاحت پسندی اور متاثر کن طاقت کو زائل کرنے کے لئے لفظی، توصیفی اور جذبہ انگیز (Verbal, Qualitative &Emotive ) اظہار کو ہدف ملامت بناتا ہے اور خود اپنی شاعری کو ممیز کل اور جدا (Discreet, Total are individual ) قرار دے کر شعری اضافیت کے فروغ سے شعراء کو سیاسی و سماجی وابستگی کے آورشوں سے ہٹا کر خانقاہوں کے سپرد کر دینا چاہتا ہے۔” {محمد علی صدیقی،ڈاکٹر،توازن،کراچی،ادارۂ عصرِ نو،۱۹۷۶ء،ص۵۱} گئیں۔1958ء کے مارشل لاء نے خراب سیاسی نظام کو سنبھالنے کی بجائے اسے طرح طرح کے مسائل سے دو چار کر دیا۔ایک سیاسی اور فکری خلا پیدا ہو گیا جس کے نتیجے میں معاشرتی سفر کا رخ خارج سے باطن کی طرف مڑا۔موضوعات کی بجائے فنی اور لسانی بحثوں نے اہمیت حاصل کی اور انداز و اظہار میں ترسیل و ابلاغ کے مسائل نے جنم لیا۔1960ء کے قریب نئی لسانی تشکیلات کی بحث نے نظم کو زیادہ اور اس کے بعد افسانے کو متاثر کیا۔غزل پر یہ اثر قدرے کم پڑا۔ موضوعاتی طور پر یہ دروں بینی کا دور ہے۔ جلیل عالی نے لکھا ہے ۔ “بڑی تخلیقی واردات کے کثیر الجہت ثمرات میں نئی لسانی پیش رفتوں کا عمل بھی شامل ہے۔ یہاں مجھے یاد آیا کہ ۱۹۶۵۔ ۱۹۶۶ میں جب میں پنجاب یونیورسٹی میں سوشیالوجی کا طالب علم تھا، یہ لسانی تشکیلات کی بحثوں کے عروج کا زمانہ تھا۔ ان بحثوں کے بڑے آغاز کار افتخار جالب سے اکثر ملاقاتیں رہتی تھیں۔ میں طالب علمانہ بے باکی میں بہت کچھ غلط سلط بھی کہہ جایا کرتا تھا۔ اسی رو میں میں نے ایک نشست میں ان سے یہ بھی کہہ دیا کہ جناب نئی لسانی تشکیل مضامین لکھنے سے نہیں ہوتی۔ بڑی تخلیق واردات خود بخود یہ کارنامہ سر انجام دے جاتی ہے۔ آج بھی اس تحریک کے تحت لکھی ہوئی تحریروں کو دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ مثال کے طور پر بھی کہیں شعرِ اقبال، بالخصوص’ بالِ جبریل‘ کا حوالہ دکھائی نہیں دیتا۔ کیایہ بھی اپنی تخلیقی روایت سے بے اعتنائی ہی کا شاخسانہ نہیں!”
“افتخار جالب نے ساٹھ کے لگ بھگ لسانی تشکیلات تصور پیش کیا اور اس پر اردو میں اتنی ہے لے دے ہوئی جتنی کہ دریدا کے ردِ ساختیات یا ڈی کنسٹرکشن کے معاملے پر برطانوی مدرسوں نے دکھائی۔ ہر تخلیقی اور غیر روایتی تصور کی آمد مدرسوں اور مدرسانہ ذہن رکھنے والوں میں اسی نوع کا ردِ عمل پیدا کرتی ہے لیکن اس کا کیا جائے کہ وسیع تر رسائی کے وسائل پر ان چھُٹ بھیّوں کو ہی بالا دستی اور اجارہ داری حاصل ہوتی ہے اور افتخار جالب کا سا تخلیقی باطن اور اور ضمیر علی جیسی فکری و معنویتی رسائی رکھنے والے اس کا کچھ نہیں کر سکتے۔ افتخار جالب کا تصورِ لسانی تشکیلات اسی ماورائے متن کا استعارہ ہے جو ساختیات اور ردِ ساختیات کی جدلیات میں موارائے متن معنی کو دریافت کرنے اور پھر اسکے مسلسل آگے سے آگے جانے پر اصرار کرتا ہے”۔

افتخار جالب نے لسانی تشکیلات کے حوالے سے پانچ نکات اٹھائے ہیں۔
۱۔ نظم و نثر کا ظاہری اور فروعی فرق چندان اہمیت نہیں رکھتا
۲۔ نظم و نثر کا بنیادی فرق زبان کے استعمال کا فرق
۳۔ زبان کا غیر معروضی، غیر منطقی، اور جذباتی اسلوب اس کے رک وپے میں ہے۔
۴۔ زبان کا شعری باطن ہر مرتبہ تخلیق کیا جانا چاہیے
۵۔ استعارتی فلک اور الا افلاک وہ انتہائی حالت ہے جہاں ہر معنئی و مفہوم کا سلیقہ غیر معروضی قرینوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ استعاراتی فلک الافلک کو پالینے کے بعد حقیقت حال کی طرف مراجعیت لازمی ہو جاتی ہے”۔۔۔
کسی ادبی فن پارے کا اسلوبیاتی مطالعہ و تجزیہ لسانیات کی مختلف سطحوں پر معروضی ، توضیحی، تجزیاتی اور غیر تاثراتی انداز میں کیا جا سکتا ہے اور ہر سطح پر اس کے (ادبی فن پارے کے) اسلوبی خصائص کو نشان زد کیا جا سکتاہے۔ اس میں داخلیت (Subjectivity)یا ذاتی پسند و نا پسند کو ہرگز کوئی دخل نہیں ہوتا نیز اقداری فیصلوں سے بھی گریز کیا جاتا ہے ۔ لسانیات کی پہلی سطح ، صوتیات ، (آوازوں کی تشکیل اور ان کی ترتیب و تنظیم) ہے۔اس کی دوسری سطح تشکیلیات ( تشکیل و تعمیر الفاظ) اور تیسری سطح ، نحو، (فقروں اور جملوں کی ترتیب) ہے ۔ لسانیات کی چوتھی سطح، معنیات کہلاتی ہے جس میں معنی سے بحث کی جاتی ہے۔قاضی جاوید نے لکھا ہے کہ ” جالب نے ادب کی لسانی بینادوں کو اہمیت دی اور یہ تصور پیش کیا کہ ادب شاعری زبان سازی کے عمل سے وجود میں اتی ہے۔” ” لسانی تشکیلات اورقدیم بنجر ” کے صفحے پر افتخار جالب رقم طراز ہیں” ۱۹۵۱ سے ۱۹۵۷ تک لاہورکا ادبی منچ رن بھومی بنا ہوا تھا۔ گھمسان کی جنگ لڑی جاری تھی۔ ایک ادبی حلقہ جس کے علم بردار ظہیر کاشمیری، ممتاز حیسن اور قتیل شفائی وغیرہ تھے۔ یہ کہتے ہوئے سنے جارہے تھے کہ ” یہ نئی نئی شاعری کیا بلا ہے؟ سب خرافات ہے “۔ اس حوالے سے ” نوائے وقت” “امروز” ، مشرق”، ” پاکستان ٹائمز ، اور ” ڈان” کے کالموں کا انبار لگ گیا تھا۔ سلیم احمد اور احمد ہمدانی الگ گولہ باری پر تلے ہوئے تھے۔ اور انیس ناگی، جیلانی کامران اور افتخار جالب کو چومکھ لڑنا پر رہا تھا اور حلقہ ارباب ذوق کا کردار اس وقت ایک آزاد براڈ کاسٹنگ ہاوس کا تھا۔ عارف امان اور عزیز الحق { افتخار جالب کے قائد} نے حلقہ ارباب میں ہفتےوار تحریریں اور زبانی یلغار شروع کردی تھی۔ قیوم نظر، شہرت بخاری اور ناصر کاظمی نے بھی نئے شاعروں کی ٹھکائی شروع کردی تھی۔ گویا نئے شاعروں نے جن میں انیس ناگی، عباس اطہر، زاہد دار، جیلانی کامران، مبارک احمد اور دوسروں کا حال یہ تھا کہ کھائیں کدھر کی چوٹ بچائیں کدھر کی چوٹ” ۔۔۔۔ لسانی تشکیلات کا اثر نثری نظم پر بھی پڑا۔ ردتشکیلت کی نظریاتی تنقید پر بھی لسان ی تشکیلات نے گہرے اثرات ثبت کئے۔ کیونکہ یہ لسانی تشکیلات ماورائی متن کی فکری ساخت ہے۔ جو لسانی ساخت کو اپنے طور پر مسترد کرتی ہے۔ ۱۹۵۰ کی دہائی میں محی الدیں زور قادری صاحب نے اپنی کتاب ” معنئی شکن” میں اس قسم کی مباحث شروع کی تھیں۔۔ جس کا علم بہت کم لوگوں کو ہے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ لسانی تشکیلات کے مزاج میں نفی دانش اور توڈ پھوڈ کم ہوگئی ہے اور اب یہ جارحیت پسند بھی نہیں رہی۔ اور لسانی، شعری اور فکری نراجیت بھی دم توڈ چکی ہے۔۔ لسانی تشکیلات کے حوالے سے ڈاکڑ روبینہ تریں نے ایک بہتریں تحقیقی مقالہ بعنوان ” ملتان میں لسانی تشکیلات کا عمل اور دوسرے مضامین” لکھا ہے۔


اختر حسین جعفری

اختر حسین جعفری اردو کی جدید نظم کے ممتاز شاعر اختر حسین جعفری 15 اگست 1932ء کو موضع بی بی پنڈوری ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے شعری مجموعوں میں آئینہ خانہ اور جہاں دریا اترتا ہے کے نام شامل ہیں۔ وہ اردو کے جدید نظم نگاروں میں ایک اہم مقام کے حامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 2002ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا اس کے علاوہ انہوں نے اپنی تصنیف آئینہ خانہ پر آدم جی ادبی انعام بھی حاصل کیا تھا۔ 3 جون 1992ء کو اختر حسین جعفری لاہور میں وفات پاگئے اور شادمان کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے

آفتاب اقبال شمیم

آفتاب اقبال شمیم کا شمار اردو جدید نظم کے نمائندہ شعرا میں ہوتا ہے۔ آفتاب اقبال شمیم اردو نظم کے موجودہ شعرا میں بلا مبالغہ سب سے بڑے شاعر مانے جاتے ہیں۔ اور تمام عمر تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ دورانِ ملازمت ان کا قیام چین کی ایک یونیورسٹی میں بھی رہا جہاں انہوں نے چین کی ثقافت کا بغور مطالعہ کیا۔ چین کی ثقافت نے ان کی شخصیت اور ان کے فن پر گہرے نقش چھوڑے۔

وہ گورڈن کالج راولپنڈی سے تقریباً چار عشرے پڑھانے کے بعد ریٹائر ہوئے اور آج کل اسلام آباد میں مقیم ہیں۔

تصنیفات

ان کی نظموں کے کئی مجموعے شائع ہوئے

  • زید سے مکالمہ
  • فردا نژاد
  • گم سمندر
  • سایہ نورد
  • آفتاب اقبال شمیم کی تمام نظمیں
  • غیر مطبوعہ غزلیں
  • آفتاب اقبال شمیم کی تمام غزلیں۔ ردیف وار

سوال نمبر 4: نثری نظم کس طرح آزاد نظم سے مختلف ہے؟ نثری نظم پر جامع نوٹ تحریر کریں؟

’’اردو میں نثری نظم ‘‘نثری نظم اس کے نظری مباحث آغاز و ارتقاء اور اس کی شعریات کے حوالے سے پہلی با ضابطہ کتاب ہے ۔یہ کتاب بنیادی طور پر عبدالسمیع کے ایم فل کا مقالہ ہے ۔جدید شعری اصناف میں نقادوں کے درمیان شاید نثری نظم ہی سب سے زیادہ بحث کا موضوع رہی ہے ۔ابتدا سے ہی اس کی ہیئت ،صنفی جواز ،اشتقاقی جہت اور اس کے شعری طریقہ کار کو لے کر گفتگو ہوتی رہی ہے ۔اور یہ گفتگو اپنی بعض صورتوں میں خاصی دلچسپ نظر آتی ہے ۔معری ّ نظم اور آزاد نظم کو قبول کرنے کا جواز کسی نہ کسی طور پر تلاش کر لیا گیا لیکن نثری نظم ایک بالکل چونکا دینے والے تجربے کی شکل میں سامنے آئی ،یہ شاعری کے روایتی سانچوں اور عروضی پابندیوں سے آزادی کی پہلی مکمل اور واضح کوشش تھی اس لئے اس کے جواز اور عدم جواز نے ایک بڑا مکالمہ پیدا کیا ۔عبدالسمیع نے اس پورے مکالمے کو ادب و تنقید کے ایک سنجیدہ اور ذہین قاری کے طور پر مطالعے کا حصہ بنایا ہے اور اسے تجزئے کے عمل سے گزار کر صحیح صورتحال کو نشان زد کرنے کی کوشش کی ہے ۔شمیم حنفی نے اس کتاب کے حوالے سے عبدالسمیع کے بارے میں لکھا ہے کہ’’مجھے یہ دیکھ کر حیرت آمیز خوشی ہوئی کہ مواد کی تلاش و ترتیب میں وہ کسی طرح کی سہل پسندی کا شکار نہیں ہوئے ‘‘ عبدالسمیع قرأت کے عمل کے دوران نثری نظم کی شعریات اور دیگر مباحث کے حوالے سے جن نتائج تک پہونچے ہیں ان سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے لیکن جس طرح انہوں نے ایک وسیع تر سیاق میں نثری نظم کے مباحث کو مطالعے کا حصہ بنایا ہے وہ یقینا حیرت میں ڈالتا ہے ۔اس پورے عرصے میں شاید ہی نثری نظم پر کوئی ایسی با معنی گفتگو ہو جس پر عبدالسمیع کی نظر نہ گئی ہو ۔ایک بیدار مغز اور ذہین قاری کے طور پرانہوں نے چیزوں کو پڑھا ہے اور سوالات قائم کئے ہیں ۔نئے لکھنے والوں میں دور تک کوئی ایسی تحریر نہیں ملتی جو اتنے سوالات قائم کرتی ہو ۔نثری نظم کی صنف کو ابھی اتنا عرصہ نہیں ہوا ہے اس لئے اس پر ہونے والی تنقید اور اس کی شعریات کو مرتب کرنے میں ایک طرح کی جلد بازی بھی راہ پا گئی جو بجائے خود خلط مبحث کا سبب بنی ساتھ ہی شعری تصور کے ایک خاص روایتی دباؤ نے اس پورے تنقیدی ڈسکورس میں بڑی الجھنیں پیدا کیں ۔یہ عبدالسمیع کی تنقیدی بصیرت ہی ہے جو اس پوری صورتحال کو سلجھاتی ہوئی ایک نتیجے تک پہونچ جاتی ہے ۔
’’اردو میں نثری نظم ‘‘کو چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ۔باب اول :نثری نظم کے نظری مباحث ،باب دوم :نثری نظم کا آغاز،باب سوم :نثری نظم کی شعریات،باب چہارم :اردو میں نثری نظم ، اس حصے میں نثری نظم کے تاریخی ارتقا کے ساتھ نثری نظم کے ۱۵ شعرا کو بھی مطالعے کا حصہ بنا یا گیا ہے ۔اس طور پر نثری نظم کے تمام مباحث کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔نثری نظم کے نظری مباحث کے تحت نثری نظم کی تعریف نثری نظم کی اشتقاقی جہت نثری نظم کی صنفی نوعیت ،نثری نظم پر چند اعتراضات جیسے ذیلی عنوانا ت قائم کئے گئے ہیں ۔ان میں نثری نظم کی تنقید کا ایک بڑا حصہ سمٹ جاتا ہے ۔عبد السمیع اپنی طرف سے نثری نظم کی کوئی تعریف بنانے کی جلد بازی کا شکار نہیں ہوئے ہیں بلکہ وہ نثری نظم کے ناقدین کی تحریروں کے صحت مند تجزئے سے ہی کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔نثری نظم کی تعریف تک پہونچنے کیلئے انہوں نے محمد حسن ،شمس الرحمان فاروقی ،گوپی چند نارنگ ،قمر جمیل ،عبدالر شید،اورمبارک احمد کے آراء پر غور کیا ہے۔یہ جملہ عبدالسمیع کے تنقیدی رویے کی نشان دہی کرتا ہے ’’نثری نظم کی تعریف متعین کرنے سے قبل مختلف نقادوں اور ادیبوں کے خیالات کا جانناضروری ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ نثری نظم کو کس نے کس طور پر دیکھنے کی کوشش کی ہے ‘‘ظا ہری طور پر اس سے عبدالسمیع کی کوئی انفرادیت قائم نہیں ہوتی لیکن بیشتر نئے لکھنے والوں کے یہاں یہ بات معذوری کے نتیجے میں سامنے آتی ہے ،وہ دوسروں کے اقتباسات سے ہی اپنی ایک تحریر تشکیل دیتے ہیں اور صحت مند تجزئے کا فقدان بے کیفی اور اکتاہٹ پیدا کرتا ہے ۔عبدالسمیع کی اس کتاب میں موجود تمام مباحث کی پہلی بنیادی خوبی ہی یہ ہے کہ ان کے یہاں اچھے برے کو پہچاننے کا شعور ہے اور یہ شعور اپنی پوری قوت اور آداب کے ساتھ کام کرتا ہے ۔
نثری نظم کی تنقید کا بڑا حصہ اس کی لفظی ترکیب سے متعلق ہے یہاں بنیادی مسئلہ نظم اور نثر کے روایتی تصور سے پیدا ہوا ہے ۔جن لوگوں کے نزدیک نظم اور نثر کا بنیادی فرق وزن اور عروض سے قائم ہوتا ہے انہیں اس نام میں ہی تضاد نظر آتا ہے ۔نثری نظم کی اس جہت پر ناقدین برابر لکھتے رہے ہیں ۔عبدالسمیع نے اس پورے تنقیدی گفتگو کو ایک گہرے تنقیدی شعور کے ساتھ دیکھنے کی کوشش کی ہے ان کے یہ جملے دیکھئے ’’جن لوگوں نے نثری نظم کی ترکیب کو رد کرنے میں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے اگر وہ نثری نظم کے متن کو توجہ سے پڑھتے تو صورتحال زیادہ بہتر ہوتی ‘‘عبدالسمیع کا یہ تنقیدی ذہن ہمیں متاثر کرتا ہے اور چیزوں کو ایک بڑے سیاق میں رکھ کر دیکھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ساتھ ہی اپنی بات کہنے اور اختلاف کرنے کا ایک سنبھلا ہوا انداز ان کے یہاں موجود ہے۔نثری نظم کی ترکیب کے سلسلے میں وہ جس نتیجے تک پہونچتے ہیں اس سے ایک بیدار ذہن کا اندازہ ہوتا ہے ۔وہ ناصر عباس نیر کی اس با سے متفق نظر آتے ہیں کہ ’’نام رکھنا ایک ثقافتی عمل ہے جس کا مقصد اجتماعی سطح پر اس شئے کی شناخت کو رائج کرنا ہوتا ہے ‘‘ناصر عباس نیر نثری نظم کے تنقیدی کلامیے کو اشتقاقی قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ’’ساری توجہ اس صنف کی اسمیاتی اصل پر مرکوز کی گئی ہے اور اسی سے اس صنف کے شعریاتی اصول دریافت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔حیرت ہے کہ اس ضمن میں ایک سادہ سی بات فراموش کر دی گئی کہ کسی بھی شئے یا صنف کے نام اور اس کی صفات او ر شعریات میں کوئی لازمی ،منطقی اور فطری رشتہ اکثر نہیں ہوتا‘‘عبدالسمیع کے اس پورے تنقیدی اور تجزیاتی مکالمے میں ایک زندگی ہے اور چیزیں اپنی اصلی صورت میں سامنے آتی ہیں ۔
نثری نظم کے تقریبا تمام مباحث بہت الجھے ہوئے ہیں ،نہ صرف اس کی شعریات اور نظریاتی بحثوں میں بلکہ اردو میں اس کے آغاز اور عالمی تناظر کے حوالے سے بھی ناقدین کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے لیکن عبدالسمیع کی تنقید ہمیں کہیں بھی الجھن کا شکار نہیں ہونے دیتی۔عبدالسمیع نے اردو میں نثری نظم کے مسئلے کو ادبی بنیادوں کے ساتھ نفسیاتی سطح پر بھی دیکھنے کی کوشش کی ہے ۔بیشتر ناقدین اور تخلیق کاروں نے نثری نظم کے تجربے کو انشائے لطیف اور ادب لطیف سے جوڑ کر دیکھا ہے عبدالسمیع اس کی ایک وجہ یہ بھی بتاتے ہیں ـ’’ معاملہ یہ ہے کہ اکثر ناقدین شاعرانہ نثر اور نثری شاعری میں امتیاز نہیں کر سکے ۔نثری نظم اور ادب لطیف میں خلط مبحث کا اہم سبب بھی یہی ہے ‘‘شمس الرحمان فاروقی بھی نثری شاعری کو خطوط غالب ،اورآ زاد کی تحریروں ،سے جوڑ کر دیکھتے ہیں ،عبدالسمیع نے اس موقعے پر لکھا ہے ـ’’ ممکن ہے شمس الر حمان فاروقی نثری نظم کی قدامت پر اتنی اور ایسی گفتگو نہ کرتے اگر ان کے معاصر محمد حسن نے یہ دعوی نہ کیا ہوتا کہ میں ایک نئی صنف شاعری کا تجربہ کر رہا ہوں ‘‘یہی وہ جہت ہے جسے عبدالسمیع نے نفسیاتی سطح سے جوڑ کر دیکھا ہے ۔وہ نثری نظم کے حوالے سے تمام تر انتہا پسندیوں کو نشان زد کرتے جاتے ہیں ۔
اس کتاب کا سب سے توانا حصہ نثری نظم کی شعریات سے متعلق ہے۔ابتدا ہی سے ناقدین نے نثری نظم کی شعریات کی ترتیب وتعین میں دلچسپی لی ہے اور جس کثرت سے نثری نظم کے فنی مباحث پر لکھا گیا ہے جدید نظم کی کسی اور صنف و ہیئت پر ۱تنا نہیں لکھا گیا ۔در اصل نثری نظم نے نظم کے اس بنیادی تصور کو ہی زد پہنچائی تھی جس کا رشتہ بحر وزن اور عروض اور ان سے تشکیل پانے والے شعری آہنگ سے تھا ۔اس انوکھے تجربے نے اختلاف کی شدیدترین صورتیں پیدا کیں۔ہمارے یہاں پہلی بار عبدالسمیع نے با ضابطہ طور پراس پورے تنقیدی ڈسکورس کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔اس سلسلے میں ایک خاص بات یہ ہے کہ عبدالسمیع کا تنقیدی ذہن انہیں ہر قسم کی مرعوبیت سے بچاتا ہے ۔وہ صاف طور پر فاروقی کے تصور شعر کو تجزئے کے بعد تضاد کا شکار بتا تے ہیں ۔اس حصے میں نثری نظم کے آہنگ پر جو گفتگو کی گئی ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔البتہ اس جگہ پر محمد حسن کے سلسلے میں عبدالسمیع کا رویہ مناسب نظر نہیں آتا ۔وہ انہیں بچاتے ہوئے چلتے ہیں ،محمد حسن نے نثری نظم پر کئی مضامین لکھے ہیں لیکن اس کی شعری ہیئت ،عرو ض وآہنگ پرکوئی گفتگو نہیں کی حالانکہ نثری نظم کے مباحث میں یہ مسئلہ بنیادی ہے ۔عبدالسمیع ان کی اس کمزوری کو بھی ایک ذمہ دار نقاد کے رویہ سے تعبیر کرتے ہیں ۔کتاب کا آخری حصہ ہندوستان اور پاکستان دونوں شعری منظرناموں کے حوالے سے نثری نظم کی فکری ،موضوعاتی اور فنی صورتحال پر روشنی ڈالتا ہے اس حصہ میں نثری نظم کے ۱۵ تخلیق کاروں کا مطالعہ بھی شامل ہے ۔یہ حصہ پوری طرح مطمئن تو نہیں کرتا لیکن بڑی بات یہ ہے کہ پہلی بار نثری نظم کے متن کواس طور پر پڑھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *