AIOU Course Code 413-1 Solved Assignments Spring 2022

 

Course Sociology – II. 413

Assignment no 1

Semester .2022 spring

 

 

1سوال نمبر۔

معاشرتی تفاعل اور معاشرتی عمل میں کیا فرق ہے؟ مثالوں سے وضاحت کر یں۔

جواب:

معاشروں میں معاشرتی مسائل کے پیدا کرنے میں جن اسباب کا گہراؤٹل ہے ان کا مختصر جائزہ درج ذیل کیا جارہا ہے

۔ 1) معاشرتی تغیر:: معاشرتی تغیر ہر دور اور ہر معاشرے میں آتا رہا ہے اور آج بھی دنیا کے بیشتر معاشرے تبدیلیوں سے دوسپار ہیں جہاں ان تبدیلیوں کو معاشرے میں لانے میں ایک طبقہ نمایاں کردار انجام دے رہا ہے وہاں ہر معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو ان تبدیلیوں کی مخالفت کرتے ہوۓ ان تبدیلیوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتا ہے اس طرح جب معاشرے میں دومتضادطر زفکر رکھنے والے طبقے پیدا ہو جائیں تو معاشرہ کئی مسائل سے دو چار ہو جا تا ہے ۔ جن میں والدین اور اولاد کے درمیان تنازع ،اقتدار میں تنازع نوجوانوں کی بے راہ روی اور خاندانی انتشار جیسے مسائل قابل ذکر ہیں

۔ 2) صنعتی ترقی: صنعتی ترقی سے معاشرے میں کچھ ایسی تبدیلیاں آئی ہیں جو ملک کے لیے بجاۓ فائدے کے نقصان کا سبب بن جاتی میں مثال ایسے معاشرے جہاں کی معیشت کا دارو مدار زراعت پر رہا ہے صنعتوں کو فروغ دینے سے غربت، بے راز گاری اور طبقاتی کشمکش پیدا ہوگئی ہے

۔ 3) ثقافتی غلام: جن معاشروں میں ثقافق خلاء پایا جائے وہاں چند ایک مسائل پاۓ جاتے ہیں جن میں بوڑھوں کا مسئلہ، والدین اور

اولاد کے درمیان تنازعدا در نوجوانوں کی بے راہ روی جیسے مسائل قابل ذکر ہیں

۔ 4) زندگی میں پیچیدگی: جہاں تک معاشرتی زندگیا اور اس کی مصروفیات کا تعلق ہے وہ دن بدن پیچیدہ ہوتی جا رہی ہیں اوراس میں الجھنیں اور مسائل بڑھتے جارہے ہیں ۔ زندگی کی پیچیدگی کے سبب مقابلے کا رجحان بڑھ گیا ہے ۔ ہرفر وترقی کی دوڑ میں دوسرے سے سبقت لے جانا چاہتا ہے۔ بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے بھی اسے بے حد محنت اور کوشش کرنی پڑتی ہے۔ اگر وہ ترقی کی دوڑ میں مقابلے میں نا کام رہ جاۓ تو وہ شدید احساس کمتری میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو معاشرتی سرگرمیوں سے دستبردار کر لیتا ہے یا پھر اس میں باغیانہ جذبات ابھر آتے ہیں جن کے سبب و تخر یہی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگاتا ہے ۔ قوانین کی خلاف ورزیاں کرنے لگتا ہے ان حالات میں جرائم ، بے راہروی ذہنی امراض اور انتشار جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں

۔ 5) اقدارکی شکش: غیر مادی ثقافت میں تغیر سے اقدار متاثر ہوتی ہے، پرانی قدر میں اہمیت کھوتی جاتی ہیں اور ان کی جگی نئی اقدار نئے معیارات کے ساتھ انجرتی ہیں چونکہ اقدار کا گہرا تعلق مذہب اور رسم ورواج سے ہوتا ہے۔ کچھ لوگ تی اقدار کا دفاع کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ پرانی اقدار کو قائم رکھنا چاہتے ہیں

۔ 6معاشرتی انتشار کبھی بھی معاشرے میں ادارے اپنے وظائف کی ادائیگی میں ناکام رہتے ہیں جس سے افراد کی ضروریات کی تکمیل بحسن وخوبی نہیں ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف اس متعلقہ سابی ادارے میں بلکہ تمام معاشرے میں انتشار اور باتمی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ جرائم ، بے راہ روی ، سیاسی عدم استحکام ، خاندانی انتشار اور معاشی مسائل کو فروغ حاصل ہوتا ہے

۔ 7) غربت: غربت سے نہ صرف دیگر مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ غربت سے ملک کے تعمیری اور ترقیاتی منصوبے بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتے ۔ اس سے ملک میں جرائم اور بے راہ روی جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں ۔اس کے علاوہ غریب معاشروں میں شرح پیدائش بھی بلند ہوتی ہے ۔ آبادی میں اضافہ ترقی پذیر معاشروں کا نگین مسئلہ ہے

۔ 8) دیبی وشہری نقل مکانی: دیہاتیوں کی شہروں کی جانب نقل مکانی سے گوشہر وسیع ہورہے ہیں مگر ان کی آبادکاری مسئلہ بنتی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ جو مسائل پیدا ہو جاتے ہیں ان کاتعلق بھی دیہاتیوں سے ہے مثلا دیہاتی عموما ان پڑھ ہوتے ہیں اسلیئے وہ آسانی سے جرائم کا شکار ہو جاتے ہیں

۔ 9) جنگ یا سیاسی بحران: اگر حکومت یا سیاسی ادارے اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دینے سے قاصر ر ہیں تو ملک انتشار کا شکار ہو جا تا ہے ۔ لاقانونیت پھیل جاتی ہے۔ معاشرے میں منفی قوتیں بر سر کارآ جاتی ہیں جس سے معاشرے پر ضبط ختم ہو جاتا ہے اس قسم کے حالات پیدا کرنے میں جنگ کا بھی کافی پنل ہے وہ معاشرے جہاں جنگ چٹرتی ہو۔ اندرونی طور پر انتشار، باتھی اور مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ معاشی حالات پر بھی جنگ کا برا اثر ہوتا ہے۔ جنگ کے دوران ملک میں مہنگائی بڑھتی ہے۔ اشیاء کا ملنا دشوار ہو جا تا ہے ان حالات میں اسمگلنگ ، ذخیرہ اندوزی ، چور بازاری، اشیاء کی مصنوعی قلت جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں

۔ 10) شخصی انحطاط ہر معاشرہ افراد کے کردار کو منظم کرنے کے لیے کچھ اصول وقوانین نظام اقدار اور معیارات کوتشکیل دیتا ہے

جس کی ہرفردکو پابندی کرنی پڑتی ہے اگر کوئی فرد اس سے انحراف کرتا ہے تو معاشرہ اس کا محاسبہ کرتا ہے اور وہ فرد مذ ہب معاشرتی قوانین اور حکومت کی نظر میں قابل سزا ہوتا ہے جیسے شراب نوشی ، بدکاری ، بری عادات میں مبتلا ہونا اور جنسی بے راور وی ہمارے معاشرے میں شخصی انحطاط کی نشانیاں ہیں ۔

  • نسی یا ثقافتی اختلافات وہ معاشرے جہاں مختلف ثقافتوں کا وجود ہو وہاں گروہی تنازعات بصو بائیت اور اونچ نیچ اور برتری و کمتری جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں ثقافتی اختلاف کے باعث صوبائیت جیسا خطرناک مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ زبان لباس اور رسوم و رواج اور طرز زندگی کے اختلاف نے ہمارے دشمنوں کو ہمارے ملک کے ٹکڑے کرنے میں مدد دی۔ آج پاکستان کا ایک حصہ انہی اختلافات کے سبب دشمن کی سازش کا شکار ہو کر ہم سے علیحدہ ہو گیا ہے
  • ۔ 12) جسمانی اور پہنی امراض جسمانی یا ذہنی اعتبار سے بیمار افراد اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو پورا نہیں کر سکتے بلکہ ان کی کفالت اور تیمار داری دوسروں پر بوجھ بن جاتی ہے ۔ جسمانی یا ذہنی امراض میں اضافہ قومی سطح پر دیکھا جائے تو یہ پوری قوم کی ترقی اور تعمیر میںرکاوٹ بن جاتا ہے۔
  • فطری آفات: جب بھی کوئی معاشرہ فطری آفات کا شکار ہو جا تا ہے تو اس میں ایک طویل عرسے تک مسائل کی شدت کو محسوس کیا جا تا ہے ۔ سیلاب ،زلر لے ،قط اور وبائی امراض کے بچوٹنے سے آبادی کا ایک بڑا حصہ ختم ہو جاتا ہے

) رسم و رواج، روایات: بعض رسم و رواج وقت کے گزرنے کے ساتھ اپنی اہمیت کھو چکے ہوتے ہیں بلکہ وہ تکلیف دہ اور نقصان پہنچانے والی قدر میں بن جاتے ہیں مگر آباؤ اجداد کی تقلید کا رجحان نہیں اپنانے پر مجبور رکھتا ہے۔ ہندوستان ، پاکستان ، افریقہ اور آسٹریلیا کے قبائلی علاقوں میں معاشرتی زندگی میں رسم ورواج اور روایات کا کافی ڈل ہے۔ ان معاشروں میں ہمیں ایسے مسائل ملتے ہیں جن سے عوام سخت پریشان تو لگتے ہیں مگر ان سے نجات حاصل کرنا ان کے بس کی باتیں نہیں لگتی۔ ان مسائل میں جہیز ،شادی بیاہ کی رسومات پر فضول اخراجات ، مذھبی اور ثقافتی تہوار میں مختلف لوگوں پر تحائف کا تبادلہ جیسے مسائل قابل ذکر ہیں

۔ غربت:

معاشی حالات کی خرابی یا غر بت کو ماہرین عمرانیات نے بیشتر مسائل کا سبب قرار دیا ہے ۔ غربت بذات خود بھی ایک معاشرتی مسئلہ ہے ۔ اس سے نہ صرف دیگر مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ غربت سے ملک کے تعمیر اور ترقیاتی منصوبے بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتے ۔ غریب معاشروں میں افراد اپنی ضروریات کی تکمیل قانونی حدود میں نہیں کر سکتے تو وہ غیر قانونی ذرائع اپنا لیتے ہیں ۔ اس سے ملک میں جرائم اور بے راوی جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں ۔ غربت کے سبب والدین اپنے بچوں کی مناسب تعلیم وتربیت کا انتظام نہیں کر سکتے ۔ نیز غریب معاشروں میں تعلیمی اداروں شفاخانوں اور تفریح گاہوں کی کمی بھی واقع ہوتی ہے ۔ جس سے بچوں کی پرورش پر برا اثر پڑتا ہے ۔ غریب معاشروں میں یہی وجہ ہے کہ بچوں کی بے راہ روی جیسا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ غریب معاشروں میں حفظان صحت کے اصولوں کی پابندی ممکن نہیں ، لوگ تنگ و تاریک مکانوں میں رہتے ہیں ۔ ناقص غذا کھاتے ہیں اور مہلک امراض میں مبتلا ہو کر مر جاتے ہیں ۔ عمرانی تحقیق ۔ پ انکشاف یہ ہوا ہے کہ غریب معاشروں میں شرح پیدائش بلند ہوتی ہے ۔ جس کا سی سبب ہے کہ غریب کے

سبب لوگوں کو تفریح کا موقع نہیں ملتا اوران کی تفریح کا سامان بیچے ہوتے ہیں اس لئے ودان کی پیدائش نہیں روکتے ۔ آبادی میں اضافہ ترقی پذیر معاشروں کا نگین مسئلے کے ابھارنے میں غربت کا کافی میل ہوتا ہے ۔

دیہی و شہری نقل مکانی:

دیہات کی شہروں کی جانب ہجرت کا سلسلہ دن بدن بڑھتا کارہا ہے ۔ شہری زندگی کی چمک دمک اور رویے پیسے کی زیادتی کا تذکرہ دیہاتیوں کے دل میں شہر جا کر دولت مند بننے کی خواہش ابھارتا ہے اور وہ اپنی روایتی زندگی اور آبائی پیشوں کو ترک کر کے شہروں کی جانب چل پڑتے ہیں ۔ مگر ہر پہنچ کر ان کی تمام امیدوں پر اوس پڑ جاتی ہے اور انہیں زبر دست دسوار یوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ نہ صرف خود پر یشان ہوتے ہیں بلکہ ان کی موجودگی کوئی مسائل کا شکار بنادیتی ہے۔ دیہاتوں کے شہروں کی جانب نقل مکانی سے گوشہر وسیع ہورہے ہیں مگر ان کی آبادی مسئلہ بنتی جارہی ہے ۔اس کے علاوہ جو مسائل پیدا ہوتے ہیں ان کا تعلق بھی دیہاتیوں سے ہے ۔مثلا و یہاتی عموما ان پڑھ ہوتے ہیں اور کسی میدان میں مہارت نہیں رکھتے ۔ بے انتہا سادہ لوع اور اونچ نیچ کو بجھنے سے قاصر ہوتے ہیں ۔ وہ دیہات سے اپنے ذہن میں راتوں رات امیر بنے کا تصور لے کر شہروں کی جانب آتے ہیں یہاں آ کر جب انہیں ملازمت نہیں ملتی تو ان کے لیے غذا اور رہائش کا مسئلہ پیدا ہو جا تا ہے ۔ ان حالات میں عمومانہیں شہر کے گندے اور پسماندہ علاقوں میں رہنا پڑتا ہے ۔ یہاں پر انہیں جرائم کی ترغیب ملتی ہے یا انہیں جرم آلہ کار بنا کر اپنا مقصد پورا کرتے ہیں ۔ ان حالات میں وہ مجرم اور ان کے بچے بے راہ و بن جاتے ہیں ۔ ایسے لوگ جیب کترے ، پور اور سمگلر بن جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ ان دیہاتیوں کے لیے شہری اور دیہاتی زندگی کا فرق عذاب بن جا تا ہے ۔ اگر انہیں ملازمت مل بھی گئی اور ان کے معاشی سائل حل بھی ہو گئے تو عدم مطابقت کے سبب ذہنی مریض بن جاتے ہیں

 

جنگ یاسیاسی بحران:

ہر معاشرے میں امن وسکون کی بحالی اور تنظیم برقرار رکھنے کے لیے سیاسی استحکام لازمی ہوتا ہے اگر حکومت یا سیاسی ادارے اپنی ذمہ داریوں کو حسن و خوبی انجام دینے سے قاصر رہیں تو ملک انتشار کا شکار ہو جا تا ہے ۔ لاقانونیت پھیل جاتی ہے ۔معاشرے میں منفی قوتیں برسر پیکار آ جاتی ہیں ۔ جس سے معاشرے پر نہ ختم ہوجا تا ہے ۔ خود غرضی اور بد کردار فراداس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کو شش کر تے ہیں ۔ جس سے جرائم بے راہ روی اور انتشار پھیلتا ہے ۔ اس قسم کے حالات پیدا کر نے جنگ کا بھی کافی پنل ہے ۔ وہ معاشرے جہاں جنگ چٹرتی ہواندرونی طور پر انتشار بقلمی اور مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں چونکہ حکومت کی پوری توجہ جنگ پر مرکوز ہوتی ہے ملکی معاملات اندرونی معاملات پر توجہ م ہو جاتی ہے ۔ اس موقع سے مجرم اور ملک دشمن عناصر نا جائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ معاشی حالات کا برا اثر پڑتا ہے ۔ جنگ کے دوران ملک میں مہنگائی بڑھتی ہے ۔ اشیاء کا نہ ملنا دشوار ہو جا تا ہے ۔ ان حالات میں سمگلنگ ، ذخیرہ اندوزی ، چور بازاری ،اشیاء کی مصنوعی قلت جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں ۔ جنگ کے خاتمے پر بھی کچھ مسائل پیدا ہو جا تے ہیں ۔ مثلا جنگ میں مرد کام آ جاتے ہیں عورتیں اور بچے بے سہارا رہ جاتے ہیں ۔ بحالت مجبوری انہیں بے راہ روی اپنانی پڑتی ہے۔

شخصی انحطاط:

ہر معاشرہ افراد کے کردار کو نظم کرنے کے لیے کچھ اصول و قوانین نظام اقدار اور معیارات کو تشکیل دیتا ہے ۔ جس کی ہرفرد کو پابندی کرنی پڑتی ہے۔ اگر کوئی فردان سے انحرف کرتا ہے تو معاشرہ اس کا محاسبہ کرتا ہے اور وہ فرد مذہب معاشرتی قوانین اور حکومت کی

نظر میں قابل سزا ہو تا ہے ۔ جیسے شراب نوشی ، بدکاری ، بری عادت میں بہتا ہونا ۔ جنسی بے را ورودی ہمارے معاشرے میں بھی انحطاط کی نشانیاں ہیں اور ایسا فرد قابل مذمت اور قابل سزا ہے ۔ یہاں اس بات کا ذکر اہم ہے کہ اچھائی یا برائی کے معیارات ہر معاشرے میں مختلف ہوتے ہیں یا وہ کر کردار جو ایک معاشرے میں انحطاطی کردار ہے۔ وہی کر دار دوسرے معاشرے میں نارمل اور قابل قبول ہوتا ہے اور وہاں کے معاشرتی تقاضے جو ایک فرد سے متوقع ہوں مختلف ہوتے ہیں ۔ مثلا خواتین میں جنسی بے راہ روی یا مردوں سے میل جول ہمارے معاشرے میں تو نا پسند کیا جا تا ہے جب کہ کہ بات امریکہ یا انگلستان میں قابل قبول ہے بھی انحطاط عام ہو جائے تو معاشرے میں بے راهروی ، جرائم، اخلاقی گراوٹ اور انتشار جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔

جسمانی و ذہنی امراض

جسمانی و چینی اعتبار سے بیمار افراد اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو پورانہیں کر سکتے بلکہ ان کی کفالت اور تیمارداری دوسروں پر بوجھ بن جاتی ہیں ۔اگر خاندان کا سر پرست بیمار ہو جاۓ تو خاندان کی کفالت مسئلہ بن جاتی ہے ۔ اگر ماں پیار ہو جاۓ تو پورے گھر کا نظام درہم برہم ہو جا تا ہے ۔ بچوں کی تربیت دیکھ بھال متاثر ہوتی ہے ۔ اسی طرح پانچ یا پیار بچے بھی والدین کے لیے باعث رنج و پر یشانی بنے رہتے ہیں ۔ جن کا والد ین کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے اور وہ دیگر ذمہ داریوں کو حسن و خوبی انجام نہیں دے سکتے۔ جسمانی و ذہنی امراض میں اضافہ قومی سطح پر دیکھا جائے تو قوم کی تعمیر وترقی میں رکاوٹ بن جاتا ہے ۔اس لیے وہ افراد جو جسمانی و ہنی طور پر کام کے قابل نہیں نہ صرف یہ کہ ملک کی تعمیر وترقی میں حصہ نہیں لے سکتے۔ بلکہ ان کے علاج یاد کچھ بھال کا ہو تو حکومت کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات میں بچوں کی بے راہ روی ، جرائم ، بیروزگاری اور خواتین کی بے راہ روی جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ فطری آفات: جب بھی کوئی معاشرہ فطری آفات کا شکار ہوتا ہے تو اس میں ایک طویل عرصے تک مسائل کی شدت کو تسوس کیا جا تا ہے سیلاب زار لے ،قحط اور وبائی امراض کے پھوٹنے سے آبادی کا ایک حصہ ختم ہو جا تا ہے ۔ پیداور ار اور صنعتیں متاثر ہوتی ہیں کام کرنے والوں کی کمی کے سبب روز مرہ زندگی کے کاموں میں خلل پیدا ہو ہوتا ہے۔ بے گھر افراد کی آبادکاری کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے ۔ جرائم کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے ۔ جسمانی اور ذہنی امراض کی تعداد میں اضا رے کی از سر نو تمیر تشکیل میں ایک طویل عرصے تک کوشش اور جد و جہد کرنی پڑتی ہے۔

فطری آفات:

جب بھی کوئی معاشرہ فطری آفات کا شکار ہوتا ہے تو اس میں ایک طویل عرصے تک مسائل کی شدت کو تسوس کیا جا تا ہے سیلاب زار لے ،قحط اور وبائی امراض کے پھوٹنے سے آبادی کا ایک حصہ ختم ہو جا تا ہے ۔ پیداور ار اور صنعتیں متاثر ہوتی ہیں کام کرنے والوں کی کمی کے سبب روز مرہ زندگی کے کاموں میں خلل پیدا ہو ہوتا ہے۔ بے گھر افراد کی آبادکاری کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے ۔ جرائم کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے ۔ جسمانی اور ذہنی امراض کی تعداد میں اضا رے کی از سر نو تمیر تشکیل میں ایک طویل عرصے تک کوشش اور جد و جہد کرنی پڑتی ہے۔

رسم ورواج ،روایات:

عام زندگی کے ووطریقے جو کسی زمانے میں آباؤ اجداد کی نظر میں ناپسند تھے۔ نسل درنسل ہو بغیر کسی تبدیلی کے اپنا لئے جاتے ہیں ۔ ان طریقوں کو رسم ورواج کا نام دے کر ہر معاشرہ میں ہر فر دکوان کا پابند بنایا جا تا ہے۔ بعض رسم ورواج وقت گزرنے کے ساتھ اپنی اہمیت کھو چکے ہوتے ہیں ۔ بلکہ وہ تکلیف دو اور نقصان پہنچانے والی قدر میں بن جاتے ہیں مگر آباؤ اجداد کی تقلید کا رمان انہیں اپنانے پر مجبور رکھتا ہے۔ ہندوستان ، پاکستان ،افریقہ، آسٹریلیا کے قبائلی علاقوں میں معاشرتی زندگی میں رسم ورواج ، روایات کا کافی ل ہے ان معاشروں میں ہمیں ایسے مسائل ملتے ہیں جن سے عوام سخت پریشان تو لگتے ہیں مگر ان سے نجات حاصل کرنا ان کے بس کی بات نہیں لگتی ۔ ان مسائل میں جینیر شادی بیاہ کی رسومات پر فضول اخراجات ، مذہبی اور ثقافتی تہوار رمیں مختلف موقوع پر تحائف کا تبادلہ جیسے قابل ذکر ہیں

سوال نمبر :02۔

شماریات کی تعریف کر یں نیز عمرانی تحقیق میں شماریات کی اہمیت وضرورت بیان کریں؟

۔ جواب:

سماجی اعداد وشمار سماجی ماحول میں انسانی رویے کا مطالعہ کرنے کیلئے اعدادو شار کی پیمائش کے نظام کا استعمال ہے۔ یہ پولنگ کے ذرا یہ لوگوں کے ایک گروہ کے ذرایہ پورا کیا جا تا ہے لوگوں کے گروپ کے بارے میں ذیلی سیٹ کا جائزہ لینے یالوگوں اور ان کے طر زیمل سے متعلق اعدادو شمار کے مشاہدے اور اعداد وشمار کے تجزیہ کی طرف سے پورا کیا جاسکتا ہے۔ سوشل سائنسدان بہت سے مقاصد کیلئے سابی اعدادوشمار کا استعمال کرتے ہیں بشمول

:۔ ا کسی گروپ یا عظیم کو دستیاب خدمات کی کیفیت کا انداز و

۔ ۲) ان کے ماحول اور خاص حالات میں لوگوں کے گروپوں کے طر زیمل کا تجزیہ۔

۳) اعدادوشمار کے نمونے کے ذراید لوگوں کی خواہش کا تعین ۔ اعداد وشار اور اعدادو شارکا تجربی سمابی سائنس کی ایک اہم خصوصیت بن چکی ہے۔ اعداد و شار معیشت ،نفسیاتی سیاسی سائنس میں اعدادوشمار کے استعمال اور قدر کے بارے میں بحث ہے ۔ پکچھ اعدادوشمار سیاسی جماعتوں کے پالیسی کے نتائج سے متعلق سوالات کے ساتھ جو جبیر طاقت پر زور دیتے ہیں کہ غرمتحکم اعداد وشمار کے طریقوں جیسے آسان اور متعد دلگیری رجعت کی اجازت دیتے ہیں ۔ در حقیقت ایک اہم محاصرہ جوستایی سائنسدانوں کا حوالہ دیتے ہیں لیکن اکثر بھول جاتے ہیں یہ ہے کہ رابطے کی وجہ سے ارتکاب نہیں ہوتا۔ اعداد وشمار کا استعمال ساجی علوم میں بہت وسیع ہو چکا ہے کہ بہت سے یو نیورسٹیوں جیسے ہارورڈ نے کمیٹر یوسوشل سائنس پر توجہ مرکز کی ہے ہارورڈ کے انسٹی ٹیوت برائے کمانٹیٹو سوشل سوسائی بنیادی طور پر ایسے شعبوں پر توجہ دیتا ہے جو سیاسی سائنس جیسے اعلی درجے کی تلفظ کے اعداد و شار کو شامل کرتی ہے جو بیزانین کے طریقوں کوفراہم کرتا ہے ۔ تاہم بعض ماہرین نے اس حقیقت کو محسوس کیا ہے کہ اس کے اعداد وشمار کے دعوی میں اضافہ ہوا ہے

ساجی سائنس میں اعداد و شمار کے طریقوں کی مقدار سماجی علوم میں استعمال تکنیکوں اور تصورات میں شامل ہیں۔

تعمیراتی مساوات ماڈلنگ اور منصر کا تجزیہ

ملٹی ماڈل

کلسٹر تجزیہ

لیٹ کلاس ماڈل

شے عمل کے اصول

سروے کے طریقے کار اور سروے کے نمونے

سا حیولو جی میں شامل ہے کہ ساج ریحان ،استحصال جغرافیائی ،اداس منعتی ،ارتقا ان کی وضاحت کرنے کیلئے موزوں نظریات کی شناخت کرنا۔ شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ تم ان نظریات کو ملی تجربے کے تابع کرتے ہیں ایک مثال کے طور پر دیکھتے ہوۓ جس میں ایک نظر یہ یا پیٹ نہیں ہو تا ہم کسی مخصوص نظریہ کیلئے اس کے خلاف مقدمہ قائم کرنے اور اس طرح سے کس طرح و نیا کا کام کرتا ہے کو مجھے میں بہتری پیدا کر سکتے ہیں۔ اعداد و شار کی قدر بالکل ایک نظم وضبط تک محدود نہیں ہے پبلک ہیلتھ پیشہ ور اعدادو شار کا استعمال کرتے ہوۓ اعداد وشمار کا استعمال کرتے ہیں کہ کیا بھی پروگراموں طریقوں اور ٹیکنالوجیوں کو ہدف آبادی میں سب سے زیادہ کھیل مثبت اثرات موجود ہیں مارکیٹ محققین نے اعداد و شمر کا استعمال کرتے ہوۓ معلوم کیا ہے کہ کون خرید رہا ہے۔ قانون سازوں کو شار یاتی معلومات کا استعمال میونسپل زونگ، کانگرس ریڈ یولنگ وغیرہ سے متعلق بتایج حاصل کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے ان میں بہت سے ان کے اعدادوشمار کے کاموں کوکمل کرنے کیلئے سوفٹ وئیر پروگرام ایس ایس ایس ایس ( سوشل سائنسز کے شکار یاتی پیچ ) کا استعمال کرتے ہیں ۔

سوال نمبر:03 ۔معاشرتی اقدار کی اہمیت پر روشنی ڈالیں کسی معاشرے کی بقاء کیلئے اقدار پر مل کیوں ضروری ہے؟

جواب۔

اقداران اہم اصولوں کو کہتے ہیں جن کوکوئی معاشرہ بہت اہمیت دیتا ہے ۔ یہ وہ اصول ہیں جن کی مدد سے کوئی معاشرہ اپنے افراد کے کردار اور رویوں کو کنٹرول کرتا ہے ۔ اقتدار وہ بڑے اصول ہوتے ہیں کہ جنکی مدد سے معاشرتی معمولات بنائی جاتی ہیں ۔ مثلا ہمیں کسی کی ذاتی زندگی میں مخل نہیں ہونا چاہیے ہمیں قانون پرعمل کرنا چاہیے ہمیں کمزوروں کا ساتھ دینا چا ہیے ہمیں بڑوں کی عزت کرنا چاہیے۔ ان تمام اقدار میں سے کچھ معمولات نکلتے ہیں۔ مثلا کسی کی ذاتی زندگی میں خل اندازی نہ کرنے کے معمولات یہ ہیں کہ کسی کی ذاتی چیز اس کی مرضی کے بغیر استعمال نہ کر میں اور جب کسی کے گھر جائیں تو دروازہ کھٹکھٹائیں کسی کا خط نہ کھولیں ۔ دوسری طرف قانون پر مل در آمد ایک قدر ہے اس سے نکلی معمولات کی مثالیں سڑک پر اجازت سے زیادہ رفتار سے ڈرائیونگ شدکی جائے مٹر ایک کے قوانین پر مل درآمد کیا جاے وغیرہ

معاشرتی ضبط : معاشرتی ضبط کسی گروہ یا معاشرے کویح طور پر قائم رکھنے کیلئے لوگوں کو معاشرتی معمولات پرعمل پیرا کروانے کا ایک باضابطہ ڈرایہ ہے۔

معاشرتی ضبط کا مطلب یہ ہے کہ کسی معاشرے کے لوگ یہ جان جائیں کہ معاشرتی معمولات کیا ہیں؟ اور ان پر کیسے مل کیا جاتا ہے؟ معاشرتی مقبط کیلئے ان اداروں کی ضرورت پڑتی ہے جو معاشرتی معمولات پرعمل درآمد کرواتے ہیں ۔ان میں خاندان تعلیمی ادارے، مذہبی ادارے، معاشی اور سیاسی ادارے شامل ہیں ۔ معاشرتی مسائل سے مرادا ہی حالت ہے جس میں لوگوں کی ایک بڑی اکثریت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں یا یہ ایک ایسے ناپسندید وروی کا نام ہے جس کے لوگوں کی اکثریت درست کرنا چاہتی ہے معاشرتی مسائل تب جنم لیتے ہیں جب معاشرے کے رائج کردہ قوانین سے انحراف کیا جا تا ہے معاشرتی مسائل چونکہ رائج نظام معاشرت کیلئے خطرہ ہوتے ہیں اس لئے ان کا بوقت سد باب ضروری ہوتا ہے ایسا نہ ہوتو یہ معاشرتی استحکام کو پینج رتے ہیں اور اس کے استحکام کیلئے خطرہ بن جاتے ہیں

تعلقات عامہ کے اصول:

ساجی بہبود کے اداروں میں تعلقات عامہ بہت اہمیت کے حامل ہیں اس کے ذریعے ادار داپنے مقاصد اور پروگراموں کو مجاعت سے روشناس کرتا ہے پروپیگینڈا پر بہت حد تک عوام کی مدد و تعاون کا دارو مدار ہوتا ہے خاص کر چندہ جمع کرنے کی مہم میں یہ بہت سودمند ثابت ہوتا ہے اس کا ایک مقصد ادارے کوعوام کے راۓ اور تنقید سے باخبر رکھتا ہے۔ سماجی بہبود میں تلعقات عامہ کو مندرجہ ذیل اصولوں پر پٹی ہونا چاہیے ۔

ا۔ تشہیر کا مرکز وہ گروہ ہونا چاہیے جن کو ادارہ اپنی طرف رجوع کرانا چاہتا ہے۔

۲۔ پرو پینڈ الٹریچر تیار کرتے وقت دوسرے اداروں کے پروگراموں کو ذہن میں رکھنا چاہئے ۔

۔ ادارے کے عملے کا رویہ بہت اہمیت رکھتا ہے اگر حکومتوں کی طرف سے خاطر خواہ توجہ نہ دی گئی ہوتو بہت جلد ادارہ جماعت میں غیر معروف ہو جاۓ گا ۔ رسم ورواج، روایات: عام زندگی کے وہ طریقے جوکسی زمانے میں آباؤاجداد کی نظر میں نا پسند تھے نسل درنسل ہواغیر کسی تبدیلی کے اپنا لئے جاتے ہیں ۔ ان طریقوں کو رسم ورواج کا نام دے کر ہر معاشرہ میں ہرفردکون کا پابند بنایا جاتا ہے۔ بعض رسم ورواج وقت گزرنے کے ساتھ اپنی اہمیت کھو چکے ہوتے ہیں ۔ بلکہ وہ تکلیف دہ اور نقصان پہنچانے والی قدریں بن جاتے ہیں مگر آباؤ اجداد کی تقلید کاران انہیں اپنانے پر مجبور رکھتا ہے۔ ہندوستان ، پاکستان ،افریقہ، آسٹریلیا کے قبائلی علاقوں میں معاشرتی زندگی میں رسم ورواج ، روایات کا کافی پل ہے ان معاشروں میں ہمیں ایسے مسائل ملتے ہیں جن سے عوام سخت پریشان تو لگتے ہیں مگر ان سے نجات حاصل کرنا ان کے بس کی بات نہیں لگتی ۔ ان مسائل میں جینزر شادی بیاہ کی رسومات پر فضول اخراجات ، مذہبی اور ثقافتی تہوار ، رسمیں مختلف موقوع پر تحائف کا تبادلہ جیسےقابل ذکر ہیں ۔

سوال نمبر :04۔ معاشرتی منصوبہ بندی میں رابطے کی کیا اہمیت ہے؟ رابطے کے اصول بیان کریں ؟

جواب۔

منصوبہ بندی کرتے وقت متغیر و مقاصد کے ساتھ ساتھ معاشرے کے حالات اور کم ور اوج کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ منصوبہ بندی ہر سطح پر ہونی چاہیے۔صرف او بی سی پر ہونا کافی نہیں۔ انھی منصوبہ بندی کے لیے ضروری ہے کہ وہ بھی اور سائنٹیفک ہو منصوبہ بندی کرتے وقت ذرائع وسائل کا بیج تخمینہ لگا یا جائے ۔ منصوبہ بندی کرتے وقت ضروریات زندگی میں بنیادی ضروریات کو اولیت دی جاۓ منصوبہ بندی کی بنیاد خیالات اور قیاس آرائیوں کی بجائے تحقیق پر رکھی جائے ۔ معاشرے دیگر بے جان اشیاء کی طرح جامد وساکن نہیں ہے بلکہ تغیر پذیر ہے۔ علاوہ از میں لوگ اپنے ماحول میں تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں ۔اس لئے منصوبہ بندی میں لچک ہونی چاہیے تا کہ بو وقت ضرورت تھوڑی بہت تبدیلی کی جاسکے منصوبہ بندی کرتے وقت لوگوں کی تعداد اور رائع وسائل کا تیح اندازہ لگا یا جاۓ ۔منصوبہ بندی کا طریقہ سادہ اور عام ہم ہونا چاہیے۔ منصوبہ بندی کے لیے جائز ہ شرط ہونا چاہیے۔

رابطے کی اہمیت واصول

ا۔ تشہیر کامرکز و وگر وہ ہونا چاہیے جن کو ادارو اپنی طرف رجوع کرانا چاہتا ہے۔

۲۔ پروپیگنڈ الٹریچر تیار کرتے وقت دوسرے اداروں کے پروگراموں کو ذہن میں رکھنا چاہئے ۔

۳۔ ادارے کے عملے کا رویہ بہت اہمیت رکھتا ہے اگرحکومتوں کی طرف سے خاطر خواہ توجہ نہدی گئی ہو تو بہت جلد ادارہ جماعت میں غیر  رابطے کی اہمیت واصول معروف ہو جاۓ گا۔

جماعت کے بااثر لوگوں کا تعاون ضرور حاصل کرنا چاہئے میافراد پروپیگنڈا کا اچھاذرایہ بنتے ہیں۔ 4

۵پروپیگنڈا ایک مسلسل کوشش ہے جسے پورا سال جاری رہنا چاہئے اس میں سٹاف کومبران کے علاوہ جماعت کے بااثر اور صحافت میں تجربہ کار افرادکو شامل کیا جا تا

۔ بورڈ کا فرض ہے کہ وہ تعلقات عامہ کے کاموں کا جائز ولیتار ہے اور ضروری مشور ودے۔۶6

سوال نمبر: 05۔ مندرجہ ذیل پرنوٹ لکھیں۔

الف) معاشرتی مسائل کو ابھارنے والے اسباب

  • پاکستان ایک ترقی پزیر ملک ہے اور ان تمام معاشرتی مسائل کا سامنا کر رہا ہے جو دیگر ترقی پذیرممالک کو درپیش ہیں ۔ تا ہم سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے اس کے معاشرتی مسائل اور بھی سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔ دور حاضر میں پاکستان کو بہت سارے معاشرتی مسائل کا سامنا ہے۔ جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں۔

غربت

خواتین کا کمتر معاشرتی نظام

کثرت آبادی

وسائل کی غیر مساوی  تقسیم

مہنگائی

ا سیاسی عدم استحکام

بے روزگاری

دہشتگردی

بچوں کی مشقت

نا خواندگی

ا قانونیت

پینے کیلئے صاف پانی

ابنیادی سہولیات  صحت

نسلی ولسانی اورفرقہ وارانہ اختلافات

ناانصافی

ا منشیات کا استعمال

انتقال آبادی

اسمگلنگ

ب۔ پالیسی کیسے  مرتب کی جاتی ہے؟

جب کوئی نی منصوبہ بندی کر تی ہو یا حکومت نے کسی مسئلے کا مستقل حل نکالنا ہو۔  ایسی صورت حال میں سر کردہ  رہنما اور متعلقہ افسران ان مسئلے کول کرنے کیلئے ایک جامع فریم ورک تیار کرتے ہیں اسے پالیسی کہتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected ! click on any one google Ads to copy meterial
Chat On Whatsapp
1
Scan the code
Hello!
How Can I Help You
//
Muhammad Usman
04:00 PM- 07:00 AM
//
Muhammad Rizwan
07:00 AM-04:00 PM
Chat On Whatsapp

AdBlocker Dectected

Please turn off Ad Blocker and refresh the page