AIOU Course Code 413-2 Solved Assignments Spring 2022

Course  Sociology -II( 413 )

Assignment no 2.

Semester::  2022 spring

 

 

 

سوال نمبر: 01۔ کثرت آبادی ترقی پذیر ممالک کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے کیا اسباب میں وضاحت کریں۔

 جواب:

کثرت آبادی سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے اگر چہ اللہ تعالی نے زمین کو طرح طرح کی نعمتوں اور وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن آج کے ترقیاتی یافتہ دور میں خدا کی نیمتیں بتدریج کم ہوتی جارہی ہیں اور دنیا کی ایک بڑی آبادی کو ایک وقت کی روٹی بڑی مشکل سے میسر آتی ہے ماہرین عمرانیات ، اقتصادیات و آبادیات اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ وسائل سے زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیتے ہیں بڑھتی ہوئی آبادی کا یہ سیلاب پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے کثرت آبادی کی روک تھام کے لیے چند اقدامات درج ذیل ہیں

: ا۔ عورت کے روایتی کردار میں تبدیلی:

پاکستان میں برادری نظام کی موجودگی مشترکہ خاندانی نظام اور دیگر ثقافتی اثرات کی وجہ سے معاشرے میں مردکوعورت پر فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے عورت اپنے روایتی کردار یعنی گھر اور بچوں کی پرورش تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اس تصور کوتوڑنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر ملک کی آدھی آبادی گھر میں قید ہو کر رہ جاۓ یا ایسے کام کرے جس کی نوعیت غیر پیداواری ہو تو ظاہر ہے یہ بات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور کثرت آبادی کا باعث ہے خواتین کا مجاب کر ناکسی حد تک اس مسئلے کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

خواتین کی تعلیم:

خواتین میں خواندگی کی سطح خصوصا دیہی علاقوں میں بہت کم ہے خواتین میں تعلیم کے پھیلاؤ کی افادیت کا انداز داس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ نا خواند و خواتین کی نسبت ایسی خواتین جنہوں نے تعلیم حاصل کی ہوان کے ہاں بچوں کی تعداد نصف ہوتی ہے اس لیے چھوٹے خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے اور شرح پیدائش کو کنٹرول کرنے کے لیے خواتین کی تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔

افرادی قوت کا صحیح استعمال:

افرادی قوت کا بیج استعمال بھی آبادی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جیسے کہ نو جوانوں کو ہنر سکھائے جائیں اور ان کی پیداواری صلاحیتوں کو بروے کا را یا جاۓ تا کہ بھکاری نہ بنیں اور بے کار نہ پھر ہیں

۴۔ خاندانی منصوبہ بندی کا شعور

خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد ، خاندان میں افراد کی تعداد کو خاندان کے وسائل کے مطابق رکھتا ہے نہ کے نسل انسانی کی بندش ہے پاکستان میں آبادی کے کنٹرول سے متعلق جتنے بھی منصوبے کام کر رہے ہیں ان کی تیج افادیت کی آگاہی کے لیے ملک گیر سطح پر نظم کوششوں کی ضرورت ہے جس کے لیے تمام ذرائع بروئے کارلانے چاہئیں جن میں میڈ یاتعلیمی اداروں اور دیہی سطح پر بزرگوں کو شامل کعنا ضروری ہے

۵۔ دیہی آبادی کی ترقی

دیہی آبادی کو معاشی و معاشرتی ترقی دینے اور بہترین صحت غذا اورتعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے دیہی معاشروں میں عورت کا مقام و معیار بلند کرنے میں مدد ملے گی جس سے ملکی ترقی اور ملک کی آبادی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں

مدد ملے گی۔

۔ قدرتی وسائل کا بہتر استعمال:

معاشی ومعاشرتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا بیج استعمال بھی آبادی کے اضافے کو کنٹرو ل کر سکتا ہے کیوں کہ جتنا کوئی معاشرہ خوشحال ہوگا اور وسائل کی فراوانی ہوگی اضافہ آبادی بھی بھی منا نہیں بنے گی قدرتی وسائل میں پانی کا صحیح استعمال جیسا کہ ڈیز کی تعمیر کے ذریعے پانی کے ذخائر بڑھانا ، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، جدید زرعی آلات کا استعمال ، کھاد میں اور توانائی کے نئے ذخائر وغیرہ کی دریافت شامل ہیں ان اصولوں پر ٹیل کیا جاۓ اور دیہی علاقوں کی ترقی پر خاص توجہ دی جائے تو پورا معاشرہ خوشحال ہوگا اور بے روز گاری کم ہو جائے گی وسائل کے بیج استعمال و منصفا تقسیم سے لوگوں میں محنت کا جذ بداجا گر ہو گا اور افراد کا معیار زندگی بلند ہوگا اور یوں معاشرہ امن وخوشحالی کی جانب گامزن ہو گا اور کثرت آبادی کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوگا۔

سوال نمبر :02۔غربت کے معاشرے پر عمومی اثرات بیان کر میں نیز غربت کی شدت کو کم کرنے کیلئے کس قسم کے اقدامات زیادہ مئوثر ثابت ہوں گے

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غربت معاشرے میں بگاڑ کی ایک بہت بنیادی وجہ ہے ۔ پر ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں جن کی وجہ سے ان منفی رویوں میں کمی لائی جاسکتی ہے اور ایک خوشگوار ماحول وفضا کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

 ا۔نظام تعلیم کی اصلاح اور ترقی:

ہمارے معاشرے میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں رہی اور غیر رکی تعلیم دی جاتی ہے تا کہ بچہ اپنے مستقبل میں معاشرے کا ایک کامیاب فرد بن سکے۔ موجودہ نظام کی اصلاح کی جاۓ ۔ جہاں خامیاں اور کمزوریاں ہیں انہیں دور کیا جائے تا کہ جب و عملی میدان میں آئیں تو منظم زندگی گزار ہیں ۔ خاندان کے بعد دوسرا ہم معاشرتی اور تعلیم کا ہے ۔ جہاں فروکی ابتدائی عمر میں اخلاقی تربیت کی جاتی ہے اور اس میں حب الوطنی کا جذ بہ ابھارا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں Guidance and Councilling کے مراکز ہیں ۔استاد جب بچے کو اوسط درجے سے منحرف دیکھتا ہے تو اسے مراکز میں بھیج دیتا ہے جہاں تجربہ کار مشیر اور نفسیاتی طبیب بچوں کا علاج نہایت محنت اور خلوص سے کرتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک جن میں اداروں اور مشیروں کا تعلق عدالتوں سے نہیں ہوتا ان کا اصل کام خطا کاری کوروکن نہیں ہوتا بلکہ مریض کی جذباتی اور شخصیاتی نکالیف کا حل ڈھونڈ نا ہوتا ہے ممکن ہے خطا کار کی خطاؤں کی تہہ میں ان کی بیجانی یانی تکالیف موجودنہ ہوں کیونکہ خطا کے اسباب صرف نفسیاتی ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی قسم کے ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح مقطرب بچوں اور نو جوانوں کیلئے ایک اسلامی طریقہ گروہی علاج معالجہ Group Thesaphy ہے ۔ یہ گروہ خود نفسیاتی طبیب چھتا ہے۔اس میں کھیل کود اور اسی قسم کی دوسری تفریحی سرگرمیاں کا انتظام کیا جا تا ہے جو گروہ کا لیڈر ہوتا ہے اسے اس کا علم ہوتا ہے کہ بچوں کو کیا تکلیف ہے یا انہیں کیا مسائل درپیش ہیں ۔ وہ ہر بچے کے کردار کا مطالعہ کرتا ہے۔ اسے تسلی دلاسہ دیتا ہے اور پیار محبت سے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان گروہوں کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں ہوتا۔ بچے خو اپنی تکالیف کا مظاہرہ کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کا حل ڈھونڈتے ہیں ۔ اگر بڑوں کیلئے گروہ بنا ہوتو کھیل تماشے کے بجائے انتلو، بحث مباحثہ مذاکرہ ہوسکتا ہے۔ انتلو کیلئے بھی کوئی موضوع پہلے سے بھی طے نہیں کیا جا تا بلکہ جو موضوع بھی گروہ زیر بحث ا نا چاہتا ہوا سکتا ہے۔ علاج معالجہ کے جو مختلف طریقے بیان ہو چکے ہیں ان کی بنیاد اس مفروضہ پر ہے کہ خطا کاری میں خاندان کا بڑا حصہ ہے۔ خاندان کی اگر اصلاح ہو جائے تو مجرمانہ رویے میں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن خاندان بھی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اس کی اصلاح بھی معاشرے کی اصلاح پر منصر ہے ۔

ii۔ مجرمانہ روی اور اصلاحی طریقہ کار

مجرمانہ رویوں کیلئے جو اصلاحی طریقے استعمال ہوتے ہیں وہ مغربی ماہرنفسیات اور ماہر جرمیات کے مرتب کردہ ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طریقہ ان لوگوں کو اور ان کے والدین کو نفسیاتی طبی معاجہ مہیا کرتا ہے۔ اس کیلئے شرط یہ ہوتی ہے کہ ایسی پنی علامات موجود ہوں جو نشاندہی کر سکیں کہ اصلاح کے مثبت نتائج ہوں گے۔ وہ بچے جو عدم تحفظ ،احساس کمتری یا کسی اور ایسے ہی مخصوص رویے کا شکار ہوں جو کہ انہیں مطمئن زندگی گزارنے میں رکاوٹ کا احساس دلاے تو انہیں نفسیاتی کلینک میں علاج معالجہ کیلئے داخل کرا دینا چاہیے

۔ معاشرتی و ثقافتی اقدار

: جرائم کنٹرول کرنے میں معاشرتی اور ثقافتی اقداربھی اہمیت رکھتے ہیں جب تک معاشرے میں عملی طور پر برائی کے خلاف سخت ریمل نہیں ہو گا اس وقت تک جرائم کی جڑیں مضبوط رہیں گی ۔ جرائم کو یکسر تو کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن معاشرے میں اجتماعی رویے کی وجہ سے منفی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصایشکنی کی جاسکتی ہے۔ معاشرتی اور ثقافتی اقدار میں جرائم اور غیر ذمہ دارانہ معاشرتی رویوں کا سختی سے نوٹس لیا جائے لیکن جہاں تک اصلاحی پہلو کا تعلق ہے اس کیلئے معاشرتی نظام میں اتنی چیک ضرور ہونی چاہیے کہ وہ اس فرد کے ساتھ ہمدردی اور ذمہ دارانہ رو میدر کھے جو جرائم کی دنیا سے نہ صرف نکل آتا ہے بلکہ شائستہ اطوار اپنا تا ہے اور معاشرے میں ایک معتبر مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

۱۷۔ بے روزگاری میں کمی اور موجودہ ذرائع کا استعمال:

معیشت کسی بھی ملک یا معاشرے کے اقدار اور طرز زندگی پر گہرا اثر رکھتی ہے ۔ جس معاشرے کی معیشت مضبوط ہوگی وہاں جرائم کسی حد تک کم ہوں گے یا وہ جرائم سرزد ہوں گے جن کا تعلق معیشت سے کم ہو گا ایسے معاشرے میں زیادہ تر وہ جرائم سرزد ہوتے ہیں جو عیاشی کے تصور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معیشت کا نظام ایسی پالیسی کی ٹھوس بنیادوں پر ہونا چاہیے جہاں ہر فر دکواس کی اپنی قابلیت یا جسمانی مشقت کے مطابق اجرت ملے ۔ ان ممالک نے زندگی کے ہر دوسرے شعبے میں ترقی کی ہے جہاں ہر کام کرنے والے کو اس کی اہمیت و قابلیت اور ضرورت کے مطابق اجرت اور سہولیات ملتی ہیں ۔ موجودہ ذرائع کے استعمال میں زیادہ سے زیادہ افراد کو شامل کیا جاۓ ۔ بچھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے انہیں مزید بہتری کیلئے آسان اقساط پر قرضنے کی سہولیات آسانی سے فراہم ہوں ۔ ہنر مندوں کی مزید تربیت کا بہتر انتظام موجود ہو اور ان سے حاصل شد و پیداوار کا نہیں جائز حصہ دیا جائے

شادی شدہ افراد کی تربیت:

شادی شدہ مردوں اور عورتوں کیلئے مشاورتی مراکز ہونے چاہیے ۔ جہاں ڈاکٹر ، نفسیاتی طبیب ، وکیل اور معاشرتی ماہر ہوں شادی شدہ اشخاص کو صلاح مشورہ د میں جو میاں بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہ کر پائے ہوں ۔ بعض عائلی عدالتیں بھی اس نوعیت کی ہوتی ہیں وہ بھی میاں بیوی کو سمجھا بجھا سکتی ہیں اور ان کی قانونی مشکلات دور کر سکتی ہیں ان مشاورتی مراکز اور عائلی عدالتوں کو گو جرمانہ رویے کی روک تھام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن بالواسط تعلق ضرور ہے ۔ تجربات کی روشنی میں ثابت ہے کہ جن گھروں میں جھگڑے عام ہوتے ہیں وہاں مجرمانہ رویے پرورش پاتے ہیں ۔اس لئے جو مدو بھی والدین کو دیجاسکے جوان کی اور نوعمروں کی زندگی کو آسودہ بنا سکے وہ مجرمانہ رویے کو کم کرنے کیلئے ایک باہمت اور حوصلہ افزاء قدم ہوگا۔

معاشرے کا غیر ذمہ داراندرو یار اس کے اثرات:

ہمارے معاشرے میں کئی جرم لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں لیکن عوام کسی قسم کا رول کرنے سے گریز کرتی ہے یہ بالکل ایسی حقیقت کی مانند ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے ہمارے روز مرہ زندگی سے اس کی مثال کچھ اس طرح بھی دی جاسکتی ہے جیسے راہ چلتی لڑکیوں پر فقرے بازی ہو یا نہیں کسی اور طریقے سے تنگ کیا جاۓ ، لیکن دوسرے افرادائیں حرکات پر دھیان نہیں دیتے اور خاموشی اختیار کرتے ہیں اسی طرح محلوں میں فحاشی ، جوۓ اور شراب نوشی کھلے عام ہوتی ہے لیکن معاشرے کاریٹیل سر در بتا ہے جب معاشرے میں ایسے حالات ہوں تو جرائم کا سد باب کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اگر عوام باشعور ، بیدار اور ذمہ دار ہوں تو جرائم پیشہ لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے ۔ اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عار محسوس نہیں کرتے مثلا دکا نداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورا نہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تا ہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اس طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جوصرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور ٹینزم انہیں بھی دھوکہ.       دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بد عہدی نہ کریں تو وہ بھی شکایت نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کام کو براگر دائیں گے ، اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آگاہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی بینک لونے جاتے ہیں پاراہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نا مناسب سلوک کیا جا تا تب معاشر وقتی طور پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتاہے لیکن پھر ٹہراؤ آجاتا ہے موم ہمارا معاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھٹری دکھائی دے تو نام مطمئن ہو جاتے ہیں اورکسی تنظیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے ۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اور ظلم وتشد د کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو ٹیکس زیادہ دینے پڑتے ہیں اس طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عارمحسوس نہیں کرتے مشار دکانداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورانہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تاہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اسی طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جو صرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور مجرم نہیں بھی دھوکہ دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بدعہدی نہ کر میں تو وہ بھی شکایت نہیں کر یں گے اور نہ ہی اس کام کو برا گردانیں گے ،اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آ گا ہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی جینک لوٹے جاتے ہیں یا راہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا تا تب معاشرہ وقتی طور پر اپنے رومل کا اظہار کرتا ہے لیکن پھر ٹھہراؤ آ جاتا ہے عمو ماہمارامعاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھڑی دکھائی دے تو ہم مطمئن ہو جاتے ہیں اور کی تعلیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رو بی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اورظلم وتشدو کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو یکس زیاد دینے پڑتے میں اسی طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیں ہیں اور جرم وسیاست کا کوئی باضابطہ تعلق نہیں ہے تو جرم اور مجرمانہ رویوں میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے ۔

سوال نمبر: 03۔ شراب نوشی کے سابی نقصانات کی فہرست مرتب کر میں نیز پاکستان میں پچی شراب کے استعمال کی حوصاٹیکنی کیلئے تجاویز دیں۔

جواب۔

ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی برائیاں جنم لے چکی ہیں وہیں نشہ جیسی برائی نے بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہے ۔ کثیر تعداد میں لوگ نشے کے عادی ہو چکے ہیں۔ بوڑھا ہو یا نو جوان ، مرد ہو یا عورت ،امیر ہو یا غریب ،افسر ہو یا حا کم ،تاجر ہو یا کسان بے شمار افراد جانے انجانے نشے کی لت میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انسان بڑا ہی نادان ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے جب کہ اللہ نے قران کریم میں ارشاد فرمایا اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو (البقر 195- ) ۔اسلام نے ہر نشہ آور اشیاء کوحرام قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ حضور سے کسی نے آپ کے تبع کے بارے میں پوچھا جو شہد سے بنا تھاتو آپنے فرمایا کہ ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے ( بخاری ومسلم )۔ اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہر دوشی جو نشہ دینے والی ہے و واسلام کی نظر میں حرام ہے اور اہل اسلام کو اس کا استعمال ہرگز روا نہیں۔ خواہ وہ بھانگ ہو،افیون ، چرس ، یا شراب اور اس کے علاوہ دیگر نشہ آور منشیات سب اسلام میں حرام ہے ایک اور حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب نے نشہ لانے والی اور فتور پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا(ابوداؤد ) ۔ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ بیشمار برائیوں میں ملوث تھے۔ وہیں شراب بھی عام تھی ،لوگ کثرت سے شراب پیتے تھے، جب اسلام آیا تو قرآن میں اللہ نے اس کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کو بھی بیان کیا اور ہمیشہ کے لئے شراب کو حرام کر دیا۔ اللہ جل شانہ نے ارشادفرمایا اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام میں سوان سے بچتے رہوتا کہ تم نجات پاؤ‘‘(المائد 90-)۔ شراب کی نحوست کا انداز اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس کو شیطانی کام کیا اور بت پرستی کے ساتھ بیان کیا۔ اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں شراب کی مذمت اور اس کی قباحت و خباثت کو واضح انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ سے شراب کے متعلق دریافت فرمایا تو اللہ کے حبیب نے فرمایا کہ میکبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ سب برائی کی سردار ہے (الزواجر )۔ اللہ کے نبی نے ارشادفر مایا کہ جوشخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز شراب نہ پیئے اور جواللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب ہو( طبرانی)۔امام طبرانی نے جم کبیر میں ایک حدیث حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے ۔ آپ فرماتیں ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہوئی تو میں نے پیالے میں نبیذ بنایا جوھجور سے بنایا ہوا ایک قسم کا مشروب ہے ) اللہ کے رسول میرے گھر تشریف لاۓ تو و وابل ( چولھے پر رہی تھی۔ آپ نے فرمایا ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا میری بیٹی بیمار ہے اس کی دوا بنا رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایاکہ اللہ نے حرام کردہ اشیاء میں میری امت کے لئے شفا نہیں رکھی ہے۔ ایک حد میں حضرت وائل حضری سے مروی ہے کہ طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا ، آپ نے ان کو منع فرمایا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ میں تو صرف دوا کے لیے شراب بنا تا ہوں حضور نے ارشادفرمایا کہ وہ دوا نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی بیماری ہے (مشکوۃ )۔ مذکورہ احادیث سے شراب کی حرمت اور اس کی قباحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ حرام اشیاء میں شفانہیں ہے ۔ ایک جگہ اللہ کے حبیب نے ارشادفرمایا کہ شراب نہ ہو کہ میام الخبائث ہے اور ای ام الخبائث کہ انسان شراب کی حالت بھی بھی اپنی ماں اور پھوبھی کے ساتھ بھی بدکاری کر بیٹھتا ہے ۔ اور بھی بہت ہی حدیثیں شراب کی مذمت میں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔شراب پینے والوں کے بارے میں اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں وعید میں بیان فرمائی ہیں حضور نے فرمایا کہ جودنیامیں شراب پیتے ہیں اللہ تعالی انہیں جہنمی سانیوں کا زہر پائے گا جسے پینے سے پہلے ہی اس کے چہرے کا گوشت گل کر برتن میں گر جائے گا اور جب وہ اسے اپنے گا تو اس کا گوشت اور کھال ادھر جائے گی جس سے سمی اذیت پائیں گے ( روح البیان ج ۴) ۔ ایک جگہ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جوشخص دنیا میں شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا اللہ تعالی اسے آخرت میں جہنم کی پیپ پلاۓ گا (روح البیان ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ دائی طور پر شراب پینے والا اگر مر گیا اسی حالت میں تو در بارخداوندی میں اس طرح آۓ گا جیسے ایک بت پرست ( مشکوۃ شریف) ۔ حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میری عزت و جلال کی قسم جو بندہ ایک گھونٹ بھی شراب پیئے گا میں اس کو اتناہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اسے چھوڑے گا میں اسے مقدس حوض سے پاؤں گا ( امام احمد بن حنبل ) ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ نے تین آدمیوں پر جنت حرام کر دی ہے ۔ وہ تین میں ہیں (۱) ہمیشہ شراب پینے والا ( ۲ ) والدین کی نافرمانی کرنے والا ( ۳ ) دیوث جو اپنے اہل میں بے حیائی کو دیکھے اور منع نہ کرے(نسائی)۔

شراب انسان کے لئے دین و دنیا دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے ۔ دینی نقصان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نارانسگی کوخرید کر اپنی آخرت بر باد کر لیتا ہے ۔ دنیوی نقصان یہ ہے کہ مختلف قسم کی مہلک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جو ہلاکت کا سبب بنتی ہیں ، لاکھوں عورتیں شرابی شوہر کے ظلم وستم کا نشانہ بنتی ہیں شراب پینے والا بے مروت ہو جاتا ہے، سماج اور معاشرہ کے لئے دردسر بن جا تا ہے ۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ شراب میں ہر طرف سے تباہی اور بربادی ہے، مال کی بھی اور جان کی بھی ۔ اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے ۔

سوال نمبر :04۔ پاکستان میں مختلف دیہی ترقیاتی پروگراموں کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ نیز دیہی ترقی کے طریقہ کار کی وضاحت کر یں۔

جواب۔

دیہات کے لوگوں کی زندگی کا ایک اور اہم پہلوتعلیم سے بے بہرہ ہونا ہے اگر چہ حکومت تعلیم کو عام کرنے کے لیے بہت ہی کوششیں کر رہی ہے مگر اس کے باوجود ہمارے اکثر دیہات میں ابھی تک تعلیم کی روشنی نہیں پہنچ پائی اس کے ساتھ ساتھ لوگ بھی تعلیم حاصل کرنا ضروری تصور نہیں کرتے ان کے خیال میں سکول بھیجنے کی بجائے بچے کو ھیتوں میں بھجنا زیادہ فائدہ مند ہے ۔ دیہات کے لوگ اپنی غربت کے ہاتھوں نہ تو پڑھائی کے لیے پیسہ خرچ کر سکتے ہیں اور نہ ہی وقت ۔ اس کے علاوہ اکثر دیہات ایسے ہیں جہاں پرائمری سکول بھی نہیں ہیں اس لیے لوگ دوسرے دیہات میں اپنے بچے بھیجنا پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان پڑھے ہیں یہ حالت صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ اکثر ترقی پذیر ممالک میں خواند و یا پڑھے لکھے افراد کی تعداد بہت ہی کم ہے اور جتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اکثر شہروں میں رہتے ہیں دیہات میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے مندرجہ ذیل جدول جو کہ آئی پی پی ایف کے جرید پی پی پی کے جرید نے پیپلز سے لیا گیا ہے اس سے ترقی پذیر ممالک میں نا خواندگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ علمی پسماندگی اور غربت و افلاس لازم وملزوم ہیں۔ ناخواندگی کے باعث کاشت کا ر جد ید زری معلومات سے بے بہرور ہتے ہیں زرعی

پیداوار میں اضافہ کرنے کی تدابیراور طریقوں کاعلم نہیں رکھتے ۔ اگر کاشتکار پڑھے لکھے ہوں تو وہ نہ صرف جدید معلومات زرمی سے استفادہ کر کے اپنی زرعی پیداوار بڑھنے کی تدابیر کر سکتے ہیں بلکہ اپنے روز مرہ کا حساب کتاب رکھ سکتے ہیں تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان کی معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا اور ان کے ذہن میں نئی ایجادات کے لیے وسعت اور بالغ نظری پیدانہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں نئی یجادات اپنانے کا حوصلہ پیدانہیں ہوتا۔ تعلیم ایک ایسا معاشرتی عمل ہے جس کے بغیر ہم افراد معا شر وترقی کی اہمیت نہیں سمجھا سکتے اور وہی ترقیاتی کاموں میں سرگرم حصہ لینے پر آما وہ کر سکتے ہیں تعلیم کے بغیر سابی اور ثقافتی تربیت بھی ممکن نہیں ہوتی چنانچہ لوگوں کی حالت بدلنے کے لیے ان کو اور ان کے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو تعلیم دینے کا بندوبست کرنا نہایت ضروری ہے۔ و یہی معاشرتی زندگی: دیہی زندگی شہری زندگی سے مختلف ہوتی ہے چونکہ ہماری آبادی کا تقریبا72 فیصد حصہ دیہات میں و بستا ہے اس لیے ان لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں اور دیہات کو ترقی دینے والے طریقہ کارکومندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو درج ذیل ہے

دیہات کاطبیعی ڈھانچہ

جونہی ہم شہروں سے وہی علاقوں کی طرف جاتے ہیں سب سے پہلے سرسبز کھیت اور کسان ہمارا استقبال کرتے ہیں جن میں کوئی فصل کو پانی دے رہا ہوتا کوئی زمین میں ہل چلا رہا ہوتا ہے کوئی بیچ ہور ہا ہوتا ہے تو کوئی فصل کاٹ رہا ہوتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نام دیہی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں پاکستان کے دیہی علاقوں میں لوگ زیادہ تر کچے مکانوں میں رہتے ہیں جن کی چھتیں شہتیروں پر گھاس پھونس ڈال کر بنائی جاتی ہے یہ گھر عموما کھلے کھلے ہوتے ہیں درمیان میں محن ہوتا ہے گھر کے کمروں میں عموماً کھڑ کی باروشندان ہوتے ہیں گلیاں اور محلے ترتیب سے نہیں بنے ہوتے اکثر گلیاں ٹیڑھی میڑھی ہوتی ہیں اور عموما گندی ہوتی ہیں اگر چہ ہر گھر انفرادی طور پر بیکوشش ضرور کرتا ہے کہ اپنے گھر کے سامنے کا حصہ صاف رکھے مگر اس کے باوجود چونکہ سرکاری طور پرکوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا اس لیے کئی جگہوں پر اس کے ڈھیر ملتے ہیں زندگی میں جدید سہولتوں کا فقدان ہے بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچ سکی سوئی گیس کی سہولت بھی موجود ہیں اکثر دیہات تک پکی سڑک نہیں جاتی پانی عموما ہنڈ پمپ سے حاصل کیا جا تا ہے بعض علاقوں میں جہاں پانی کی تلخ اونچی نہیں کنو میں کھودے جاتے ہیں

زرعی ترقیاتی بینک آف پاکستان

ا۔ مقاصد: بنک کا قیام 1961 ء میں عمل میں آیا۔ اس کا مقصد زری شعبوں میں کاشتکارکوقرضے فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ گاؤں کی طح پر گھر یا منعتیں لگانے کیلئے بھی قرضے فراہم کرنا اس بنک کا بنیادی مقصد تھا۔

ii۔ طریقہ کار: بنک کا شتکاروں کوان کی بہت فصل کیلئے قرضے فراہم کرتا ہے یہ قرضے آسمان مشعلوں میں واپس لئے جاتے ہیں اور کسان کو ں نے ان میں ورکر اس کی زمین کے مطابق قرضہ ماتا ہے عموماز میں گروی رکھی جاتی ہے یا فصل کے مطابق قرضہ کی شرائط طے کی جاتی ہیں ۔

نتائج:

پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق 81-1980 تک بنک نے 62-1066 ملین روپے کے قرضے فراہم کئے ۔ان

قرضوں کی رقم میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ 82-1991 ء میں یہ قرضے 38-1557 ملین تک پہنچ گئے ہیں۔ ان قرضوں کا 45 فیصد سے بھی زیادہ حصہ زرعی مشینری خریدنے کے کام آیا مگر بنک کی ان سہولتوں کے زیادہ تر فائدے بڑے کاشتکاروں کو حاصل ہوۓ کاشتکاروں کو کل رقم کا بمشکل 21 فیصد دیا گیا تا ہم اس قرضے کی بدولت بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور زراعت میں ترقی کا سبب بنا۔ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے طریق کار میں کارکن کے کردار کی اہمیت: کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کا انحصار صرف ایک شخص پر ہوتا ہے جسے ہم ترقیاتی کارکن یا ترقیاتی رہنما بھی کہ سکتے ہیں۔ چنانچہ اسے ہر دلعزیز اور قابل قبول شخصیت ہونے کے علاوہ جنتی اور دیانتدار بھی ہونا چاہئے ۔ اس کے علاوہ اسے اس کمیونٹی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے فوری حل کے بارے میں تھوڑا بہت علم بھی ضرور ہونا چاہئے مثلا چھوٹی چھوٹی بیماریوں کی صورت میں بیان کیلئے معالج ثابت ہوا تعلیم وتربیت میں استاد ، گھر یلو معاملات میں مشیر ، جھگڑے لے کرانے میں بیج اور مصالحت کنند و در اجتماعی کاموں میں ان کا رہنما ہونا چاہئے ۔اگر چہ وہ ان تمام معاملات میں ماہرین کی جگہ تو نہیں لے سکتا مگرلیکن ان تمام معاملات میں اس کی ایسی رائے ہونی چاہئے جو زیادہ تر لوگوں کو قبول ہو اور ان کے فوائد میں ہو ۔ اسے اس آبادی کیلئے جس ترقی پر اسے معمور کیا گیا ہو ایک مثال ہونا چاہئے تب جا کر کہیں اس طریقہ کار سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ تر قیاتی کارکن کو مندرجہ ذیل اصولوں کی روشنی میں اپنے کام کا آغاز کرنا چاہئے

1۔ کارکن کو ان لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرنے چاہئیں جن کے ساتھ وہ کام کرنا چاہتا ہے۔

کارکن لوگوں کی چھوٹی چھوٹی اور ہنگامی ضرورتوں کو پورا کر کے ان کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اگر وہ ان کی کسی معمولی بیماری کا علاج کر کے ان کو صحت و صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہے گا تو وہ آسانی سے اس کی بات سمجھ جائیں گے ۔ چونکہ یہ اعتاد اس نے حال ہی میں حاصل کیا ہوتا ہے اور اہل خانہ کو ایک مصیبت سے نجات دلانی ہوتی ہے اس لئے اس وقت ان کے جذبات واحساسات کا احترام کر کے انہیں سمجھا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ جب کوئی اس سے مشورہ طلب کرے تو کارکن کو اس کے ساتھ اس طرح سے بات کرنی چاہئے کہ وہ جان لے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اس کا کوئی ہدر نہیں اور اسے اپنے ایمان اور مسلم کے مطابق سیح مشور و دینا چاہئے ۔ اس طرح کے لگاتار عمل سے و واس معاشرتی گروہ میں ایک قابل احترام شخصیت بن جائے گا اور اسے کام کرنے میں آسانی ہوگی۔

2۔ کارکن کو ہرائی جانے والی تبد یلی کیلئے لوگوں کی رضامندی حاصل کر لینی چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ

کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے ۔

کارکن اگر ان لوگوں کی مقامی زبان میں بات کرنے والا ہو جن لوگوں میں اسے بھیجا گیا ہوتو وہ اس کی بات کو آسانی سے سمجھ جائیں گے نیز مقامی واقفیت کی بناء پر وہ مختلف منصوبے بنانے اور ان کی ترجیحات مرتب کرنے میں بھی زیادہ ماہر ہوگا۔ علاوہ ان میں اگر وہ ان لوگوں کا ہم عقید بھی ہوتو زیادہ اچھا ہے اس کے برعکس بیرونی ماہرین اور ٹیکنیک فتی لحاظ سے پیا ہے کتنی بھی املی کیوں نہ ہو وہ اگر لوگوں کے جذبات و احساسات سے ہم آہنگ نہ ہوگی تو مطلوبہ نتائج پیدا کرنے سے قاصر رہے گی ۔ اسی بات کوئی ۔آرمین نے اپنی کتاب ’’معاشرے اور ان کی ترقی میں ایشیائی ممالک کی فنی امداد کے سلسلے میں ہونے والی کانفرنس میں جنوب مشرقی ایشیاء کے نمائندوں کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ تمام نمائندے اس بات پر متفق تھے کہ گذسته چند سالوں کے دوران مختلف اداروں کی طرف سے دی جانے والے فنی امداد نہ صرف نتیجہ رہی بلکہ بعض حالات میں نقصان رساں بھی ثابت ہوئی کیونکہ و مغربی ممالک سے آنے والے ساز و سامان اور وہیں پر ترتیب دی گئی ٹیکنیک پریٹی تھی جس کا مقصد تیزی سے حاصل ہونے والے اور نظر آنے والے نتائج پیدا کرنا تھا۔ اس ساز و سامان اور ٹیکنیک پر کام کرنے والے بھی مغربی ماہرین تھے جو ٹیکنیک کی حد تک تو بہت ماہر تھے لیکن مقامی حالات سے بالکل ناواقف تھے۔ وہ ہر متوقع سوال کا جواب جانتے تھے لیکن جب وہ موقع پر پہنچتے تو ان کی تمام مہارت بے کار ثابت ہوتی ‘‘۔ مزیدآگے چل کر لکھتے ہیں کہ درحقیقت اب وہ تمام کارکن محسوس کرنے لگے ہیں کہ اگر وہ بھیں گے کہ وہ تمام خیالات اور منصوبے جو ان کے اپنے ماحول اور تہذیب وتمدن میں درست کسی دوسرے میں اسی طرح درست نتائج کے حامل ہوں گے تو نا کامی ان کا مقدمہ بن جائے گی‘۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ کارکن کا ان لوگوں میں سے ہونا لازمی ہے اور دو ان کا ہم عقید ہ ہونے بنا پر ان کی خوشی اورمی میں بھی شامل ہو سکے تو وہ ان میں مزید شیر و شکر ہو سکے گا اور پیاس کی اپنے مشن میں کامیابی ضمانت ہوگی ۔

کارکن کو انہیں اس بات کی یقین دہانی کروانی چاہیے کہ مجوزہ تبدیلی نہایت محفوظ ہے۔

کسی تبد یلی کوقبول کرتے ہوۓ لوگ اس بات کا پہلے سے یقین کرنا ضروری خیال کر ہیں گے کہ وہ نہیں ایسا کرنے سے لوگوں کی تضحیک کا نشانہ تو نہیں بن جائیں گے ۔ یا نہیں مالی طور پر نقصان تو نہیں برداشت کرنا پڑے گا مثال کے طور پر ہمارا ان پڑھ کاشت کار نے بیج ، نئے آلات زراعت اورکھیتی باڑی کے نئے طریقوں کو اپنانے سے ہچکچائے گا اور سوچے گا کہ ایسا کرنے سے کہیں میری فصل تو نہیں ماری جاۓ گی ۔ میرا سال تو ضائع نہیں ہو جائے گا وہ ان تبدیلیوں کو حکومت کی طرف سے کئے گئے تجربوں کی روشنی میں بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوگا کہ اس لئے کہ جب وہ اپنے اور حکومت کے وسائل کا موازنہ کرے گا یہی مجھے گا کہ حکومت تو یہ سب کچھ کر سکتی ہے میں انہیں ضمانت فراہم کر کے تمام لوگوں کیلئے کا عملی مظاہرہ کرنے کا بندوبست کر نا ہوگا تب کہیں جا کر وہ انہیں قائل کر سکے گا۔

سوال نمبر :05۔ مندرجہ ذیل پرنوٹ لکھیں۔

) شہری علاقوں میں مختلف جرائم

جواب: دراصل بچوں کی بے راہ روی میں گھر کے برے ماحول اور ناقص نگرانی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ والدین کو آج کل اقتصادی و سماجی ذمہ داریوں سے بہت کم وقت ماتا ہے۔ نیچے اپنا بیشتر وقت گلی کو چوں اورآوار ومزاج لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں ۔ بچوں کو نیک و بد بنانے میں دوستوں کی صحبت کافی اہمیت رکھتی ہے ۔ پڑوس میں اچھے برے ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں ۔ والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو سلجھے ہوۓ بچوں کی صحبت سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کر میں اورانہیں بے راہ رو نیچے کی صحبت سے بچائیں تا کہ وہ نیکی کے راستے پر گامزن رہ ہیں بچوں کیلئے صالح تعلیم و تربیت کی سخت ضرورت ہے ۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ ان کو اسلامی اقدار و نظریات اور قانون کی اہمیت سے آگاہ کر میں وہ خود کو بھی تربیت اطفال سے آگاہ کر میں ۔ تا کہ مستقبل کے رہنماؤں کو صالح زندگی بسر کرنے میں آسانی رہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تربیت اطفال پر معیاری کتابیں لکھوائی جائیں اور انہیں سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے کہ بچوں کوخوش اسلوبی سے حاصل کرنے کیلئے تربیت اطفال کی تعلیم کو عام کر نے ضرورت ہے۔ جرائم کی روک تھام کیسے ممکن ہے: پاکستان اسلامی قوانین کے فروغ و نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور اب ان قوانین کوفروغ دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ۔ اس لئے یتوقع پیل ہے کہ اس سے انسداد جرائم میں کافی مدد ملے گی ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر ہمارے قوانین مذہبی تعلقات سے نم آہنگ ہوں اور سماجی انحراف اور جرم ومصیبت کا دروازہ بند ہو جائے۔ لیکن اس مقصد کے لئے ہمیں مذہبی اور قانونی تعلیمات کو بھی کافی رواج دینا پڑے گا اور زندگی میں دین ودنیا کی جوتسیم پیدا ہوگئی ہے اسے بھی ختم کرنا ہوگا ۔ اسلام کے شہری اصولوں کی اگر لوگ پیروی مکمل طور پر کرنا شروع کردیں تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ ملک میں مکمل امن وامان اور سکون قائم ہو جائے گا۔ مذہب اسلام انسان میں خدا کے سامنے جوابدہی ،خوف خدا اور خدا ترسی پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان کو اس بات کو یقین ہو جائے نیز اس بات کا با قاعدہ پر پاراور تبلیغ کی جائے تو جرائم قتل ، ڈکیتی، چوری کا قلع قمع ہوسکتا ہے ۔ اسلامی سزائیں بھی رائج کر دی جائیں تو ایسے جرائم بہت کم ہو جائیں گے جس طرح کہ سعودی عرب میں جرائم بہت کم پاۓ جاتے ہیں کیونکہ وہاں اسلام کے مطابق انصاف ملتا ہے۔ اور مجرم کو سخت سزادی جاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جائے ۔ کیونکہ اگر افراد کو یہ بھی یقین ہو کہ قوانین کی خلاف ورزی پر نہ صرف وہ حکومت کا مجرم ہے بلکہ خدا کا مجرم بھی ہو گا تو جرائم کرنے سے پہلے و وضرور سوچے گا ۔

 ناقص منڈی کے دیہی زندگی پراثرات

جواب: ناقص منڈی کے دیہی زندگی پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں :

1۔ ناقص منڈی کی وجہ سے اشیاء کی خرید وفروخت میں مشکل پیش آتی ہے۔

2 ۔ ناقص منڈی کی وجہ سے صحت کے اصولوں کا پاس نہیں رکھا جا تا ۔

3۔ ناقص منڈی کی وجہ سے کاشت کا کوا پنی فصل کا ؤں میں ہی آ ڑھی کے ہاتھوں اونے پونے فروخت کرنی پڑتی ہے ۔

4۔ ناقص منڈی دیہی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

 

Course  Sociology -II( 413 )

Assignmen:: t no 2.

Semester::  2022 spring

 

 

 

سوال نمبر: 01۔ کثرت آبادی ترقی پذیر ممالک کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے کیا اسباب میں وضاحت کریں۔

 جواب:

کثرت آبادی سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے اگر چہ اللہ تعالی نے زمین کو طرح طرح کی نعمتوں اور وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن آج کے ترقیاتی یافتہ دور میں خدا کی نیمتیں بتدریج کم ہوتی جارہی ہیں اور دنیا کی ایک بڑی آبادی کو ایک وقت کی روٹی بڑی مشکل سے میسر آتی ہے ماہرین عمرانیات ، اقتصادیات و آبادیات اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ وسائل سے زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیتے ہیں بڑھتی ہوئی آبادی کا یہ سیلاب پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے کثرت آبادی کی روک تھام کے لیے چند اقدامات درج ذیل ہیں

: ا۔ عورت کے روایتی کردار میں تبدیلی:

پاکستان میں برادری نظام کی موجودگی مشترکہ خاندانی نظام اور دیگر ثقافتی اثرات کی وجہ سے معاشرے میں مردکوعورت پر فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے عورت اپنے روایتی کردار یعنی گھر اور بچوں کی پرورش تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اس تصور کوتوڑنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر ملک کی آدھی آبادی گھر میں قید ہو کر رہ جاۓ یا ایسے کام کرے جس کی نوعیت غیر پیداواری ہو تو ظاہر ہے یہ بات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور کثرت آبادی کا باعث ہے خواتین کا مجاب کر ناکسی حد تک اس مسئلے کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

خواتین کی تعلیم:

خواتین میں خواندگی کی سطح خصوصا دیہی علاقوں میں بہت کم ہے خواتین میں تعلیم کے پھیلاؤ کی افادیت کا انداز داس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ نا خواند و خواتین کی نسبت ایسی خواتین جنہوں نے تعلیم حاصل کی ہوان کے ہاں بچوں کی تعداد نصف ہوتی ہے اس لیے چھوٹے خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے اور شرح پیدائش کو کنٹرول کرنے کے لیے خواتین کی تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔

افرادی قوت کا صحیح استعمال:

افرادی قوت کا بیج استعمال بھی آبادی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جیسے کہ نو جوانوں کو ہنر سکھائے جائیں اور ان کی پیداواری صلاحیتوں کو بروے کا را یا جاۓ تا کہ بھکاری نہ بنیں اور بے کار نہ پھر ہیں

۴۔ خاندانی منصوبہ بندی کا شعور

خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد ، خاندان میں افراد کی تعداد کو خاندان کے وسائل کے مطابق رکھتا ہے نہ کے نسل انسانی کی بندش ہے پاکستان میں آبادی کے کنٹرول سے متعلق جتنے بھی منصوبے کام کر رہے ہیں ان کی تیج افادیت کی آگاہی کے لیے ملک گیر سطح پر نظم کوششوں کی ضرورت ہے جس کے لیے تمام ذرائع بروئے کارلانے چاہئیں جن میں میڈ یاتعلیمی اداروں اور دیہی سطح پر بزرگوں کو شامل کعنا ضروری ہے

۵۔ دیہی آبادی کی ترقی

دیہی آبادی کو معاشی و معاشرتی ترقی دینے اور بہترین صحت غذا اورتعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے دیہی معاشروں میں عورت کا مقام و معیار بلند کرنے میں مدد ملے گی جس سے ملکی ترقی اور ملک کی آبادی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں

مدد ملے گی۔

۔ قدرتی وسائل کا بہتر استعمال:

معاشی ومعاشرتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا بیج استعمال بھی آبادی کے اضافے کو کنٹرو ل کر سکتا ہے کیوں کہ جتنا کوئی معاشرہ خوشحال ہوگا اور وسائل کی فراوانی ہوگی اضافہ آبادی بھی بھی منا نہیں بنے گی قدرتی وسائل میں پانی کا صحیح استعمال جیسا کہ ڈیز کی تعمیر کے ذریعے پانی کے ذخائر بڑھانا ، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، جدید زرعی آلات کا استعمال ، کھاد میں اور توانائی کے نئے ذخائر وغیرہ کی دریافت شامل ہیں ان اصولوں پر ٹیل کیا جاۓ اور دیہی علاقوں کی ترقی پر خاص توجہ دی جائے تو پورا معاشرہ خوشحال ہوگا اور بے روز گاری کم ہو جائے گی وسائل کے بیج استعمال و منصفا تقسیم سے لوگوں میں محنت کا جذ بداجا گر ہو گا اور افراد کا معیار زندگی بلند ہوگا اور یوں معاشرہ امن وخوشحالی کی جانب گامزن ہو گا اور کثرت آبادی کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوگا۔

سوال نمبر :02۔غربت کے معاشرے پر عمومی اثرات بیان کر میں نیز غربت کی شدت کو کم کرنے کیلئے کس قسم کے اقدامات زیادہ مئوثر ثابت ہوں گے

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غربت معاشرے میں بگاڑ کی ایک بہت بنیادی وجہ ہے ۔ پر ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں جن کی وجہ سے ان منفی رویوں میں کمی لائی جاسکتی ہے اور ایک خوشگوار ماحول وفضا کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

 ا۔نظام تعلیم کی اصلاح اور ترقی:

ہمارے معاشرے میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں رہی اور غیر رکی تعلیم دی جاتی ہے تا کہ بچہ اپنے مستقبل میں معاشرے کا ایک کامیاب فرد بن سکے۔ موجودہ نظام کی اصلاح کی جاۓ ۔ جہاں خامیاں اور کمزوریاں ہیں انہیں دور کیا جائے تا کہ جب و عملی میدان میں آئیں تو منظم زندگی گزار ہیں ۔ خاندان کے بعد دوسرا ہم معاشرتی اور تعلیم کا ہے ۔ جہاں فروکی ابتدائی عمر میں اخلاقی تربیت کی جاتی ہے اور اس میں حب الوطنی کا جذ بہ ابھارا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں Guidance and Councilling کے مراکز ہیں ۔استاد جب بچے کو اوسط درجے سے منحرف دیکھتا ہے تو اسے مراکز میں بھیج دیتا ہے جہاں تجربہ کار مشیر اور نفسیاتی طبیب بچوں کا علاج نہایت محنت اور خلوص سے کرتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک جن میں اداروں اور مشیروں کا تعلق عدالتوں سے نہیں ہوتا ان کا اصل کام خطا کاری کوروکن نہیں ہوتا بلکہ مریض کی جذباتی اور شخصیاتی نکالیف کا حل ڈھونڈ نا ہوتا ہے ممکن ہے خطا کار کی خطاؤں کی تہہ میں ان کی بیجانی یانی تکالیف موجودنہ ہوں کیونکہ خطا کے اسباب صرف نفسیاتی ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی قسم کے ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح مقطرب بچوں اور نو جوانوں کیلئے ایک اسلامی طریقہ گروہی علاج معالجہ Group Thesaphy ہے ۔ یہ گروہ خود نفسیاتی طبیب چھتا ہے۔اس میں کھیل کود اور اسی قسم کی دوسری تفریحی سرگرمیاں کا انتظام کیا جا تا ہے جو گروہ کا لیڈر ہوتا ہے اسے اس کا علم ہوتا ہے کہ بچوں کو کیا تکلیف ہے یا انہیں کیا مسائل درپیش ہیں ۔ وہ ہر بچے کے کردار کا مطالعہ کرتا ہے۔ اسے تسلی دلاسہ دیتا ہے اور پیار محبت سے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان گروہوں کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں ہوتا۔ بچے خو اپنی تکالیف کا مظاہرہ کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کا حل ڈھونڈتے ہیں ۔ اگر بڑوں کیلئے گروہ بنا ہوتو کھیل تماشے کے بجائے انتلو، بحث مباحثہ مذاکرہ ہوسکتا ہے۔ انتلو کیلئے بھی کوئی موضوع پہلے سے بھی طے نہیں کیا جا تا بلکہ جو موضوع بھی گروہ زیر بحث ا نا چاہتا ہوا سکتا ہے۔ علاج معالجہ کے جو مختلف طریقے بیان ہو چکے ہیں ان کی بنیاد اس مفروضہ پر ہے کہ خطا کاری میں خاندان کا بڑا حصہ ہے۔ خاندان کی اگر اصلاح ہو جائے تو مجرمانہ رویے میں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن خاندان بھی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اس کی اصلاح بھی معاشرے کی اصلاح پر منصر ہے ۔

ii۔ مجرمانہ روی اور اصلاحی طریقہ کار

مجرمانہ رویوں کیلئے جو اصلاحی طریقے استعمال ہوتے ہیں وہ مغربی ماہرنفسیات اور ماہر جرمیات کے مرتب کردہ ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طریقہ ان لوگوں کو اور ان کے والدین کو نفسیاتی طبی معاجہ مہیا کرتا ہے۔ اس کیلئے شرط یہ ہوتی ہے کہ ایسی پنی علامات موجود ہوں جو نشاندہی کر سکیں کہ اصلاح کے مثبت نتائج ہوں گے۔ وہ بچے جو عدم تحفظ ،احساس کمتری یا کسی اور ایسے ہی مخصوص رویے کا شکار ہوں جو کہ انہیں مطمئن زندگی گزارنے میں رکاوٹ کا احساس دلاے تو انہیں نفسیاتی کلینک میں علاج معالجہ کیلئے داخل کرا دینا چاہیے

۔ معاشرتی و ثقافتی اقدار

: جرائم کنٹرول کرنے میں معاشرتی اور ثقافتی اقداربھی اہمیت رکھتے ہیں جب تک معاشرے میں عملی طور پر برائی کے خلاف سخت ریمل نہیں ہو گا اس وقت تک جرائم کی جڑیں مضبوط رہیں گی ۔ جرائم کو یکسر تو کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن معاشرے میں اجتماعی رویے کی وجہ سے منفی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصایشکنی کی جاسکتی ہے۔ معاشرتی اور ثقافتی اقدار میں جرائم اور غیر ذمہ دارانہ معاشرتی رویوں کا سختی سے نوٹس لیا جائے لیکن جہاں تک اصلاحی پہلو کا تعلق ہے اس کیلئے معاشرتی نظام میں اتنی چیک ضرور ہونی چاہیے کہ وہ اس فرد کے ساتھ ہمدردی اور ذمہ دارانہ رو میدر کھے جو جرائم کی دنیا سے نہ صرف نکل آتا ہے بلکہ شائستہ اطوار اپنا تا ہے اور معاشرے میں ایک معتبر مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

۱۷۔ بے روزگاری میں کمی اور موجودہ ذرائع کا استعمال:

معیشت کسی بھی ملک یا معاشرے کے اقدار اور طرز زندگی پر گہرا اثر رکھتی ہے ۔ جس معاشرے کی معیشت مضبوط ہوگی وہاں جرائم کسی حد تک کم ہوں گے یا وہ جرائم سرزد ہوں گے جن کا تعلق معیشت سے کم ہو گا ایسے معاشرے میں زیادہ تر وہ جرائم سرزد ہوتے ہیں جو عیاشی کے تصور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معیشت کا نظام ایسی پالیسی کی ٹھوس بنیادوں پر ہونا چاہیے جہاں ہر فر دکواس کی اپنی قابلیت یا جسمانی مشقت کے مطابق اجرت ملے ۔ ان ممالک نے زندگی کے ہر دوسرے شعبے میں ترقی کی ہے جہاں ہر کام کرنے والے کو اس کی اہمیت و قابلیت اور ضرورت کے مطابق اجرت اور سہولیات ملتی ہیں ۔ موجودہ ذرائع کے استعمال میں زیادہ سے زیادہ افراد کو شامل کیا جاۓ ۔ بچھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے انہیں مزید بہتری کیلئے آسان اقساط پر قرضنے کی سہولیات آسانی سے فراہم ہوں ۔ ہنر مندوں کی مزید تربیت کا بہتر انتظام موجود ہو اور ان سے حاصل شد و پیداوار کا نہیں جائز حصہ دیا جائے

شادی شدہ افراد کی تربیت:

شادی شدہ مردوں اور عورتوں کیلئے مشاورتی مراکز ہونے چاہیے ۔ جہاں ڈاکٹر ، نفسیاتی طبیب ، وکیل اور معاشرتی ماہر ہوں شادی شدہ اشخاص کو صلاح مشورہ د میں جو میاں بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہ کر پائے ہوں ۔ بعض عائلی عدالتیں بھی اس نوعیت کی ہوتی ہیں وہ بھی میاں بیوی کو سمجھا بجھا سکتی ہیں اور ان کی قانونی مشکلات دور کر سکتی ہیں ان مشاورتی مراکز اور عائلی عدالتوں کو گو جرمانہ رویے کی روک تھام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن بالواسط تعلق ضرور ہے ۔ تجربات کی روشنی میں ثابت ہے کہ جن گھروں میں جھگڑے عام ہوتے ہیں وہاں مجرمانہ رویے پرورش پاتے ہیں ۔اس لئے جو مدو بھی والدین کو دیجاسکے جوان کی اور نوعمروں کی زندگی کو آسودہ بنا سکے وہ مجرمانہ رویے کو کم کرنے کیلئے ایک باہمت اور حوصلہ افزاء قدم ہوگا۔

معاشرے کا غیر ذمہ داراندرو یار اس کے اثرات:

ہمارے معاشرے میں کئی جرم لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں لیکن عوام کسی قسم کا رول کرنے سے گریز کرتی ہے یہ بالکل ایسی حقیقت کی مانند ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے ہمارے روز مرہ زندگی سے اس کی مثال کچھ اس طرح بھی دی جاسکتی ہے جیسے راہ چلتی لڑکیوں پر فقرے بازی ہو یا نہیں کسی اور طریقے سے تنگ کیا جاۓ ، لیکن دوسرے افرادائیں حرکات پر دھیان نہیں دیتے اور خاموشی اختیار کرتے ہیں اسی طرح محلوں میں فحاشی ، جوۓ اور شراب نوشی کھلے عام ہوتی ہے لیکن معاشرے کاریٹیل سر در بتا ہے جب معاشرے میں ایسے حالات ہوں تو جرائم کا سد باب کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اگر عوام باشعور ، بیدار اور ذمہ دار ہوں تو جرائم پیشہ لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے ۔ اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عار محسوس نہیں کرتے مثلا دکا نداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورا نہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تا ہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اس طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جوصرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور ٹینزم انہیں بھی دھوکہ.       دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بد عہدی نہ کریں تو وہ بھی شکایت نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کام کو براگر دائیں گے ، اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آگاہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی بینک لونے جاتے ہیں پاراہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نا مناسب سلوک کیا جا تا تب معاشر وقتی طور پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتاہے لیکن پھر ٹہراؤ آجاتا ہے موم ہمارا معاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھٹری دکھائی دے تو نام مطمئن ہو جاتے ہیں اورکسی تنظیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے ۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اور ظلم وتشد د کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو ٹیکس زیادہ دینے پڑتے ہیں اس طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عارمحسوس نہیں کرتے مشار دکانداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورانہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تاہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اسی طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جو صرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور مجرم نہیں بھی دھوکہ دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بدعہدی نہ کر میں تو وہ بھی شکایت نہیں کر یں گے اور نہ ہی اس کام کو برا گردانیں گے ،اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آ گا ہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی جینک لوٹے جاتے ہیں یا راہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا تا تب معاشرہ وقتی طور پر اپنے رومل کا اظہار کرتا ہے لیکن پھر ٹھہراؤ آ جاتا ہے عمو ماہمارامعاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھڑی دکھائی دے تو ہم مطمئن ہو جاتے ہیں اور کی تعلیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رو بی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اورظلم وتشدو کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو یکس زیاد دینے پڑتے میں اسی طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیں ہیں اور جرم وسیاست کا کوئی باضابطہ تعلق نہیں ہے تو جرم اور مجرمانہ رویوں میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے ۔

سوال نمبر: 03۔ شراب نوشی کے سابی نقصانات کی فہرست مرتب کر میں نیز پاکستان میں پچی شراب کے استعمال کی حوصاٹیکنی کیلئے تجاویز دیں۔

جواب۔

ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی برائیاں جنم لے چکی ہیں وہیں نشہ جیسی برائی نے بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہے ۔ کثیر تعداد میں لوگ نشے کے عادی ہو چکے ہیں۔ بوڑھا ہو یا نو جوان ، مرد ہو یا عورت ،امیر ہو یا غریب ،افسر ہو یا حا کم ،تاجر ہو یا کسان بے شمار افراد جانے انجانے نشے کی لت میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انسان بڑا ہی نادان ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے جب کہ اللہ نے قران کریم میں ارشاد فرمایا اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو (البقر 195- ) ۔اسلام نے ہر نشہ آور اشیاء کوحرام قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ حضور سے کسی نے آپ کے تبع کے بارے میں پوچھا جو شہد سے بنا تھاتو آپنے فرمایا کہ ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے ( بخاری ومسلم )۔ اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہر دوشی جو نشہ دینے والی ہے و واسلام کی نظر میں حرام ہے اور اہل اسلام کو اس کا استعمال ہرگز روا نہیں۔ خواہ وہ بھانگ ہو،افیون ، چرس ، یا شراب اور اس کے علاوہ دیگر نشہ آور منشیات سب اسلام میں حرام ہے ایک اور حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب نے نشہ لانے والی اور فتور پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا(ابوداؤد ) ۔ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ بیشمار برائیوں میں ملوث تھے۔ وہیں شراب بھی عام تھی ،لوگ کثرت سے شراب پیتے تھے، جب اسلام آیا تو قرآن میں اللہ نے اس کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کو بھی بیان کیا اور ہمیشہ کے لئے شراب کو حرام کر دیا۔ اللہ جل شانہ نے ارشادفرمایا اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام میں سوان سے بچتے رہوتا کہ تم نجات پاؤ‘‘(المائد 90-)۔ شراب کی نحوست کا انداز اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس کو شیطانی کام کیا اور بت پرستی کے ساتھ بیان کیا۔ اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں شراب کی مذمت اور اس کی قباحت و خباثت کو واضح انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ سے شراب کے متعلق دریافت فرمایا تو اللہ کے حبیب نے فرمایا کہ میکبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ سب برائی کی سردار ہے (الزواجر )۔ اللہ کے نبی نے ارشادفر مایا کہ جوشخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز شراب نہ پیئے اور جواللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب ہو( طبرانی)۔امام طبرانی نے جم کبیر میں ایک حدیث حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے ۔ آپ فرماتیں ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہوئی تو میں نے پیالے میں نبیذ بنایا جوھجور سے بنایا ہوا ایک قسم کا مشروب ہے ) اللہ کے رسول میرے گھر تشریف لاۓ تو و وابل ( چولھے پر رہی تھی۔ آپ نے فرمایا ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا میری بیٹی بیمار ہے اس کی دوا بنا رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایاکہ اللہ نے حرام کردہ اشیاء میں میری امت کے لئے شفا نہیں رکھی ہے۔ ایک حد میں حضرت وائل حضری سے مروی ہے کہ طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا ، آپ نے ان کو منع فرمایا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ میں تو صرف دوا کے لیے شراب بنا تا ہوں حضور نے ارشادفرمایا کہ وہ دوا نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی بیماری ہے (مشکوۃ )۔ مذکورہ احادیث سے شراب کی حرمت اور اس کی قباحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ حرام اشیاء میں شفانہیں ہے ۔ ایک جگہ اللہ کے حبیب نے ارشادفرمایا کہ شراب نہ ہو کہ میام الخبائث ہے اور ای ام الخبائث کہ انسان شراب کی حالت بھی بھی اپنی ماں اور پھوبھی کے ساتھ بھی بدکاری کر بیٹھتا ہے ۔ اور بھی بہت ہی حدیثیں شراب کی مذمت میں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔شراب پینے والوں کے بارے میں اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں وعید میں بیان فرمائی ہیں حضور نے فرمایا کہ جودنیامیں شراب پیتے ہیں اللہ تعالی انہیں جہنمی سانیوں کا زہر پائے گا جسے پینے سے پہلے ہی اس کے چہرے کا گوشت گل کر برتن میں گر جائے گا اور جب وہ اسے اپنے گا تو اس کا گوشت اور کھال ادھر جائے گی جس سے سمی اذیت پائیں گے ( روح البیان ج ۴) ۔ ایک جگہ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جوشخص دنیا میں شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا اللہ تعالی اسے آخرت میں جہنم کی پیپ پلاۓ گا (روح البیان ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ دائی طور پر شراب پینے والا اگر مر گیا اسی حالت میں تو در بارخداوندی میں اس طرح آۓ گا جیسے ایک بت پرست ( مشکوۃ شریف) ۔ حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میری عزت و جلال کی قسم جو بندہ ایک گھونٹ بھی شراب پیئے گا میں اس کو اتناہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اسے چھوڑے گا میں اسے مقدس حوض سے پاؤں گا ( امام احمد بن حنبل ) ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ نے تین آدمیوں پر جنت حرام کر دی ہے ۔ وہ تین میں ہیں (۱) ہمیشہ شراب پینے والا ( ۲ ) والدین کی نافرمانی کرنے والا ( ۳ ) دیوث جو اپنے اہل میں بے حیائی کو دیکھے اور منع نہ کرے(نسائی)۔

شراب انسان کے لئے دین و دنیا دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے ۔ دینی نقصان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نارانسگی کوخرید کر اپنی آخرت بر باد کر لیتا ہے ۔ دنیوی نقصان یہ ہے کہ مختلف قسم کی مہلک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جو ہلاکت کا سبب بنتی ہیں ، لاکھوں عورتیں شرابی شوہر کے ظلم وستم کا نشانہ بنتی ہیں شراب پینے والا بے مروت ہو جاتا ہے، سماج اور معاشرہ کے لئے دردسر بن جا تا ہے ۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ شراب میں ہر طرف سے تباہی اور بربادی ہے، مال کی بھی اور جان کی بھی ۔ اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے ۔

سوال نمبر :04۔ پاکستان میں مختلف دیہی ترقیاتی پروگراموں کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ نیز دیہی ترقی کے طریقہ کار کی وضاحت کر یں۔

جواب۔

دیہات کے لوگوں کی زندگی کا ایک اور اہم پہلوتعلیم سے بے بہرہ ہونا ہے اگر چہ حکومت تعلیم کو عام کرنے کے لیے بہت ہی کوششیں کر رہی ہے مگر اس کے باوجود ہمارے اکثر دیہات میں ابھی تک تعلیم کی روشنی نہیں پہنچ پائی اس کے ساتھ ساتھ لوگ بھی تعلیم حاصل کرنا ضروری تصور نہیں کرتے ان کے خیال میں سکول بھیجنے کی بجائے بچے کو ھیتوں میں بھجنا زیادہ فائدہ مند ہے ۔ دیہات کے لوگ اپنی غربت کے ہاتھوں نہ تو پڑھائی کے لیے پیسہ خرچ کر سکتے ہیں اور نہ ہی وقت ۔ اس کے علاوہ اکثر دیہات ایسے ہیں جہاں پرائمری سکول بھی نہیں ہیں اس لیے لوگ دوسرے دیہات میں اپنے بچے بھیجنا پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان پڑھے ہیں یہ حالت صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ اکثر ترقی پذیر ممالک میں خواند و یا پڑھے لکھے افراد کی تعداد بہت ہی کم ہے اور جتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اکثر شہروں میں رہتے ہیں دیہات میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے مندرجہ ذیل جدول جو کہ آئی پی پی ایف کے جرید پی پی پی کے جرید نے پیپلز سے لیا گیا ہے اس سے ترقی پذیر ممالک میں نا خواندگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ علمی پسماندگی اور غربت و افلاس لازم وملزوم ہیں۔ ناخواندگی کے باعث کاشت کا ر جد ید زری معلومات سے بے بہرور ہتے ہیں زرعی

پیداوار میں اضافہ کرنے کی تدابیراور طریقوں کاعلم نہیں رکھتے ۔ اگر کاشتکار پڑھے لکھے ہوں تو وہ نہ صرف جدید معلومات زرمی سے استفادہ کر کے اپنی زرعی پیداوار بڑھنے کی تدابیر کر سکتے ہیں بلکہ اپنے روز مرہ کا حساب کتاب رکھ سکتے ہیں تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان کی معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا اور ان کے ذہن میں نئی ایجادات کے لیے وسعت اور بالغ نظری پیدانہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں نئی یجادات اپنانے کا حوصلہ پیدانہیں ہوتا۔ تعلیم ایک ایسا معاشرتی عمل ہے جس کے بغیر ہم افراد معا شر وترقی کی اہمیت نہیں سمجھا سکتے اور وہی ترقیاتی کاموں میں سرگرم حصہ لینے پر آما وہ کر سکتے ہیں تعلیم کے بغیر سابی اور ثقافتی تربیت بھی ممکن نہیں ہوتی چنانچہ لوگوں کی حالت بدلنے کے لیے ان کو اور ان کے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو تعلیم دینے کا بندوبست کرنا نہایت ضروری ہے۔ و یہی معاشرتی زندگی: دیہی زندگی شہری زندگی سے مختلف ہوتی ہے چونکہ ہماری آبادی کا تقریبا72 فیصد حصہ دیہات میں و بستا ہے اس لیے ان لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں اور دیہات کو ترقی دینے والے طریقہ کارکومندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو درج ذیل ہے

دیہات کاطبیعی ڈھانچہ

جونہی ہم شہروں سے وہی علاقوں کی طرف جاتے ہیں سب سے پہلے سرسبز کھیت اور کسان ہمارا استقبال کرتے ہیں جن میں کوئی فصل کو پانی دے رہا ہوتا کوئی زمین میں ہل چلا رہا ہوتا ہے کوئی بیچ ہور ہا ہوتا ہے تو کوئی فصل کاٹ رہا ہوتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نام دیہی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں پاکستان کے دیہی علاقوں میں لوگ زیادہ تر کچے مکانوں میں رہتے ہیں جن کی چھتیں شہتیروں پر گھاس پھونس ڈال کر بنائی جاتی ہے یہ گھر عموما کھلے کھلے ہوتے ہیں درمیان میں محن ہوتا ہے گھر کے کمروں میں عموماً کھڑ کی باروشندان ہوتے ہیں گلیاں اور محلے ترتیب سے نہیں بنے ہوتے اکثر گلیاں ٹیڑھی میڑھی ہوتی ہیں اور عموما گندی ہوتی ہیں اگر چہ ہر گھر انفرادی طور پر بیکوشش ضرور کرتا ہے کہ اپنے گھر کے سامنے کا حصہ صاف رکھے مگر اس کے باوجود چونکہ سرکاری طور پرکوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا اس لیے کئی جگہوں پر اس کے ڈھیر ملتے ہیں زندگی میں جدید سہولتوں کا فقدان ہے بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچ سکی سوئی گیس کی سہولت بھی موجود ہیں اکثر دیہات تک پکی سڑک نہیں جاتی پانی عموما ہنڈ پمپ سے حاصل کیا جا تا ہے بعض علاقوں میں جہاں پانی کی تلخ اونچی نہیں کنو میں کھودے جاتے ہیں

زرعی ترقیاتی بینک آف پاکستان

ا۔ مقاصد: بنک کا قیام 1961 ء میں عمل میں آیا۔ اس کا مقصد زری شعبوں میں کاشتکارکوقرضے فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ گاؤں کی طح پر گھر یا منعتیں لگانے کیلئے بھی قرضے فراہم کرنا اس بنک کا بنیادی مقصد تھا۔

ii۔ طریقہ کار: بنک کا شتکاروں کوان کی بہت فصل کیلئے قرضے فراہم کرتا ہے یہ قرضے آسمان مشعلوں میں واپس لئے جاتے ہیں اور کسان کو ں نے ان میں ورکر اس کی زمین کے مطابق قرضہ ماتا ہے عموماز میں گروی رکھی جاتی ہے یا فصل کے مطابق قرضہ کی شرائط طے کی جاتی ہیں ۔

نتائج:

پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق 81-1980 تک بنک نے 62-1066 ملین روپے کے قرضے فراہم کئے ۔ان

قرضوں کی رقم میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ 82-1991 ء میں یہ قرضے 38-1557 ملین تک پہنچ گئے ہیں۔ ان قرضوں کا 45 فیصد سے بھی زیادہ حصہ زرعی مشینری خریدنے کے کام آیا مگر بنک کی ان سہولتوں کے زیادہ تر فائدے بڑے کاشتکاروں کو حاصل ہوۓ کاشتکاروں کو کل رقم کا بمشکل 21 فیصد دیا گیا تا ہم اس قرضے کی بدولت بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور زراعت میں ترقی کا سبب بنا۔ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے طریق کار میں کارکن کے کردار کی اہمیت: کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کا انحصار صرف ایک شخص پر ہوتا ہے جسے ہم ترقیاتی کارکن یا ترقیاتی رہنما بھی کہ سکتے ہیں۔ چنانچہ اسے ہر دلعزیز اور قابل قبول شخصیت ہونے کے علاوہ جنتی اور دیانتدار بھی ہونا چاہئے ۔ اس کے علاوہ اسے اس کمیونٹی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے فوری حل کے بارے میں تھوڑا بہت علم بھی ضرور ہونا چاہئے مثلا چھوٹی چھوٹی بیماریوں کی صورت میں بیان کیلئے معالج ثابت ہوا تعلیم وتربیت میں استاد ، گھر یلو معاملات میں مشیر ، جھگڑے لے کرانے میں بیج اور مصالحت کنند و در اجتماعی کاموں میں ان کا رہنما ہونا چاہئے ۔اگر چہ وہ ان تمام معاملات میں ماہرین کی جگہ تو نہیں لے سکتا مگرلیکن ان تمام معاملات میں اس کی ایسی رائے ہونی چاہئے جو زیادہ تر لوگوں کو قبول ہو اور ان کے فوائد میں ہو ۔ اسے اس آبادی کیلئے جس ترقی پر اسے معمور کیا گیا ہو ایک مثال ہونا چاہئے تب جا کر کہیں اس طریقہ کار سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ تر قیاتی کارکن کو مندرجہ ذیل اصولوں کی روشنی میں اپنے کام کا آغاز کرنا چاہئے

1۔ کارکن کو ان لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرنے چاہئیں جن کے ساتھ وہ کام کرنا چاہتا ہے۔

کارکن لوگوں کی چھوٹی چھوٹی اور ہنگامی ضرورتوں کو پورا کر کے ان کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اگر وہ ان کی کسی معمولی بیماری کا علاج کر کے ان کو صحت و صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہے گا تو وہ آسانی سے اس کی بات سمجھ جائیں گے ۔ چونکہ یہ اعتاد اس نے حال ہی میں حاصل کیا ہوتا ہے اور اہل خانہ کو ایک مصیبت سے نجات دلانی ہوتی ہے اس لئے اس وقت ان کے جذبات واحساسات کا احترام کر کے انہیں سمجھا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ جب کوئی اس سے مشورہ طلب کرے تو کارکن کو اس کے ساتھ اس طرح سے بات کرنی چاہئے کہ وہ جان لے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اس کا کوئی ہدر نہیں اور اسے اپنے ایمان اور مسلم کے مطابق سیح مشور و دینا چاہئے ۔ اس طرح کے لگاتار عمل سے و واس معاشرتی گروہ میں ایک قابل احترام شخصیت بن جائے گا اور اسے کام کرنے میں آسانی ہوگی۔

2۔ کارکن کو ہرائی جانے والی تبد یلی کیلئے لوگوں کی رضامندی حاصل کر لینی چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ

کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے ۔

کارکن اگر ان لوگوں کی مقامی زبان میں بات کرنے والا ہو جن لوگوں میں اسے بھیجا گیا ہوتو وہ اس کی بات کو آسانی سے سمجھ جائیں گے نیز مقامی واقفیت کی بناء پر وہ مختلف منصوبے بنانے اور ان کی ترجیحات مرتب کرنے میں بھی زیادہ ماہر ہوگا۔ علاوہ ان میں اگر وہ ان لوگوں کا ہم عقید بھی ہوتو زیادہ اچھا ہے اس کے برعکس بیرونی ماہرین اور ٹیکنیک فتی لحاظ سے پیا ہے کتنی بھی املی کیوں نہ ہو وہ اگر لوگوں کے جذبات و احساسات سے ہم آہنگ نہ ہوگی تو مطلوبہ نتائج پیدا کرنے سے قاصر رہے گی ۔ اسی بات کوئی ۔آرمین نے اپنی کتاب ’’معاشرے اور ان کی ترقی میں ایشیائی ممالک کی فنی امداد کے سلسلے میں ہونے والی کانفرنس میں جنوب مشرقی ایشیاء کے نمائندوں کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ تمام نمائندے اس بات پر متفق تھے کہ گذسته چند سالوں کے دوران مختلف اداروں کی طرف سے دی جانے والے فنی امداد نہ صرف نتیجہ رہی بلکہ بعض حالات میں نقصان رساں بھی ثابت ہوئی کیونکہ و مغربی ممالک سے آنے والے ساز و سامان اور وہیں پر ترتیب دی گئی ٹیکنیک پریٹی تھی جس کا مقصد تیزی سے حاصل ہونے والے اور نظر آنے والے نتائج پیدا کرنا تھا۔ اس ساز و سامان اور ٹیکنیک پر کام کرنے والے بھی مغربی ماہرین تھے جو ٹیکنیک کی حد تک تو بہت ماہر تھے لیکن مقامی حالات سے بالکل ناواقف تھے۔ وہ ہر متوقع سوال کا جواب جانتے تھے لیکن جب وہ موقع پر پہنچتے تو ان کی تمام مہارت بے کار ثابت ہوتی ‘‘۔ مزیدآگے چل کر لکھتے ہیں کہ درحقیقت اب وہ تمام کارکن محسوس کرنے لگے ہیں کہ اگر وہ بھیں گے کہ وہ تمام خیالات اور منصوبے جو ان کے اپنے ماحول اور تہذیب وتمدن میں درست کسی دوسرے میں اسی طرح درست نتائج کے حامل ہوں گے تو نا کامی ان کا مقدمہ بن جائے گی‘۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ کارکن کا ان لوگوں میں سے ہونا لازمی ہے اور دو ان کا ہم عقید ہ ہونے بنا پر ان کی خوشی اورمی میں بھی شامل ہو سکے تو وہ ان میں مزید شیر و شکر ہو سکے گا اور پیاس کی اپنے مشن میں کامیابی ضمانت ہوگی ۔

کارکن کو انہیں اس بات کی یقین دہانی کروانی چاہیے کہ مجوزہ تبدیلی نہایت محفوظ ہے۔

کسی تبد یلی کوقبول کرتے ہوۓ لوگ اس بات کا پہلے سے یقین کرنا ضروری خیال کر ہیں گے کہ وہ نہیں ایسا کرنے سے لوگوں کی تضحیک کا نشانہ تو نہیں بن جائیں گے ۔ یا نہیں مالی طور پر نقصان تو نہیں برداشت کرنا پڑے گا مثال کے طور پر ہمارا ان پڑھ کاشت کار نے بیج ، نئے آلات زراعت اورکھیتی باڑی کے نئے طریقوں کو اپنانے سے ہچکچائے گا اور سوچے گا کہ ایسا کرنے سے کہیں میری فصل تو نہیں ماری جاۓ گی ۔ میرا سال تو ضائع نہیں ہو جائے گا وہ ان تبدیلیوں کو حکومت کی طرف سے کئے گئے تجربوں کی روشنی میں بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوگا کہ اس لئے کہ جب وہ اپنے اور حکومت کے وسائل کا موازنہ کرے گا یہی مجھے گا کہ حکومت تو یہ سب کچھ کر سکتی ہے میں انہیں ضمانت فراہم کر کے تمام لوگوں کیلئے کا عملی مظاہرہ کرنے کا بندوبست کر نا ہوگا تب کہیں جا کر وہ انہیں قائل کر سکے گا۔

سوال نمبر :05۔ مندرجہ ذیل پرنوٹ لکھیں۔

) شہری علاقوں میں مختلف جرائم

جواب: دراصل بچوں کی بے راہ روی میں گھر کے برے ماحول اور ناقص نگرانی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ والدین کو آج کل اقتصادی و سماجی ذمہ داریوں سے بہت کم وقت ماتا ہے۔ نیچے اپنا بیشتر وقت گلی کو چوں اورآوار ومزاج لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں ۔ بچوں کو نیک و بد بنانے میں دوستوں کی صحبت کافی اہمیت رکھتی ہے ۔ پڑوس میں اچھے برے ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں ۔ والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو سلجھے ہوۓ بچوں کی صحبت سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کر میں اورانہیں بے راہ رو نیچے کی صحبت سے بچائیں تا کہ وہ نیکی کے راستے پر گامزن رہ ہیں بچوں کیلئے صالح تعلیم و تربیت کی سخت ضرورت ہے ۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ ان کو اسلامی اقدار و نظریات اور قانون کی اہمیت سے آگاہ کر میں وہ خود کو بھی تربیت اطفال سے آگاہ کر میں ۔ تا کہ مستقبل کے رہنماؤں کو صالح زندگی بسر کرنے میں آسانی رہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تربیت اطفال پر معیاری کتابیں لکھوائی جائیں اور انہیں سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے کہ بچوں کوخوش اسلوبی سے حاصل کرنے کیلئے تربیت اطفال کی تعلیم کو عام کر نے ضرورت ہے۔ جرائم کی روک تھام کیسے ممکن ہے: پاکستان اسلامی قوانین کے فروغ و نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور اب ان قوانین کوفروغ دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ۔ اس لئے یتوقع پیل ہے کہ اس سے انسداد جرائم میں کافی مدد ملے گی ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر ہمارے قوانین مذہبی تعلقات سے نم آہنگ ہوں اور سماجی انحراف اور جرم ومصیبت کا دروازہ بند ہو جائے۔ لیکن اس مقصد کے لئے ہمیں مذہبی اور قانونی تعلیمات کو بھی کافی رواج دینا پڑے گا اور زندگی میں دین ودنیا کی جوتسیم پیدا ہوگئی ہے اسے بھی ختم کرنا ہوگا ۔ اسلام کے شہری اصولوں کی اگر لوگ پیروی مکمل طور پر کرنا شروع کردیں تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ ملک میں مکمل امن وامان اور سکون قائم ہو جائے گا۔ مذہب اسلام انسان میں خدا کے سامنے جوابدہی ،خوف خدا اور خدا ترسی پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان کو اس بات کو یقین ہو جائے نیز اس بات کا با قاعدہ پر پاراور تبلیغ کی جائے تو جرائم قتل ، ڈکیتی، چوری کا قلع قمع ہوسکتا ہے ۔ اسلامی سزائیں بھی رائج کر دی جائیں تو ایسے جرائم بہت کم ہو جائیں گے جس طرح کہ سعودی عرب میں جرائم بہت کم پاۓ جاتے ہیں کیونکہ وہاں اسلام کے مطابق انصاف ملتا ہے۔ اور مجرم کو سخت سزادی جاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جائے ۔ کیونکہ اگر افراد کو یہ بھی یقین ہو کہ قوانین کی خلاف ورزی پر نہ صرف وہ حکومت کا مجرم ہے بلکہ خدا کا مجرم بھی ہو گا تو جرائم کرنے سے پہلے و وضرور سوچے گا ۔

 ناقص منڈی کے دیہی زندگی پراثرات

جواب: ناقص منڈی کے دیہی زندگی پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں :

1۔ ناقص منڈی کی وجہ سے اشیاء کی خرید وفروخت میں مشکل پیش آتی ہے۔

2 ۔ ناقص منڈی کی وجہ سے صحت کے اصولوں کا پاس نہیں رکھا جا تا ۔

3۔ ناقص منڈی کی وجہ سے کاشت کا کوا پنی فصل کا ؤں میں ہی آ ڑھی کے ہاتھوں اونے پونے فروخت کرنی پڑتی ہے ۔

4۔ ناقص منڈی دیہی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

 

Course  Sociology -II( 413 )

Assignmen:: t no 2.

Semester::  2022 spring

 

 

 

سوال نمبر: 01۔ کثرت آبادی ترقی پذیر ممالک کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے کیا اسباب میں وضاحت کریں۔

 جواب:

کثرت آبادی سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے اگر چہ اللہ تعالی نے زمین کو طرح طرح کی نعمتوں اور وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن آج کے ترقیاتی یافتہ دور میں خدا کی نیمتیں بتدریج کم ہوتی جارہی ہیں اور دنیا کی ایک بڑی آبادی کو ایک وقت کی روٹی بڑی مشکل سے میسر آتی ہے ماہرین عمرانیات ، اقتصادیات و آبادیات اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ وسائل سے زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیتے ہیں بڑھتی ہوئی آبادی کا یہ سیلاب پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے کثرت آبادی کی روک تھام کے لیے چند اقدامات درج ذیل ہیں

: ا۔ عورت کے روایتی کردار میں تبدیلی:

پاکستان میں برادری نظام کی موجودگی مشترکہ خاندانی نظام اور دیگر ثقافتی اثرات کی وجہ سے معاشرے میں مردکوعورت پر فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے عورت اپنے روایتی کردار یعنی گھر اور بچوں کی پرورش تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اس تصور کوتوڑنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر ملک کی آدھی آبادی گھر میں قید ہو کر رہ جاۓ یا ایسے کام کرے جس کی نوعیت غیر پیداواری ہو تو ظاہر ہے یہ بات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور کثرت آبادی کا باعث ہے خواتین کا مجاب کر ناکسی حد تک اس مسئلے کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

خواتین کی تعلیم:

خواتین میں خواندگی کی سطح خصوصا دیہی علاقوں میں بہت کم ہے خواتین میں تعلیم کے پھیلاؤ کی افادیت کا انداز داس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ نا خواند و خواتین کی نسبت ایسی خواتین جنہوں نے تعلیم حاصل کی ہوان کے ہاں بچوں کی تعداد نصف ہوتی ہے اس لیے چھوٹے خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے اور شرح پیدائش کو کنٹرول کرنے کے لیے خواتین کی تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔

افرادی قوت کا صحیح استعمال:

افرادی قوت کا بیج استعمال بھی آبادی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جیسے کہ نو جوانوں کو ہنر سکھائے جائیں اور ان کی پیداواری صلاحیتوں کو بروے کا را یا جاۓ تا کہ بھکاری نہ بنیں اور بے کار نہ پھر ہیں

۴۔ خاندانی منصوبہ بندی کا شعور

خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد ، خاندان میں افراد کی تعداد کو خاندان کے وسائل کے مطابق رکھتا ہے نہ کے نسل انسانی کی بندش ہے پاکستان میں آبادی کے کنٹرول سے متعلق جتنے بھی منصوبے کام کر رہے ہیں ان کی تیج افادیت کی آگاہی کے لیے ملک گیر سطح پر نظم کوششوں کی ضرورت ہے جس کے لیے تمام ذرائع بروئے کارلانے چاہئیں جن میں میڈ یاتعلیمی اداروں اور دیہی سطح پر بزرگوں کو شامل کعنا ضروری ہے

۵۔ دیہی آبادی کی ترقی

دیہی آبادی کو معاشی و معاشرتی ترقی دینے اور بہترین صحت غذا اورتعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے دیہی معاشروں میں عورت کا مقام و معیار بلند کرنے میں مدد ملے گی جس سے ملکی ترقی اور ملک کی آبادی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں

مدد ملے گی۔

۔ قدرتی وسائل کا بہتر استعمال:

معاشی ومعاشرتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا بیج استعمال بھی آبادی کے اضافے کو کنٹرو ل کر سکتا ہے کیوں کہ جتنا کوئی معاشرہ خوشحال ہوگا اور وسائل کی فراوانی ہوگی اضافہ آبادی بھی بھی منا نہیں بنے گی قدرتی وسائل میں پانی کا صحیح استعمال جیسا کہ ڈیز کی تعمیر کے ذریعے پانی کے ذخائر بڑھانا ، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، جدید زرعی آلات کا استعمال ، کھاد میں اور توانائی کے نئے ذخائر وغیرہ کی دریافت شامل ہیں ان اصولوں پر ٹیل کیا جاۓ اور دیہی علاقوں کی ترقی پر خاص توجہ دی جائے تو پورا معاشرہ خوشحال ہوگا اور بے روز گاری کم ہو جائے گی وسائل کے بیج استعمال و منصفا تقسیم سے لوگوں میں محنت کا جذ بداجا گر ہو گا اور افراد کا معیار زندگی بلند ہوگا اور یوں معاشرہ امن وخوشحالی کی جانب گامزن ہو گا اور کثرت آبادی کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوگا۔

سوال نمبر :02۔غربت کے معاشرے پر عمومی اثرات بیان کر میں نیز غربت کی شدت کو کم کرنے کیلئے کس قسم کے اقدامات زیادہ مئوثر ثابت ہوں گے

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غربت معاشرے میں بگاڑ کی ایک بہت بنیادی وجہ ہے ۔ پر ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں جن کی وجہ سے ان منفی رویوں میں کمی لائی جاسکتی ہے اور ایک خوشگوار ماحول وفضا کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

 ا۔نظام تعلیم کی اصلاح اور ترقی:

ہمارے معاشرے میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں رہی اور غیر رکی تعلیم دی جاتی ہے تا کہ بچہ اپنے مستقبل میں معاشرے کا ایک کامیاب فرد بن سکے۔ موجودہ نظام کی اصلاح کی جاۓ ۔ جہاں خامیاں اور کمزوریاں ہیں انہیں دور کیا جائے تا کہ جب و عملی میدان میں آئیں تو منظم زندگی گزار ہیں ۔ خاندان کے بعد دوسرا ہم معاشرتی اور تعلیم کا ہے ۔ جہاں فروکی ابتدائی عمر میں اخلاقی تربیت کی جاتی ہے اور اس میں حب الوطنی کا جذ بہ ابھارا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں Guidance and Councilling کے مراکز ہیں ۔استاد جب بچے کو اوسط درجے سے منحرف دیکھتا ہے تو اسے مراکز میں بھیج دیتا ہے جہاں تجربہ کار مشیر اور نفسیاتی طبیب بچوں کا علاج نہایت محنت اور خلوص سے کرتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک جن میں اداروں اور مشیروں کا تعلق عدالتوں سے نہیں ہوتا ان کا اصل کام خطا کاری کوروکن نہیں ہوتا بلکہ مریض کی جذباتی اور شخصیاتی نکالیف کا حل ڈھونڈ نا ہوتا ہے ممکن ہے خطا کار کی خطاؤں کی تہہ میں ان کی بیجانی یانی تکالیف موجودنہ ہوں کیونکہ خطا کے اسباب صرف نفسیاتی ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی قسم کے ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح مقطرب بچوں اور نو جوانوں کیلئے ایک اسلامی طریقہ گروہی علاج معالجہ Group Thesaphy ہے ۔ یہ گروہ خود نفسیاتی طبیب چھتا ہے۔اس میں کھیل کود اور اسی قسم کی دوسری تفریحی سرگرمیاں کا انتظام کیا جا تا ہے جو گروہ کا لیڈر ہوتا ہے اسے اس کا علم ہوتا ہے کہ بچوں کو کیا تکلیف ہے یا انہیں کیا مسائل درپیش ہیں ۔ وہ ہر بچے کے کردار کا مطالعہ کرتا ہے۔ اسے تسلی دلاسہ دیتا ہے اور پیار محبت سے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان گروہوں کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں ہوتا۔ بچے خو اپنی تکالیف کا مظاہرہ کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کا حل ڈھونڈتے ہیں ۔ اگر بڑوں کیلئے گروہ بنا ہوتو کھیل تماشے کے بجائے انتلو، بحث مباحثہ مذاکرہ ہوسکتا ہے۔ انتلو کیلئے بھی کوئی موضوع پہلے سے بھی طے نہیں کیا جا تا بلکہ جو موضوع بھی گروہ زیر بحث ا نا چاہتا ہوا سکتا ہے۔ علاج معالجہ کے جو مختلف طریقے بیان ہو چکے ہیں ان کی بنیاد اس مفروضہ پر ہے کہ خطا کاری میں خاندان کا بڑا حصہ ہے۔ خاندان کی اگر اصلاح ہو جائے تو مجرمانہ رویے میں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن خاندان بھی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اس کی اصلاح بھی معاشرے کی اصلاح پر منصر ہے ۔

ii۔ مجرمانہ روی اور اصلاحی طریقہ کار

مجرمانہ رویوں کیلئے جو اصلاحی طریقے استعمال ہوتے ہیں وہ مغربی ماہرنفسیات اور ماہر جرمیات کے مرتب کردہ ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طریقہ ان لوگوں کو اور ان کے والدین کو نفسیاتی طبی معاجہ مہیا کرتا ہے۔ اس کیلئے شرط یہ ہوتی ہے کہ ایسی پنی علامات موجود ہوں جو نشاندہی کر سکیں کہ اصلاح کے مثبت نتائج ہوں گے۔ وہ بچے جو عدم تحفظ ،احساس کمتری یا کسی اور ایسے ہی مخصوص رویے کا شکار ہوں جو کہ انہیں مطمئن زندگی گزارنے میں رکاوٹ کا احساس دلاے تو انہیں نفسیاتی کلینک میں علاج معالجہ کیلئے داخل کرا دینا چاہیے

۔ معاشرتی و ثقافتی اقدار

: جرائم کنٹرول کرنے میں معاشرتی اور ثقافتی اقداربھی اہمیت رکھتے ہیں جب تک معاشرے میں عملی طور پر برائی کے خلاف سخت ریمل نہیں ہو گا اس وقت تک جرائم کی جڑیں مضبوط رہیں گی ۔ جرائم کو یکسر تو کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن معاشرے میں اجتماعی رویے کی وجہ سے منفی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصایشکنی کی جاسکتی ہے۔ معاشرتی اور ثقافتی اقدار میں جرائم اور غیر ذمہ دارانہ معاشرتی رویوں کا سختی سے نوٹس لیا جائے لیکن جہاں تک اصلاحی پہلو کا تعلق ہے اس کیلئے معاشرتی نظام میں اتنی چیک ضرور ہونی چاہیے کہ وہ اس فرد کے ساتھ ہمدردی اور ذمہ دارانہ رو میدر کھے جو جرائم کی دنیا سے نہ صرف نکل آتا ہے بلکہ شائستہ اطوار اپنا تا ہے اور معاشرے میں ایک معتبر مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

۱۷۔ بے روزگاری میں کمی اور موجودہ ذرائع کا استعمال:

معیشت کسی بھی ملک یا معاشرے کے اقدار اور طرز زندگی پر گہرا اثر رکھتی ہے ۔ جس معاشرے کی معیشت مضبوط ہوگی وہاں جرائم کسی حد تک کم ہوں گے یا وہ جرائم سرزد ہوں گے جن کا تعلق معیشت سے کم ہو گا ایسے معاشرے میں زیادہ تر وہ جرائم سرزد ہوتے ہیں جو عیاشی کے تصور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معیشت کا نظام ایسی پالیسی کی ٹھوس بنیادوں پر ہونا چاہیے جہاں ہر فر دکواس کی اپنی قابلیت یا جسمانی مشقت کے مطابق اجرت ملے ۔ ان ممالک نے زندگی کے ہر دوسرے شعبے میں ترقی کی ہے جہاں ہر کام کرنے والے کو اس کی اہمیت و قابلیت اور ضرورت کے مطابق اجرت اور سہولیات ملتی ہیں ۔ موجودہ ذرائع کے استعمال میں زیادہ سے زیادہ افراد کو شامل کیا جاۓ ۔ بچھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے انہیں مزید بہتری کیلئے آسان اقساط پر قرضنے کی سہولیات آسانی سے فراہم ہوں ۔ ہنر مندوں کی مزید تربیت کا بہتر انتظام موجود ہو اور ان سے حاصل شد و پیداوار کا نہیں جائز حصہ دیا جائے

شادی شدہ افراد کی تربیت:

شادی شدہ مردوں اور عورتوں کیلئے مشاورتی مراکز ہونے چاہیے ۔ جہاں ڈاکٹر ، نفسیاتی طبیب ، وکیل اور معاشرتی ماہر ہوں شادی شدہ اشخاص کو صلاح مشورہ د میں جو میاں بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہ کر پائے ہوں ۔ بعض عائلی عدالتیں بھی اس نوعیت کی ہوتی ہیں وہ بھی میاں بیوی کو سمجھا بجھا سکتی ہیں اور ان کی قانونی مشکلات دور کر سکتی ہیں ان مشاورتی مراکز اور عائلی عدالتوں کو گو جرمانہ رویے کی روک تھام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن بالواسط تعلق ضرور ہے ۔ تجربات کی روشنی میں ثابت ہے کہ جن گھروں میں جھگڑے عام ہوتے ہیں وہاں مجرمانہ رویے پرورش پاتے ہیں ۔اس لئے جو مدو بھی والدین کو دیجاسکے جوان کی اور نوعمروں کی زندگی کو آسودہ بنا سکے وہ مجرمانہ رویے کو کم کرنے کیلئے ایک باہمت اور حوصلہ افزاء قدم ہوگا۔

معاشرے کا غیر ذمہ داراندرو یار اس کے اثرات:

ہمارے معاشرے میں کئی جرم لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں لیکن عوام کسی قسم کا رول کرنے سے گریز کرتی ہے یہ بالکل ایسی حقیقت کی مانند ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے ہمارے روز مرہ زندگی سے اس کی مثال کچھ اس طرح بھی دی جاسکتی ہے جیسے راہ چلتی لڑکیوں پر فقرے بازی ہو یا نہیں کسی اور طریقے سے تنگ کیا جاۓ ، لیکن دوسرے افرادائیں حرکات پر دھیان نہیں دیتے اور خاموشی اختیار کرتے ہیں اسی طرح محلوں میں فحاشی ، جوۓ اور شراب نوشی کھلے عام ہوتی ہے لیکن معاشرے کاریٹیل سر در بتا ہے جب معاشرے میں ایسے حالات ہوں تو جرائم کا سد باب کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اگر عوام باشعور ، بیدار اور ذمہ دار ہوں تو جرائم پیشہ لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے ۔ اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عار محسوس نہیں کرتے مثلا دکا نداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورا نہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تا ہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اس طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جوصرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور ٹینزم انہیں بھی دھوکہ.       دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بد عہدی نہ کریں تو وہ بھی شکایت نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کام کو براگر دائیں گے ، اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آگاہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی بینک لونے جاتے ہیں پاراہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نا مناسب سلوک کیا جا تا تب معاشر وقتی طور پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتاہے لیکن پھر ٹہراؤ آجاتا ہے موم ہمارا معاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھٹری دکھائی دے تو نام مطمئن ہو جاتے ہیں اورکسی تنظیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے ۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اور ظلم وتشد د کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو ٹیکس زیادہ دینے پڑتے ہیں اس طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عارمحسوس نہیں کرتے مشار دکانداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورانہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تاہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اسی طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جو صرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور مجرم نہیں بھی دھوکہ دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بدعہدی نہ کر میں تو وہ بھی شکایت نہیں کر یں گے اور نہ ہی اس کام کو برا گردانیں گے ،اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آ گا ہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی جینک لوٹے جاتے ہیں یا راہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا تا تب معاشرہ وقتی طور پر اپنے رومل کا اظہار کرتا ہے لیکن پھر ٹھہراؤ آ جاتا ہے عمو ماہمارامعاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھڑی دکھائی دے تو ہم مطمئن ہو جاتے ہیں اور کی تعلیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رو بی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اورظلم وتشدو کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو یکس زیاد دینے پڑتے میں اسی طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیں ہیں اور جرم وسیاست کا کوئی باضابطہ تعلق نہیں ہے تو جرم اور مجرمانہ رویوں میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے ۔

سوال نمبر: 03۔ شراب نوشی کے سابی نقصانات کی فہرست مرتب کر میں نیز پاکستان میں پچی شراب کے استعمال کی حوصاٹیکنی کیلئے تجاویز دیں۔

جواب۔

ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی برائیاں جنم لے چکی ہیں وہیں نشہ جیسی برائی نے بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہے ۔ کثیر تعداد میں لوگ نشے کے عادی ہو چکے ہیں۔ بوڑھا ہو یا نو جوان ، مرد ہو یا عورت ،امیر ہو یا غریب ،افسر ہو یا حا کم ،تاجر ہو یا کسان بے شمار افراد جانے انجانے نشے کی لت میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انسان بڑا ہی نادان ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے جب کہ اللہ نے قران کریم میں ارشاد فرمایا اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو (البقر 195- ) ۔اسلام نے ہر نشہ آور اشیاء کوحرام قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ حضور سے کسی نے آپ کے تبع کے بارے میں پوچھا جو شہد سے بنا تھاتو آپنے فرمایا کہ ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے ( بخاری ومسلم )۔ اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہر دوشی جو نشہ دینے والی ہے و واسلام کی نظر میں حرام ہے اور اہل اسلام کو اس کا استعمال ہرگز روا نہیں۔ خواہ وہ بھانگ ہو،افیون ، چرس ، یا شراب اور اس کے علاوہ دیگر نشہ آور منشیات سب اسلام میں حرام ہے ایک اور حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب نے نشہ لانے والی اور فتور پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا(ابوداؤد ) ۔ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ بیشمار برائیوں میں ملوث تھے۔ وہیں شراب بھی عام تھی ،لوگ کثرت سے شراب پیتے تھے، جب اسلام آیا تو قرآن میں اللہ نے اس کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کو بھی بیان کیا اور ہمیشہ کے لئے شراب کو حرام کر دیا۔ اللہ جل شانہ نے ارشادفرمایا اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام میں سوان سے بچتے رہوتا کہ تم نجات پاؤ‘‘(المائد 90-)۔ شراب کی نحوست کا انداز اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس کو شیطانی کام کیا اور بت پرستی کے ساتھ بیان کیا۔ اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں شراب کی مذمت اور اس کی قباحت و خباثت کو واضح انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ سے شراب کے متعلق دریافت فرمایا تو اللہ کے حبیب نے فرمایا کہ میکبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ سب برائی کی سردار ہے (الزواجر )۔ اللہ کے نبی نے ارشادفر مایا کہ جوشخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز شراب نہ پیئے اور جواللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب ہو( طبرانی)۔امام طبرانی نے جم کبیر میں ایک حدیث حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے ۔ آپ فرماتیں ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہوئی تو میں نے پیالے میں نبیذ بنایا جوھجور سے بنایا ہوا ایک قسم کا مشروب ہے ) اللہ کے رسول میرے گھر تشریف لاۓ تو و وابل ( چولھے پر رہی تھی۔ آپ نے فرمایا ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا میری بیٹی بیمار ہے اس کی دوا بنا رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایاکہ اللہ نے حرام کردہ اشیاء میں میری امت کے لئے شفا نہیں رکھی ہے۔ ایک حد میں حضرت وائل حضری سے مروی ہے کہ طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا ، آپ نے ان کو منع فرمایا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ میں تو صرف دوا کے لیے شراب بنا تا ہوں حضور نے ارشادفرمایا کہ وہ دوا نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی بیماری ہے (مشکوۃ )۔ مذکورہ احادیث سے شراب کی حرمت اور اس کی قباحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ حرام اشیاء میں شفانہیں ہے ۔ ایک جگہ اللہ کے حبیب نے ارشادفرمایا کہ شراب نہ ہو کہ میام الخبائث ہے اور ای ام الخبائث کہ انسان شراب کی حالت بھی بھی اپنی ماں اور پھوبھی کے ساتھ بھی بدکاری کر بیٹھتا ہے ۔ اور بھی بہت ہی حدیثیں شراب کی مذمت میں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔شراب پینے والوں کے بارے میں اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں وعید میں بیان فرمائی ہیں حضور نے فرمایا کہ جودنیامیں شراب پیتے ہیں اللہ تعالی انہیں جہنمی سانیوں کا زہر پائے گا جسے پینے سے پہلے ہی اس کے چہرے کا گوشت گل کر برتن میں گر جائے گا اور جب وہ اسے اپنے گا تو اس کا گوشت اور کھال ادھر جائے گی جس سے سمی اذیت پائیں گے ( روح البیان ج ۴) ۔ ایک جگہ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جوشخص دنیا میں شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا اللہ تعالی اسے آخرت میں جہنم کی پیپ پلاۓ گا (روح البیان ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ دائی طور پر شراب پینے والا اگر مر گیا اسی حالت میں تو در بارخداوندی میں اس طرح آۓ گا جیسے ایک بت پرست ( مشکوۃ شریف) ۔ حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میری عزت و جلال کی قسم جو بندہ ایک گھونٹ بھی شراب پیئے گا میں اس کو اتناہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اسے چھوڑے گا میں اسے مقدس حوض سے پاؤں گا ( امام احمد بن حنبل ) ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ نے تین آدمیوں پر جنت حرام کر دی ہے ۔ وہ تین میں ہیں (۱) ہمیشہ شراب پینے والا ( ۲ ) والدین کی نافرمانی کرنے والا ( ۳ ) دیوث جو اپنے اہل میں بے حیائی کو دیکھے اور منع نہ کرے(نسائی)۔

شراب انسان کے لئے دین و دنیا دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے ۔ دینی نقصان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نارانسگی کوخرید کر اپنی آخرت بر باد کر لیتا ہے ۔ دنیوی نقصان یہ ہے کہ مختلف قسم کی مہلک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جو ہلاکت کا سبب بنتی ہیں ، لاکھوں عورتیں شرابی شوہر کے ظلم وستم کا نشانہ بنتی ہیں شراب پینے والا بے مروت ہو جاتا ہے، سماج اور معاشرہ کے لئے دردسر بن جا تا ہے ۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ شراب میں ہر طرف سے تباہی اور بربادی ہے، مال کی بھی اور جان کی بھی ۔ اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے ۔

سوال نمبر :04۔ پاکستان میں مختلف دیہی ترقیاتی پروگراموں کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ نیز دیہی ترقی کے طریقہ کار کی وضاحت کر یں۔

جواب۔

دیہات کے لوگوں کی زندگی کا ایک اور اہم پہلوتعلیم سے بے بہرہ ہونا ہے اگر چہ حکومت تعلیم کو عام کرنے کے لیے بہت ہی کوششیں کر رہی ہے مگر اس کے باوجود ہمارے اکثر دیہات میں ابھی تک تعلیم کی روشنی نہیں پہنچ پائی اس کے ساتھ ساتھ لوگ بھی تعلیم حاصل کرنا ضروری تصور نہیں کرتے ان کے خیال میں سکول بھیجنے کی بجائے بچے کو ھیتوں میں بھجنا زیادہ فائدہ مند ہے ۔ دیہات کے لوگ اپنی غربت کے ہاتھوں نہ تو پڑھائی کے لیے پیسہ خرچ کر سکتے ہیں اور نہ ہی وقت ۔ اس کے علاوہ اکثر دیہات ایسے ہیں جہاں پرائمری سکول بھی نہیں ہیں اس لیے لوگ دوسرے دیہات میں اپنے بچے بھیجنا پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان پڑھے ہیں یہ حالت صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ اکثر ترقی پذیر ممالک میں خواند و یا پڑھے لکھے افراد کی تعداد بہت ہی کم ہے اور جتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اکثر شہروں میں رہتے ہیں دیہات میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے مندرجہ ذیل جدول جو کہ آئی پی پی ایف کے جرید پی پی پی کے جرید نے پیپلز سے لیا گیا ہے اس سے ترقی پذیر ممالک میں نا خواندگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ علمی پسماندگی اور غربت و افلاس لازم وملزوم ہیں۔ ناخواندگی کے باعث کاشت کا ر جد ید زری معلومات سے بے بہرور ہتے ہیں زرعی

پیداوار میں اضافہ کرنے کی تدابیراور طریقوں کاعلم نہیں رکھتے ۔ اگر کاشتکار پڑھے لکھے ہوں تو وہ نہ صرف جدید معلومات زرمی سے استفادہ کر کے اپنی زرعی پیداوار بڑھنے کی تدابیر کر سکتے ہیں بلکہ اپنے روز مرہ کا حساب کتاب رکھ سکتے ہیں تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان کی معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا اور ان کے ذہن میں نئی ایجادات کے لیے وسعت اور بالغ نظری پیدانہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں نئی یجادات اپنانے کا حوصلہ پیدانہیں ہوتا۔ تعلیم ایک ایسا معاشرتی عمل ہے جس کے بغیر ہم افراد معا شر وترقی کی اہمیت نہیں سمجھا سکتے اور وہی ترقیاتی کاموں میں سرگرم حصہ لینے پر آما وہ کر سکتے ہیں تعلیم کے بغیر سابی اور ثقافتی تربیت بھی ممکن نہیں ہوتی چنانچہ لوگوں کی حالت بدلنے کے لیے ان کو اور ان کے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو تعلیم دینے کا بندوبست کرنا نہایت ضروری ہے۔ و یہی معاشرتی زندگی: دیہی زندگی شہری زندگی سے مختلف ہوتی ہے چونکہ ہماری آبادی کا تقریبا72 فیصد حصہ دیہات میں و بستا ہے اس لیے ان لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں اور دیہات کو ترقی دینے والے طریقہ کارکومندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو درج ذیل ہے

دیہات کاطبیعی ڈھانچہ

جونہی ہم شہروں سے وہی علاقوں کی طرف جاتے ہیں سب سے پہلے سرسبز کھیت اور کسان ہمارا استقبال کرتے ہیں جن میں کوئی فصل کو پانی دے رہا ہوتا کوئی زمین میں ہل چلا رہا ہوتا ہے کوئی بیچ ہور ہا ہوتا ہے تو کوئی فصل کاٹ رہا ہوتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نام دیہی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں پاکستان کے دیہی علاقوں میں لوگ زیادہ تر کچے مکانوں میں رہتے ہیں جن کی چھتیں شہتیروں پر گھاس پھونس ڈال کر بنائی جاتی ہے یہ گھر عموما کھلے کھلے ہوتے ہیں درمیان میں محن ہوتا ہے گھر کے کمروں میں عموماً کھڑ کی باروشندان ہوتے ہیں گلیاں اور محلے ترتیب سے نہیں بنے ہوتے اکثر گلیاں ٹیڑھی میڑھی ہوتی ہیں اور عموما گندی ہوتی ہیں اگر چہ ہر گھر انفرادی طور پر بیکوشش ضرور کرتا ہے کہ اپنے گھر کے سامنے کا حصہ صاف رکھے مگر اس کے باوجود چونکہ سرکاری طور پرکوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا اس لیے کئی جگہوں پر اس کے ڈھیر ملتے ہیں زندگی میں جدید سہولتوں کا فقدان ہے بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچ سکی سوئی گیس کی سہولت بھی موجود ہیں اکثر دیہات تک پکی سڑک نہیں جاتی پانی عموما ہنڈ پمپ سے حاصل کیا جا تا ہے بعض علاقوں میں جہاں پانی کی تلخ اونچی نہیں کنو میں کھودے جاتے ہیں

زرعی ترقیاتی بینک آف پاکستان

ا۔ مقاصد: بنک کا قیام 1961 ء میں عمل میں آیا۔ اس کا مقصد زری شعبوں میں کاشتکارکوقرضے فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ گاؤں کی طح پر گھر یا منعتیں لگانے کیلئے بھی قرضے فراہم کرنا اس بنک کا بنیادی مقصد تھا۔

ii۔ طریقہ کار: بنک کا شتکاروں کوان کی بہت فصل کیلئے قرضے فراہم کرتا ہے یہ قرضے آسمان مشعلوں میں واپس لئے جاتے ہیں اور کسان کو ں نے ان میں ورکر اس کی زمین کے مطابق قرضہ ماتا ہے عموماز میں گروی رکھی جاتی ہے یا فصل کے مطابق قرضہ کی شرائط طے کی جاتی ہیں ۔

نتائج:

پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق 81-1980 تک بنک نے 62-1066 ملین روپے کے قرضے فراہم کئے ۔ان

قرضوں کی رقم میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ 82-1991 ء میں یہ قرضے 38-1557 ملین تک پہنچ گئے ہیں۔ ان قرضوں کا 45 فیصد سے بھی زیادہ حصہ زرعی مشینری خریدنے کے کام آیا مگر بنک کی ان سہولتوں کے زیادہ تر فائدے بڑے کاشتکاروں کو حاصل ہوۓ کاشتکاروں کو کل رقم کا بمشکل 21 فیصد دیا گیا تا ہم اس قرضے کی بدولت بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور زراعت میں ترقی کا سبب بنا۔ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے طریق کار میں کارکن کے کردار کی اہمیت: کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کا انحصار صرف ایک شخص پر ہوتا ہے جسے ہم ترقیاتی کارکن یا ترقیاتی رہنما بھی کہ سکتے ہیں۔ چنانچہ اسے ہر دلعزیز اور قابل قبول شخصیت ہونے کے علاوہ جنتی اور دیانتدار بھی ہونا چاہئے ۔ اس کے علاوہ اسے اس کمیونٹی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے فوری حل کے بارے میں تھوڑا بہت علم بھی ضرور ہونا چاہئے مثلا چھوٹی چھوٹی بیماریوں کی صورت میں بیان کیلئے معالج ثابت ہوا تعلیم وتربیت میں استاد ، گھر یلو معاملات میں مشیر ، جھگڑے لے کرانے میں بیج اور مصالحت کنند و در اجتماعی کاموں میں ان کا رہنما ہونا چاہئے ۔اگر چہ وہ ان تمام معاملات میں ماہرین کی جگہ تو نہیں لے سکتا مگرلیکن ان تمام معاملات میں اس کی ایسی رائے ہونی چاہئے جو زیادہ تر لوگوں کو قبول ہو اور ان کے فوائد میں ہو ۔ اسے اس آبادی کیلئے جس ترقی پر اسے معمور کیا گیا ہو ایک مثال ہونا چاہئے تب جا کر کہیں اس طریقہ کار سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ تر قیاتی کارکن کو مندرجہ ذیل اصولوں کی روشنی میں اپنے کام کا آغاز کرنا چاہئے

1۔ کارکن کو ان لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرنے چاہئیں جن کے ساتھ وہ کام کرنا چاہتا ہے۔

کارکن لوگوں کی چھوٹی چھوٹی اور ہنگامی ضرورتوں کو پورا کر کے ان کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اگر وہ ان کی کسی معمولی بیماری کا علاج کر کے ان کو صحت و صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہے گا تو وہ آسانی سے اس کی بات سمجھ جائیں گے ۔ چونکہ یہ اعتاد اس نے حال ہی میں حاصل کیا ہوتا ہے اور اہل خانہ کو ایک مصیبت سے نجات دلانی ہوتی ہے اس لئے اس وقت ان کے جذبات واحساسات کا احترام کر کے انہیں سمجھا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ جب کوئی اس سے مشورہ طلب کرے تو کارکن کو اس کے ساتھ اس طرح سے بات کرنی چاہئے کہ وہ جان لے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اس کا کوئی ہدر نہیں اور اسے اپنے ایمان اور مسلم کے مطابق سیح مشور و دینا چاہئے ۔ اس طرح کے لگاتار عمل سے و واس معاشرتی گروہ میں ایک قابل احترام شخصیت بن جائے گا اور اسے کام کرنے میں آسانی ہوگی۔

2۔ کارکن کو ہرائی جانے والی تبد یلی کیلئے لوگوں کی رضامندی حاصل کر لینی چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ

کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے ۔

کارکن اگر ان لوگوں کی مقامی زبان میں بات کرنے والا ہو جن لوگوں میں اسے بھیجا گیا ہوتو وہ اس کی بات کو آسانی سے سمجھ جائیں گے نیز مقامی واقفیت کی بناء پر وہ مختلف منصوبے بنانے اور ان کی ترجیحات مرتب کرنے میں بھی زیادہ ماہر ہوگا۔ علاوہ ان میں اگر وہ ان لوگوں کا ہم عقید بھی ہوتو زیادہ اچھا ہے اس کے برعکس بیرونی ماہرین اور ٹیکنیک فتی لحاظ سے پیا ہے کتنی بھی املی کیوں نہ ہو وہ اگر لوگوں کے جذبات و احساسات سے ہم آہنگ نہ ہوگی تو مطلوبہ نتائج پیدا کرنے سے قاصر رہے گی ۔ اسی بات کوئی ۔آرمین نے اپنی کتاب ’’معاشرے اور ان کی ترقی میں ایشیائی ممالک کی فنی امداد کے سلسلے میں ہونے والی کانفرنس میں جنوب مشرقی ایشیاء کے نمائندوں کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ تمام نمائندے اس بات پر متفق تھے کہ گذسته چند سالوں کے دوران مختلف اداروں کی طرف سے دی جانے والے فنی امداد نہ صرف نتیجہ رہی بلکہ بعض حالات میں نقصان رساں بھی ثابت ہوئی کیونکہ و مغربی ممالک سے آنے والے ساز و سامان اور وہیں پر ترتیب دی گئی ٹیکنیک پریٹی تھی جس کا مقصد تیزی سے حاصل ہونے والے اور نظر آنے والے نتائج پیدا کرنا تھا۔ اس ساز و سامان اور ٹیکنیک پر کام کرنے والے بھی مغربی ماہرین تھے جو ٹیکنیک کی حد تک تو بہت ماہر تھے لیکن مقامی حالات سے بالکل ناواقف تھے۔ وہ ہر متوقع سوال کا جواب جانتے تھے لیکن جب وہ موقع پر پہنچتے تو ان کی تمام مہارت بے کار ثابت ہوتی ‘‘۔ مزیدآگے چل کر لکھتے ہیں کہ درحقیقت اب وہ تمام کارکن محسوس کرنے لگے ہیں کہ اگر وہ بھیں گے کہ وہ تمام خیالات اور منصوبے جو ان کے اپنے ماحول اور تہذیب وتمدن میں درست کسی دوسرے میں اسی طرح درست نتائج کے حامل ہوں گے تو نا کامی ان کا مقدمہ بن جائے گی‘۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ کارکن کا ان لوگوں میں سے ہونا لازمی ہے اور دو ان کا ہم عقید ہ ہونے بنا پر ان کی خوشی اورمی میں بھی شامل ہو سکے تو وہ ان میں مزید شیر و شکر ہو سکے گا اور پیاس کی اپنے مشن میں کامیابی ضمانت ہوگی ۔

کارکن کو انہیں اس بات کی یقین دہانی کروانی چاہیے کہ مجوزہ تبدیلی نہایت محفوظ ہے۔

کسی تبد یلی کوقبول کرتے ہوۓ لوگ اس بات کا پہلے سے یقین کرنا ضروری خیال کر ہیں گے کہ وہ نہیں ایسا کرنے سے لوگوں کی تضحیک کا نشانہ تو نہیں بن جائیں گے ۔ یا نہیں مالی طور پر نقصان تو نہیں برداشت کرنا پڑے گا مثال کے طور پر ہمارا ان پڑھ کاشت کار نے بیج ، نئے آلات زراعت اورکھیتی باڑی کے نئے طریقوں کو اپنانے سے ہچکچائے گا اور سوچے گا کہ ایسا کرنے سے کہیں میری فصل تو نہیں ماری جاۓ گی ۔ میرا سال تو ضائع نہیں ہو جائے گا وہ ان تبدیلیوں کو حکومت کی طرف سے کئے گئے تجربوں کی روشنی میں بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوگا کہ اس لئے کہ جب وہ اپنے اور حکومت کے وسائل کا موازنہ کرے گا یہی مجھے گا کہ حکومت تو یہ سب کچھ کر سکتی ہے میں انہیں ضمانت فراہم کر کے تمام لوگوں کیلئے کا عملی مظاہرہ کرنے کا بندوبست کر نا ہوگا تب کہیں جا کر وہ انہیں قائل کر سکے گا۔

سوال نمبر :05۔ مندرجہ ذیل پرنوٹ لکھیں۔

) شہری علاقوں میں مختلف جرائم

جواب: دراصل بچوں کی بے راہ روی میں گھر کے برے ماحول اور ناقص نگرانی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ والدین کو آج کل اقتصادی و سماجی ذمہ داریوں سے بہت کم وقت ماتا ہے۔ نیچے اپنا بیشتر وقت گلی کو چوں اورآوار ومزاج لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں ۔ بچوں کو نیک و بد بنانے میں دوستوں کی صحبت کافی اہمیت رکھتی ہے ۔ پڑوس میں اچھے برے ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں ۔ والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو سلجھے ہوۓ بچوں کی صحبت سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کر میں اورانہیں بے راہ رو نیچے کی صحبت سے بچائیں تا کہ وہ نیکی کے راستے پر گامزن رہ ہیں بچوں کیلئے صالح تعلیم و تربیت کی سخت ضرورت ہے ۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ ان کو اسلامی اقدار و نظریات اور قانون کی اہمیت سے آگاہ کر میں وہ خود کو بھی تربیت اطفال سے آگاہ کر میں ۔ تا کہ مستقبل کے رہنماؤں کو صالح زندگی بسر کرنے میں آسانی رہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تربیت اطفال پر معیاری کتابیں لکھوائی جائیں اور انہیں سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے کہ بچوں کوخوش اسلوبی سے حاصل کرنے کیلئے تربیت اطفال کی تعلیم کو عام کر نے ضرورت ہے۔ جرائم کی روک تھام کیسے ممکن ہے: پاکستان اسلامی قوانین کے فروغ و نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور اب ان قوانین کوفروغ دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ۔ اس لئے یتوقع پیل ہے کہ اس سے انسداد جرائم میں کافی مدد ملے گی ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر ہمارے قوانین مذہبی تعلقات سے نم آہنگ ہوں اور سماجی انحراف اور جرم ومصیبت کا دروازہ بند ہو جائے۔ لیکن اس مقصد کے لئے ہمیں مذہبی اور قانونی تعلیمات کو بھی کافی رواج دینا پڑے گا اور زندگی میں دین ودنیا کی جوتسیم پیدا ہوگئی ہے اسے بھی ختم کرنا ہوگا ۔ اسلام کے شہری اصولوں کی اگر لوگ پیروی مکمل طور پر کرنا شروع کردیں تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ ملک میں مکمل امن وامان اور سکون قائم ہو جائے گا۔ مذہب اسلام انسان میں خدا کے سامنے جوابدہی ،خوف خدا اور خدا ترسی پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان کو اس بات کو یقین ہو جائے نیز اس بات کا با قاعدہ پر پاراور تبلیغ کی جائے تو جرائم قتل ، ڈکیتی، چوری کا قلع قمع ہوسکتا ہے ۔ اسلامی سزائیں بھی رائج کر دی جائیں تو ایسے جرائم بہت کم ہو جائیں گے جس طرح کہ سعودی عرب میں جرائم بہت کم پاۓ جاتے ہیں کیونکہ وہاں اسلام کے مطابق انصاف ملتا ہے۔ اور مجرم کو سخت سزادی جاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جائے ۔ کیونکہ اگر افراد کو یہ بھی یقین ہو کہ قوانین کی خلاف ورزی پر نہ صرف وہ حکومت کا مجرم ہے بلکہ خدا کا مجرم بھی ہو گا تو جرائم کرنے سے پہلے و وضرور سوچے گا ۔

 ناقص منڈی کے دیہی زندگی پراثرات

جواب: ناقص منڈی کے دیہی زندگی پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں :

1۔ ناقص منڈی کی وجہ سے اشیاء کی خرید وفروخت میں مشکل پیش آتی ہے۔

2 ۔ ناقص منڈی کی وجہ سے صحت کے اصولوں کا پاس نہیں رکھا جا تا ۔

3۔ ناقص منڈی کی وجہ سے کاشت کا کوا پنی فصل کا ؤں میں ہی آ ڑھی کے ہاتھوں اونے پونے فروخت کرنی پڑتی ہے ۔

4۔ ناقص منڈی دیہی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

 

Course  Sociology -II( 413 )

Assignmen:: t no 2.

Semester::  2022 spring

 

 

 

سوال نمبر: 01۔ کثرت آبادی ترقی پذیر ممالک کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے کیا اسباب میں وضاحت کریں۔

 جواب:

کثرت آبادی سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے اگر چہ اللہ تعالی نے زمین کو طرح طرح کی نعمتوں اور وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن آج کے ترقیاتی یافتہ دور میں خدا کی نیمتیں بتدریج کم ہوتی جارہی ہیں اور دنیا کی ایک بڑی آبادی کو ایک وقت کی روٹی بڑی مشکل سے میسر آتی ہے ماہرین عمرانیات ، اقتصادیات و آبادیات اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ وسائل سے زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیتے ہیں بڑھتی ہوئی آبادی کا یہ سیلاب پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے کثرت آبادی کی روک تھام کے لیے چند اقدامات درج ذیل ہیں

: ا۔ عورت کے روایتی کردار میں تبدیلی:

پاکستان میں برادری نظام کی موجودگی مشترکہ خاندانی نظام اور دیگر ثقافتی اثرات کی وجہ سے معاشرے میں مردکوعورت پر فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے عورت اپنے روایتی کردار یعنی گھر اور بچوں کی پرورش تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اس تصور کوتوڑنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر ملک کی آدھی آبادی گھر میں قید ہو کر رہ جاۓ یا ایسے کام کرے جس کی نوعیت غیر پیداواری ہو تو ظاہر ہے یہ بات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور کثرت آبادی کا باعث ہے خواتین کا مجاب کر ناکسی حد تک اس مسئلے کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

خواتین کی تعلیم:

خواتین میں خواندگی کی سطح خصوصا دیہی علاقوں میں بہت کم ہے خواتین میں تعلیم کے پھیلاؤ کی افادیت کا انداز داس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ نا خواند و خواتین کی نسبت ایسی خواتین جنہوں نے تعلیم حاصل کی ہوان کے ہاں بچوں کی تعداد نصف ہوتی ہے اس لیے چھوٹے خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے اور شرح پیدائش کو کنٹرول کرنے کے لیے خواتین کی تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔

افرادی قوت کا صحیح استعمال:

افرادی قوت کا بیج استعمال بھی آبادی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جیسے کہ نو جوانوں کو ہنر سکھائے جائیں اور ان کی پیداواری صلاحیتوں کو بروے کا را یا جاۓ تا کہ بھکاری نہ بنیں اور بے کار نہ پھر ہیں

۴۔ خاندانی منصوبہ بندی کا شعور

خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد ، خاندان میں افراد کی تعداد کو خاندان کے وسائل کے مطابق رکھتا ہے نہ کے نسل انسانی کی بندش ہے پاکستان میں آبادی کے کنٹرول سے متعلق جتنے بھی منصوبے کام کر رہے ہیں ان کی تیج افادیت کی آگاہی کے لیے ملک گیر سطح پر نظم کوششوں کی ضرورت ہے جس کے لیے تمام ذرائع بروئے کارلانے چاہئیں جن میں میڈ یاتعلیمی اداروں اور دیہی سطح پر بزرگوں کو شامل کعنا ضروری ہے

۵۔ دیہی آبادی کی ترقی

دیہی آبادی کو معاشی و معاشرتی ترقی دینے اور بہترین صحت غذا اورتعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے دیہی معاشروں میں عورت کا مقام و معیار بلند کرنے میں مدد ملے گی جس سے ملکی ترقی اور ملک کی آبادی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں

مدد ملے گی۔

۔ قدرتی وسائل کا بہتر استعمال:

معاشی ومعاشرتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا بیج استعمال بھی آبادی کے اضافے کو کنٹرو ل کر سکتا ہے کیوں کہ جتنا کوئی معاشرہ خوشحال ہوگا اور وسائل کی فراوانی ہوگی اضافہ آبادی بھی بھی منا نہیں بنے گی قدرتی وسائل میں پانی کا صحیح استعمال جیسا کہ ڈیز کی تعمیر کے ذریعے پانی کے ذخائر بڑھانا ، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، جدید زرعی آلات کا استعمال ، کھاد میں اور توانائی کے نئے ذخائر وغیرہ کی دریافت شامل ہیں ان اصولوں پر ٹیل کیا جاۓ اور دیہی علاقوں کی ترقی پر خاص توجہ دی جائے تو پورا معاشرہ خوشحال ہوگا اور بے روز گاری کم ہو جائے گی وسائل کے بیج استعمال و منصفا تقسیم سے لوگوں میں محنت کا جذ بداجا گر ہو گا اور افراد کا معیار زندگی بلند ہوگا اور یوں معاشرہ امن وخوشحالی کی جانب گامزن ہو گا اور کثرت آبادی کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوگا۔

سوال نمبر :02۔غربت کے معاشرے پر عمومی اثرات بیان کر میں نیز غربت کی شدت کو کم کرنے کیلئے کس قسم کے اقدامات زیادہ مئوثر ثابت ہوں گے

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غربت معاشرے میں بگاڑ کی ایک بہت بنیادی وجہ ہے ۔ پر ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں جن کی وجہ سے ان منفی رویوں میں کمی لائی جاسکتی ہے اور ایک خوشگوار ماحول وفضا کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

 ا۔نظام تعلیم کی اصلاح اور ترقی:

ہمارے معاشرے میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں رہی اور غیر رکی تعلیم دی جاتی ہے تا کہ بچہ اپنے مستقبل میں معاشرے کا ایک کامیاب فرد بن سکے۔ موجودہ نظام کی اصلاح کی جاۓ ۔ جہاں خامیاں اور کمزوریاں ہیں انہیں دور کیا جائے تا کہ جب و عملی میدان میں آئیں تو منظم زندگی گزار ہیں ۔ خاندان کے بعد دوسرا ہم معاشرتی اور تعلیم کا ہے ۔ جہاں فروکی ابتدائی عمر میں اخلاقی تربیت کی جاتی ہے اور اس میں حب الوطنی کا جذ بہ ابھارا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں Guidance and Councilling کے مراکز ہیں ۔استاد جب بچے کو اوسط درجے سے منحرف دیکھتا ہے تو اسے مراکز میں بھیج دیتا ہے جہاں تجربہ کار مشیر اور نفسیاتی طبیب بچوں کا علاج نہایت محنت اور خلوص سے کرتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک جن میں اداروں اور مشیروں کا تعلق عدالتوں سے نہیں ہوتا ان کا اصل کام خطا کاری کوروکن نہیں ہوتا بلکہ مریض کی جذباتی اور شخصیاتی نکالیف کا حل ڈھونڈ نا ہوتا ہے ممکن ہے خطا کار کی خطاؤں کی تہہ میں ان کی بیجانی یانی تکالیف موجودنہ ہوں کیونکہ خطا کے اسباب صرف نفسیاتی ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی قسم کے ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح مقطرب بچوں اور نو جوانوں کیلئے ایک اسلامی طریقہ گروہی علاج معالجہ Group Thesaphy ہے ۔ یہ گروہ خود نفسیاتی طبیب چھتا ہے۔اس میں کھیل کود اور اسی قسم کی دوسری تفریحی سرگرمیاں کا انتظام کیا جا تا ہے جو گروہ کا لیڈر ہوتا ہے اسے اس کا علم ہوتا ہے کہ بچوں کو کیا تکلیف ہے یا انہیں کیا مسائل درپیش ہیں ۔ وہ ہر بچے کے کردار کا مطالعہ کرتا ہے۔ اسے تسلی دلاسہ دیتا ہے اور پیار محبت سے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان گروہوں کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں ہوتا۔ بچے خو اپنی تکالیف کا مظاہرہ کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کا حل ڈھونڈتے ہیں ۔ اگر بڑوں کیلئے گروہ بنا ہوتو کھیل تماشے کے بجائے انتلو، بحث مباحثہ مذاکرہ ہوسکتا ہے۔ انتلو کیلئے بھی کوئی موضوع پہلے سے بھی طے نہیں کیا جا تا بلکہ جو موضوع بھی گروہ زیر بحث ا نا چاہتا ہوا سکتا ہے۔ علاج معالجہ کے جو مختلف طریقے بیان ہو چکے ہیں ان کی بنیاد اس مفروضہ پر ہے کہ خطا کاری میں خاندان کا بڑا حصہ ہے۔ خاندان کی اگر اصلاح ہو جائے تو مجرمانہ رویے میں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن خاندان بھی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اس کی اصلاح بھی معاشرے کی اصلاح پر منصر ہے ۔

ii۔ مجرمانہ روی اور اصلاحی طریقہ کار

مجرمانہ رویوں کیلئے جو اصلاحی طریقے استعمال ہوتے ہیں وہ مغربی ماہرنفسیات اور ماہر جرمیات کے مرتب کردہ ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طریقہ ان لوگوں کو اور ان کے والدین کو نفسیاتی طبی معاجہ مہیا کرتا ہے۔ اس کیلئے شرط یہ ہوتی ہے کہ ایسی پنی علامات موجود ہوں جو نشاندہی کر سکیں کہ اصلاح کے مثبت نتائج ہوں گے۔ وہ بچے جو عدم تحفظ ،احساس کمتری یا کسی اور ایسے ہی مخصوص رویے کا شکار ہوں جو کہ انہیں مطمئن زندگی گزارنے میں رکاوٹ کا احساس دلاے تو انہیں نفسیاتی کلینک میں علاج معالجہ کیلئے داخل کرا دینا چاہیے

۔ معاشرتی و ثقافتی اقدار

: جرائم کنٹرول کرنے میں معاشرتی اور ثقافتی اقداربھی اہمیت رکھتے ہیں جب تک معاشرے میں عملی طور پر برائی کے خلاف سخت ریمل نہیں ہو گا اس وقت تک جرائم کی جڑیں مضبوط رہیں گی ۔ جرائم کو یکسر تو کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن معاشرے میں اجتماعی رویے کی وجہ سے منفی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصایشکنی کی جاسکتی ہے۔ معاشرتی اور ثقافتی اقدار میں جرائم اور غیر ذمہ دارانہ معاشرتی رویوں کا سختی سے نوٹس لیا جائے لیکن جہاں تک اصلاحی پہلو کا تعلق ہے اس کیلئے معاشرتی نظام میں اتنی چیک ضرور ہونی چاہیے کہ وہ اس فرد کے ساتھ ہمدردی اور ذمہ دارانہ رو میدر کھے جو جرائم کی دنیا سے نہ صرف نکل آتا ہے بلکہ شائستہ اطوار اپنا تا ہے اور معاشرے میں ایک معتبر مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

۱۷۔ بے روزگاری میں کمی اور موجودہ ذرائع کا استعمال:

معیشت کسی بھی ملک یا معاشرے کے اقدار اور طرز زندگی پر گہرا اثر رکھتی ہے ۔ جس معاشرے کی معیشت مضبوط ہوگی وہاں جرائم کسی حد تک کم ہوں گے یا وہ جرائم سرزد ہوں گے جن کا تعلق معیشت سے کم ہو گا ایسے معاشرے میں زیادہ تر وہ جرائم سرزد ہوتے ہیں جو عیاشی کے تصور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معیشت کا نظام ایسی پالیسی کی ٹھوس بنیادوں پر ہونا چاہیے جہاں ہر فر دکواس کی اپنی قابلیت یا جسمانی مشقت کے مطابق اجرت ملے ۔ ان ممالک نے زندگی کے ہر دوسرے شعبے میں ترقی کی ہے جہاں ہر کام کرنے والے کو اس کی اہمیت و قابلیت اور ضرورت کے مطابق اجرت اور سہولیات ملتی ہیں ۔ موجودہ ذرائع کے استعمال میں زیادہ سے زیادہ افراد کو شامل کیا جاۓ ۔ بچھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے انہیں مزید بہتری کیلئے آسان اقساط پر قرضنے کی سہولیات آسانی سے فراہم ہوں ۔ ہنر مندوں کی مزید تربیت کا بہتر انتظام موجود ہو اور ان سے حاصل شد و پیداوار کا نہیں جائز حصہ دیا جائے

شادی شدہ افراد کی تربیت:

شادی شدہ مردوں اور عورتوں کیلئے مشاورتی مراکز ہونے چاہیے ۔ جہاں ڈاکٹر ، نفسیاتی طبیب ، وکیل اور معاشرتی ماہر ہوں شادی شدہ اشخاص کو صلاح مشورہ د میں جو میاں بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہ کر پائے ہوں ۔ بعض عائلی عدالتیں بھی اس نوعیت کی ہوتی ہیں وہ بھی میاں بیوی کو سمجھا بجھا سکتی ہیں اور ان کی قانونی مشکلات دور کر سکتی ہیں ان مشاورتی مراکز اور عائلی عدالتوں کو گو جرمانہ رویے کی روک تھام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن بالواسط تعلق ضرور ہے ۔ تجربات کی روشنی میں ثابت ہے کہ جن گھروں میں جھگڑے عام ہوتے ہیں وہاں مجرمانہ رویے پرورش پاتے ہیں ۔اس لئے جو مدو بھی والدین کو دیجاسکے جوان کی اور نوعمروں کی زندگی کو آسودہ بنا سکے وہ مجرمانہ رویے کو کم کرنے کیلئے ایک باہمت اور حوصلہ افزاء قدم ہوگا۔

معاشرے کا غیر ذمہ داراندرو یار اس کے اثرات:

ہمارے معاشرے میں کئی جرم لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں لیکن عوام کسی قسم کا رول کرنے سے گریز کرتی ہے یہ بالکل ایسی حقیقت کی مانند ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے ہمارے روز مرہ زندگی سے اس کی مثال کچھ اس طرح بھی دی جاسکتی ہے جیسے راہ چلتی لڑکیوں پر فقرے بازی ہو یا نہیں کسی اور طریقے سے تنگ کیا جاۓ ، لیکن دوسرے افرادائیں حرکات پر دھیان نہیں دیتے اور خاموشی اختیار کرتے ہیں اسی طرح محلوں میں فحاشی ، جوۓ اور شراب نوشی کھلے عام ہوتی ہے لیکن معاشرے کاریٹیل سر در بتا ہے جب معاشرے میں ایسے حالات ہوں تو جرائم کا سد باب کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اگر عوام باشعور ، بیدار اور ذمہ دار ہوں تو جرائم پیشہ لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے ۔ اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عار محسوس نہیں کرتے مثلا دکا نداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورا نہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تا ہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اس طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جوصرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور ٹینزم انہیں بھی دھوکہ.       دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بد عہدی نہ کریں تو وہ بھی شکایت نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کام کو براگر دائیں گے ، اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آگاہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی بینک لونے جاتے ہیں پاراہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نا مناسب سلوک کیا جا تا تب معاشر وقتی طور پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتاہے لیکن پھر ٹہراؤ آجاتا ہے موم ہمارا معاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھٹری دکھائی دے تو نام مطمئن ہو جاتے ہیں اورکسی تنظیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے ۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اور ظلم وتشد د کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو ٹیکس زیادہ دینے پڑتے ہیں اس طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عارمحسوس نہیں کرتے مشار دکانداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورانہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تاہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اسی طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جو صرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور مجرم نہیں بھی دھوکہ دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بدعہدی نہ کر میں تو وہ بھی شکایت نہیں کر یں گے اور نہ ہی اس کام کو برا گردانیں گے ،اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آ گا ہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی جینک لوٹے جاتے ہیں یا راہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا تا تب معاشرہ وقتی طور پر اپنے رومل کا اظہار کرتا ہے لیکن پھر ٹھہراؤ آ جاتا ہے عمو ماہمارامعاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھڑی دکھائی دے تو ہم مطمئن ہو جاتے ہیں اور کی تعلیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رو بی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اورظلم وتشدو کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو یکس زیاد دینے پڑتے میں اسی طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیں ہیں اور جرم وسیاست کا کوئی باضابطہ تعلق نہیں ہے تو جرم اور مجرمانہ رویوں میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے ۔

سوال نمبر: 03۔ شراب نوشی کے سابی نقصانات کی فہرست مرتب کر میں نیز پاکستان میں پچی شراب کے استعمال کی حوصاٹیکنی کیلئے تجاویز دیں۔

جواب۔

ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی برائیاں جنم لے چکی ہیں وہیں نشہ جیسی برائی نے بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہے ۔ کثیر تعداد میں لوگ نشے کے عادی ہو چکے ہیں۔ بوڑھا ہو یا نو جوان ، مرد ہو یا عورت ،امیر ہو یا غریب ،افسر ہو یا حا کم ،تاجر ہو یا کسان بے شمار افراد جانے انجانے نشے کی لت میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انسان بڑا ہی نادان ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے جب کہ اللہ نے قران کریم میں ارشاد فرمایا اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو (البقر 195- ) ۔اسلام نے ہر نشہ آور اشیاء کوحرام قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ حضور سے کسی نے آپ کے تبع کے بارے میں پوچھا جو شہد سے بنا تھاتو آپنے فرمایا کہ ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے ( بخاری ومسلم )۔ اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہر دوشی جو نشہ دینے والی ہے و واسلام کی نظر میں حرام ہے اور اہل اسلام کو اس کا استعمال ہرگز روا نہیں۔ خواہ وہ بھانگ ہو،افیون ، چرس ، یا شراب اور اس کے علاوہ دیگر نشہ آور منشیات سب اسلام میں حرام ہے ایک اور حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب نے نشہ لانے والی اور فتور پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا(ابوداؤد ) ۔ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ بیشمار برائیوں میں ملوث تھے۔ وہیں شراب بھی عام تھی ،لوگ کثرت سے شراب پیتے تھے، جب اسلام آیا تو قرآن میں اللہ نے اس کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کو بھی بیان کیا اور ہمیشہ کے لئے شراب کو حرام کر دیا۔ اللہ جل شانہ نے ارشادفرمایا اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام میں سوان سے بچتے رہوتا کہ تم نجات پاؤ‘‘(المائد 90-)۔ شراب کی نحوست کا انداز اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس کو شیطانی کام کیا اور بت پرستی کے ساتھ بیان کیا۔ اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں شراب کی مذمت اور اس کی قباحت و خباثت کو واضح انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ سے شراب کے متعلق دریافت فرمایا تو اللہ کے حبیب نے فرمایا کہ میکبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ سب برائی کی سردار ہے (الزواجر )۔ اللہ کے نبی نے ارشادفر مایا کہ جوشخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز شراب نہ پیئے اور جواللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب ہو( طبرانی)۔امام طبرانی نے جم کبیر میں ایک حدیث حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے ۔ آپ فرماتیں ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہوئی تو میں نے پیالے میں نبیذ بنایا جوھجور سے بنایا ہوا ایک قسم کا مشروب ہے ) اللہ کے رسول میرے گھر تشریف لاۓ تو و وابل ( چولھے پر رہی تھی۔ آپ نے فرمایا ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا میری بیٹی بیمار ہے اس کی دوا بنا رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایاکہ اللہ نے حرام کردہ اشیاء میں میری امت کے لئے شفا نہیں رکھی ہے۔ ایک حد میں حضرت وائل حضری سے مروی ہے کہ طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا ، آپ نے ان کو منع فرمایا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ میں تو صرف دوا کے لیے شراب بنا تا ہوں حضور نے ارشادفرمایا کہ وہ دوا نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی بیماری ہے (مشکوۃ )۔ مذکورہ احادیث سے شراب کی حرمت اور اس کی قباحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ حرام اشیاء میں شفانہیں ہے ۔ ایک جگہ اللہ کے حبیب نے ارشادفرمایا کہ شراب نہ ہو کہ میام الخبائث ہے اور ای ام الخبائث کہ انسان شراب کی حالت بھی بھی اپنی ماں اور پھوبھی کے ساتھ بھی بدکاری کر بیٹھتا ہے ۔ اور بھی بہت ہی حدیثیں شراب کی مذمت میں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔شراب پینے والوں کے بارے میں اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں وعید میں بیان فرمائی ہیں حضور نے فرمایا کہ جودنیامیں شراب پیتے ہیں اللہ تعالی انہیں جہنمی سانیوں کا زہر پائے گا جسے پینے سے پہلے ہی اس کے چہرے کا گوشت گل کر برتن میں گر جائے گا اور جب وہ اسے اپنے گا تو اس کا گوشت اور کھال ادھر جائے گی جس سے سمی اذیت پائیں گے ( روح البیان ج ۴) ۔ ایک جگہ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جوشخص دنیا میں شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا اللہ تعالی اسے آخرت میں جہنم کی پیپ پلاۓ گا (روح البیان ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ دائی طور پر شراب پینے والا اگر مر گیا اسی حالت میں تو در بارخداوندی میں اس طرح آۓ گا جیسے ایک بت پرست ( مشکوۃ شریف) ۔ حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میری عزت و جلال کی قسم جو بندہ ایک گھونٹ بھی شراب پیئے گا میں اس کو اتناہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اسے چھوڑے گا میں اسے مقدس حوض سے پاؤں گا ( امام احمد بن حنبل ) ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ نے تین آدمیوں پر جنت حرام کر دی ہے ۔ وہ تین میں ہیں (۱) ہمیشہ شراب پینے والا ( ۲ ) والدین کی نافرمانی کرنے والا ( ۳ ) دیوث جو اپنے اہل میں بے حیائی کو دیکھے اور منع نہ کرے(نسائی)۔

شراب انسان کے لئے دین و دنیا دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے ۔ دینی نقصان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نارانسگی کوخرید کر اپنی آخرت بر باد کر لیتا ہے ۔ دنیوی نقصان یہ ہے کہ مختلف قسم کی مہلک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جو ہلاکت کا سبب بنتی ہیں ، لاکھوں عورتیں شرابی شوہر کے ظلم وستم کا نشانہ بنتی ہیں شراب پینے والا بے مروت ہو جاتا ہے، سماج اور معاشرہ کے لئے دردسر بن جا تا ہے ۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ شراب میں ہر طرف سے تباہی اور بربادی ہے، مال کی بھی اور جان کی بھی ۔ اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے ۔

سوال نمبر :04۔ پاکستان میں مختلف دیہی ترقیاتی پروگراموں کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ نیز دیہی ترقی کے طریقہ کار کی وضاحت کر یں۔

جواب۔

دیہات کے لوگوں کی زندگی کا ایک اور اہم پہلوتعلیم سے بے بہرہ ہونا ہے اگر چہ حکومت تعلیم کو عام کرنے کے لیے بہت ہی کوششیں کر رہی ہے مگر اس کے باوجود ہمارے اکثر دیہات میں ابھی تک تعلیم کی روشنی نہیں پہنچ پائی اس کے ساتھ ساتھ لوگ بھی تعلیم حاصل کرنا ضروری تصور نہیں کرتے ان کے خیال میں سکول بھیجنے کی بجائے بچے کو ھیتوں میں بھجنا زیادہ فائدہ مند ہے ۔ دیہات کے لوگ اپنی غربت کے ہاتھوں نہ تو پڑھائی کے لیے پیسہ خرچ کر سکتے ہیں اور نہ ہی وقت ۔ اس کے علاوہ اکثر دیہات ایسے ہیں جہاں پرائمری سکول بھی نہیں ہیں اس لیے لوگ دوسرے دیہات میں اپنے بچے بھیجنا پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان پڑھے ہیں یہ حالت صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ اکثر ترقی پذیر ممالک میں خواند و یا پڑھے لکھے افراد کی تعداد بہت ہی کم ہے اور جتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اکثر شہروں میں رہتے ہیں دیہات میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے مندرجہ ذیل جدول جو کہ آئی پی پی ایف کے جرید پی پی پی کے جرید نے پیپلز سے لیا گیا ہے اس سے ترقی پذیر ممالک میں نا خواندگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ علمی پسماندگی اور غربت و افلاس لازم وملزوم ہیں۔ ناخواندگی کے باعث کاشت کا ر جد ید زری معلومات سے بے بہرور ہتے ہیں زرعی

پیداوار میں اضافہ کرنے کی تدابیراور طریقوں کاعلم نہیں رکھتے ۔ اگر کاشتکار پڑھے لکھے ہوں تو وہ نہ صرف جدید معلومات زرمی سے استفادہ کر کے اپنی زرعی پیداوار بڑھنے کی تدابیر کر سکتے ہیں بلکہ اپنے روز مرہ کا حساب کتاب رکھ سکتے ہیں تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان کی معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا اور ان کے ذہن میں نئی ایجادات کے لیے وسعت اور بالغ نظری پیدانہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں نئی یجادات اپنانے کا حوصلہ پیدانہیں ہوتا۔ تعلیم ایک ایسا معاشرتی عمل ہے جس کے بغیر ہم افراد معا شر وترقی کی اہمیت نہیں سمجھا سکتے اور وہی ترقیاتی کاموں میں سرگرم حصہ لینے پر آما وہ کر سکتے ہیں تعلیم کے بغیر سابی اور ثقافتی تربیت بھی ممکن نہیں ہوتی چنانچہ لوگوں کی حالت بدلنے کے لیے ان کو اور ان کے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو تعلیم دینے کا بندوبست کرنا نہایت ضروری ہے۔ و یہی معاشرتی زندگی: دیہی زندگی شہری زندگی سے مختلف ہوتی ہے چونکہ ہماری آبادی کا تقریبا72 فیصد حصہ دیہات میں و بستا ہے اس لیے ان لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں اور دیہات کو ترقی دینے والے طریقہ کارکومندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو درج ذیل ہے

دیہات کاطبیعی ڈھانچہ

جونہی ہم شہروں سے وہی علاقوں کی طرف جاتے ہیں سب سے پہلے سرسبز کھیت اور کسان ہمارا استقبال کرتے ہیں جن میں کوئی فصل کو پانی دے رہا ہوتا کوئی زمین میں ہل چلا رہا ہوتا ہے کوئی بیچ ہور ہا ہوتا ہے تو کوئی فصل کاٹ رہا ہوتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نام دیہی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں پاکستان کے دیہی علاقوں میں لوگ زیادہ تر کچے مکانوں میں رہتے ہیں جن کی چھتیں شہتیروں پر گھاس پھونس ڈال کر بنائی جاتی ہے یہ گھر عموما کھلے کھلے ہوتے ہیں درمیان میں محن ہوتا ہے گھر کے کمروں میں عموماً کھڑ کی باروشندان ہوتے ہیں گلیاں اور محلے ترتیب سے نہیں بنے ہوتے اکثر گلیاں ٹیڑھی میڑھی ہوتی ہیں اور عموما گندی ہوتی ہیں اگر چہ ہر گھر انفرادی طور پر بیکوشش ضرور کرتا ہے کہ اپنے گھر کے سامنے کا حصہ صاف رکھے مگر اس کے باوجود چونکہ سرکاری طور پرکوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا اس لیے کئی جگہوں پر اس کے ڈھیر ملتے ہیں زندگی میں جدید سہولتوں کا فقدان ہے بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچ سکی سوئی گیس کی سہولت بھی موجود ہیں اکثر دیہات تک پکی سڑک نہیں جاتی پانی عموما ہنڈ پمپ سے حاصل کیا جا تا ہے بعض علاقوں میں جہاں پانی کی تلخ اونچی نہیں کنو میں کھودے جاتے ہیں

زرعی ترقیاتی بینک آف پاکستان

ا۔ مقاصد: بنک کا قیام 1961 ء میں عمل میں آیا۔ اس کا مقصد زری شعبوں میں کاشتکارکوقرضے فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ گاؤں کی طح پر گھر یا منعتیں لگانے کیلئے بھی قرضے فراہم کرنا اس بنک کا بنیادی مقصد تھا۔

ii۔ طریقہ کار: بنک کا شتکاروں کوان کی بہت فصل کیلئے قرضے فراہم کرتا ہے یہ قرضے آسمان مشعلوں میں واپس لئے جاتے ہیں اور کسان کو ں نے ان میں ورکر اس کی زمین کے مطابق قرضہ ماتا ہے عموماز میں گروی رکھی جاتی ہے یا فصل کے مطابق قرضہ کی شرائط طے کی جاتی ہیں ۔

نتائج:

پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق 81-1980 تک بنک نے 62-1066 ملین روپے کے قرضے فراہم کئے ۔ان

قرضوں کی رقم میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ 82-1991 ء میں یہ قرضے 38-1557 ملین تک پہنچ گئے ہیں۔ ان قرضوں کا 45 فیصد سے بھی زیادہ حصہ زرعی مشینری خریدنے کے کام آیا مگر بنک کی ان سہولتوں کے زیادہ تر فائدے بڑے کاشتکاروں کو حاصل ہوۓ کاشتکاروں کو کل رقم کا بمشکل 21 فیصد دیا گیا تا ہم اس قرضے کی بدولت بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور زراعت میں ترقی کا سبب بنا۔ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے طریق کار میں کارکن کے کردار کی اہمیت: کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کا انحصار صرف ایک شخص پر ہوتا ہے جسے ہم ترقیاتی کارکن یا ترقیاتی رہنما بھی کہ سکتے ہیں۔ چنانچہ اسے ہر دلعزیز اور قابل قبول شخصیت ہونے کے علاوہ جنتی اور دیانتدار بھی ہونا چاہئے ۔ اس کے علاوہ اسے اس کمیونٹی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے فوری حل کے بارے میں تھوڑا بہت علم بھی ضرور ہونا چاہئے مثلا چھوٹی چھوٹی بیماریوں کی صورت میں بیان کیلئے معالج ثابت ہوا تعلیم وتربیت میں استاد ، گھر یلو معاملات میں مشیر ، جھگڑے لے کرانے میں بیج اور مصالحت کنند و در اجتماعی کاموں میں ان کا رہنما ہونا چاہئے ۔اگر چہ وہ ان تمام معاملات میں ماہرین کی جگہ تو نہیں لے سکتا مگرلیکن ان تمام معاملات میں اس کی ایسی رائے ہونی چاہئے جو زیادہ تر لوگوں کو قبول ہو اور ان کے فوائد میں ہو ۔ اسے اس آبادی کیلئے جس ترقی پر اسے معمور کیا گیا ہو ایک مثال ہونا چاہئے تب جا کر کہیں اس طریقہ کار سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ تر قیاتی کارکن کو مندرجہ ذیل اصولوں کی روشنی میں اپنے کام کا آغاز کرنا چاہئے

1۔ کارکن کو ان لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرنے چاہئیں جن کے ساتھ وہ کام کرنا چاہتا ہے۔

کارکن لوگوں کی چھوٹی چھوٹی اور ہنگامی ضرورتوں کو پورا کر کے ان کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اگر وہ ان کی کسی معمولی بیماری کا علاج کر کے ان کو صحت و صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہے گا تو وہ آسانی سے اس کی بات سمجھ جائیں گے ۔ چونکہ یہ اعتاد اس نے حال ہی میں حاصل کیا ہوتا ہے اور اہل خانہ کو ایک مصیبت سے نجات دلانی ہوتی ہے اس لئے اس وقت ان کے جذبات واحساسات کا احترام کر کے انہیں سمجھا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ جب کوئی اس سے مشورہ طلب کرے تو کارکن کو اس کے ساتھ اس طرح سے بات کرنی چاہئے کہ وہ جان لے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اس کا کوئی ہدر نہیں اور اسے اپنے ایمان اور مسلم کے مطابق سیح مشور و دینا چاہئے ۔ اس طرح کے لگاتار عمل سے و واس معاشرتی گروہ میں ایک قابل احترام شخصیت بن جائے گا اور اسے کام کرنے میں آسانی ہوگی۔

2۔ کارکن کو ہرائی جانے والی تبد یلی کیلئے لوگوں کی رضامندی حاصل کر لینی چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ

کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے ۔

کارکن اگر ان لوگوں کی مقامی زبان میں بات کرنے والا ہو جن لوگوں میں اسے بھیجا گیا ہوتو وہ اس کی بات کو آسانی سے سمجھ جائیں گے نیز مقامی واقفیت کی بناء پر وہ مختلف منصوبے بنانے اور ان کی ترجیحات مرتب کرنے میں بھی زیادہ ماہر ہوگا۔ علاوہ ان میں اگر وہ ان لوگوں کا ہم عقید بھی ہوتو زیادہ اچھا ہے اس کے برعکس بیرونی ماہرین اور ٹیکنیک فتی لحاظ سے پیا ہے کتنی بھی املی کیوں نہ ہو وہ اگر لوگوں کے جذبات و احساسات سے ہم آہنگ نہ ہوگی تو مطلوبہ نتائج پیدا کرنے سے قاصر رہے گی ۔ اسی بات کوئی ۔آرمین نے اپنی کتاب ’’معاشرے اور ان کی ترقی میں ایشیائی ممالک کی فنی امداد کے سلسلے میں ہونے والی کانفرنس میں جنوب مشرقی ایشیاء کے نمائندوں کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ تمام نمائندے اس بات پر متفق تھے کہ گذسته چند سالوں کے دوران مختلف اداروں کی طرف سے دی جانے والے فنی امداد نہ صرف نتیجہ رہی بلکہ بعض حالات میں نقصان رساں بھی ثابت ہوئی کیونکہ و مغربی ممالک سے آنے والے ساز و سامان اور وہیں پر ترتیب دی گئی ٹیکنیک پریٹی تھی جس کا مقصد تیزی سے حاصل ہونے والے اور نظر آنے والے نتائج پیدا کرنا تھا۔ اس ساز و سامان اور ٹیکنیک پر کام کرنے والے بھی مغربی ماہرین تھے جو ٹیکنیک کی حد تک تو بہت ماہر تھے لیکن مقامی حالات سے بالکل ناواقف تھے۔ وہ ہر متوقع سوال کا جواب جانتے تھے لیکن جب وہ موقع پر پہنچتے تو ان کی تمام مہارت بے کار ثابت ہوتی ‘‘۔ مزیدآگے چل کر لکھتے ہیں کہ درحقیقت اب وہ تمام کارکن محسوس کرنے لگے ہیں کہ اگر وہ بھیں گے کہ وہ تمام خیالات اور منصوبے جو ان کے اپنے ماحول اور تہذیب وتمدن میں درست کسی دوسرے میں اسی طرح درست نتائج کے حامل ہوں گے تو نا کامی ان کا مقدمہ بن جائے گی‘۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ کارکن کا ان لوگوں میں سے ہونا لازمی ہے اور دو ان کا ہم عقید ہ ہونے بنا پر ان کی خوشی اورمی میں بھی شامل ہو سکے تو وہ ان میں مزید شیر و شکر ہو سکے گا اور پیاس کی اپنے مشن میں کامیابی ضمانت ہوگی ۔

کارکن کو انہیں اس بات کی یقین دہانی کروانی چاہیے کہ مجوزہ تبدیلی نہایت محفوظ ہے۔

کسی تبد یلی کوقبول کرتے ہوۓ لوگ اس بات کا پہلے سے یقین کرنا ضروری خیال کر ہیں گے کہ وہ نہیں ایسا کرنے سے لوگوں کی تضحیک کا نشانہ تو نہیں بن جائیں گے ۔ یا نہیں مالی طور پر نقصان تو نہیں برداشت کرنا پڑے گا مثال کے طور پر ہمارا ان پڑھ کاشت کار نے بیج ، نئے آلات زراعت اورکھیتی باڑی کے نئے طریقوں کو اپنانے سے ہچکچائے گا اور سوچے گا کہ ایسا کرنے سے کہیں میری فصل تو نہیں ماری جاۓ گی ۔ میرا سال تو ضائع نہیں ہو جائے گا وہ ان تبدیلیوں کو حکومت کی طرف سے کئے گئے تجربوں کی روشنی میں بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوگا کہ اس لئے کہ جب وہ اپنے اور حکومت کے وسائل کا موازنہ کرے گا یہی مجھے گا کہ حکومت تو یہ سب کچھ کر سکتی ہے میں انہیں ضمانت فراہم کر کے تمام لوگوں کیلئے کا عملی مظاہرہ کرنے کا بندوبست کر نا ہوگا تب کہیں جا کر وہ انہیں قائل کر سکے گا۔

سوال نمبر :05۔ مندرجہ ذیل پرنوٹ لکھیں۔

) شہری علاقوں میں مختلف جرائم

جواب: دراصل بچوں کی بے راہ روی میں گھر کے برے ماحول اور ناقص نگرانی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ والدین کو آج کل اقتصادی و سماجی ذمہ داریوں سے بہت کم وقت ماتا ہے۔ نیچے اپنا بیشتر وقت گلی کو چوں اورآوار ومزاج لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں ۔ بچوں کو نیک و بد بنانے میں دوستوں کی صحبت کافی اہمیت رکھتی ہے ۔ پڑوس میں اچھے برے ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں ۔ والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو سلجھے ہوۓ بچوں کی صحبت سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کر میں اورانہیں بے راہ رو نیچے کی صحبت سے بچائیں تا کہ وہ نیکی کے راستے پر گامزن رہ ہیں بچوں کیلئے صالح تعلیم و تربیت کی سخت ضرورت ہے ۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ ان کو اسلامی اقدار و نظریات اور قانون کی اہمیت سے آگاہ کر میں وہ خود کو بھی تربیت اطفال سے آگاہ کر میں ۔ تا کہ مستقبل کے رہنماؤں کو صالح زندگی بسر کرنے میں آسانی رہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تربیت اطفال پر معیاری کتابیں لکھوائی جائیں اور انہیں سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے کہ بچوں کوخوش اسلوبی سے حاصل کرنے کیلئے تربیت اطفال کی تعلیم کو عام کر نے ضرورت ہے۔ جرائم کی روک تھام کیسے ممکن ہے: پاکستان اسلامی قوانین کے فروغ و نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور اب ان قوانین کوفروغ دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ۔ اس لئے یتوقع پیل ہے کہ اس سے انسداد جرائم میں کافی مدد ملے گی ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر ہمارے قوانین مذہبی تعلقات سے نم آہنگ ہوں اور سماجی انحراف اور جرم ومصیبت کا دروازہ بند ہو جائے۔ لیکن اس مقصد کے لئے ہمیں مذہبی اور قانونی تعلیمات کو بھی کافی رواج دینا پڑے گا اور زندگی میں دین ودنیا کی جوتسیم پیدا ہوگئی ہے اسے بھی ختم کرنا ہوگا ۔ اسلام کے شہری اصولوں کی اگر لوگ پیروی مکمل طور پر کرنا شروع کردیں تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ ملک میں مکمل امن وامان اور سکون قائم ہو جائے گا۔ مذہب اسلام انسان میں خدا کے سامنے جوابدہی ،خوف خدا اور خدا ترسی پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان کو اس بات کو یقین ہو جائے نیز اس بات کا با قاعدہ پر پاراور تبلیغ کی جائے تو جرائم قتل ، ڈکیتی، چوری کا قلع قمع ہوسکتا ہے ۔ اسلامی سزائیں بھی رائج کر دی جائیں تو ایسے جرائم بہت کم ہو جائیں گے جس طرح کہ سعودی عرب میں جرائم بہت کم پاۓ جاتے ہیں کیونکہ وہاں اسلام کے مطابق انصاف ملتا ہے۔ اور مجرم کو سخت سزادی جاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جائے ۔ کیونکہ اگر افراد کو یہ بھی یقین ہو کہ قوانین کی خلاف ورزی پر نہ صرف وہ حکومت کا مجرم ہے بلکہ خدا کا مجرم بھی ہو گا تو جرائم کرنے سے پہلے و وضرور سوچے گا ۔

 ناقص منڈی کے دیہی زندگی پراثرات

جواب: ناقص منڈی کے دیہی زندگی پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں :

1۔ ناقص منڈی کی وجہ سے اشیاء کی خرید وفروخت میں مشکل پیش آتی ہے۔

2 ۔ ناقص منڈی کی وجہ سے صحت کے اصولوں کا پاس نہیں رکھا جا تا ۔

3۔ ناقص منڈی کی وجہ سے کاشت کا کوا پنی فصل کا ؤں میں ہی آ ڑھی کے ہاتھوں اونے پونے فروخت کرنی پڑتی ہے ۔

4۔ ناقص منڈی دیہی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

 

Course  Sociology -II( 413 )

Assignmen:: t no 2.

Semester::  2022 spring

 

 

 

سوال نمبر: 01۔ کثرت آبادی ترقی پذیر ممالک کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے کیا اسباب میں وضاحت کریں۔

 جواب:

کثرت آبادی سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے اگر چہ اللہ تعالی نے زمین کو طرح طرح کی نعمتوں اور وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن آج کے ترقیاتی یافتہ دور میں خدا کی نیمتیں بتدریج کم ہوتی جارہی ہیں اور دنیا کی ایک بڑی آبادی کو ایک وقت کی روٹی بڑی مشکل سے میسر آتی ہے ماہرین عمرانیات ، اقتصادیات و آبادیات اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ وسائل سے زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیتے ہیں بڑھتی ہوئی آبادی کا یہ سیلاب پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے کثرت آبادی کی روک تھام کے لیے چند اقدامات درج ذیل ہیں

: ا۔ عورت کے روایتی کردار میں تبدیلی:

پاکستان میں برادری نظام کی موجودگی مشترکہ خاندانی نظام اور دیگر ثقافتی اثرات کی وجہ سے معاشرے میں مردکوعورت پر فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے عورت اپنے روایتی کردار یعنی گھر اور بچوں کی پرورش تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اس تصور کوتوڑنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر ملک کی آدھی آبادی گھر میں قید ہو کر رہ جاۓ یا ایسے کام کرے جس کی نوعیت غیر پیداواری ہو تو ظاہر ہے یہ بات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور کثرت آبادی کا باعث ہے خواتین کا مجاب کر ناکسی حد تک اس مسئلے کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

خواتین کی تعلیم:

خواتین میں خواندگی کی سطح خصوصا دیہی علاقوں میں بہت کم ہے خواتین میں تعلیم کے پھیلاؤ کی افادیت کا انداز داس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ نا خواند و خواتین کی نسبت ایسی خواتین جنہوں نے تعلیم حاصل کی ہوان کے ہاں بچوں کی تعداد نصف ہوتی ہے اس لیے چھوٹے خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے اور شرح پیدائش کو کنٹرول کرنے کے لیے خواتین کی تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔

افرادی قوت کا صحیح استعمال:

افرادی قوت کا بیج استعمال بھی آبادی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جیسے کہ نو جوانوں کو ہنر سکھائے جائیں اور ان کی پیداواری صلاحیتوں کو بروے کا را یا جاۓ تا کہ بھکاری نہ بنیں اور بے کار نہ پھر ہیں

۴۔ خاندانی منصوبہ بندی کا شعور

خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد ، خاندان میں افراد کی تعداد کو خاندان کے وسائل کے مطابق رکھتا ہے نہ کے نسل انسانی کی بندش ہے پاکستان میں آبادی کے کنٹرول سے متعلق جتنے بھی منصوبے کام کر رہے ہیں ان کی تیج افادیت کی آگاہی کے لیے ملک گیر سطح پر نظم کوششوں کی ضرورت ہے جس کے لیے تمام ذرائع بروئے کارلانے چاہئیں جن میں میڈ یاتعلیمی اداروں اور دیہی سطح پر بزرگوں کو شامل کعنا ضروری ہے

۵۔ دیہی آبادی کی ترقی

دیہی آبادی کو معاشی و معاشرتی ترقی دینے اور بہترین صحت غذا اورتعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے دیہی معاشروں میں عورت کا مقام و معیار بلند کرنے میں مدد ملے گی جس سے ملکی ترقی اور ملک کی آبادی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں

مدد ملے گی۔

۔ قدرتی وسائل کا بہتر استعمال:

معاشی ومعاشرتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا بیج استعمال بھی آبادی کے اضافے کو کنٹرو ل کر سکتا ہے کیوں کہ جتنا کوئی معاشرہ خوشحال ہوگا اور وسائل کی فراوانی ہوگی اضافہ آبادی بھی بھی منا نہیں بنے گی قدرتی وسائل میں پانی کا صحیح استعمال جیسا کہ ڈیز کی تعمیر کے ذریعے پانی کے ذخائر بڑھانا ، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، جدید زرعی آلات کا استعمال ، کھاد میں اور توانائی کے نئے ذخائر وغیرہ کی دریافت شامل ہیں ان اصولوں پر ٹیل کیا جاۓ اور دیہی علاقوں کی ترقی پر خاص توجہ دی جائے تو پورا معاشرہ خوشحال ہوگا اور بے روز گاری کم ہو جائے گی وسائل کے بیج استعمال و منصفا تقسیم سے لوگوں میں محنت کا جذ بداجا گر ہو گا اور افراد کا معیار زندگی بلند ہوگا اور یوں معاشرہ امن وخوشحالی کی جانب گامزن ہو گا اور کثرت آبادی کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوگا۔

سوال نمبر :02۔غربت کے معاشرے پر عمومی اثرات بیان کر میں نیز غربت کی شدت کو کم کرنے کیلئے کس قسم کے اقدامات زیادہ مئوثر ثابت ہوں گے

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غربت معاشرے میں بگاڑ کی ایک بہت بنیادی وجہ ہے ۔ پر ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں جن کی وجہ سے ان منفی رویوں میں کمی لائی جاسکتی ہے اور ایک خوشگوار ماحول وفضا کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

 ا۔نظام تعلیم کی اصلاح اور ترقی:

ہمارے معاشرے میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں رہی اور غیر رکی تعلیم دی جاتی ہے تا کہ بچہ اپنے مستقبل میں معاشرے کا ایک کامیاب فرد بن سکے۔ موجودہ نظام کی اصلاح کی جاۓ ۔ جہاں خامیاں اور کمزوریاں ہیں انہیں دور کیا جائے تا کہ جب و عملی میدان میں آئیں تو منظم زندگی گزار ہیں ۔ خاندان کے بعد دوسرا ہم معاشرتی اور تعلیم کا ہے ۔ جہاں فروکی ابتدائی عمر میں اخلاقی تربیت کی جاتی ہے اور اس میں حب الوطنی کا جذ بہ ابھارا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں Guidance and Councilling کے مراکز ہیں ۔استاد جب بچے کو اوسط درجے سے منحرف دیکھتا ہے تو اسے مراکز میں بھیج دیتا ہے جہاں تجربہ کار مشیر اور نفسیاتی طبیب بچوں کا علاج نہایت محنت اور خلوص سے کرتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک جن میں اداروں اور مشیروں کا تعلق عدالتوں سے نہیں ہوتا ان کا اصل کام خطا کاری کوروکن نہیں ہوتا بلکہ مریض کی جذباتی اور شخصیاتی نکالیف کا حل ڈھونڈ نا ہوتا ہے ممکن ہے خطا کار کی خطاؤں کی تہہ میں ان کی بیجانی یانی تکالیف موجودنہ ہوں کیونکہ خطا کے اسباب صرف نفسیاتی ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی قسم کے ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح مقطرب بچوں اور نو جوانوں کیلئے ایک اسلامی طریقہ گروہی علاج معالجہ Group Thesaphy ہے ۔ یہ گروہ خود نفسیاتی طبیب چھتا ہے۔اس میں کھیل کود اور اسی قسم کی دوسری تفریحی سرگرمیاں کا انتظام کیا جا تا ہے جو گروہ کا لیڈر ہوتا ہے اسے اس کا علم ہوتا ہے کہ بچوں کو کیا تکلیف ہے یا انہیں کیا مسائل درپیش ہیں ۔ وہ ہر بچے کے کردار کا مطالعہ کرتا ہے۔ اسے تسلی دلاسہ دیتا ہے اور پیار محبت سے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان گروہوں کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں ہوتا۔ بچے خو اپنی تکالیف کا مظاہرہ کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کا حل ڈھونڈتے ہیں ۔ اگر بڑوں کیلئے گروہ بنا ہوتو کھیل تماشے کے بجائے انتلو، بحث مباحثہ مذاکرہ ہوسکتا ہے۔ انتلو کیلئے بھی کوئی موضوع پہلے سے بھی طے نہیں کیا جا تا بلکہ جو موضوع بھی گروہ زیر بحث ا نا چاہتا ہوا سکتا ہے۔ علاج معالجہ کے جو مختلف طریقے بیان ہو چکے ہیں ان کی بنیاد اس مفروضہ پر ہے کہ خطا کاری میں خاندان کا بڑا حصہ ہے۔ خاندان کی اگر اصلاح ہو جائے تو مجرمانہ رویے میں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن خاندان بھی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اس کی اصلاح بھی معاشرے کی اصلاح پر منصر ہے ۔

ii۔ مجرمانہ روی اور اصلاحی طریقہ کار

مجرمانہ رویوں کیلئے جو اصلاحی طریقے استعمال ہوتے ہیں وہ مغربی ماہرنفسیات اور ماہر جرمیات کے مرتب کردہ ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طریقہ ان لوگوں کو اور ان کے والدین کو نفسیاتی طبی معاجہ مہیا کرتا ہے۔ اس کیلئے شرط یہ ہوتی ہے کہ ایسی پنی علامات موجود ہوں جو نشاندہی کر سکیں کہ اصلاح کے مثبت نتائج ہوں گے۔ وہ بچے جو عدم تحفظ ،احساس کمتری یا کسی اور ایسے ہی مخصوص رویے کا شکار ہوں جو کہ انہیں مطمئن زندگی گزارنے میں رکاوٹ کا احساس دلاے تو انہیں نفسیاتی کلینک میں علاج معالجہ کیلئے داخل کرا دینا چاہیے

۔ معاشرتی و ثقافتی اقدار

: جرائم کنٹرول کرنے میں معاشرتی اور ثقافتی اقداربھی اہمیت رکھتے ہیں جب تک معاشرے میں عملی طور پر برائی کے خلاف سخت ریمل نہیں ہو گا اس وقت تک جرائم کی جڑیں مضبوط رہیں گی ۔ جرائم کو یکسر تو کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن معاشرے میں اجتماعی رویے کی وجہ سے منفی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصایشکنی کی جاسکتی ہے۔ معاشرتی اور ثقافتی اقدار میں جرائم اور غیر ذمہ دارانہ معاشرتی رویوں کا سختی سے نوٹس لیا جائے لیکن جہاں تک اصلاحی پہلو کا تعلق ہے اس کیلئے معاشرتی نظام میں اتنی چیک ضرور ہونی چاہیے کہ وہ اس فرد کے ساتھ ہمدردی اور ذمہ دارانہ رو میدر کھے جو جرائم کی دنیا سے نہ صرف نکل آتا ہے بلکہ شائستہ اطوار اپنا تا ہے اور معاشرے میں ایک معتبر مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

۱۷۔ بے روزگاری میں کمی اور موجودہ ذرائع کا استعمال:

معیشت کسی بھی ملک یا معاشرے کے اقدار اور طرز زندگی پر گہرا اثر رکھتی ہے ۔ جس معاشرے کی معیشت مضبوط ہوگی وہاں جرائم کسی حد تک کم ہوں گے یا وہ جرائم سرزد ہوں گے جن کا تعلق معیشت سے کم ہو گا ایسے معاشرے میں زیادہ تر وہ جرائم سرزد ہوتے ہیں جو عیاشی کے تصور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معیشت کا نظام ایسی پالیسی کی ٹھوس بنیادوں پر ہونا چاہیے جہاں ہر فر دکواس کی اپنی قابلیت یا جسمانی مشقت کے مطابق اجرت ملے ۔ ان ممالک نے زندگی کے ہر دوسرے شعبے میں ترقی کی ہے جہاں ہر کام کرنے والے کو اس کی اہمیت و قابلیت اور ضرورت کے مطابق اجرت اور سہولیات ملتی ہیں ۔ موجودہ ذرائع کے استعمال میں زیادہ سے زیادہ افراد کو شامل کیا جاۓ ۔ بچھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے انہیں مزید بہتری کیلئے آسان اقساط پر قرضنے کی سہولیات آسانی سے فراہم ہوں ۔ ہنر مندوں کی مزید تربیت کا بہتر انتظام موجود ہو اور ان سے حاصل شد و پیداوار کا نہیں جائز حصہ دیا جائے

شادی شدہ افراد کی تربیت:

شادی شدہ مردوں اور عورتوں کیلئے مشاورتی مراکز ہونے چاہیے ۔ جہاں ڈاکٹر ، نفسیاتی طبیب ، وکیل اور معاشرتی ماہر ہوں شادی شدہ اشخاص کو صلاح مشورہ د میں جو میاں بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہ کر پائے ہوں ۔ بعض عائلی عدالتیں بھی اس نوعیت کی ہوتی ہیں وہ بھی میاں بیوی کو سمجھا بجھا سکتی ہیں اور ان کی قانونی مشکلات دور کر سکتی ہیں ان مشاورتی مراکز اور عائلی عدالتوں کو گو جرمانہ رویے کی روک تھام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن بالواسط تعلق ضرور ہے ۔ تجربات کی روشنی میں ثابت ہے کہ جن گھروں میں جھگڑے عام ہوتے ہیں وہاں مجرمانہ رویے پرورش پاتے ہیں ۔اس لئے جو مدو بھی والدین کو دیجاسکے جوان کی اور نوعمروں کی زندگی کو آسودہ بنا سکے وہ مجرمانہ رویے کو کم کرنے کیلئے ایک باہمت اور حوصلہ افزاء قدم ہوگا۔

معاشرے کا غیر ذمہ داراندرو یار اس کے اثرات:

ہمارے معاشرے میں کئی جرم لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں لیکن عوام کسی قسم کا رول کرنے سے گریز کرتی ہے یہ بالکل ایسی حقیقت کی مانند ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے ہمارے روز مرہ زندگی سے اس کی مثال کچھ اس طرح بھی دی جاسکتی ہے جیسے راہ چلتی لڑکیوں پر فقرے بازی ہو یا نہیں کسی اور طریقے سے تنگ کیا جاۓ ، لیکن دوسرے افرادائیں حرکات پر دھیان نہیں دیتے اور خاموشی اختیار کرتے ہیں اسی طرح محلوں میں فحاشی ، جوۓ اور شراب نوشی کھلے عام ہوتی ہے لیکن معاشرے کاریٹیل سر در بتا ہے جب معاشرے میں ایسے حالات ہوں تو جرائم کا سد باب کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اگر عوام باشعور ، بیدار اور ذمہ دار ہوں تو جرائم پیشہ لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے ۔ اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عار محسوس نہیں کرتے مثلا دکا نداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورا نہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تا ہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اس طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جوصرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور ٹینزم انہیں بھی دھوکہ.       دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بد عہدی نہ کریں تو وہ بھی شکایت نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کام کو براگر دائیں گے ، اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آگاہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی بینک لونے جاتے ہیں پاراہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نا مناسب سلوک کیا جا تا تب معاشر وقتی طور پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتاہے لیکن پھر ٹہراؤ آجاتا ہے موم ہمارا معاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھٹری دکھائی دے تو نام مطمئن ہو جاتے ہیں اورکسی تنظیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے ۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اور ظلم وتشد د کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو ٹیکس زیادہ دینے پڑتے ہیں اس طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عارمحسوس نہیں کرتے مشار دکانداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورانہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تاہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اسی طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جو صرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور مجرم نہیں بھی دھوکہ دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بدعہدی نہ کر میں تو وہ بھی شکایت نہیں کر یں گے اور نہ ہی اس کام کو برا گردانیں گے ،اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آ گا ہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی جینک لوٹے جاتے ہیں یا راہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا تا تب معاشرہ وقتی طور پر اپنے رومل کا اظہار کرتا ہے لیکن پھر ٹھہراؤ آ جاتا ہے عمو ماہمارامعاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھڑی دکھائی دے تو ہم مطمئن ہو جاتے ہیں اور کی تعلیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رو بی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اورظلم وتشدو کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو یکس زیاد دینے پڑتے میں اسی طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیں ہیں اور جرم وسیاست کا کوئی باضابطہ تعلق نہیں ہے تو جرم اور مجرمانہ رویوں میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے ۔

سوال نمبر: 03۔ شراب نوشی کے سابی نقصانات کی فہرست مرتب کر میں نیز پاکستان میں پچی شراب کے استعمال کی حوصاٹیکنی کیلئے تجاویز دیں۔

جواب۔

ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی برائیاں جنم لے چکی ہیں وہیں نشہ جیسی برائی نے بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہے ۔ کثیر تعداد میں لوگ نشے کے عادی ہو چکے ہیں۔ بوڑھا ہو یا نو جوان ، مرد ہو یا عورت ،امیر ہو یا غریب ،افسر ہو یا حا کم ،تاجر ہو یا کسان بے شمار افراد جانے انجانے نشے کی لت میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انسان بڑا ہی نادان ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے جب کہ اللہ نے قران کریم میں ارشاد فرمایا اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو (البقر 195- ) ۔اسلام نے ہر نشہ آور اشیاء کوحرام قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ حضور سے کسی نے آپ کے تبع کے بارے میں پوچھا جو شہد سے بنا تھاتو آپنے فرمایا کہ ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے ( بخاری ومسلم )۔ اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہر دوشی جو نشہ دینے والی ہے و واسلام کی نظر میں حرام ہے اور اہل اسلام کو اس کا استعمال ہرگز روا نہیں۔ خواہ وہ بھانگ ہو،افیون ، چرس ، یا شراب اور اس کے علاوہ دیگر نشہ آور منشیات سب اسلام میں حرام ہے ایک اور حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب نے نشہ لانے والی اور فتور پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا(ابوداؤد ) ۔ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ بیشمار برائیوں میں ملوث تھے۔ وہیں شراب بھی عام تھی ،لوگ کثرت سے شراب پیتے تھے، جب اسلام آیا تو قرآن میں اللہ نے اس کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کو بھی بیان کیا اور ہمیشہ کے لئے شراب کو حرام کر دیا۔ اللہ جل شانہ نے ارشادفرمایا اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام میں سوان سے بچتے رہوتا کہ تم نجات پاؤ‘‘(المائد 90-)۔ شراب کی نحوست کا انداز اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس کو شیطانی کام کیا اور بت پرستی کے ساتھ بیان کیا۔ اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں شراب کی مذمت اور اس کی قباحت و خباثت کو واضح انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ سے شراب کے متعلق دریافت فرمایا تو اللہ کے حبیب نے فرمایا کہ میکبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ سب برائی کی سردار ہے (الزواجر )۔ اللہ کے نبی نے ارشادفر مایا کہ جوشخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز شراب نہ پیئے اور جواللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب ہو( طبرانی)۔امام طبرانی نے جم کبیر میں ایک حدیث حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے ۔ آپ فرماتیں ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہوئی تو میں نے پیالے میں نبیذ بنایا جوھجور سے بنایا ہوا ایک قسم کا مشروب ہے ) اللہ کے رسول میرے گھر تشریف لاۓ تو و وابل ( چولھے پر رہی تھی۔ آپ نے فرمایا ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا میری بیٹی بیمار ہے اس کی دوا بنا رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایاکہ اللہ نے حرام کردہ اشیاء میں میری امت کے لئے شفا نہیں رکھی ہے۔ ایک حد میں حضرت وائل حضری سے مروی ہے کہ طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا ، آپ نے ان کو منع فرمایا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ میں تو صرف دوا کے لیے شراب بنا تا ہوں حضور نے ارشادفرمایا کہ وہ دوا نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی بیماری ہے (مشکوۃ )۔ مذکورہ احادیث سے شراب کی حرمت اور اس کی قباحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ حرام اشیاء میں شفانہیں ہے ۔ ایک جگہ اللہ کے حبیب نے ارشادفرمایا کہ شراب نہ ہو کہ میام الخبائث ہے اور ای ام الخبائث کہ انسان شراب کی حالت بھی بھی اپنی ماں اور پھوبھی کے ساتھ بھی بدکاری کر بیٹھتا ہے ۔ اور بھی بہت ہی حدیثیں شراب کی مذمت میں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔شراب پینے والوں کے بارے میں اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں وعید میں بیان فرمائی ہیں حضور نے فرمایا کہ جودنیامیں شراب پیتے ہیں اللہ تعالی انہیں جہنمی سانیوں کا زہر پائے گا جسے پینے سے پہلے ہی اس کے چہرے کا گوشت گل کر برتن میں گر جائے گا اور جب وہ اسے اپنے گا تو اس کا گوشت اور کھال ادھر جائے گی جس سے سمی اذیت پائیں گے ( روح البیان ج ۴) ۔ ایک جگہ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جوشخص دنیا میں شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا اللہ تعالی اسے آخرت میں جہنم کی پیپ پلاۓ گا (روح البیان ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ دائی طور پر شراب پینے والا اگر مر گیا اسی حالت میں تو در بارخداوندی میں اس طرح آۓ گا جیسے ایک بت پرست ( مشکوۃ شریف) ۔ حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میری عزت و جلال کی قسم جو بندہ ایک گھونٹ بھی شراب پیئے گا میں اس کو اتناہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اسے چھوڑے گا میں اسے مقدس حوض سے پاؤں گا ( امام احمد بن حنبل ) ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ نے تین آدمیوں پر جنت حرام کر دی ہے ۔ وہ تین میں ہیں (۱) ہمیشہ شراب پینے والا ( ۲ ) والدین کی نافرمانی کرنے والا ( ۳ ) دیوث جو اپنے اہل میں بے حیائی کو دیکھے اور منع نہ کرے(نسائی)۔

شراب انسان کے لئے دین و دنیا دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے ۔ دینی نقصان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نارانسگی کوخرید کر اپنی آخرت بر باد کر لیتا ہے ۔ دنیوی نقصان یہ ہے کہ مختلف قسم کی مہلک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جو ہلاکت کا سبب بنتی ہیں ، لاکھوں عورتیں شرابی شوہر کے ظلم وستم کا نشانہ بنتی ہیں شراب پینے والا بے مروت ہو جاتا ہے، سماج اور معاشرہ کے لئے دردسر بن جا تا ہے ۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ شراب میں ہر طرف سے تباہی اور بربادی ہے، مال کی بھی اور جان کی بھی ۔ اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے ۔

سوال نمبر :04۔ پاکستان میں مختلف دیہی ترقیاتی پروگراموں کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ نیز دیہی ترقی کے طریقہ کار کی وضاحت کر یں۔

جواب۔

دیہات کے لوگوں کی زندگی کا ایک اور اہم پہلوتعلیم سے بے بہرہ ہونا ہے اگر چہ حکومت تعلیم کو عام کرنے کے لیے بہت ہی کوششیں کر رہی ہے مگر اس کے باوجود ہمارے اکثر دیہات میں ابھی تک تعلیم کی روشنی نہیں پہنچ پائی اس کے ساتھ ساتھ لوگ بھی تعلیم حاصل کرنا ضروری تصور نہیں کرتے ان کے خیال میں سکول بھیجنے کی بجائے بچے کو ھیتوں میں بھجنا زیادہ فائدہ مند ہے ۔ دیہات کے لوگ اپنی غربت کے ہاتھوں نہ تو پڑھائی کے لیے پیسہ خرچ کر سکتے ہیں اور نہ ہی وقت ۔ اس کے علاوہ اکثر دیہات ایسے ہیں جہاں پرائمری سکول بھی نہیں ہیں اس لیے لوگ دوسرے دیہات میں اپنے بچے بھیجنا پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان پڑھے ہیں یہ حالت صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ اکثر ترقی پذیر ممالک میں خواند و یا پڑھے لکھے افراد کی تعداد بہت ہی کم ہے اور جتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اکثر شہروں میں رہتے ہیں دیہات میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے مندرجہ ذیل جدول جو کہ آئی پی پی ایف کے جرید پی پی پی کے جرید نے پیپلز سے لیا گیا ہے اس سے ترقی پذیر ممالک میں نا خواندگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ علمی پسماندگی اور غربت و افلاس لازم وملزوم ہیں۔ ناخواندگی کے باعث کاشت کا ر جد ید زری معلومات سے بے بہرور ہتے ہیں زرعی

پیداوار میں اضافہ کرنے کی تدابیراور طریقوں کاعلم نہیں رکھتے ۔ اگر کاشتکار پڑھے لکھے ہوں تو وہ نہ صرف جدید معلومات زرمی سے استفادہ کر کے اپنی زرعی پیداوار بڑھنے کی تدابیر کر سکتے ہیں بلکہ اپنے روز مرہ کا حساب کتاب رکھ سکتے ہیں تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان کی معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا اور ان کے ذہن میں نئی ایجادات کے لیے وسعت اور بالغ نظری پیدانہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں نئی یجادات اپنانے کا حوصلہ پیدانہیں ہوتا۔ تعلیم ایک ایسا معاشرتی عمل ہے جس کے بغیر ہم افراد معا شر وترقی کی اہمیت نہیں سمجھا سکتے اور وہی ترقیاتی کاموں میں سرگرم حصہ لینے پر آما وہ کر سکتے ہیں تعلیم کے بغیر سابی اور ثقافتی تربیت بھی ممکن نہیں ہوتی چنانچہ لوگوں کی حالت بدلنے کے لیے ان کو اور ان کے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو تعلیم دینے کا بندوبست کرنا نہایت ضروری ہے۔ و یہی معاشرتی زندگی: دیہی زندگی شہری زندگی سے مختلف ہوتی ہے چونکہ ہماری آبادی کا تقریبا72 فیصد حصہ دیہات میں و بستا ہے اس لیے ان لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں اور دیہات کو ترقی دینے والے طریقہ کارکومندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو درج ذیل ہے

دیہات کاطبیعی ڈھانچہ

جونہی ہم شہروں سے وہی علاقوں کی طرف جاتے ہیں سب سے پہلے سرسبز کھیت اور کسان ہمارا استقبال کرتے ہیں جن میں کوئی فصل کو پانی دے رہا ہوتا کوئی زمین میں ہل چلا رہا ہوتا ہے کوئی بیچ ہور ہا ہوتا ہے تو کوئی فصل کاٹ رہا ہوتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نام دیہی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں پاکستان کے دیہی علاقوں میں لوگ زیادہ تر کچے مکانوں میں رہتے ہیں جن کی چھتیں شہتیروں پر گھاس پھونس ڈال کر بنائی جاتی ہے یہ گھر عموما کھلے کھلے ہوتے ہیں درمیان میں محن ہوتا ہے گھر کے کمروں میں عموماً کھڑ کی باروشندان ہوتے ہیں گلیاں اور محلے ترتیب سے نہیں بنے ہوتے اکثر گلیاں ٹیڑھی میڑھی ہوتی ہیں اور عموما گندی ہوتی ہیں اگر چہ ہر گھر انفرادی طور پر بیکوشش ضرور کرتا ہے کہ اپنے گھر کے سامنے کا حصہ صاف رکھے مگر اس کے باوجود چونکہ سرکاری طور پرکوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا اس لیے کئی جگہوں پر اس کے ڈھیر ملتے ہیں زندگی میں جدید سہولتوں کا فقدان ہے بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچ سکی سوئی گیس کی سہولت بھی موجود ہیں اکثر دیہات تک پکی سڑک نہیں جاتی پانی عموما ہنڈ پمپ سے حاصل کیا جا تا ہے بعض علاقوں میں جہاں پانی کی تلخ اونچی نہیں کنو میں کھودے جاتے ہیں

زرعی ترقیاتی بینک آف پاکستان

ا۔ مقاصد: بنک کا قیام 1961 ء میں عمل میں آیا۔ اس کا مقصد زری شعبوں میں کاشتکارکوقرضے فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ گاؤں کی طح پر گھر یا منعتیں لگانے کیلئے بھی قرضے فراہم کرنا اس بنک کا بنیادی مقصد تھا۔

ii۔ طریقہ کار: بنک کا شتکاروں کوان کی بہت فصل کیلئے قرضے فراہم کرتا ہے یہ قرضے آسمان مشعلوں میں واپس لئے جاتے ہیں اور کسان کو ں نے ان میں ورکر اس کی زمین کے مطابق قرضہ ماتا ہے عموماز میں گروی رکھی جاتی ہے یا فصل کے مطابق قرضہ کی شرائط طے کی جاتی ہیں ۔

نتائج:

پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق 81-1980 تک بنک نے 62-1066 ملین روپے کے قرضے فراہم کئے ۔ان

قرضوں کی رقم میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ 82-1991 ء میں یہ قرضے 38-1557 ملین تک پہنچ گئے ہیں۔ ان قرضوں کا 45 فیصد سے بھی زیادہ حصہ زرعی مشینری خریدنے کے کام آیا مگر بنک کی ان سہولتوں کے زیادہ تر فائدے بڑے کاشتکاروں کو حاصل ہوۓ کاشتکاروں کو کل رقم کا بمشکل 21 فیصد دیا گیا تا ہم اس قرضے کی بدولت بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور زراعت میں ترقی کا سبب بنا۔ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے طریق کار میں کارکن کے کردار کی اہمیت: کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کا انحصار صرف ایک شخص پر ہوتا ہے جسے ہم ترقیاتی کارکن یا ترقیاتی رہنما بھی کہ سکتے ہیں۔ چنانچہ اسے ہر دلعزیز اور قابل قبول شخصیت ہونے کے علاوہ جنتی اور دیانتدار بھی ہونا چاہئے ۔ اس کے علاوہ اسے اس کمیونٹی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے فوری حل کے بارے میں تھوڑا بہت علم بھی ضرور ہونا چاہئے مثلا چھوٹی چھوٹی بیماریوں کی صورت میں بیان کیلئے معالج ثابت ہوا تعلیم وتربیت میں استاد ، گھر یلو معاملات میں مشیر ، جھگڑے لے کرانے میں بیج اور مصالحت کنند و در اجتماعی کاموں میں ان کا رہنما ہونا چاہئے ۔اگر چہ وہ ان تمام معاملات میں ماہرین کی جگہ تو نہیں لے سکتا مگرلیکن ان تمام معاملات میں اس کی ایسی رائے ہونی چاہئے جو زیادہ تر لوگوں کو قبول ہو اور ان کے فوائد میں ہو ۔ اسے اس آبادی کیلئے جس ترقی پر اسے معمور کیا گیا ہو ایک مثال ہونا چاہئے تب جا کر کہیں اس طریقہ کار سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ تر قیاتی کارکن کو مندرجہ ذیل اصولوں کی روشنی میں اپنے کام کا آغاز کرنا چاہئے

1۔ کارکن کو ان لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرنے چاہئیں جن کے ساتھ وہ کام کرنا چاہتا ہے۔

کارکن لوگوں کی چھوٹی چھوٹی اور ہنگامی ضرورتوں کو پورا کر کے ان کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اگر وہ ان کی کسی معمولی بیماری کا علاج کر کے ان کو صحت و صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہے گا تو وہ آسانی سے اس کی بات سمجھ جائیں گے ۔ چونکہ یہ اعتاد اس نے حال ہی میں حاصل کیا ہوتا ہے اور اہل خانہ کو ایک مصیبت سے نجات دلانی ہوتی ہے اس لئے اس وقت ان کے جذبات واحساسات کا احترام کر کے انہیں سمجھا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ جب کوئی اس سے مشورہ طلب کرے تو کارکن کو اس کے ساتھ اس طرح سے بات کرنی چاہئے کہ وہ جان لے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اس کا کوئی ہدر نہیں اور اسے اپنے ایمان اور مسلم کے مطابق سیح مشور و دینا چاہئے ۔ اس طرح کے لگاتار عمل سے و واس معاشرتی گروہ میں ایک قابل احترام شخصیت بن جائے گا اور اسے کام کرنے میں آسانی ہوگی۔

2۔ کارکن کو ہرائی جانے والی تبد یلی کیلئے لوگوں کی رضامندی حاصل کر لینی چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ

کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے ۔

کارکن اگر ان لوگوں کی مقامی زبان میں بات کرنے والا ہو جن لوگوں میں اسے بھیجا گیا ہوتو وہ اس کی بات کو آسانی سے سمجھ جائیں گے نیز مقامی واقفیت کی بناء پر وہ مختلف منصوبے بنانے اور ان کی ترجیحات مرتب کرنے میں بھی زیادہ ماہر ہوگا۔ علاوہ ان میں اگر وہ ان لوگوں کا ہم عقید بھی ہوتو زیادہ اچھا ہے اس کے برعکس بیرونی ماہرین اور ٹیکنیک فتی لحاظ سے پیا ہے کتنی بھی املی کیوں نہ ہو وہ اگر لوگوں کے جذبات و احساسات سے ہم آہنگ نہ ہوگی تو مطلوبہ نتائج پیدا کرنے سے قاصر رہے گی ۔ اسی بات کوئی ۔آرمین نے اپنی کتاب ’’معاشرے اور ان کی ترقی میں ایشیائی ممالک کی فنی امداد کے سلسلے میں ہونے والی کانفرنس میں جنوب مشرقی ایشیاء کے نمائندوں کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ تمام نمائندے اس بات پر متفق تھے کہ گذسته چند سالوں کے دوران مختلف اداروں کی طرف سے دی جانے والے فنی امداد نہ صرف نتیجہ رہی بلکہ بعض حالات میں نقصان رساں بھی ثابت ہوئی کیونکہ و مغربی ممالک سے آنے والے ساز و سامان اور وہیں پر ترتیب دی گئی ٹیکنیک پریٹی تھی جس کا مقصد تیزی سے حاصل ہونے والے اور نظر آنے والے نتائج پیدا کرنا تھا۔ اس ساز و سامان اور ٹیکنیک پر کام کرنے والے بھی مغربی ماہرین تھے جو ٹیکنیک کی حد تک تو بہت ماہر تھے لیکن مقامی حالات سے بالکل ناواقف تھے۔ وہ ہر متوقع سوال کا جواب جانتے تھے لیکن جب وہ موقع پر پہنچتے تو ان کی تمام مہارت بے کار ثابت ہوتی ‘‘۔ مزیدآگے چل کر لکھتے ہیں کہ درحقیقت اب وہ تمام کارکن محسوس کرنے لگے ہیں کہ اگر وہ بھیں گے کہ وہ تمام خیالات اور منصوبے جو ان کے اپنے ماحول اور تہذیب وتمدن میں درست کسی دوسرے میں اسی طرح درست نتائج کے حامل ہوں گے تو نا کامی ان کا مقدمہ بن جائے گی‘۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ کارکن کا ان لوگوں میں سے ہونا لازمی ہے اور دو ان کا ہم عقید ہ ہونے بنا پر ان کی خوشی اورمی میں بھی شامل ہو سکے تو وہ ان میں مزید شیر و شکر ہو سکے گا اور پیاس کی اپنے مشن میں کامیابی ضمانت ہوگی ۔

کارکن کو انہیں اس بات کی یقین دہانی کروانی چاہیے کہ مجوزہ تبدیلی نہایت محفوظ ہے۔

کسی تبد یلی کوقبول کرتے ہوۓ لوگ اس بات کا پہلے سے یقین کرنا ضروری خیال کر ہیں گے کہ وہ نہیں ایسا کرنے سے لوگوں کی تضحیک کا نشانہ تو نہیں بن جائیں گے ۔ یا نہیں مالی طور پر نقصان تو نہیں برداشت کرنا پڑے گا مثال کے طور پر ہمارا ان پڑھ کاشت کار نے بیج ، نئے آلات زراعت اورکھیتی باڑی کے نئے طریقوں کو اپنانے سے ہچکچائے گا اور سوچے گا کہ ایسا کرنے سے کہیں میری فصل تو نہیں ماری جاۓ گی ۔ میرا سال تو ضائع نہیں ہو جائے گا وہ ان تبدیلیوں کو حکومت کی طرف سے کئے گئے تجربوں کی روشنی میں بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوگا کہ اس لئے کہ جب وہ اپنے اور حکومت کے وسائل کا موازنہ کرے گا یہی مجھے گا کہ حکومت تو یہ سب کچھ کر سکتی ہے میں انہیں ضمانت فراہم کر کے تمام لوگوں کیلئے کا عملی مظاہرہ کرنے کا بندوبست کر نا ہوگا تب کہیں جا کر وہ انہیں قائل کر سکے گا۔

سوال نمبر :05۔ مندرجہ ذیل پرنوٹ لکھیں۔

) شہری علاقوں میں مختلف جرائم

جواب: دراصل بچوں کی بے راہ روی میں گھر کے برے ماحول اور ناقص نگرانی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ والدین کو آج کل اقتصادی و سماجی ذمہ داریوں سے بہت کم وقت ماتا ہے۔ نیچے اپنا بیشتر وقت گلی کو چوں اورآوار ومزاج لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں ۔ بچوں کو نیک و بد بنانے میں دوستوں کی صحبت کافی اہمیت رکھتی ہے ۔ پڑوس میں اچھے برے ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں ۔ والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو سلجھے ہوۓ بچوں کی صحبت سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کر میں اورانہیں بے راہ رو نیچے کی صحبت سے بچائیں تا کہ وہ نیکی کے راستے پر گامزن رہ ہیں بچوں کیلئے صالح تعلیم و تربیت کی سخت ضرورت ہے ۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ ان کو اسلامی اقدار و نظریات اور قانون کی اہمیت سے آگاہ کر میں وہ خود کو بھی تربیت اطفال سے آگاہ کر میں ۔ تا کہ مستقبل کے رہنماؤں کو صالح زندگی بسر کرنے میں آسانی رہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تربیت اطفال پر معیاری کتابیں لکھوائی جائیں اور انہیں سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے کہ بچوں کوخوش اسلوبی سے حاصل کرنے کیلئے تربیت اطفال کی تعلیم کو عام کر نے ضرورت ہے۔ جرائم کی روک تھام کیسے ممکن ہے: پاکستان اسلامی قوانین کے فروغ و نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور اب ان قوانین کوفروغ دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ۔ اس لئے یتوقع پیل ہے کہ اس سے انسداد جرائم میں کافی مدد ملے گی ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر ہمارے قوانین مذہبی تعلقات سے نم آہنگ ہوں اور سماجی انحراف اور جرم ومصیبت کا دروازہ بند ہو جائے۔ لیکن اس مقصد کے لئے ہمیں مذہبی اور قانونی تعلیمات کو بھی کافی رواج دینا پڑے گا اور زندگی میں دین ودنیا کی جوتسیم پیدا ہوگئی ہے اسے بھی ختم کرنا ہوگا ۔ اسلام کے شہری اصولوں کی اگر لوگ پیروی مکمل طور پر کرنا شروع کردیں تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ ملک میں مکمل امن وامان اور سکون قائم ہو جائے گا۔ مذہب اسلام انسان میں خدا کے سامنے جوابدہی ،خوف خدا اور خدا ترسی پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان کو اس بات کو یقین ہو جائے نیز اس بات کا با قاعدہ پر پاراور تبلیغ کی جائے تو جرائم قتل ، ڈکیتی، چوری کا قلع قمع ہوسکتا ہے ۔ اسلامی سزائیں بھی رائج کر دی جائیں تو ایسے جرائم بہت کم ہو جائیں گے جس طرح کہ سعودی عرب میں جرائم بہت کم پاۓ جاتے ہیں کیونکہ وہاں اسلام کے مطابق انصاف ملتا ہے۔ اور مجرم کو سخت سزادی جاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جائے ۔ کیونکہ اگر افراد کو یہ بھی یقین ہو کہ قوانین کی خلاف ورزی پر نہ صرف وہ حکومت کا مجرم ہے بلکہ خدا کا مجرم بھی ہو گا تو جرائم کرنے سے پہلے و وضرور سوچے گا ۔

 ناقص منڈی کے دیہی زندگی پراثرات

جواب: ناقص منڈی کے دیہی زندگی پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں :

1۔ ناقص منڈی کی وجہ سے اشیاء کی خرید وفروخت میں مشکل پیش آتی ہے۔

2 ۔ ناقص منڈی کی وجہ سے صحت کے اصولوں کا پاس نہیں رکھا جا تا ۔

3۔ ناقص منڈی کی وجہ سے کاشت کا کوا پنی فصل کا ؤں میں ہی آ ڑھی کے ہاتھوں اونے پونے فروخت کرنی پڑتی ہے ۔

4۔ ناقص منڈی دیہی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

 

Course  Sociology -II( 413 )

Assignmen:: t no 2.

Semester::  2022 spring

 

 

 

سوال نمبر: 01۔ کثرت آبادی ترقی پذیر ممالک کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے کیا اسباب میں وضاحت کریں۔

 جواب:

کثرت آبادی سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے اگر چہ اللہ تعالی نے زمین کو طرح طرح کی نعمتوں اور وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن آج کے ترقیاتی یافتہ دور میں خدا کی نیمتیں بتدریج کم ہوتی جارہی ہیں اور دنیا کی ایک بڑی آبادی کو ایک وقت کی روٹی بڑی مشکل سے میسر آتی ہے ماہرین عمرانیات ، اقتصادیات و آبادیات اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ وسائل سے زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیتے ہیں بڑھتی ہوئی آبادی کا یہ سیلاب پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے کثرت آبادی کی روک تھام کے لیے چند اقدامات درج ذیل ہیں

: ا۔ عورت کے روایتی کردار میں تبدیلی:

پاکستان میں برادری نظام کی موجودگی مشترکہ خاندانی نظام اور دیگر ثقافتی اثرات کی وجہ سے معاشرے میں مردکوعورت پر فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے عورت اپنے روایتی کردار یعنی گھر اور بچوں کی پرورش تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اس تصور کوتوڑنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر ملک کی آدھی آبادی گھر میں قید ہو کر رہ جاۓ یا ایسے کام کرے جس کی نوعیت غیر پیداواری ہو تو ظاہر ہے یہ بات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور کثرت آبادی کا باعث ہے خواتین کا مجاب کر ناکسی حد تک اس مسئلے کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

خواتین کی تعلیم:

خواتین میں خواندگی کی سطح خصوصا دیہی علاقوں میں بہت کم ہے خواتین میں تعلیم کے پھیلاؤ کی افادیت کا انداز داس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ نا خواند و خواتین کی نسبت ایسی خواتین جنہوں نے تعلیم حاصل کی ہوان کے ہاں بچوں کی تعداد نصف ہوتی ہے اس لیے چھوٹے خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے اور شرح پیدائش کو کنٹرول کرنے کے لیے خواتین کی تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔

افرادی قوت کا صحیح استعمال:

افرادی قوت کا بیج استعمال بھی آبادی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جیسے کہ نو جوانوں کو ہنر سکھائے جائیں اور ان کی پیداواری صلاحیتوں کو بروے کا را یا جاۓ تا کہ بھکاری نہ بنیں اور بے کار نہ پھر ہیں

۴۔ خاندانی منصوبہ بندی کا شعور

خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد ، خاندان میں افراد کی تعداد کو خاندان کے وسائل کے مطابق رکھتا ہے نہ کے نسل انسانی کی بندش ہے پاکستان میں آبادی کے کنٹرول سے متعلق جتنے بھی منصوبے کام کر رہے ہیں ان کی تیج افادیت کی آگاہی کے لیے ملک گیر سطح پر نظم کوششوں کی ضرورت ہے جس کے لیے تمام ذرائع بروئے کارلانے چاہئیں جن میں میڈ یاتعلیمی اداروں اور دیہی سطح پر بزرگوں کو شامل کعنا ضروری ہے

۵۔ دیہی آبادی کی ترقی

دیہی آبادی کو معاشی و معاشرتی ترقی دینے اور بہترین صحت غذا اورتعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے دیہی معاشروں میں عورت کا مقام و معیار بلند کرنے میں مدد ملے گی جس سے ملکی ترقی اور ملک کی آبادی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں

مدد ملے گی۔

۔ قدرتی وسائل کا بہتر استعمال:

معاشی ومعاشرتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا بیج استعمال بھی آبادی کے اضافے کو کنٹرو ل کر سکتا ہے کیوں کہ جتنا کوئی معاشرہ خوشحال ہوگا اور وسائل کی فراوانی ہوگی اضافہ آبادی بھی بھی منا نہیں بنے گی قدرتی وسائل میں پانی کا صحیح استعمال جیسا کہ ڈیز کی تعمیر کے ذریعے پانی کے ذخائر بڑھانا ، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، جدید زرعی آلات کا استعمال ، کھاد میں اور توانائی کے نئے ذخائر وغیرہ کی دریافت شامل ہیں ان اصولوں پر ٹیل کیا جاۓ اور دیہی علاقوں کی ترقی پر خاص توجہ دی جائے تو پورا معاشرہ خوشحال ہوگا اور بے روز گاری کم ہو جائے گی وسائل کے بیج استعمال و منصفا تقسیم سے لوگوں میں محنت کا جذ بداجا گر ہو گا اور افراد کا معیار زندگی بلند ہوگا اور یوں معاشرہ امن وخوشحالی کی جانب گامزن ہو گا اور کثرت آبادی کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوگا۔

سوال نمبر :02۔غربت کے معاشرے پر عمومی اثرات بیان کر میں نیز غربت کی شدت کو کم کرنے کیلئے کس قسم کے اقدامات زیادہ مئوثر ثابت ہوں گے

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غربت معاشرے میں بگاڑ کی ایک بہت بنیادی وجہ ہے ۔ پر ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں جن کی وجہ سے ان منفی رویوں میں کمی لائی جاسکتی ہے اور ایک خوشگوار ماحول وفضا کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

 ا۔نظام تعلیم کی اصلاح اور ترقی:

ہمارے معاشرے میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں رہی اور غیر رکی تعلیم دی جاتی ہے تا کہ بچہ اپنے مستقبل میں معاشرے کا ایک کامیاب فرد بن سکے۔ موجودہ نظام کی اصلاح کی جاۓ ۔ جہاں خامیاں اور کمزوریاں ہیں انہیں دور کیا جائے تا کہ جب و عملی میدان میں آئیں تو منظم زندگی گزار ہیں ۔ خاندان کے بعد دوسرا ہم معاشرتی اور تعلیم کا ہے ۔ جہاں فروکی ابتدائی عمر میں اخلاقی تربیت کی جاتی ہے اور اس میں حب الوطنی کا جذ بہ ابھارا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں Guidance and Councilling کے مراکز ہیں ۔استاد جب بچے کو اوسط درجے سے منحرف دیکھتا ہے تو اسے مراکز میں بھیج دیتا ہے جہاں تجربہ کار مشیر اور نفسیاتی طبیب بچوں کا علاج نہایت محنت اور خلوص سے کرتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک جن میں اداروں اور مشیروں کا تعلق عدالتوں سے نہیں ہوتا ان کا اصل کام خطا کاری کوروکن نہیں ہوتا بلکہ مریض کی جذباتی اور شخصیاتی نکالیف کا حل ڈھونڈ نا ہوتا ہے ممکن ہے خطا کار کی خطاؤں کی تہہ میں ان کی بیجانی یانی تکالیف موجودنہ ہوں کیونکہ خطا کے اسباب صرف نفسیاتی ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی قسم کے ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح مقطرب بچوں اور نو جوانوں کیلئے ایک اسلامی طریقہ گروہی علاج معالجہ Group Thesaphy ہے ۔ یہ گروہ خود نفسیاتی طبیب چھتا ہے۔اس میں کھیل کود اور اسی قسم کی دوسری تفریحی سرگرمیاں کا انتظام کیا جا تا ہے جو گروہ کا لیڈر ہوتا ہے اسے اس کا علم ہوتا ہے کہ بچوں کو کیا تکلیف ہے یا انہیں کیا مسائل درپیش ہیں ۔ وہ ہر بچے کے کردار کا مطالعہ کرتا ہے۔ اسے تسلی دلاسہ دیتا ہے اور پیار محبت سے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان گروہوں کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں ہوتا۔ بچے خو اپنی تکالیف کا مظاہرہ کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کا حل ڈھونڈتے ہیں ۔ اگر بڑوں کیلئے گروہ بنا ہوتو کھیل تماشے کے بجائے انتلو، بحث مباحثہ مذاکرہ ہوسکتا ہے۔ انتلو کیلئے بھی کوئی موضوع پہلے سے بھی طے نہیں کیا جا تا بلکہ جو موضوع بھی گروہ زیر بحث ا نا چاہتا ہوا سکتا ہے۔ علاج معالجہ کے جو مختلف طریقے بیان ہو چکے ہیں ان کی بنیاد اس مفروضہ پر ہے کہ خطا کاری میں خاندان کا بڑا حصہ ہے۔ خاندان کی اگر اصلاح ہو جائے تو مجرمانہ رویے میں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن خاندان بھی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اس کی اصلاح بھی معاشرے کی اصلاح پر منصر ہے ۔

ii۔ مجرمانہ روی اور اصلاحی طریقہ کار

مجرمانہ رویوں کیلئے جو اصلاحی طریقے استعمال ہوتے ہیں وہ مغربی ماہرنفسیات اور ماہر جرمیات کے مرتب کردہ ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طریقہ ان لوگوں کو اور ان کے والدین کو نفسیاتی طبی معاجہ مہیا کرتا ہے۔ اس کیلئے شرط یہ ہوتی ہے کہ ایسی پنی علامات موجود ہوں جو نشاندہی کر سکیں کہ اصلاح کے مثبت نتائج ہوں گے۔ وہ بچے جو عدم تحفظ ،احساس کمتری یا کسی اور ایسے ہی مخصوص رویے کا شکار ہوں جو کہ انہیں مطمئن زندگی گزارنے میں رکاوٹ کا احساس دلاے تو انہیں نفسیاتی کلینک میں علاج معالجہ کیلئے داخل کرا دینا چاہیے

۔ معاشرتی و ثقافتی اقدار

: جرائم کنٹرول کرنے میں معاشرتی اور ثقافتی اقداربھی اہمیت رکھتے ہیں جب تک معاشرے میں عملی طور پر برائی کے خلاف سخت ریمل نہیں ہو گا اس وقت تک جرائم کی جڑیں مضبوط رہیں گی ۔ جرائم کو یکسر تو کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن معاشرے میں اجتماعی رویے کی وجہ سے منفی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصایشکنی کی جاسکتی ہے۔ معاشرتی اور ثقافتی اقدار میں جرائم اور غیر ذمہ دارانہ معاشرتی رویوں کا سختی سے نوٹس لیا جائے لیکن جہاں تک اصلاحی پہلو کا تعلق ہے اس کیلئے معاشرتی نظام میں اتنی چیک ضرور ہونی چاہیے کہ وہ اس فرد کے ساتھ ہمدردی اور ذمہ دارانہ رو میدر کھے جو جرائم کی دنیا سے نہ صرف نکل آتا ہے بلکہ شائستہ اطوار اپنا تا ہے اور معاشرے میں ایک معتبر مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

۱۷۔ بے روزگاری میں کمی اور موجودہ ذرائع کا استعمال:

معیشت کسی بھی ملک یا معاشرے کے اقدار اور طرز زندگی پر گہرا اثر رکھتی ہے ۔ جس معاشرے کی معیشت مضبوط ہوگی وہاں جرائم کسی حد تک کم ہوں گے یا وہ جرائم سرزد ہوں گے جن کا تعلق معیشت سے کم ہو گا ایسے معاشرے میں زیادہ تر وہ جرائم سرزد ہوتے ہیں جو عیاشی کے تصور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معیشت کا نظام ایسی پالیسی کی ٹھوس بنیادوں پر ہونا چاہیے جہاں ہر فر دکواس کی اپنی قابلیت یا جسمانی مشقت کے مطابق اجرت ملے ۔ ان ممالک نے زندگی کے ہر دوسرے شعبے میں ترقی کی ہے جہاں ہر کام کرنے والے کو اس کی اہمیت و قابلیت اور ضرورت کے مطابق اجرت اور سہولیات ملتی ہیں ۔ موجودہ ذرائع کے استعمال میں زیادہ سے زیادہ افراد کو شامل کیا جاۓ ۔ بچھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے انہیں مزید بہتری کیلئے آسان اقساط پر قرضنے کی سہولیات آسانی سے فراہم ہوں ۔ ہنر مندوں کی مزید تربیت کا بہتر انتظام موجود ہو اور ان سے حاصل شد و پیداوار کا نہیں جائز حصہ دیا جائے

شادی شدہ افراد کی تربیت:

شادی شدہ مردوں اور عورتوں کیلئے مشاورتی مراکز ہونے چاہیے ۔ جہاں ڈاکٹر ، نفسیاتی طبیب ، وکیل اور معاشرتی ماہر ہوں شادی شدہ اشخاص کو صلاح مشورہ د میں جو میاں بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہ کر پائے ہوں ۔ بعض عائلی عدالتیں بھی اس نوعیت کی ہوتی ہیں وہ بھی میاں بیوی کو سمجھا بجھا سکتی ہیں اور ان کی قانونی مشکلات دور کر سکتی ہیں ان مشاورتی مراکز اور عائلی عدالتوں کو گو جرمانہ رویے کی روک تھام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن بالواسط تعلق ضرور ہے ۔ تجربات کی روشنی میں ثابت ہے کہ جن گھروں میں جھگڑے عام ہوتے ہیں وہاں مجرمانہ رویے پرورش پاتے ہیں ۔اس لئے جو مدو بھی والدین کو دیجاسکے جوان کی اور نوعمروں کی زندگی کو آسودہ بنا سکے وہ مجرمانہ رویے کو کم کرنے کیلئے ایک باہمت اور حوصلہ افزاء قدم ہوگا۔

معاشرے کا غیر ذمہ داراندرو یار اس کے اثرات:

ہمارے معاشرے میں کئی جرم لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں لیکن عوام کسی قسم کا رول کرنے سے گریز کرتی ہے یہ بالکل ایسی حقیقت کی مانند ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے ہمارے روز مرہ زندگی سے اس کی مثال کچھ اس طرح بھی دی جاسکتی ہے جیسے راہ چلتی لڑکیوں پر فقرے بازی ہو یا نہیں کسی اور طریقے سے تنگ کیا جاۓ ، لیکن دوسرے افرادائیں حرکات پر دھیان نہیں دیتے اور خاموشی اختیار کرتے ہیں اسی طرح محلوں میں فحاشی ، جوۓ اور شراب نوشی کھلے عام ہوتی ہے لیکن معاشرے کاریٹیل سر در بتا ہے جب معاشرے میں ایسے حالات ہوں تو جرائم کا سد باب کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اگر عوام باشعور ، بیدار اور ذمہ دار ہوں تو جرائم پیشہ لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے ۔ اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عار محسوس نہیں کرتے مثلا دکا نداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورا نہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تا ہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اس طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جوصرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور ٹینزم انہیں بھی دھوکہ.       دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بد عہدی نہ کریں تو وہ بھی شکایت نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کام کو براگر دائیں گے ، اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آگاہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی بینک لونے جاتے ہیں پاراہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نا مناسب سلوک کیا جا تا تب معاشر وقتی طور پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتاہے لیکن پھر ٹہراؤ آجاتا ہے موم ہمارا معاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھٹری دکھائی دے تو نام مطمئن ہو جاتے ہیں اورکسی تنظیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے ۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اور ظلم وتشد د کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو ٹیکس زیادہ دینے پڑتے ہیں اس طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عارمحسوس نہیں کرتے مشار دکانداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورانہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تاہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اسی طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جو صرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور مجرم نہیں بھی دھوکہ دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بدعہدی نہ کر میں تو وہ بھی شکایت نہیں کر یں گے اور نہ ہی اس کام کو برا گردانیں گے ،اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آ گا ہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی جینک لوٹے جاتے ہیں یا راہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا تا تب معاشرہ وقتی طور پر اپنے رومل کا اظہار کرتا ہے لیکن پھر ٹھہراؤ آ جاتا ہے عمو ماہمارامعاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھڑی دکھائی دے تو ہم مطمئن ہو جاتے ہیں اور کی تعلیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رو بی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اورظلم وتشدو کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو یکس زیاد دینے پڑتے میں اسی طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیں ہیں اور جرم وسیاست کا کوئی باضابطہ تعلق نہیں ہے تو جرم اور مجرمانہ رویوں میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے ۔

سوال نمبر: 03۔ شراب نوشی کے سابی نقصانات کی فہرست مرتب کر میں نیز پاکستان میں پچی شراب کے استعمال کی حوصاٹیکنی کیلئے تجاویز دیں۔

جواب۔

ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی برائیاں جنم لے چکی ہیں وہیں نشہ جیسی برائی نے بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہے ۔ کثیر تعداد میں لوگ نشے کے عادی ہو چکے ہیں۔ بوڑھا ہو یا نو جوان ، مرد ہو یا عورت ،امیر ہو یا غریب ،افسر ہو یا حا کم ،تاجر ہو یا کسان بے شمار افراد جانے انجانے نشے کی لت میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انسان بڑا ہی نادان ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے جب کہ اللہ نے قران کریم میں ارشاد فرمایا اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو (البقر 195- ) ۔اسلام نے ہر نشہ آور اشیاء کوحرام قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ حضور سے کسی نے آپ کے تبع کے بارے میں پوچھا جو شہد سے بنا تھاتو آپنے فرمایا کہ ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے ( بخاری ومسلم )۔ اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہر دوشی جو نشہ دینے والی ہے و واسلام کی نظر میں حرام ہے اور اہل اسلام کو اس کا استعمال ہرگز روا نہیں۔ خواہ وہ بھانگ ہو،افیون ، چرس ، یا شراب اور اس کے علاوہ دیگر نشہ آور منشیات سب اسلام میں حرام ہے ایک اور حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب نے نشہ لانے والی اور فتور پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا(ابوداؤد ) ۔ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ بیشمار برائیوں میں ملوث تھے۔ وہیں شراب بھی عام تھی ،لوگ کثرت سے شراب پیتے تھے، جب اسلام آیا تو قرآن میں اللہ نے اس کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کو بھی بیان کیا اور ہمیشہ کے لئے شراب کو حرام کر دیا۔ اللہ جل شانہ نے ارشادفرمایا اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام میں سوان سے بچتے رہوتا کہ تم نجات پاؤ‘‘(المائد 90-)۔ شراب کی نحوست کا انداز اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس کو شیطانی کام کیا اور بت پرستی کے ساتھ بیان کیا۔ اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں شراب کی مذمت اور اس کی قباحت و خباثت کو واضح انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ سے شراب کے متعلق دریافت فرمایا تو اللہ کے حبیب نے فرمایا کہ میکبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ سب برائی کی سردار ہے (الزواجر )۔ اللہ کے نبی نے ارشادفر مایا کہ جوشخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز شراب نہ پیئے اور جواللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب ہو( طبرانی)۔امام طبرانی نے جم کبیر میں ایک حدیث حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے ۔ آپ فرماتیں ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہوئی تو میں نے پیالے میں نبیذ بنایا جوھجور سے بنایا ہوا ایک قسم کا مشروب ہے ) اللہ کے رسول میرے گھر تشریف لاۓ تو و وابل ( چولھے پر رہی تھی۔ آپ نے فرمایا ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا میری بیٹی بیمار ہے اس کی دوا بنا رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایاکہ اللہ نے حرام کردہ اشیاء میں میری امت کے لئے شفا نہیں رکھی ہے۔ ایک حد میں حضرت وائل حضری سے مروی ہے کہ طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا ، آپ نے ان کو منع فرمایا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ میں تو صرف دوا کے لیے شراب بنا تا ہوں حضور نے ارشادفرمایا کہ وہ دوا نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی بیماری ہے (مشکوۃ )۔ مذکورہ احادیث سے شراب کی حرمت اور اس کی قباحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ حرام اشیاء میں شفانہیں ہے ۔ ایک جگہ اللہ کے حبیب نے ارشادفرمایا کہ شراب نہ ہو کہ میام الخبائث ہے اور ای ام الخبائث کہ انسان شراب کی حالت بھی بھی اپنی ماں اور پھوبھی کے ساتھ بھی بدکاری کر بیٹھتا ہے ۔ اور بھی بہت ہی حدیثیں شراب کی مذمت میں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔شراب پینے والوں کے بارے میں اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں وعید میں بیان فرمائی ہیں حضور نے فرمایا کہ جودنیامیں شراب پیتے ہیں اللہ تعالی انہیں جہنمی سانیوں کا زہر پائے گا جسے پینے سے پہلے ہی اس کے چہرے کا گوشت گل کر برتن میں گر جائے گا اور جب وہ اسے اپنے گا تو اس کا گوشت اور کھال ادھر جائے گی جس سے سمی اذیت پائیں گے ( روح البیان ج ۴) ۔ ایک جگہ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جوشخص دنیا میں شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا اللہ تعالی اسے آخرت میں جہنم کی پیپ پلاۓ گا (روح البیان ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ دائی طور پر شراب پینے والا اگر مر گیا اسی حالت میں تو در بارخداوندی میں اس طرح آۓ گا جیسے ایک بت پرست ( مشکوۃ شریف) ۔ حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میری عزت و جلال کی قسم جو بندہ ایک گھونٹ بھی شراب پیئے گا میں اس کو اتناہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اسے چھوڑے گا میں اسے مقدس حوض سے پاؤں گا ( امام احمد بن حنبل ) ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ نے تین آدمیوں پر جنت حرام کر دی ہے ۔ وہ تین میں ہیں (۱) ہمیشہ شراب پینے والا ( ۲ ) والدین کی نافرمانی کرنے والا ( ۳ ) دیوث جو اپنے اہل میں بے حیائی کو دیکھے اور منع نہ کرے(نسائی)۔

شراب انسان کے لئے دین و دنیا دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے ۔ دینی نقصان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نارانسگی کوخرید کر اپنی آخرت بر باد کر لیتا ہے ۔ دنیوی نقصان یہ ہے کہ مختلف قسم کی مہلک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جو ہلاکت کا سبب بنتی ہیں ، لاکھوں عورتیں شرابی شوہر کے ظلم وستم کا نشانہ بنتی ہیں شراب پینے والا بے مروت ہو جاتا ہے، سماج اور معاشرہ کے لئے دردسر بن جا تا ہے ۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ شراب میں ہر طرف سے تباہی اور بربادی ہے، مال کی بھی اور جان کی بھی ۔ اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے ۔

سوال نمبر :04۔ پاکستان میں مختلف دیہی ترقیاتی پروگراموں کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ نیز دیہی ترقی کے طریقہ کار کی وضاحت کر یں۔

جواب۔

دیہات کے لوگوں کی زندگی کا ایک اور اہم پہلوتعلیم سے بے بہرہ ہونا ہے اگر چہ حکومت تعلیم کو عام کرنے کے لیے بہت ہی کوششیں کر رہی ہے مگر اس کے باوجود ہمارے اکثر دیہات میں ابھی تک تعلیم کی روشنی نہیں پہنچ پائی اس کے ساتھ ساتھ لوگ بھی تعلیم حاصل کرنا ضروری تصور نہیں کرتے ان کے خیال میں سکول بھیجنے کی بجائے بچے کو ھیتوں میں بھجنا زیادہ فائدہ مند ہے ۔ دیہات کے لوگ اپنی غربت کے ہاتھوں نہ تو پڑھائی کے لیے پیسہ خرچ کر سکتے ہیں اور نہ ہی وقت ۔ اس کے علاوہ اکثر دیہات ایسے ہیں جہاں پرائمری سکول بھی نہیں ہیں اس لیے لوگ دوسرے دیہات میں اپنے بچے بھیجنا پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان پڑھے ہیں یہ حالت صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ اکثر ترقی پذیر ممالک میں خواند و یا پڑھے لکھے افراد کی تعداد بہت ہی کم ہے اور جتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اکثر شہروں میں رہتے ہیں دیہات میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے مندرجہ ذیل جدول جو کہ آئی پی پی ایف کے جرید پی پی پی کے جرید نے پیپلز سے لیا گیا ہے اس سے ترقی پذیر ممالک میں نا خواندگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ علمی پسماندگی اور غربت و افلاس لازم وملزوم ہیں۔ ناخواندگی کے باعث کاشت کا ر جد ید زری معلومات سے بے بہرور ہتے ہیں زرعی

پیداوار میں اضافہ کرنے کی تدابیراور طریقوں کاعلم نہیں رکھتے ۔ اگر کاشتکار پڑھے لکھے ہوں تو وہ نہ صرف جدید معلومات زرمی سے استفادہ کر کے اپنی زرعی پیداوار بڑھنے کی تدابیر کر سکتے ہیں بلکہ اپنے روز مرہ کا حساب کتاب رکھ سکتے ہیں تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان کی معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا اور ان کے ذہن میں نئی ایجادات کے لیے وسعت اور بالغ نظری پیدانہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں نئی یجادات اپنانے کا حوصلہ پیدانہیں ہوتا۔ تعلیم ایک ایسا معاشرتی عمل ہے جس کے بغیر ہم افراد معا شر وترقی کی اہمیت نہیں سمجھا سکتے اور وہی ترقیاتی کاموں میں سرگرم حصہ لینے پر آما وہ کر سکتے ہیں تعلیم کے بغیر سابی اور ثقافتی تربیت بھی ممکن نہیں ہوتی چنانچہ لوگوں کی حالت بدلنے کے لیے ان کو اور ان کے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو تعلیم دینے کا بندوبست کرنا نہایت ضروری ہے۔ و یہی معاشرتی زندگی: دیہی زندگی شہری زندگی سے مختلف ہوتی ہے چونکہ ہماری آبادی کا تقریبا72 فیصد حصہ دیہات میں و بستا ہے اس لیے ان لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں اور دیہات کو ترقی دینے والے طریقہ کارکومندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو درج ذیل ہے

دیہات کاطبیعی ڈھانچہ

جونہی ہم شہروں سے وہی علاقوں کی طرف جاتے ہیں سب سے پہلے سرسبز کھیت اور کسان ہمارا استقبال کرتے ہیں جن میں کوئی فصل کو پانی دے رہا ہوتا کوئی زمین میں ہل چلا رہا ہوتا ہے کوئی بیچ ہور ہا ہوتا ہے تو کوئی فصل کاٹ رہا ہوتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نام دیہی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں پاکستان کے دیہی علاقوں میں لوگ زیادہ تر کچے مکانوں میں رہتے ہیں جن کی چھتیں شہتیروں پر گھاس پھونس ڈال کر بنائی جاتی ہے یہ گھر عموما کھلے کھلے ہوتے ہیں درمیان میں محن ہوتا ہے گھر کے کمروں میں عموماً کھڑ کی باروشندان ہوتے ہیں گلیاں اور محلے ترتیب سے نہیں بنے ہوتے اکثر گلیاں ٹیڑھی میڑھی ہوتی ہیں اور عموما گندی ہوتی ہیں اگر چہ ہر گھر انفرادی طور پر بیکوشش ضرور کرتا ہے کہ اپنے گھر کے سامنے کا حصہ صاف رکھے مگر اس کے باوجود چونکہ سرکاری طور پرکوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا اس لیے کئی جگہوں پر اس کے ڈھیر ملتے ہیں زندگی میں جدید سہولتوں کا فقدان ہے بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچ سکی سوئی گیس کی سہولت بھی موجود ہیں اکثر دیہات تک پکی سڑک نہیں جاتی پانی عموما ہنڈ پمپ سے حاصل کیا جا تا ہے بعض علاقوں میں جہاں پانی کی تلخ اونچی نہیں کنو میں کھودے جاتے ہیں

زرعی ترقیاتی بینک آف پاکستان

ا۔ مقاصد: بنک کا قیام 1961 ء میں عمل میں آیا۔ اس کا مقصد زری شعبوں میں کاشتکارکوقرضے فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ گاؤں کی طح پر گھر یا منعتیں لگانے کیلئے بھی قرضے فراہم کرنا اس بنک کا بنیادی مقصد تھا۔

ii۔ طریقہ کار: بنک کا شتکاروں کوان کی بہت فصل کیلئے قرضے فراہم کرتا ہے یہ قرضے آسمان مشعلوں میں واپس لئے جاتے ہیں اور کسان کو ں نے ان میں ورکر اس کی زمین کے مطابق قرضہ ماتا ہے عموماز میں گروی رکھی جاتی ہے یا فصل کے مطابق قرضہ کی شرائط طے کی جاتی ہیں ۔

نتائج:

پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق 81-1980 تک بنک نے 62-1066 ملین روپے کے قرضے فراہم کئے ۔ان

قرضوں کی رقم میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ 82-1991 ء میں یہ قرضے 38-1557 ملین تک پہنچ گئے ہیں۔ ان قرضوں کا 45 فیصد سے بھی زیادہ حصہ زرعی مشینری خریدنے کے کام آیا مگر بنک کی ان سہولتوں کے زیادہ تر فائدے بڑے کاشتکاروں کو حاصل ہوۓ کاشتکاروں کو کل رقم کا بمشکل 21 فیصد دیا گیا تا ہم اس قرضے کی بدولت بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور زراعت میں ترقی کا سبب بنا۔ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے طریق کار میں کارکن کے کردار کی اہمیت: کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کا انحصار صرف ایک شخص پر ہوتا ہے جسے ہم ترقیاتی کارکن یا ترقیاتی رہنما بھی کہ سکتے ہیں۔ چنانچہ اسے ہر دلعزیز اور قابل قبول شخصیت ہونے کے علاوہ جنتی اور دیانتدار بھی ہونا چاہئے ۔ اس کے علاوہ اسے اس کمیونٹی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے فوری حل کے بارے میں تھوڑا بہت علم بھی ضرور ہونا چاہئے مثلا چھوٹی چھوٹی بیماریوں کی صورت میں بیان کیلئے معالج ثابت ہوا تعلیم وتربیت میں استاد ، گھر یلو معاملات میں مشیر ، جھگڑے لے کرانے میں بیج اور مصالحت کنند و در اجتماعی کاموں میں ان کا رہنما ہونا چاہئے ۔اگر چہ وہ ان تمام معاملات میں ماہرین کی جگہ تو نہیں لے سکتا مگرلیکن ان تمام معاملات میں اس کی ایسی رائے ہونی چاہئے جو زیادہ تر لوگوں کو قبول ہو اور ان کے فوائد میں ہو ۔ اسے اس آبادی کیلئے جس ترقی پر اسے معمور کیا گیا ہو ایک مثال ہونا چاہئے تب جا کر کہیں اس طریقہ کار سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ تر قیاتی کارکن کو مندرجہ ذیل اصولوں کی روشنی میں اپنے کام کا آغاز کرنا چاہئے

1۔ کارکن کو ان لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرنے چاہئیں جن کے ساتھ وہ کام کرنا چاہتا ہے۔

کارکن لوگوں کی چھوٹی چھوٹی اور ہنگامی ضرورتوں کو پورا کر کے ان کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اگر وہ ان کی کسی معمولی بیماری کا علاج کر کے ان کو صحت و صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہے گا تو وہ آسانی سے اس کی بات سمجھ جائیں گے ۔ چونکہ یہ اعتاد اس نے حال ہی میں حاصل کیا ہوتا ہے اور اہل خانہ کو ایک مصیبت سے نجات دلانی ہوتی ہے اس لئے اس وقت ان کے جذبات واحساسات کا احترام کر کے انہیں سمجھا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ جب کوئی اس سے مشورہ طلب کرے تو کارکن کو اس کے ساتھ اس طرح سے بات کرنی چاہئے کہ وہ جان لے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اس کا کوئی ہدر نہیں اور اسے اپنے ایمان اور مسلم کے مطابق سیح مشور و دینا چاہئے ۔ اس طرح کے لگاتار عمل سے و واس معاشرتی گروہ میں ایک قابل احترام شخصیت بن جائے گا اور اسے کام کرنے میں آسانی ہوگی۔

2۔ کارکن کو ہرائی جانے والی تبد یلی کیلئے لوگوں کی رضامندی حاصل کر لینی چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ

کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے ۔

کارکن اگر ان لوگوں کی مقامی زبان میں بات کرنے والا ہو جن لوگوں میں اسے بھیجا گیا ہوتو وہ اس کی بات کو آسانی سے سمجھ جائیں گے نیز مقامی واقفیت کی بناء پر وہ مختلف منصوبے بنانے اور ان کی ترجیحات مرتب کرنے میں بھی زیادہ ماہر ہوگا۔ علاوہ ان میں اگر وہ ان لوگوں کا ہم عقید بھی ہوتو زیادہ اچھا ہے اس کے برعکس بیرونی ماہرین اور ٹیکنیک فتی لحاظ سے پیا ہے کتنی بھی املی کیوں نہ ہو وہ اگر لوگوں کے جذبات و احساسات سے ہم آہنگ نہ ہوگی تو مطلوبہ نتائج پیدا کرنے سے قاصر رہے گی ۔ اسی بات کوئی ۔آرمین نے اپنی کتاب ’’معاشرے اور ان کی ترقی میں ایشیائی ممالک کی فنی امداد کے سلسلے میں ہونے والی کانفرنس میں جنوب مشرقی ایشیاء کے نمائندوں کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ تمام نمائندے اس بات پر متفق تھے کہ گذسته چند سالوں کے دوران مختلف اداروں کی طرف سے دی جانے والے فنی امداد نہ صرف نتیجہ رہی بلکہ بعض حالات میں نقصان رساں بھی ثابت ہوئی کیونکہ و مغربی ممالک سے آنے والے ساز و سامان اور وہیں پر ترتیب دی گئی ٹیکنیک پریٹی تھی جس کا مقصد تیزی سے حاصل ہونے والے اور نظر آنے والے نتائج پیدا کرنا تھا۔ اس ساز و سامان اور ٹیکنیک پر کام کرنے والے بھی مغربی ماہرین تھے جو ٹیکنیک کی حد تک تو بہت ماہر تھے لیکن مقامی حالات سے بالکل ناواقف تھے۔ وہ ہر متوقع سوال کا جواب جانتے تھے لیکن جب وہ موقع پر پہنچتے تو ان کی تمام مہارت بے کار ثابت ہوتی ‘‘۔ مزیدآگے چل کر لکھتے ہیں کہ درحقیقت اب وہ تمام کارکن محسوس کرنے لگے ہیں کہ اگر وہ بھیں گے کہ وہ تمام خیالات اور منصوبے جو ان کے اپنے ماحول اور تہذیب وتمدن میں درست کسی دوسرے میں اسی طرح درست نتائج کے حامل ہوں گے تو نا کامی ان کا مقدمہ بن جائے گی‘۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ کارکن کا ان لوگوں میں سے ہونا لازمی ہے اور دو ان کا ہم عقید ہ ہونے بنا پر ان کی خوشی اورمی میں بھی شامل ہو سکے تو وہ ان میں مزید شیر و شکر ہو سکے گا اور پیاس کی اپنے مشن میں کامیابی ضمانت ہوگی ۔

کارکن کو انہیں اس بات کی یقین دہانی کروانی چاہیے کہ مجوزہ تبدیلی نہایت محفوظ ہے۔

کسی تبد یلی کوقبول کرتے ہوۓ لوگ اس بات کا پہلے سے یقین کرنا ضروری خیال کر ہیں گے کہ وہ نہیں ایسا کرنے سے لوگوں کی تضحیک کا نشانہ تو نہیں بن جائیں گے ۔ یا نہیں مالی طور پر نقصان تو نہیں برداشت کرنا پڑے گا مثال کے طور پر ہمارا ان پڑھ کاشت کار نے بیج ، نئے آلات زراعت اورکھیتی باڑی کے نئے طریقوں کو اپنانے سے ہچکچائے گا اور سوچے گا کہ ایسا کرنے سے کہیں میری فصل تو نہیں ماری جاۓ گی ۔ میرا سال تو ضائع نہیں ہو جائے گا وہ ان تبدیلیوں کو حکومت کی طرف سے کئے گئے تجربوں کی روشنی میں بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوگا کہ اس لئے کہ جب وہ اپنے اور حکومت کے وسائل کا موازنہ کرے گا یہی مجھے گا کہ حکومت تو یہ سب کچھ کر سکتی ہے میں انہیں ضمانت فراہم کر کے تمام لوگوں کیلئے کا عملی مظاہرہ کرنے کا بندوبست کر نا ہوگا تب کہیں جا کر وہ انہیں قائل کر سکے گا۔

سوال نمبر :05۔ مندرجہ ذیل پرنوٹ لکھیں۔

) شہری علاقوں میں مختلف جرائم

جواب: دراصل بچوں کی بے راہ روی میں گھر کے برے ماحول اور ناقص نگرانی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ والدین کو آج کل اقتصادی و سماجی ذمہ داریوں سے بہت کم وقت ماتا ہے۔ نیچے اپنا بیشتر وقت گلی کو چوں اورآوار ومزاج لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں ۔ بچوں کو نیک و بد بنانے میں دوستوں کی صحبت کافی اہمیت رکھتی ہے ۔ پڑوس میں اچھے برے ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں ۔ والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو سلجھے ہوۓ بچوں کی صحبت سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کر میں اورانہیں بے راہ رو نیچے کی صحبت سے بچائیں تا کہ وہ نیکی کے راستے پر گامزن رہ ہیں بچوں کیلئے صالح تعلیم و تربیت کی سخت ضرورت ہے ۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ ان کو اسلامی اقدار و نظریات اور قانون کی اہمیت سے آگاہ کر میں وہ خود کو بھی تربیت اطفال سے آگاہ کر میں ۔ تا کہ مستقبل کے رہنماؤں کو صالح زندگی بسر کرنے میں آسانی رہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تربیت اطفال پر معیاری کتابیں لکھوائی جائیں اور انہیں سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے کہ بچوں کوخوش اسلوبی سے حاصل کرنے کیلئے تربیت اطفال کی تعلیم کو عام کر نے ضرورت ہے۔ جرائم کی روک تھام کیسے ممکن ہے: پاکستان اسلامی قوانین کے فروغ و نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور اب ان قوانین کوفروغ دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ۔ اس لئے یتوقع پیل ہے کہ اس سے انسداد جرائم میں کافی مدد ملے گی ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر ہمارے قوانین مذہبی تعلقات سے نم آہنگ ہوں اور سماجی انحراف اور جرم ومصیبت کا دروازہ بند ہو جائے۔ لیکن اس مقصد کے لئے ہمیں مذہبی اور قانونی تعلیمات کو بھی کافی رواج دینا پڑے گا اور زندگی میں دین ودنیا کی جوتسیم پیدا ہوگئی ہے اسے بھی ختم کرنا ہوگا ۔ اسلام کے شہری اصولوں کی اگر لوگ پیروی مکمل طور پر کرنا شروع کردیں تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ ملک میں مکمل امن وامان اور سکون قائم ہو جائے گا۔ مذہب اسلام انسان میں خدا کے سامنے جوابدہی ،خوف خدا اور خدا ترسی پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان کو اس بات کو یقین ہو جائے نیز اس بات کا با قاعدہ پر پاراور تبلیغ کی جائے تو جرائم قتل ، ڈکیتی، چوری کا قلع قمع ہوسکتا ہے ۔ اسلامی سزائیں بھی رائج کر دی جائیں تو ایسے جرائم بہت کم ہو جائیں گے جس طرح کہ سعودی عرب میں جرائم بہت کم پاۓ جاتے ہیں کیونکہ وہاں اسلام کے مطابق انصاف ملتا ہے۔ اور مجرم کو سخت سزادی جاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جائے ۔ کیونکہ اگر افراد کو یہ بھی یقین ہو کہ قوانین کی خلاف ورزی پر نہ صرف وہ حکومت کا مجرم ہے بلکہ خدا کا مجرم بھی ہو گا تو جرائم کرنے سے پہلے و وضرور سوچے گا ۔

 ناقص منڈی کے دیہی زندگی پراثرات

جواب: ناقص منڈی کے دیہی زندگی پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں :

1۔ ناقص منڈی کی وجہ سے اشیاء کی خرید وفروخت میں مشکل پیش آتی ہے۔

2 ۔ ناقص منڈی کی وجہ سے صحت کے اصولوں کا پاس نہیں رکھا جا تا ۔

3۔ ناقص منڈی کی وجہ سے کاشت کا کوا پنی فصل کا ؤں میں ہی آ ڑھی کے ہاتھوں اونے پونے فروخت کرنی پڑتی ہے ۔

4۔ ناقص منڈی دیہی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

 

Course  Sociology -II( 413 )

Assignmen:: t no 2.

Semester::  2022 spring

 

 

 

سوال نمبر: 01۔ کثرت آبادی ترقی پذیر ممالک کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے کیا اسباب میں وضاحت کریں۔

 جواب:

کثرت آبادی سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے اگر چہ اللہ تعالی نے زمین کو طرح طرح کی نعمتوں اور وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن آج کے ترقیاتی یافتہ دور میں خدا کی نیمتیں بتدریج کم ہوتی جارہی ہیں اور دنیا کی ایک بڑی آبادی کو ایک وقت کی روٹی بڑی مشکل سے میسر آتی ہے ماہرین عمرانیات ، اقتصادیات و آبادیات اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ وسائل سے زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیتے ہیں بڑھتی ہوئی آبادی کا یہ سیلاب پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے کثرت آبادی کی روک تھام کے لیے چند اقدامات درج ذیل ہیں

: ا۔ عورت کے روایتی کردار میں تبدیلی:

پاکستان میں برادری نظام کی موجودگی مشترکہ خاندانی نظام اور دیگر ثقافتی اثرات کی وجہ سے معاشرے میں مردکوعورت پر فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے عورت اپنے روایتی کردار یعنی گھر اور بچوں کی پرورش تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اس تصور کوتوڑنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر ملک کی آدھی آبادی گھر میں قید ہو کر رہ جاۓ یا ایسے کام کرے جس کی نوعیت غیر پیداواری ہو تو ظاہر ہے یہ بات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور کثرت آبادی کا باعث ہے خواتین کا مجاب کر ناکسی حد تک اس مسئلے کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

خواتین کی تعلیم:

خواتین میں خواندگی کی سطح خصوصا دیہی علاقوں میں بہت کم ہے خواتین میں تعلیم کے پھیلاؤ کی افادیت کا انداز داس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ نا خواند و خواتین کی نسبت ایسی خواتین جنہوں نے تعلیم حاصل کی ہوان کے ہاں بچوں کی تعداد نصف ہوتی ہے اس لیے چھوٹے خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے اور شرح پیدائش کو کنٹرول کرنے کے لیے خواتین کی تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔

افرادی قوت کا صحیح استعمال:

افرادی قوت کا بیج استعمال بھی آبادی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جیسے کہ نو جوانوں کو ہنر سکھائے جائیں اور ان کی پیداواری صلاحیتوں کو بروے کا را یا جاۓ تا کہ بھکاری نہ بنیں اور بے کار نہ پھر ہیں

۴۔ خاندانی منصوبہ بندی کا شعور

خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد ، خاندان میں افراد کی تعداد کو خاندان کے وسائل کے مطابق رکھتا ہے نہ کے نسل انسانی کی بندش ہے پاکستان میں آبادی کے کنٹرول سے متعلق جتنے بھی منصوبے کام کر رہے ہیں ان کی تیج افادیت کی آگاہی کے لیے ملک گیر سطح پر نظم کوششوں کی ضرورت ہے جس کے لیے تمام ذرائع بروئے کارلانے چاہئیں جن میں میڈ یاتعلیمی اداروں اور دیہی سطح پر بزرگوں کو شامل کعنا ضروری ہے

۵۔ دیہی آبادی کی ترقی

دیہی آبادی کو معاشی و معاشرتی ترقی دینے اور بہترین صحت غذا اورتعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے دیہی معاشروں میں عورت کا مقام و معیار بلند کرنے میں مدد ملے گی جس سے ملکی ترقی اور ملک کی آبادی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں

مدد ملے گی۔

۔ قدرتی وسائل کا بہتر استعمال:

معاشی ومعاشرتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا بیج استعمال بھی آبادی کے اضافے کو کنٹرو ل کر سکتا ہے کیوں کہ جتنا کوئی معاشرہ خوشحال ہوگا اور وسائل کی فراوانی ہوگی اضافہ آبادی بھی بھی منا نہیں بنے گی قدرتی وسائل میں پانی کا صحیح استعمال جیسا کہ ڈیز کی تعمیر کے ذریعے پانی کے ذخائر بڑھانا ، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، جدید زرعی آلات کا استعمال ، کھاد میں اور توانائی کے نئے ذخائر وغیرہ کی دریافت شامل ہیں ان اصولوں پر ٹیل کیا جاۓ اور دیہی علاقوں کی ترقی پر خاص توجہ دی جائے تو پورا معاشرہ خوشحال ہوگا اور بے روز گاری کم ہو جائے گی وسائل کے بیج استعمال و منصفا تقسیم سے لوگوں میں محنت کا جذ بداجا گر ہو گا اور افراد کا معیار زندگی بلند ہوگا اور یوں معاشرہ امن وخوشحالی کی جانب گامزن ہو گا اور کثرت آبادی کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوگا۔

سوال نمبر :02۔غربت کے معاشرے پر عمومی اثرات بیان کر میں نیز غربت کی شدت کو کم کرنے کیلئے کس قسم کے اقدامات زیادہ مئوثر ثابت ہوں گے

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غربت معاشرے میں بگاڑ کی ایک بہت بنیادی وجہ ہے ۔ پر ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں جن کی وجہ سے ان منفی رویوں میں کمی لائی جاسکتی ہے اور ایک خوشگوار ماحول وفضا کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

 ا۔نظام تعلیم کی اصلاح اور ترقی:

ہمارے معاشرے میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں رہی اور غیر رکی تعلیم دی جاتی ہے تا کہ بچہ اپنے مستقبل میں معاشرے کا ایک کامیاب فرد بن سکے۔ موجودہ نظام کی اصلاح کی جاۓ ۔ جہاں خامیاں اور کمزوریاں ہیں انہیں دور کیا جائے تا کہ جب و عملی میدان میں آئیں تو منظم زندگی گزار ہیں ۔ خاندان کے بعد دوسرا ہم معاشرتی اور تعلیم کا ہے ۔ جہاں فروکی ابتدائی عمر میں اخلاقی تربیت کی جاتی ہے اور اس میں حب الوطنی کا جذ بہ ابھارا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں Guidance and Councilling کے مراکز ہیں ۔استاد جب بچے کو اوسط درجے سے منحرف دیکھتا ہے تو اسے مراکز میں بھیج دیتا ہے جہاں تجربہ کار مشیر اور نفسیاتی طبیب بچوں کا علاج نہایت محنت اور خلوص سے کرتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک جن میں اداروں اور مشیروں کا تعلق عدالتوں سے نہیں ہوتا ان کا اصل کام خطا کاری کوروکن نہیں ہوتا بلکہ مریض کی جذباتی اور شخصیاتی نکالیف کا حل ڈھونڈ نا ہوتا ہے ممکن ہے خطا کار کی خطاؤں کی تہہ میں ان کی بیجانی یانی تکالیف موجودنہ ہوں کیونکہ خطا کے اسباب صرف نفسیاتی ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی قسم کے ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح مقطرب بچوں اور نو جوانوں کیلئے ایک اسلامی طریقہ گروہی علاج معالجہ Group Thesaphy ہے ۔ یہ گروہ خود نفسیاتی طبیب چھتا ہے۔اس میں کھیل کود اور اسی قسم کی دوسری تفریحی سرگرمیاں کا انتظام کیا جا تا ہے جو گروہ کا لیڈر ہوتا ہے اسے اس کا علم ہوتا ہے کہ بچوں کو کیا تکلیف ہے یا انہیں کیا مسائل درپیش ہیں ۔ وہ ہر بچے کے کردار کا مطالعہ کرتا ہے۔ اسے تسلی دلاسہ دیتا ہے اور پیار محبت سے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان گروہوں کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں ہوتا۔ بچے خو اپنی تکالیف کا مظاہرہ کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کا حل ڈھونڈتے ہیں ۔ اگر بڑوں کیلئے گروہ بنا ہوتو کھیل تماشے کے بجائے انتلو، بحث مباحثہ مذاکرہ ہوسکتا ہے۔ انتلو کیلئے بھی کوئی موضوع پہلے سے بھی طے نہیں کیا جا تا بلکہ جو موضوع بھی گروہ زیر بحث ا نا چاہتا ہوا سکتا ہے۔ علاج معالجہ کے جو مختلف طریقے بیان ہو چکے ہیں ان کی بنیاد اس مفروضہ پر ہے کہ خطا کاری میں خاندان کا بڑا حصہ ہے۔ خاندان کی اگر اصلاح ہو جائے تو مجرمانہ رویے میں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن خاندان بھی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اس کی اصلاح بھی معاشرے کی اصلاح پر منصر ہے ۔

ii۔ مجرمانہ روی اور اصلاحی طریقہ کار

مجرمانہ رویوں کیلئے جو اصلاحی طریقے استعمال ہوتے ہیں وہ مغربی ماہرنفسیات اور ماہر جرمیات کے مرتب کردہ ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طریقہ ان لوگوں کو اور ان کے والدین کو نفسیاتی طبی معاجہ مہیا کرتا ہے۔ اس کیلئے شرط یہ ہوتی ہے کہ ایسی پنی علامات موجود ہوں جو نشاندہی کر سکیں کہ اصلاح کے مثبت نتائج ہوں گے۔ وہ بچے جو عدم تحفظ ،احساس کمتری یا کسی اور ایسے ہی مخصوص رویے کا شکار ہوں جو کہ انہیں مطمئن زندگی گزارنے میں رکاوٹ کا احساس دلاے تو انہیں نفسیاتی کلینک میں علاج معالجہ کیلئے داخل کرا دینا چاہیے

۔ معاشرتی و ثقافتی اقدار

: جرائم کنٹرول کرنے میں معاشرتی اور ثقافتی اقداربھی اہمیت رکھتے ہیں جب تک معاشرے میں عملی طور پر برائی کے خلاف سخت ریمل نہیں ہو گا اس وقت تک جرائم کی جڑیں مضبوط رہیں گی ۔ جرائم کو یکسر تو کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن معاشرے میں اجتماعی رویے کی وجہ سے منفی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصایشکنی کی جاسکتی ہے۔ معاشرتی اور ثقافتی اقدار میں جرائم اور غیر ذمہ دارانہ معاشرتی رویوں کا سختی سے نوٹس لیا جائے لیکن جہاں تک اصلاحی پہلو کا تعلق ہے اس کیلئے معاشرتی نظام میں اتنی چیک ضرور ہونی چاہیے کہ وہ اس فرد کے ساتھ ہمدردی اور ذمہ دارانہ رو میدر کھے جو جرائم کی دنیا سے نہ صرف نکل آتا ہے بلکہ شائستہ اطوار اپنا تا ہے اور معاشرے میں ایک معتبر مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

۱۷۔ بے روزگاری میں کمی اور موجودہ ذرائع کا استعمال:

معیشت کسی بھی ملک یا معاشرے کے اقدار اور طرز زندگی پر گہرا اثر رکھتی ہے ۔ جس معاشرے کی معیشت مضبوط ہوگی وہاں جرائم کسی حد تک کم ہوں گے یا وہ جرائم سرزد ہوں گے جن کا تعلق معیشت سے کم ہو گا ایسے معاشرے میں زیادہ تر وہ جرائم سرزد ہوتے ہیں جو عیاشی کے تصور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معیشت کا نظام ایسی پالیسی کی ٹھوس بنیادوں پر ہونا چاہیے جہاں ہر فر دکواس کی اپنی قابلیت یا جسمانی مشقت کے مطابق اجرت ملے ۔ ان ممالک نے زندگی کے ہر دوسرے شعبے میں ترقی کی ہے جہاں ہر کام کرنے والے کو اس کی اہمیت و قابلیت اور ضرورت کے مطابق اجرت اور سہولیات ملتی ہیں ۔ موجودہ ذرائع کے استعمال میں زیادہ سے زیادہ افراد کو شامل کیا جاۓ ۔ بچھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے انہیں مزید بہتری کیلئے آسان اقساط پر قرضنے کی سہولیات آسانی سے فراہم ہوں ۔ ہنر مندوں کی مزید تربیت کا بہتر انتظام موجود ہو اور ان سے حاصل شد و پیداوار کا نہیں جائز حصہ دیا جائے

شادی شدہ افراد کی تربیت:

شادی شدہ مردوں اور عورتوں کیلئے مشاورتی مراکز ہونے چاہیے ۔ جہاں ڈاکٹر ، نفسیاتی طبیب ، وکیل اور معاشرتی ماہر ہوں شادی شدہ اشخاص کو صلاح مشورہ د میں جو میاں بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہ کر پائے ہوں ۔ بعض عائلی عدالتیں بھی اس نوعیت کی ہوتی ہیں وہ بھی میاں بیوی کو سمجھا بجھا سکتی ہیں اور ان کی قانونی مشکلات دور کر سکتی ہیں ان مشاورتی مراکز اور عائلی عدالتوں کو گو جرمانہ رویے کی روک تھام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن بالواسط تعلق ضرور ہے ۔ تجربات کی روشنی میں ثابت ہے کہ جن گھروں میں جھگڑے عام ہوتے ہیں وہاں مجرمانہ رویے پرورش پاتے ہیں ۔اس لئے جو مدو بھی والدین کو دیجاسکے جوان کی اور نوعمروں کی زندگی کو آسودہ بنا سکے وہ مجرمانہ رویے کو کم کرنے کیلئے ایک باہمت اور حوصلہ افزاء قدم ہوگا۔

معاشرے کا غیر ذمہ داراندرو یار اس کے اثرات:

ہمارے معاشرے میں کئی جرم لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں لیکن عوام کسی قسم کا رول کرنے سے گریز کرتی ہے یہ بالکل ایسی حقیقت کی مانند ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے ہمارے روز مرہ زندگی سے اس کی مثال کچھ اس طرح بھی دی جاسکتی ہے جیسے راہ چلتی لڑکیوں پر فقرے بازی ہو یا نہیں کسی اور طریقے سے تنگ کیا جاۓ ، لیکن دوسرے افرادائیں حرکات پر دھیان نہیں دیتے اور خاموشی اختیار کرتے ہیں اسی طرح محلوں میں فحاشی ، جوۓ اور شراب نوشی کھلے عام ہوتی ہے لیکن معاشرے کاریٹیل سر در بتا ہے جب معاشرے میں ایسے حالات ہوں تو جرائم کا سد باب کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اگر عوام باشعور ، بیدار اور ذمہ دار ہوں تو جرائم پیشہ لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے ۔ اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عار محسوس نہیں کرتے مثلا دکا نداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورا نہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تا ہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اس طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جوصرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور ٹینزم انہیں بھی دھوکہ.       دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بد عہدی نہ کریں تو وہ بھی شکایت نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کام کو براگر دائیں گے ، اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آگاہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی بینک لونے جاتے ہیں پاراہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نا مناسب سلوک کیا جا تا تب معاشر وقتی طور پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتاہے لیکن پھر ٹہراؤ آجاتا ہے موم ہمارا معاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھٹری دکھائی دے تو نام مطمئن ہو جاتے ہیں اورکسی تنظیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے ۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اور ظلم وتشد د کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو ٹیکس زیادہ دینے پڑتے ہیں اس طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عارمحسوس نہیں کرتے مشار دکانداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورانہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تاہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اسی طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جو صرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور مجرم نہیں بھی دھوکہ دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بدعہدی نہ کر میں تو وہ بھی شکایت نہیں کر یں گے اور نہ ہی اس کام کو برا گردانیں گے ،اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آ گا ہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی جینک لوٹے جاتے ہیں یا راہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا تا تب معاشرہ وقتی طور پر اپنے رومل کا اظہار کرتا ہے لیکن پھر ٹھہراؤ آ جاتا ہے عمو ماہمارامعاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھڑی دکھائی دے تو ہم مطمئن ہو جاتے ہیں اور کی تعلیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رو بی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اورظلم وتشدو کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو یکس زیاد دینے پڑتے میں اسی طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیں ہیں اور جرم وسیاست کا کوئی باضابطہ تعلق نہیں ہے تو جرم اور مجرمانہ رویوں میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے ۔

سوال نمبر: 03۔ شراب نوشی کے سابی نقصانات کی فہرست مرتب کر میں نیز پاکستان میں پچی شراب کے استعمال کی حوصاٹیکنی کیلئے تجاویز دیں۔

جواب۔

ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی برائیاں جنم لے چکی ہیں وہیں نشہ جیسی برائی نے بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہے ۔ کثیر تعداد میں لوگ نشے کے عادی ہو چکے ہیں۔ بوڑھا ہو یا نو جوان ، مرد ہو یا عورت ،امیر ہو یا غریب ،افسر ہو یا حا کم ،تاجر ہو یا کسان بے شمار افراد جانے انجانے نشے کی لت میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انسان بڑا ہی نادان ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے جب کہ اللہ نے قران کریم میں ارشاد فرمایا اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو (البقر 195- ) ۔اسلام نے ہر نشہ آور اشیاء کوحرام قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ حضور سے کسی نے آپ کے تبع کے بارے میں پوچھا جو شہد سے بنا تھاتو آپنے فرمایا کہ ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے ( بخاری ومسلم )۔ اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہر دوشی جو نشہ دینے والی ہے و واسلام کی نظر میں حرام ہے اور اہل اسلام کو اس کا استعمال ہرگز روا نہیں۔ خواہ وہ بھانگ ہو،افیون ، چرس ، یا شراب اور اس کے علاوہ دیگر نشہ آور منشیات سب اسلام میں حرام ہے ایک اور حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب نے نشہ لانے والی اور فتور پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا(ابوداؤد ) ۔ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ بیشمار برائیوں میں ملوث تھے۔ وہیں شراب بھی عام تھی ،لوگ کثرت سے شراب پیتے تھے، جب اسلام آیا تو قرآن میں اللہ نے اس کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کو بھی بیان کیا اور ہمیشہ کے لئے شراب کو حرام کر دیا۔ اللہ جل شانہ نے ارشادفرمایا اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام میں سوان سے بچتے رہوتا کہ تم نجات پاؤ‘‘(المائد 90-)۔ شراب کی نحوست کا انداز اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس کو شیطانی کام کیا اور بت پرستی کے ساتھ بیان کیا۔ اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں شراب کی مذمت اور اس کی قباحت و خباثت کو واضح انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ سے شراب کے متعلق دریافت فرمایا تو اللہ کے حبیب نے فرمایا کہ میکبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ سب برائی کی سردار ہے (الزواجر )۔ اللہ کے نبی نے ارشادفر مایا کہ جوشخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز شراب نہ پیئے اور جواللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب ہو( طبرانی)۔امام طبرانی نے جم کبیر میں ایک حدیث حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے ۔ آپ فرماتیں ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہوئی تو میں نے پیالے میں نبیذ بنایا جوھجور سے بنایا ہوا ایک قسم کا مشروب ہے ) اللہ کے رسول میرے گھر تشریف لاۓ تو و وابل ( چولھے پر رہی تھی۔ آپ نے فرمایا ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا میری بیٹی بیمار ہے اس کی دوا بنا رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایاکہ اللہ نے حرام کردہ اشیاء میں میری امت کے لئے شفا نہیں رکھی ہے۔ ایک حد میں حضرت وائل حضری سے مروی ہے کہ طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا ، آپ نے ان کو منع فرمایا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ میں تو صرف دوا کے لیے شراب بنا تا ہوں حضور نے ارشادفرمایا کہ وہ دوا نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی بیماری ہے (مشکوۃ )۔ مذکورہ احادیث سے شراب کی حرمت اور اس کی قباحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ حرام اشیاء میں شفانہیں ہے ۔ ایک جگہ اللہ کے حبیب نے ارشادفرمایا کہ شراب نہ ہو کہ میام الخبائث ہے اور ای ام الخبائث کہ انسان شراب کی حالت بھی بھی اپنی ماں اور پھوبھی کے ساتھ بھی بدکاری کر بیٹھتا ہے ۔ اور بھی بہت ہی حدیثیں شراب کی مذمت میں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔شراب پینے والوں کے بارے میں اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں وعید میں بیان فرمائی ہیں حضور نے فرمایا کہ جودنیامیں شراب پیتے ہیں اللہ تعالی انہیں جہنمی سانیوں کا زہر پائے گا جسے پینے سے پہلے ہی اس کے چہرے کا گوشت گل کر برتن میں گر جائے گا اور جب وہ اسے اپنے گا تو اس کا گوشت اور کھال ادھر جائے گی جس سے سمی اذیت پائیں گے ( روح البیان ج ۴) ۔ ایک جگہ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جوشخص دنیا میں شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا اللہ تعالی اسے آخرت میں جہنم کی پیپ پلاۓ گا (روح البیان ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ دائی طور پر شراب پینے والا اگر مر گیا اسی حالت میں تو در بارخداوندی میں اس طرح آۓ گا جیسے ایک بت پرست ( مشکوۃ شریف) ۔ حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میری عزت و جلال کی قسم جو بندہ ایک گھونٹ بھی شراب پیئے گا میں اس کو اتناہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اسے چھوڑے گا میں اسے مقدس حوض سے پاؤں گا ( امام احمد بن حنبل ) ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ نے تین آدمیوں پر جنت حرام کر دی ہے ۔ وہ تین میں ہیں (۱) ہمیشہ شراب پینے والا ( ۲ ) والدین کی نافرمانی کرنے والا ( ۳ ) دیوث جو اپنے اہل میں بے حیائی کو دیکھے اور منع نہ کرے(نسائی)۔

شراب انسان کے لئے دین و دنیا دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے ۔ دینی نقصان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نارانسگی کوخرید کر اپنی آخرت بر باد کر لیتا ہے ۔ دنیوی نقصان یہ ہے کہ مختلف قسم کی مہلک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جو ہلاکت کا سبب بنتی ہیں ، لاکھوں عورتیں شرابی شوہر کے ظلم وستم کا نشانہ بنتی ہیں شراب پینے والا بے مروت ہو جاتا ہے، سماج اور معاشرہ کے لئے دردسر بن جا تا ہے ۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ شراب میں ہر طرف سے تباہی اور بربادی ہے، مال کی بھی اور جان کی بھی ۔ اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے ۔

سوال نمبر :04۔ پاکستان میں مختلف دیہی ترقیاتی پروگراموں کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ نیز دیہی ترقی کے طریقہ کار کی وضاحت کر یں۔

جواب۔

دیہات کے لوگوں کی زندگی کا ایک اور اہم پہلوتعلیم سے بے بہرہ ہونا ہے اگر چہ حکومت تعلیم کو عام کرنے کے لیے بہت ہی کوششیں کر رہی ہے مگر اس کے باوجود ہمارے اکثر دیہات میں ابھی تک تعلیم کی روشنی نہیں پہنچ پائی اس کے ساتھ ساتھ لوگ بھی تعلیم حاصل کرنا ضروری تصور نہیں کرتے ان کے خیال میں سکول بھیجنے کی بجائے بچے کو ھیتوں میں بھجنا زیادہ فائدہ مند ہے ۔ دیہات کے لوگ اپنی غربت کے ہاتھوں نہ تو پڑھائی کے لیے پیسہ خرچ کر سکتے ہیں اور نہ ہی وقت ۔ اس کے علاوہ اکثر دیہات ایسے ہیں جہاں پرائمری سکول بھی نہیں ہیں اس لیے لوگ دوسرے دیہات میں اپنے بچے بھیجنا پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان پڑھے ہیں یہ حالت صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ اکثر ترقی پذیر ممالک میں خواند و یا پڑھے لکھے افراد کی تعداد بہت ہی کم ہے اور جتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اکثر شہروں میں رہتے ہیں دیہات میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے مندرجہ ذیل جدول جو کہ آئی پی پی ایف کے جرید پی پی پی کے جرید نے پیپلز سے لیا گیا ہے اس سے ترقی پذیر ممالک میں نا خواندگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ علمی پسماندگی اور غربت و افلاس لازم وملزوم ہیں۔ ناخواندگی کے باعث کاشت کا ر جد ید زری معلومات سے بے بہرور ہتے ہیں زرعی

پیداوار میں اضافہ کرنے کی تدابیراور طریقوں کاعلم نہیں رکھتے ۔ اگر کاشتکار پڑھے لکھے ہوں تو وہ نہ صرف جدید معلومات زرمی سے استفادہ کر کے اپنی زرعی پیداوار بڑھنے کی تدابیر کر سکتے ہیں بلکہ اپنے روز مرہ کا حساب کتاب رکھ سکتے ہیں تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان کی معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا اور ان کے ذہن میں نئی ایجادات کے لیے وسعت اور بالغ نظری پیدانہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں نئی یجادات اپنانے کا حوصلہ پیدانہیں ہوتا۔ تعلیم ایک ایسا معاشرتی عمل ہے جس کے بغیر ہم افراد معا شر وترقی کی اہمیت نہیں سمجھا سکتے اور وہی ترقیاتی کاموں میں سرگرم حصہ لینے پر آما وہ کر سکتے ہیں تعلیم کے بغیر سابی اور ثقافتی تربیت بھی ممکن نہیں ہوتی چنانچہ لوگوں کی حالت بدلنے کے لیے ان کو اور ان کے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو تعلیم دینے کا بندوبست کرنا نہایت ضروری ہے۔ و یہی معاشرتی زندگی: دیہی زندگی شہری زندگی سے مختلف ہوتی ہے چونکہ ہماری آبادی کا تقریبا72 فیصد حصہ دیہات میں و بستا ہے اس لیے ان لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں اور دیہات کو ترقی دینے والے طریقہ کارکومندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو درج ذیل ہے

دیہات کاطبیعی ڈھانچہ

جونہی ہم شہروں سے وہی علاقوں کی طرف جاتے ہیں سب سے پہلے سرسبز کھیت اور کسان ہمارا استقبال کرتے ہیں جن میں کوئی فصل کو پانی دے رہا ہوتا کوئی زمین میں ہل چلا رہا ہوتا ہے کوئی بیچ ہور ہا ہوتا ہے تو کوئی فصل کاٹ رہا ہوتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نام دیہی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں پاکستان کے دیہی علاقوں میں لوگ زیادہ تر کچے مکانوں میں رہتے ہیں جن کی چھتیں شہتیروں پر گھاس پھونس ڈال کر بنائی جاتی ہے یہ گھر عموما کھلے کھلے ہوتے ہیں درمیان میں محن ہوتا ہے گھر کے کمروں میں عموماً کھڑ کی باروشندان ہوتے ہیں گلیاں اور محلے ترتیب سے نہیں بنے ہوتے اکثر گلیاں ٹیڑھی میڑھی ہوتی ہیں اور عموما گندی ہوتی ہیں اگر چہ ہر گھر انفرادی طور پر بیکوشش ضرور کرتا ہے کہ اپنے گھر کے سامنے کا حصہ صاف رکھے مگر اس کے باوجود چونکہ سرکاری طور پرکوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا اس لیے کئی جگہوں پر اس کے ڈھیر ملتے ہیں زندگی میں جدید سہولتوں کا فقدان ہے بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچ سکی سوئی گیس کی سہولت بھی موجود ہیں اکثر دیہات تک پکی سڑک نہیں جاتی پانی عموما ہنڈ پمپ سے حاصل کیا جا تا ہے بعض علاقوں میں جہاں پانی کی تلخ اونچی نہیں کنو میں کھودے جاتے ہیں

زرعی ترقیاتی بینک آف پاکستان

ا۔ مقاصد: بنک کا قیام 1961 ء میں عمل میں آیا۔ اس کا مقصد زری شعبوں میں کاشتکارکوقرضے فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ گاؤں کی طح پر گھر یا منعتیں لگانے کیلئے بھی قرضے فراہم کرنا اس بنک کا بنیادی مقصد تھا۔

ii۔ طریقہ کار: بنک کا شتکاروں کوان کی بہت فصل کیلئے قرضے فراہم کرتا ہے یہ قرضے آسمان مشعلوں میں واپس لئے جاتے ہیں اور کسان کو ں نے ان میں ورکر اس کی زمین کے مطابق قرضہ ماتا ہے عموماز میں گروی رکھی جاتی ہے یا فصل کے مطابق قرضہ کی شرائط طے کی جاتی ہیں ۔

نتائج:

پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق 81-1980 تک بنک نے 62-1066 ملین روپے کے قرضے فراہم کئے ۔ان

قرضوں کی رقم میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ 82-1991 ء میں یہ قرضے 38-1557 ملین تک پہنچ گئے ہیں۔ ان قرضوں کا 45 فیصد سے بھی زیادہ حصہ زرعی مشینری خریدنے کے کام آیا مگر بنک کی ان سہولتوں کے زیادہ تر فائدے بڑے کاشتکاروں کو حاصل ہوۓ کاشتکاروں کو کل رقم کا بمشکل 21 فیصد دیا گیا تا ہم اس قرضے کی بدولت بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور زراعت میں ترقی کا سبب بنا۔ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے طریق کار میں کارکن کے کردار کی اہمیت: کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کا انحصار صرف ایک شخص پر ہوتا ہے جسے ہم ترقیاتی کارکن یا ترقیاتی رہنما بھی کہ سکتے ہیں۔ چنانچہ اسے ہر دلعزیز اور قابل قبول شخصیت ہونے کے علاوہ جنتی اور دیانتدار بھی ہونا چاہئے ۔ اس کے علاوہ اسے اس کمیونٹی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے فوری حل کے بارے میں تھوڑا بہت علم بھی ضرور ہونا چاہئے مثلا چھوٹی چھوٹی بیماریوں کی صورت میں بیان کیلئے معالج ثابت ہوا تعلیم وتربیت میں استاد ، گھر یلو معاملات میں مشیر ، جھگڑے لے کرانے میں بیج اور مصالحت کنند و در اجتماعی کاموں میں ان کا رہنما ہونا چاہئے ۔اگر چہ وہ ان تمام معاملات میں ماہرین کی جگہ تو نہیں لے سکتا مگرلیکن ان تمام معاملات میں اس کی ایسی رائے ہونی چاہئے جو زیادہ تر لوگوں کو قبول ہو اور ان کے فوائد میں ہو ۔ اسے اس آبادی کیلئے جس ترقی پر اسے معمور کیا گیا ہو ایک مثال ہونا چاہئے تب جا کر کہیں اس طریقہ کار سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ تر قیاتی کارکن کو مندرجہ ذیل اصولوں کی روشنی میں اپنے کام کا آغاز کرنا چاہئے

1۔ کارکن کو ان لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرنے چاہئیں جن کے ساتھ وہ کام کرنا چاہتا ہے۔

کارکن لوگوں کی چھوٹی چھوٹی اور ہنگامی ضرورتوں کو پورا کر کے ان کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اگر وہ ان کی کسی معمولی بیماری کا علاج کر کے ان کو صحت و صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہے گا تو وہ آسانی سے اس کی بات سمجھ جائیں گے ۔ چونکہ یہ اعتاد اس نے حال ہی میں حاصل کیا ہوتا ہے اور اہل خانہ کو ایک مصیبت سے نجات دلانی ہوتی ہے اس لئے اس وقت ان کے جذبات واحساسات کا احترام کر کے انہیں سمجھا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ جب کوئی اس سے مشورہ طلب کرے تو کارکن کو اس کے ساتھ اس طرح سے بات کرنی چاہئے کہ وہ جان لے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اس کا کوئی ہدر نہیں اور اسے اپنے ایمان اور مسلم کے مطابق سیح مشور و دینا چاہئے ۔ اس طرح کے لگاتار عمل سے و واس معاشرتی گروہ میں ایک قابل احترام شخصیت بن جائے گا اور اسے کام کرنے میں آسانی ہوگی۔

2۔ کارکن کو ہرائی جانے والی تبد یلی کیلئے لوگوں کی رضامندی حاصل کر لینی چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ

کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے ۔

کارکن اگر ان لوگوں کی مقامی زبان میں بات کرنے والا ہو جن لوگوں میں اسے بھیجا گیا ہوتو وہ اس کی بات کو آسانی سے سمجھ جائیں گے نیز مقامی واقفیت کی بناء پر وہ مختلف منصوبے بنانے اور ان کی ترجیحات مرتب کرنے میں بھی زیادہ ماہر ہوگا۔ علاوہ ان میں اگر وہ ان لوگوں کا ہم عقید بھی ہوتو زیادہ اچھا ہے اس کے برعکس بیرونی ماہرین اور ٹیکنیک فتی لحاظ سے پیا ہے کتنی بھی املی کیوں نہ ہو وہ اگر لوگوں کے جذبات و احساسات سے ہم آہنگ نہ ہوگی تو مطلوبہ نتائج پیدا کرنے سے قاصر رہے گی ۔ اسی بات کوئی ۔آرمین نے اپنی کتاب ’’معاشرے اور ان کی ترقی میں ایشیائی ممالک کی فنی امداد کے سلسلے میں ہونے والی کانفرنس میں جنوب مشرقی ایشیاء کے نمائندوں کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ تمام نمائندے اس بات پر متفق تھے کہ گذسته چند سالوں کے دوران مختلف اداروں کی طرف سے دی جانے والے فنی امداد نہ صرف نتیجہ رہی بلکہ بعض حالات میں نقصان رساں بھی ثابت ہوئی کیونکہ و مغربی ممالک سے آنے والے ساز و سامان اور وہیں پر ترتیب دی گئی ٹیکنیک پریٹی تھی جس کا مقصد تیزی سے حاصل ہونے والے اور نظر آنے والے نتائج پیدا کرنا تھا۔ اس ساز و سامان اور ٹیکنیک پر کام کرنے والے بھی مغربی ماہرین تھے جو ٹیکنیک کی حد تک تو بہت ماہر تھے لیکن مقامی حالات سے بالکل ناواقف تھے۔ وہ ہر متوقع سوال کا جواب جانتے تھے لیکن جب وہ موقع پر پہنچتے تو ان کی تمام مہارت بے کار ثابت ہوتی ‘‘۔ مزیدآگے چل کر لکھتے ہیں کہ درحقیقت اب وہ تمام کارکن محسوس کرنے لگے ہیں کہ اگر وہ بھیں گے کہ وہ تمام خیالات اور منصوبے جو ان کے اپنے ماحول اور تہذیب وتمدن میں درست کسی دوسرے میں اسی طرح درست نتائج کے حامل ہوں گے تو نا کامی ان کا مقدمہ بن جائے گی‘۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ کارکن کا ان لوگوں میں سے ہونا لازمی ہے اور دو ان کا ہم عقید ہ ہونے بنا پر ان کی خوشی اورمی میں بھی شامل ہو سکے تو وہ ان میں مزید شیر و شکر ہو سکے گا اور پیاس کی اپنے مشن میں کامیابی ضمانت ہوگی ۔

کارکن کو انہیں اس بات کی یقین دہانی کروانی چاہیے کہ مجوزہ تبدیلی نہایت محفوظ ہے۔

کسی تبد یلی کوقبول کرتے ہوۓ لوگ اس بات کا پہلے سے یقین کرنا ضروری خیال کر ہیں گے کہ وہ نہیں ایسا کرنے سے لوگوں کی تضحیک کا نشانہ تو نہیں بن جائیں گے ۔ یا نہیں مالی طور پر نقصان تو نہیں برداشت کرنا پڑے گا مثال کے طور پر ہمارا ان پڑھ کاشت کار نے بیج ، نئے آلات زراعت اورکھیتی باڑی کے نئے طریقوں کو اپنانے سے ہچکچائے گا اور سوچے گا کہ ایسا کرنے سے کہیں میری فصل تو نہیں ماری جاۓ گی ۔ میرا سال تو ضائع نہیں ہو جائے گا وہ ان تبدیلیوں کو حکومت کی طرف سے کئے گئے تجربوں کی روشنی میں بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوگا کہ اس لئے کہ جب وہ اپنے اور حکومت کے وسائل کا موازنہ کرے گا یہی مجھے گا کہ حکومت تو یہ سب کچھ کر سکتی ہے میں انہیں ضمانت فراہم کر کے تمام لوگوں کیلئے کا عملی مظاہرہ کرنے کا بندوبست کر نا ہوگا تب کہیں جا کر وہ انہیں قائل کر سکے گا۔

سوال نمبر :05۔ مندرجہ ذیل پرنوٹ لکھیں۔

) شہری علاقوں میں مختلف جرائم

جواب: دراصل بچوں کی بے راہ روی میں گھر کے برے ماحول اور ناقص نگرانی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ والدین کو آج کل اقتصادی و سماجی ذمہ داریوں سے بہت کم وقت ماتا ہے۔ نیچے اپنا بیشتر وقت گلی کو چوں اورآوار ومزاج لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں ۔ بچوں کو نیک و بد بنانے میں دوستوں کی صحبت کافی اہمیت رکھتی ہے ۔ پڑوس میں اچھے برے ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں ۔ والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو سلجھے ہوۓ بچوں کی صحبت سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کر میں اورانہیں بے راہ رو نیچے کی صحبت سے بچائیں تا کہ وہ نیکی کے راستے پر گامزن رہ ہیں بچوں کیلئے صالح تعلیم و تربیت کی سخت ضرورت ہے ۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ ان کو اسلامی اقدار و نظریات اور قانون کی اہمیت سے آگاہ کر میں وہ خود کو بھی تربیت اطفال سے آگاہ کر میں ۔ تا کہ مستقبل کے رہنماؤں کو صالح زندگی بسر کرنے میں آسانی رہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تربیت اطفال پر معیاری کتابیں لکھوائی جائیں اور انہیں سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے کہ بچوں کوخوش اسلوبی سے حاصل کرنے کیلئے تربیت اطفال کی تعلیم کو عام کر نے ضرورت ہے۔ جرائم کی روک تھام کیسے ممکن ہے: پاکستان اسلامی قوانین کے فروغ و نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور اب ان قوانین کوفروغ دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ۔ اس لئے یتوقع پیل ہے کہ اس سے انسداد جرائم میں کافی مدد ملے گی ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر ہمارے قوانین مذہبی تعلقات سے نم آہنگ ہوں اور سماجی انحراف اور جرم ومصیبت کا دروازہ بند ہو جائے۔ لیکن اس مقصد کے لئے ہمیں مذہبی اور قانونی تعلیمات کو بھی کافی رواج دینا پڑے گا اور زندگی میں دین ودنیا کی جوتسیم پیدا ہوگئی ہے اسے بھی ختم کرنا ہوگا ۔ اسلام کے شہری اصولوں کی اگر لوگ پیروی مکمل طور پر کرنا شروع کردیں تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ ملک میں مکمل امن وامان اور سکون قائم ہو جائے گا۔ مذہب اسلام انسان میں خدا کے سامنے جوابدہی ،خوف خدا اور خدا ترسی پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان کو اس بات کو یقین ہو جائے نیز اس بات کا با قاعدہ پر پاراور تبلیغ کی جائے تو جرائم قتل ، ڈکیتی، چوری کا قلع قمع ہوسکتا ہے ۔ اسلامی سزائیں بھی رائج کر دی جائیں تو ایسے جرائم بہت کم ہو جائیں گے جس طرح کہ سعودی عرب میں جرائم بہت کم پاۓ جاتے ہیں کیونکہ وہاں اسلام کے مطابق انصاف ملتا ہے۔ اور مجرم کو سخت سزادی جاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جائے ۔ کیونکہ اگر افراد کو یہ بھی یقین ہو کہ قوانین کی خلاف ورزی پر نہ صرف وہ حکومت کا مجرم ہے بلکہ خدا کا مجرم بھی ہو گا تو جرائم کرنے سے پہلے و وضرور سوچے گا ۔

 ناقص منڈی کے دیہی زندگی پراثرات

جواب: ناقص منڈی کے دیہی زندگی پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں :

1۔ ناقص منڈی کی وجہ سے اشیاء کی خرید وفروخت میں مشکل پیش آتی ہے۔

2 ۔ ناقص منڈی کی وجہ سے صحت کے اصولوں کا پاس نہیں رکھا جا تا ۔

3۔ ناقص منڈی کی وجہ سے کاشت کا کوا پنی فصل کا ؤں میں ہی آ ڑھی کے ہاتھوں اونے پونے فروخت کرنی پڑتی ہے ۔

4۔ ناقص منڈی دیہی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

 

Course  Sociology -II( 413 )

Assignmen:: t no 2.

Semester::  2022 spring

 

 

 

سوال نمبر: 01۔ کثرت آبادی ترقی پذیر ممالک کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے کیا اسباب میں وضاحت کریں۔

 جواب:

کثرت آبادی سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے اگر چہ اللہ تعالی نے زمین کو طرح طرح کی نعمتوں اور وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن آج کے ترقیاتی یافتہ دور میں خدا کی نیمتیں بتدریج کم ہوتی جارہی ہیں اور دنیا کی ایک بڑی آبادی کو ایک وقت کی روٹی بڑی مشکل سے میسر آتی ہے ماہرین عمرانیات ، اقتصادیات و آبادیات اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ وسائل سے زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیتے ہیں بڑھتی ہوئی آبادی کا یہ سیلاب پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے کثرت آبادی کی روک تھام کے لیے چند اقدامات درج ذیل ہیں

: ا۔ عورت کے روایتی کردار میں تبدیلی:

پاکستان میں برادری نظام کی موجودگی مشترکہ خاندانی نظام اور دیگر ثقافتی اثرات کی وجہ سے معاشرے میں مردکوعورت پر فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے عورت اپنے روایتی کردار یعنی گھر اور بچوں کی پرورش تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اس تصور کوتوڑنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر ملک کی آدھی آبادی گھر میں قید ہو کر رہ جاۓ یا ایسے کام کرے جس کی نوعیت غیر پیداواری ہو تو ظاہر ہے یہ بات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور کثرت آبادی کا باعث ہے خواتین کا مجاب کر ناکسی حد تک اس مسئلے کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

خواتین کی تعلیم:

خواتین میں خواندگی کی سطح خصوصا دیہی علاقوں میں بہت کم ہے خواتین میں تعلیم کے پھیلاؤ کی افادیت کا انداز داس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ نا خواند و خواتین کی نسبت ایسی خواتین جنہوں نے تعلیم حاصل کی ہوان کے ہاں بچوں کی تعداد نصف ہوتی ہے اس لیے چھوٹے خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے اور شرح پیدائش کو کنٹرول کرنے کے لیے خواتین کی تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔

افرادی قوت کا صحیح استعمال:

افرادی قوت کا بیج استعمال بھی آبادی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جیسے کہ نو جوانوں کو ہنر سکھائے جائیں اور ان کی پیداواری صلاحیتوں کو بروے کا را یا جاۓ تا کہ بھکاری نہ بنیں اور بے کار نہ پھر ہیں

۴۔ خاندانی منصوبہ بندی کا شعور

خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد ، خاندان میں افراد کی تعداد کو خاندان کے وسائل کے مطابق رکھتا ہے نہ کے نسل انسانی کی بندش ہے پاکستان میں آبادی کے کنٹرول سے متعلق جتنے بھی منصوبے کام کر رہے ہیں ان کی تیج افادیت کی آگاہی کے لیے ملک گیر سطح پر نظم کوششوں کی ضرورت ہے جس کے لیے تمام ذرائع بروئے کارلانے چاہئیں جن میں میڈ یاتعلیمی اداروں اور دیہی سطح پر بزرگوں کو شامل کعنا ضروری ہے

۵۔ دیہی آبادی کی ترقی

دیہی آبادی کو معاشی و معاشرتی ترقی دینے اور بہترین صحت غذا اورتعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے دیہی معاشروں میں عورت کا مقام و معیار بلند کرنے میں مدد ملے گی جس سے ملکی ترقی اور ملک کی آبادی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں

مدد ملے گی۔

۔ قدرتی وسائل کا بہتر استعمال:

معاشی ومعاشرتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا بیج استعمال بھی آبادی کے اضافے کو کنٹرو ل کر سکتا ہے کیوں کہ جتنا کوئی معاشرہ خوشحال ہوگا اور وسائل کی فراوانی ہوگی اضافہ آبادی بھی بھی منا نہیں بنے گی قدرتی وسائل میں پانی کا صحیح استعمال جیسا کہ ڈیز کی تعمیر کے ذریعے پانی کے ذخائر بڑھانا ، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، جدید زرعی آلات کا استعمال ، کھاد میں اور توانائی کے نئے ذخائر وغیرہ کی دریافت شامل ہیں ان اصولوں پر ٹیل کیا جاۓ اور دیہی علاقوں کی ترقی پر خاص توجہ دی جائے تو پورا معاشرہ خوشحال ہوگا اور بے روز گاری کم ہو جائے گی وسائل کے بیج استعمال و منصفا تقسیم سے لوگوں میں محنت کا جذ بداجا گر ہو گا اور افراد کا معیار زندگی بلند ہوگا اور یوں معاشرہ امن وخوشحالی کی جانب گامزن ہو گا اور کثرت آبادی کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوگا۔

سوال نمبر :02۔غربت کے معاشرے پر عمومی اثرات بیان کر میں نیز غربت کی شدت کو کم کرنے کیلئے کس قسم کے اقدامات زیادہ مئوثر ثابت ہوں گے

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غربت معاشرے میں بگاڑ کی ایک بہت بنیادی وجہ ہے ۔ پر ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں جن کی وجہ سے ان منفی رویوں میں کمی لائی جاسکتی ہے اور ایک خوشگوار ماحول وفضا کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

 ا۔نظام تعلیم کی اصلاح اور ترقی:

ہمارے معاشرے میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں رہی اور غیر رکی تعلیم دی جاتی ہے تا کہ بچہ اپنے مستقبل میں معاشرے کا ایک کامیاب فرد بن سکے۔ موجودہ نظام کی اصلاح کی جاۓ ۔ جہاں خامیاں اور کمزوریاں ہیں انہیں دور کیا جائے تا کہ جب و عملی میدان میں آئیں تو منظم زندگی گزار ہیں ۔ خاندان کے بعد دوسرا ہم معاشرتی اور تعلیم کا ہے ۔ جہاں فروکی ابتدائی عمر میں اخلاقی تربیت کی جاتی ہے اور اس میں حب الوطنی کا جذ بہ ابھارا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں Guidance and Councilling کے مراکز ہیں ۔استاد جب بچے کو اوسط درجے سے منحرف دیکھتا ہے تو اسے مراکز میں بھیج دیتا ہے جہاں تجربہ کار مشیر اور نفسیاتی طبیب بچوں کا علاج نہایت محنت اور خلوص سے کرتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک جن میں اداروں اور مشیروں کا تعلق عدالتوں سے نہیں ہوتا ان کا اصل کام خطا کاری کوروکن نہیں ہوتا بلکہ مریض کی جذباتی اور شخصیاتی نکالیف کا حل ڈھونڈ نا ہوتا ہے ممکن ہے خطا کار کی خطاؤں کی تہہ میں ان کی بیجانی یانی تکالیف موجودنہ ہوں کیونکہ خطا کے اسباب صرف نفسیاتی ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی قسم کے ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح مقطرب بچوں اور نو جوانوں کیلئے ایک اسلامی طریقہ گروہی علاج معالجہ Group Thesaphy ہے ۔ یہ گروہ خود نفسیاتی طبیب چھتا ہے۔اس میں کھیل کود اور اسی قسم کی دوسری تفریحی سرگرمیاں کا انتظام کیا جا تا ہے جو گروہ کا لیڈر ہوتا ہے اسے اس کا علم ہوتا ہے کہ بچوں کو کیا تکلیف ہے یا انہیں کیا مسائل درپیش ہیں ۔ وہ ہر بچے کے کردار کا مطالعہ کرتا ہے۔ اسے تسلی دلاسہ دیتا ہے اور پیار محبت سے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان گروہوں کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں ہوتا۔ بچے خو اپنی تکالیف کا مظاہرہ کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کا حل ڈھونڈتے ہیں ۔ اگر بڑوں کیلئے گروہ بنا ہوتو کھیل تماشے کے بجائے انتلو، بحث مباحثہ مذاکرہ ہوسکتا ہے۔ انتلو کیلئے بھی کوئی موضوع پہلے سے بھی طے نہیں کیا جا تا بلکہ جو موضوع بھی گروہ زیر بحث ا نا چاہتا ہوا سکتا ہے۔ علاج معالجہ کے جو مختلف طریقے بیان ہو چکے ہیں ان کی بنیاد اس مفروضہ پر ہے کہ خطا کاری میں خاندان کا بڑا حصہ ہے۔ خاندان کی اگر اصلاح ہو جائے تو مجرمانہ رویے میں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن خاندان بھی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اس کی اصلاح بھی معاشرے کی اصلاح پر منصر ہے ۔

ii۔ مجرمانہ روی اور اصلاحی طریقہ کار

مجرمانہ رویوں کیلئے جو اصلاحی طریقے استعمال ہوتے ہیں وہ مغربی ماہرنفسیات اور ماہر جرمیات کے مرتب کردہ ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طریقہ ان لوگوں کو اور ان کے والدین کو نفسیاتی طبی معاجہ مہیا کرتا ہے۔ اس کیلئے شرط یہ ہوتی ہے کہ ایسی پنی علامات موجود ہوں جو نشاندہی کر سکیں کہ اصلاح کے مثبت نتائج ہوں گے۔ وہ بچے جو عدم تحفظ ،احساس کمتری یا کسی اور ایسے ہی مخصوص رویے کا شکار ہوں جو کہ انہیں مطمئن زندگی گزارنے میں رکاوٹ کا احساس دلاے تو انہیں نفسیاتی کلینک میں علاج معالجہ کیلئے داخل کرا دینا چاہیے

۔ معاشرتی و ثقافتی اقدار

: جرائم کنٹرول کرنے میں معاشرتی اور ثقافتی اقداربھی اہمیت رکھتے ہیں جب تک معاشرے میں عملی طور پر برائی کے خلاف سخت ریمل نہیں ہو گا اس وقت تک جرائم کی جڑیں مضبوط رہیں گی ۔ جرائم کو یکسر تو کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن معاشرے میں اجتماعی رویے کی وجہ سے منفی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصایشکنی کی جاسکتی ہے۔ معاشرتی اور ثقافتی اقدار میں جرائم اور غیر ذمہ دارانہ معاشرتی رویوں کا سختی سے نوٹس لیا جائے لیکن جہاں تک اصلاحی پہلو کا تعلق ہے اس کیلئے معاشرتی نظام میں اتنی چیک ضرور ہونی چاہیے کہ وہ اس فرد کے ساتھ ہمدردی اور ذمہ دارانہ رو میدر کھے جو جرائم کی دنیا سے نہ صرف نکل آتا ہے بلکہ شائستہ اطوار اپنا تا ہے اور معاشرے میں ایک معتبر مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

۱۷۔ بے روزگاری میں کمی اور موجودہ ذرائع کا استعمال:

معیشت کسی بھی ملک یا معاشرے کے اقدار اور طرز زندگی پر گہرا اثر رکھتی ہے ۔ جس معاشرے کی معیشت مضبوط ہوگی وہاں جرائم کسی حد تک کم ہوں گے یا وہ جرائم سرزد ہوں گے جن کا تعلق معیشت سے کم ہو گا ایسے معاشرے میں زیادہ تر وہ جرائم سرزد ہوتے ہیں جو عیاشی کے تصور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معیشت کا نظام ایسی پالیسی کی ٹھوس بنیادوں پر ہونا چاہیے جہاں ہر فر دکواس کی اپنی قابلیت یا جسمانی مشقت کے مطابق اجرت ملے ۔ ان ممالک نے زندگی کے ہر دوسرے شعبے میں ترقی کی ہے جہاں ہر کام کرنے والے کو اس کی اہمیت و قابلیت اور ضرورت کے مطابق اجرت اور سہولیات ملتی ہیں ۔ موجودہ ذرائع کے استعمال میں زیادہ سے زیادہ افراد کو شامل کیا جاۓ ۔ بچھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے انہیں مزید بہتری کیلئے آسان اقساط پر قرضنے کی سہولیات آسانی سے فراہم ہوں ۔ ہنر مندوں کی مزید تربیت کا بہتر انتظام موجود ہو اور ان سے حاصل شد و پیداوار کا نہیں جائز حصہ دیا جائے

شادی شدہ افراد کی تربیت:

شادی شدہ مردوں اور عورتوں کیلئے مشاورتی مراکز ہونے چاہیے ۔ جہاں ڈاکٹر ، نفسیاتی طبیب ، وکیل اور معاشرتی ماہر ہوں شادی شدہ اشخاص کو صلاح مشورہ د میں جو میاں بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہ کر پائے ہوں ۔ بعض عائلی عدالتیں بھی اس نوعیت کی ہوتی ہیں وہ بھی میاں بیوی کو سمجھا بجھا سکتی ہیں اور ان کی قانونی مشکلات دور کر سکتی ہیں ان مشاورتی مراکز اور عائلی عدالتوں کو گو جرمانہ رویے کی روک تھام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن بالواسط تعلق ضرور ہے ۔ تجربات کی روشنی میں ثابت ہے کہ جن گھروں میں جھگڑے عام ہوتے ہیں وہاں مجرمانہ رویے پرورش پاتے ہیں ۔اس لئے جو مدو بھی والدین کو دیجاسکے جوان کی اور نوعمروں کی زندگی کو آسودہ بنا سکے وہ مجرمانہ رویے کو کم کرنے کیلئے ایک باہمت اور حوصلہ افزاء قدم ہوگا۔

معاشرے کا غیر ذمہ داراندرو یار اس کے اثرات:

ہمارے معاشرے میں کئی جرم لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں لیکن عوام کسی قسم کا رول کرنے سے گریز کرتی ہے یہ بالکل ایسی حقیقت کی مانند ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے ہمارے روز مرہ زندگی سے اس کی مثال کچھ اس طرح بھی دی جاسکتی ہے جیسے راہ چلتی لڑکیوں پر فقرے بازی ہو یا نہیں کسی اور طریقے سے تنگ کیا جاۓ ، لیکن دوسرے افرادائیں حرکات پر دھیان نہیں دیتے اور خاموشی اختیار کرتے ہیں اسی طرح محلوں میں فحاشی ، جوۓ اور شراب نوشی کھلے عام ہوتی ہے لیکن معاشرے کاریٹیل سر در بتا ہے جب معاشرے میں ایسے حالات ہوں تو جرائم کا سد باب کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اگر عوام باشعور ، بیدار اور ذمہ دار ہوں تو جرائم پیشہ لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے ۔ اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عار محسوس نہیں کرتے مثلا دکا نداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورا نہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تا ہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اس طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جوصرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور ٹینزم انہیں بھی دھوکہ.       دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بد عہدی نہ کریں تو وہ بھی شکایت نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کام کو براگر دائیں گے ، اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آگاہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی بینک لونے جاتے ہیں پاراہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نا مناسب سلوک کیا جا تا تب معاشر وقتی طور پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتاہے لیکن پھر ٹہراؤ آجاتا ہے موم ہمارا معاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھٹری دکھائی دے تو نام مطمئن ہو جاتے ہیں اورکسی تنظیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے ۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اور ظلم وتشد د کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو ٹیکس زیادہ دینے پڑتے ہیں اس طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عارمحسوس نہیں کرتے مشار دکانداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورانہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تاہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اسی طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جو صرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور مجرم نہیں بھی دھوکہ دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بدعہدی نہ کر میں تو وہ بھی شکایت نہیں کر یں گے اور نہ ہی اس کام کو برا گردانیں گے ،اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آ گا ہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی جینک لوٹے جاتے ہیں یا راہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا تا تب معاشرہ وقتی طور پر اپنے رومل کا اظہار کرتا ہے لیکن پھر ٹھہراؤ آ جاتا ہے عمو ماہمارامعاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھڑی دکھائی دے تو ہم مطمئن ہو جاتے ہیں اور کی تعلیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رو بی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اورظلم وتشدو کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو یکس زیاد دینے پڑتے میں اسی طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیں ہیں اور جرم وسیاست کا کوئی باضابطہ تعلق نہیں ہے تو جرم اور مجرمانہ رویوں میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے ۔

سوال نمبر: 03۔ شراب نوشی کے سابی نقصانات کی فہرست مرتب کر میں نیز پاکستان میں پچی شراب کے استعمال کی حوصاٹیکنی کیلئے تجاویز دیں۔

جواب۔

ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی برائیاں جنم لے چکی ہیں وہیں نشہ جیسی برائی نے بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہے ۔ کثیر تعداد میں لوگ نشے کے عادی ہو چکے ہیں۔ بوڑھا ہو یا نو جوان ، مرد ہو یا عورت ،امیر ہو یا غریب ،افسر ہو یا حا کم ،تاجر ہو یا کسان بے شمار افراد جانے انجانے نشے کی لت میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انسان بڑا ہی نادان ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے جب کہ اللہ نے قران کریم میں ارشاد فرمایا اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو (البقر 195- ) ۔اسلام نے ہر نشہ آور اشیاء کوحرام قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ حضور سے کسی نے آپ کے تبع کے بارے میں پوچھا جو شہد سے بنا تھاتو آپنے فرمایا کہ ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے ( بخاری ومسلم )۔ اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہر دوشی جو نشہ دینے والی ہے و واسلام کی نظر میں حرام ہے اور اہل اسلام کو اس کا استعمال ہرگز روا نہیں۔ خواہ وہ بھانگ ہو،افیون ، چرس ، یا شراب اور اس کے علاوہ دیگر نشہ آور منشیات سب اسلام میں حرام ہے ایک اور حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب نے نشہ لانے والی اور فتور پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا(ابوداؤد ) ۔ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ بیشمار برائیوں میں ملوث تھے۔ وہیں شراب بھی عام تھی ،لوگ کثرت سے شراب پیتے تھے، جب اسلام آیا تو قرآن میں اللہ نے اس کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کو بھی بیان کیا اور ہمیشہ کے لئے شراب کو حرام کر دیا۔ اللہ جل شانہ نے ارشادفرمایا اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام میں سوان سے بچتے رہوتا کہ تم نجات پاؤ‘‘(المائد 90-)۔ شراب کی نحوست کا انداز اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس کو شیطانی کام کیا اور بت پرستی کے ساتھ بیان کیا۔ اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں شراب کی مذمت اور اس کی قباحت و خباثت کو واضح انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ سے شراب کے متعلق دریافت فرمایا تو اللہ کے حبیب نے فرمایا کہ میکبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ سب برائی کی سردار ہے (الزواجر )۔ اللہ کے نبی نے ارشادفر مایا کہ جوشخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز شراب نہ پیئے اور جواللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب ہو( طبرانی)۔امام طبرانی نے جم کبیر میں ایک حدیث حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے ۔ آپ فرماتیں ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہوئی تو میں نے پیالے میں نبیذ بنایا جوھجور سے بنایا ہوا ایک قسم کا مشروب ہے ) اللہ کے رسول میرے گھر تشریف لاۓ تو و وابل ( چولھے پر رہی تھی۔ آپ نے فرمایا ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا میری بیٹی بیمار ہے اس کی دوا بنا رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایاکہ اللہ نے حرام کردہ اشیاء میں میری امت کے لئے شفا نہیں رکھی ہے۔ ایک حد میں حضرت وائل حضری سے مروی ہے کہ طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا ، آپ نے ان کو منع فرمایا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ میں تو صرف دوا کے لیے شراب بنا تا ہوں حضور نے ارشادفرمایا کہ وہ دوا نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی بیماری ہے (مشکوۃ )۔ مذکورہ احادیث سے شراب کی حرمت اور اس کی قباحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ حرام اشیاء میں شفانہیں ہے ۔ ایک جگہ اللہ کے حبیب نے ارشادفرمایا کہ شراب نہ ہو کہ میام الخبائث ہے اور ای ام الخبائث کہ انسان شراب کی حالت بھی بھی اپنی ماں اور پھوبھی کے ساتھ بھی بدکاری کر بیٹھتا ہے ۔ اور بھی بہت ہی حدیثیں شراب کی مذمت میں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔شراب پینے والوں کے بارے میں اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں وعید میں بیان فرمائی ہیں حضور نے فرمایا کہ جودنیامیں شراب پیتے ہیں اللہ تعالی انہیں جہنمی سانیوں کا زہر پائے گا جسے پینے سے پہلے ہی اس کے چہرے کا گوشت گل کر برتن میں گر جائے گا اور جب وہ اسے اپنے گا تو اس کا گوشت اور کھال ادھر جائے گی جس سے سمی اذیت پائیں گے ( روح البیان ج ۴) ۔ ایک جگہ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جوشخص دنیا میں شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا اللہ تعالی اسے آخرت میں جہنم کی پیپ پلاۓ گا (روح البیان ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ دائی طور پر شراب پینے والا اگر مر گیا اسی حالت میں تو در بارخداوندی میں اس طرح آۓ گا جیسے ایک بت پرست ( مشکوۃ شریف) ۔ حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میری عزت و جلال کی قسم جو بندہ ایک گھونٹ بھی شراب پیئے گا میں اس کو اتناہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اسے چھوڑے گا میں اسے مقدس حوض سے پاؤں گا ( امام احمد بن حنبل ) ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ نے تین آدمیوں پر جنت حرام کر دی ہے ۔ وہ تین میں ہیں (۱) ہمیشہ شراب پینے والا ( ۲ ) والدین کی نافرمانی کرنے والا ( ۳ ) دیوث جو اپنے اہل میں بے حیائی کو دیکھے اور منع نہ کرے(نسائی)۔

شراب انسان کے لئے دین و دنیا دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے ۔ دینی نقصان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نارانسگی کوخرید کر اپنی آخرت بر باد کر لیتا ہے ۔ دنیوی نقصان یہ ہے کہ مختلف قسم کی مہلک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جو ہلاکت کا سبب بنتی ہیں ، لاکھوں عورتیں شرابی شوہر کے ظلم وستم کا نشانہ بنتی ہیں شراب پینے والا بے مروت ہو جاتا ہے، سماج اور معاشرہ کے لئے دردسر بن جا تا ہے ۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ شراب میں ہر طرف سے تباہی اور بربادی ہے، مال کی بھی اور جان کی بھی ۔ اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے ۔

سوال نمبر :04۔ پاکستان میں مختلف دیہی ترقیاتی پروگراموں کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ نیز دیہی ترقی کے طریقہ کار کی وضاحت کر یں۔

جواب۔

دیہات کے لوگوں کی زندگی کا ایک اور اہم پہلوتعلیم سے بے بہرہ ہونا ہے اگر چہ حکومت تعلیم کو عام کرنے کے لیے بہت ہی کوششیں کر رہی ہے مگر اس کے باوجود ہمارے اکثر دیہات میں ابھی تک تعلیم کی روشنی نہیں پہنچ پائی اس کے ساتھ ساتھ لوگ بھی تعلیم حاصل کرنا ضروری تصور نہیں کرتے ان کے خیال میں سکول بھیجنے کی بجائے بچے کو ھیتوں میں بھجنا زیادہ فائدہ مند ہے ۔ دیہات کے لوگ اپنی غربت کے ہاتھوں نہ تو پڑھائی کے لیے پیسہ خرچ کر سکتے ہیں اور نہ ہی وقت ۔ اس کے علاوہ اکثر دیہات ایسے ہیں جہاں پرائمری سکول بھی نہیں ہیں اس لیے لوگ دوسرے دیہات میں اپنے بچے بھیجنا پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان پڑھے ہیں یہ حالت صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ اکثر ترقی پذیر ممالک میں خواند و یا پڑھے لکھے افراد کی تعداد بہت ہی کم ہے اور جتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اکثر شہروں میں رہتے ہیں دیہات میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے مندرجہ ذیل جدول جو کہ آئی پی پی ایف کے جرید پی پی پی کے جرید نے پیپلز سے لیا گیا ہے اس سے ترقی پذیر ممالک میں نا خواندگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ علمی پسماندگی اور غربت و افلاس لازم وملزوم ہیں۔ ناخواندگی کے باعث کاشت کا ر جد ید زری معلومات سے بے بہرور ہتے ہیں زرعی

پیداوار میں اضافہ کرنے کی تدابیراور طریقوں کاعلم نہیں رکھتے ۔ اگر کاشتکار پڑھے لکھے ہوں تو وہ نہ صرف جدید معلومات زرمی سے استفادہ کر کے اپنی زرعی پیداوار بڑھنے کی تدابیر کر سکتے ہیں بلکہ اپنے روز مرہ کا حساب کتاب رکھ سکتے ہیں تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان کی معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا اور ان کے ذہن میں نئی ایجادات کے لیے وسعت اور بالغ نظری پیدانہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں نئی یجادات اپنانے کا حوصلہ پیدانہیں ہوتا۔ تعلیم ایک ایسا معاشرتی عمل ہے جس کے بغیر ہم افراد معا شر وترقی کی اہمیت نہیں سمجھا سکتے اور وہی ترقیاتی کاموں میں سرگرم حصہ لینے پر آما وہ کر سکتے ہیں تعلیم کے بغیر سابی اور ثقافتی تربیت بھی ممکن نہیں ہوتی چنانچہ لوگوں کی حالت بدلنے کے لیے ان کو اور ان کے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو تعلیم دینے کا بندوبست کرنا نہایت ضروری ہے۔ و یہی معاشرتی زندگی: دیہی زندگی شہری زندگی سے مختلف ہوتی ہے چونکہ ہماری آبادی کا تقریبا72 فیصد حصہ دیہات میں و بستا ہے اس لیے ان لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں اور دیہات کو ترقی دینے والے طریقہ کارکومندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو درج ذیل ہے

دیہات کاطبیعی ڈھانچہ

جونہی ہم شہروں سے وہی علاقوں کی طرف جاتے ہیں سب سے پہلے سرسبز کھیت اور کسان ہمارا استقبال کرتے ہیں جن میں کوئی فصل کو پانی دے رہا ہوتا کوئی زمین میں ہل چلا رہا ہوتا ہے کوئی بیچ ہور ہا ہوتا ہے تو کوئی فصل کاٹ رہا ہوتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نام دیہی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں پاکستان کے دیہی علاقوں میں لوگ زیادہ تر کچے مکانوں میں رہتے ہیں جن کی چھتیں شہتیروں پر گھاس پھونس ڈال کر بنائی جاتی ہے یہ گھر عموما کھلے کھلے ہوتے ہیں درمیان میں محن ہوتا ہے گھر کے کمروں میں عموماً کھڑ کی باروشندان ہوتے ہیں گلیاں اور محلے ترتیب سے نہیں بنے ہوتے اکثر گلیاں ٹیڑھی میڑھی ہوتی ہیں اور عموما گندی ہوتی ہیں اگر چہ ہر گھر انفرادی طور پر بیکوشش ضرور کرتا ہے کہ اپنے گھر کے سامنے کا حصہ صاف رکھے مگر اس کے باوجود چونکہ سرکاری طور پرکوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا اس لیے کئی جگہوں پر اس کے ڈھیر ملتے ہیں زندگی میں جدید سہولتوں کا فقدان ہے بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچ سکی سوئی گیس کی سہولت بھی موجود ہیں اکثر دیہات تک پکی سڑک نہیں جاتی پانی عموما ہنڈ پمپ سے حاصل کیا جا تا ہے بعض علاقوں میں جہاں پانی کی تلخ اونچی نہیں کنو میں کھودے جاتے ہیں

زرعی ترقیاتی بینک آف پاکستان

ا۔ مقاصد: بنک کا قیام 1961 ء میں عمل میں آیا۔ اس کا مقصد زری شعبوں میں کاشتکارکوقرضے فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ گاؤں کی طح پر گھر یا منعتیں لگانے کیلئے بھی قرضے فراہم کرنا اس بنک کا بنیادی مقصد تھا۔

ii۔ طریقہ کار: بنک کا شتکاروں کوان کی بہت فصل کیلئے قرضے فراہم کرتا ہے یہ قرضے آسمان مشعلوں میں واپس لئے جاتے ہیں اور کسان کو ں نے ان میں ورکر اس کی زمین کے مطابق قرضہ ماتا ہے عموماز میں گروی رکھی جاتی ہے یا فصل کے مطابق قرضہ کی شرائط طے کی جاتی ہیں ۔

نتائج:

پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق 81-1980 تک بنک نے 62-1066 ملین روپے کے قرضے فراہم کئے ۔ان

قرضوں کی رقم میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ 82-1991 ء میں یہ قرضے 38-1557 ملین تک پہنچ گئے ہیں۔ ان قرضوں کا 45 فیصد سے بھی زیادہ حصہ زرعی مشینری خریدنے کے کام آیا مگر بنک کی ان سہولتوں کے زیادہ تر فائدے بڑے کاشتکاروں کو حاصل ہوۓ کاشتکاروں کو کل رقم کا بمشکل 21 فیصد دیا گیا تا ہم اس قرضے کی بدولت بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور زراعت میں ترقی کا سبب بنا۔ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے طریق کار میں کارکن کے کردار کی اہمیت: کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کا انحصار صرف ایک شخص پر ہوتا ہے جسے ہم ترقیاتی کارکن یا ترقیاتی رہنما بھی کہ سکتے ہیں۔ چنانچہ اسے ہر دلعزیز اور قابل قبول شخصیت ہونے کے علاوہ جنتی اور دیانتدار بھی ہونا چاہئے ۔ اس کے علاوہ اسے اس کمیونٹی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے فوری حل کے بارے میں تھوڑا بہت علم بھی ضرور ہونا چاہئے مثلا چھوٹی چھوٹی بیماریوں کی صورت میں بیان کیلئے معالج ثابت ہوا تعلیم وتربیت میں استاد ، گھر یلو معاملات میں مشیر ، جھگڑے لے کرانے میں بیج اور مصالحت کنند و در اجتماعی کاموں میں ان کا رہنما ہونا چاہئے ۔اگر چہ وہ ان تمام معاملات میں ماہرین کی جگہ تو نہیں لے سکتا مگرلیکن ان تمام معاملات میں اس کی ایسی رائے ہونی چاہئے جو زیادہ تر لوگوں کو قبول ہو اور ان کے فوائد میں ہو ۔ اسے اس آبادی کیلئے جس ترقی پر اسے معمور کیا گیا ہو ایک مثال ہونا چاہئے تب جا کر کہیں اس طریقہ کار سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ تر قیاتی کارکن کو مندرجہ ذیل اصولوں کی روشنی میں اپنے کام کا آغاز کرنا چاہئے

1۔ کارکن کو ان لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرنے چاہئیں جن کے ساتھ وہ کام کرنا چاہتا ہے۔

کارکن لوگوں کی چھوٹی چھوٹی اور ہنگامی ضرورتوں کو پورا کر کے ان کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اگر وہ ان کی کسی معمولی بیماری کا علاج کر کے ان کو صحت و صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہے گا تو وہ آسانی سے اس کی بات سمجھ جائیں گے ۔ چونکہ یہ اعتاد اس نے حال ہی میں حاصل کیا ہوتا ہے اور اہل خانہ کو ایک مصیبت سے نجات دلانی ہوتی ہے اس لئے اس وقت ان کے جذبات واحساسات کا احترام کر کے انہیں سمجھا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ جب کوئی اس سے مشورہ طلب کرے تو کارکن کو اس کے ساتھ اس طرح سے بات کرنی چاہئے کہ وہ جان لے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اس کا کوئی ہدر نہیں اور اسے اپنے ایمان اور مسلم کے مطابق سیح مشور و دینا چاہئے ۔ اس طرح کے لگاتار عمل سے و واس معاشرتی گروہ میں ایک قابل احترام شخصیت بن جائے گا اور اسے کام کرنے میں آسانی ہوگی۔

2۔ کارکن کو ہرائی جانے والی تبد یلی کیلئے لوگوں کی رضامندی حاصل کر لینی چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ

کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے ۔

کارکن اگر ان لوگوں کی مقامی زبان میں بات کرنے والا ہو جن لوگوں میں اسے بھیجا گیا ہوتو وہ اس کی بات کو آسانی سے سمجھ جائیں گے نیز مقامی واقفیت کی بناء پر وہ مختلف منصوبے بنانے اور ان کی ترجیحات مرتب کرنے میں بھی زیادہ ماہر ہوگا۔ علاوہ ان میں اگر وہ ان لوگوں کا ہم عقید بھی ہوتو زیادہ اچھا ہے اس کے برعکس بیرونی ماہرین اور ٹیکنیک فتی لحاظ سے پیا ہے کتنی بھی املی کیوں نہ ہو وہ اگر لوگوں کے جذبات و احساسات سے ہم آہنگ نہ ہوگی تو مطلوبہ نتائج پیدا کرنے سے قاصر رہے گی ۔ اسی بات کوئی ۔آرمین نے اپنی کتاب ’’معاشرے اور ان کی ترقی میں ایشیائی ممالک کی فنی امداد کے سلسلے میں ہونے والی کانفرنس میں جنوب مشرقی ایشیاء کے نمائندوں کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ تمام نمائندے اس بات پر متفق تھے کہ گذسته چند سالوں کے دوران مختلف اداروں کی طرف سے دی جانے والے فنی امداد نہ صرف نتیجہ رہی بلکہ بعض حالات میں نقصان رساں بھی ثابت ہوئی کیونکہ و مغربی ممالک سے آنے والے ساز و سامان اور وہیں پر ترتیب دی گئی ٹیکنیک پریٹی تھی جس کا مقصد تیزی سے حاصل ہونے والے اور نظر آنے والے نتائج پیدا کرنا تھا۔ اس ساز و سامان اور ٹیکنیک پر کام کرنے والے بھی مغربی ماہرین تھے جو ٹیکنیک کی حد تک تو بہت ماہر تھے لیکن مقامی حالات سے بالکل ناواقف تھے۔ وہ ہر متوقع سوال کا جواب جانتے تھے لیکن جب وہ موقع پر پہنچتے تو ان کی تمام مہارت بے کار ثابت ہوتی ‘‘۔ مزیدآگے چل کر لکھتے ہیں کہ درحقیقت اب وہ تمام کارکن محسوس کرنے لگے ہیں کہ اگر وہ بھیں گے کہ وہ تمام خیالات اور منصوبے جو ان کے اپنے ماحول اور تہذیب وتمدن میں درست کسی دوسرے میں اسی طرح درست نتائج کے حامل ہوں گے تو نا کامی ان کا مقدمہ بن جائے گی‘۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ کارکن کا ان لوگوں میں سے ہونا لازمی ہے اور دو ان کا ہم عقید ہ ہونے بنا پر ان کی خوشی اورمی میں بھی شامل ہو سکے تو وہ ان میں مزید شیر و شکر ہو سکے گا اور پیاس کی اپنے مشن میں کامیابی ضمانت ہوگی ۔

کارکن کو انہیں اس بات کی یقین دہانی کروانی چاہیے کہ مجوزہ تبدیلی نہایت محفوظ ہے۔

کسی تبد یلی کوقبول کرتے ہوۓ لوگ اس بات کا پہلے سے یقین کرنا ضروری خیال کر ہیں گے کہ وہ نہیں ایسا کرنے سے لوگوں کی تضحیک کا نشانہ تو نہیں بن جائیں گے ۔ یا نہیں مالی طور پر نقصان تو نہیں برداشت کرنا پڑے گا مثال کے طور پر ہمارا ان پڑھ کاشت کار نے بیج ، نئے آلات زراعت اورکھیتی باڑی کے نئے طریقوں کو اپنانے سے ہچکچائے گا اور سوچے گا کہ ایسا کرنے سے کہیں میری فصل تو نہیں ماری جاۓ گی ۔ میرا سال تو ضائع نہیں ہو جائے گا وہ ان تبدیلیوں کو حکومت کی طرف سے کئے گئے تجربوں کی روشنی میں بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوگا کہ اس لئے کہ جب وہ اپنے اور حکومت کے وسائل کا موازنہ کرے گا یہی مجھے گا کہ حکومت تو یہ سب کچھ کر سکتی ہے میں انہیں ضمانت فراہم کر کے تمام لوگوں کیلئے کا عملی مظاہرہ کرنے کا بندوبست کر نا ہوگا تب کہیں جا کر وہ انہیں قائل کر سکے گا۔

سوال نمبر :05۔ مندرجہ ذیل پرنوٹ لکھیں۔

) شہری علاقوں میں مختلف جرائم

جواب: دراصل بچوں کی بے راہ روی میں گھر کے برے ماحول اور ناقص نگرانی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ والدین کو آج کل اقتصادی و سماجی ذمہ داریوں سے بہت کم وقت ماتا ہے۔ نیچے اپنا بیشتر وقت گلی کو چوں اورآوار ومزاج لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں ۔ بچوں کو نیک و بد بنانے میں دوستوں کی صحبت کافی اہمیت رکھتی ہے ۔ پڑوس میں اچھے برے ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں ۔ والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو سلجھے ہوۓ بچوں کی صحبت سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کر میں اورانہیں بے راہ رو نیچے کی صحبت سے بچائیں تا کہ وہ نیکی کے راستے پر گامزن رہ ہیں بچوں کیلئے صالح تعلیم و تربیت کی سخت ضرورت ہے ۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ ان کو اسلامی اقدار و نظریات اور قانون کی اہمیت سے آگاہ کر میں وہ خود کو بھی تربیت اطفال سے آگاہ کر میں ۔ تا کہ مستقبل کے رہنماؤں کو صالح زندگی بسر کرنے میں آسانی رہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تربیت اطفال پر معیاری کتابیں لکھوائی جائیں اور انہیں سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے کہ بچوں کوخوش اسلوبی سے حاصل کرنے کیلئے تربیت اطفال کی تعلیم کو عام کر نے ضرورت ہے۔ جرائم کی روک تھام کیسے ممکن ہے: پاکستان اسلامی قوانین کے فروغ و نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور اب ان قوانین کوفروغ دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ۔ اس لئے یتوقع پیل ہے کہ اس سے انسداد جرائم میں کافی مدد ملے گی ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر ہمارے قوانین مذہبی تعلقات سے نم آہنگ ہوں اور سماجی انحراف اور جرم ومصیبت کا دروازہ بند ہو جائے۔ لیکن اس مقصد کے لئے ہمیں مذہبی اور قانونی تعلیمات کو بھی کافی رواج دینا پڑے گا اور زندگی میں دین ودنیا کی جوتسیم پیدا ہوگئی ہے اسے بھی ختم کرنا ہوگا ۔ اسلام کے شہری اصولوں کی اگر لوگ پیروی مکمل طور پر کرنا شروع کردیں تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ ملک میں مکمل امن وامان اور سکون قائم ہو جائے گا۔ مذہب اسلام انسان میں خدا کے سامنے جوابدہی ،خوف خدا اور خدا ترسی پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان کو اس بات کو یقین ہو جائے نیز اس بات کا با قاعدہ پر پاراور تبلیغ کی جائے تو جرائم قتل ، ڈکیتی، چوری کا قلع قمع ہوسکتا ہے ۔ اسلامی سزائیں بھی رائج کر دی جائیں تو ایسے جرائم بہت کم ہو جائیں گے جس طرح کہ سعودی عرب میں جرائم بہت کم پاۓ جاتے ہیں کیونکہ وہاں اسلام کے مطابق انصاف ملتا ہے۔ اور مجرم کو سخت سزادی جاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جائے ۔ کیونکہ اگر افراد کو یہ بھی یقین ہو کہ قوانین کی خلاف ورزی پر نہ صرف وہ حکومت کا مجرم ہے بلکہ خدا کا مجرم بھی ہو گا تو جرائم کرنے سے پہلے و وضرور سوچے گا ۔

 ناقص منڈی کے دیہی زندگی پراثرات

جواب: ناقص منڈی کے دیہی زندگی پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں :

1۔ ناقص منڈی کی وجہ سے اشیاء کی خرید وفروخت میں مشکل پیش آتی ہے۔

2 ۔ ناقص منڈی کی وجہ سے صحت کے اصولوں کا پاس نہیں رکھا جا تا ۔

3۔ ناقص منڈی کی وجہ سے کاشت کا کوا پنی فصل کا ؤں میں ہی آ ڑھی کے ہاتھوں اونے پونے فروخت کرنی پڑتی ہے ۔

4۔ ناقص منڈی دیہی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

 

Course  Sociology -II( 413 )

Assignmen:: t no 2.

Semester::  2022 spring

 

 

 

سوال نمبر: 01۔ کثرت آبادی ترقی پذیر ممالک کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے کیا اسباب میں وضاحت کریں۔

 جواب:

کثرت آبادی سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے اگر چہ اللہ تعالی نے زمین کو طرح طرح کی نعمتوں اور وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن آج کے ترقیاتی یافتہ دور میں خدا کی نیمتیں بتدریج کم ہوتی جارہی ہیں اور دنیا کی ایک بڑی آبادی کو ایک وقت کی روٹی بڑی مشکل سے میسر آتی ہے ماہرین عمرانیات ، اقتصادیات و آبادیات اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ وسائل سے زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیتے ہیں بڑھتی ہوئی آبادی کا یہ سیلاب پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے کثرت آبادی کی روک تھام کے لیے چند اقدامات درج ذیل ہیں

: ا۔ عورت کے روایتی کردار میں تبدیلی:

پاکستان میں برادری نظام کی موجودگی مشترکہ خاندانی نظام اور دیگر ثقافتی اثرات کی وجہ سے معاشرے میں مردکوعورت پر فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے عورت اپنے روایتی کردار یعنی گھر اور بچوں کی پرورش تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اس تصور کوتوڑنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر ملک کی آدھی آبادی گھر میں قید ہو کر رہ جاۓ یا ایسے کام کرے جس کی نوعیت غیر پیداواری ہو تو ظاہر ہے یہ بات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور کثرت آبادی کا باعث ہے خواتین کا مجاب کر ناکسی حد تک اس مسئلے کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

خواتین کی تعلیم:

خواتین میں خواندگی کی سطح خصوصا دیہی علاقوں میں بہت کم ہے خواتین میں تعلیم کے پھیلاؤ کی افادیت کا انداز داس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ نا خواند و خواتین کی نسبت ایسی خواتین جنہوں نے تعلیم حاصل کی ہوان کے ہاں بچوں کی تعداد نصف ہوتی ہے اس لیے چھوٹے خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے اور شرح پیدائش کو کنٹرول کرنے کے لیے خواتین کی تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔

افرادی قوت کا صحیح استعمال:

افرادی قوت کا بیج استعمال بھی آبادی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جیسے کہ نو جوانوں کو ہنر سکھائے جائیں اور ان کی پیداواری صلاحیتوں کو بروے کا را یا جاۓ تا کہ بھکاری نہ بنیں اور بے کار نہ پھر ہیں

۴۔ خاندانی منصوبہ بندی کا شعور

خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد ، خاندان میں افراد کی تعداد کو خاندان کے وسائل کے مطابق رکھتا ہے نہ کے نسل انسانی کی بندش ہے پاکستان میں آبادی کے کنٹرول سے متعلق جتنے بھی منصوبے کام کر رہے ہیں ان کی تیج افادیت کی آگاہی کے لیے ملک گیر سطح پر نظم کوششوں کی ضرورت ہے جس کے لیے تمام ذرائع بروئے کارلانے چاہئیں جن میں میڈ یاتعلیمی اداروں اور دیہی سطح پر بزرگوں کو شامل کعنا ضروری ہے

۵۔ دیہی آبادی کی ترقی

دیہی آبادی کو معاشی و معاشرتی ترقی دینے اور بہترین صحت غذا اورتعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے دیہی معاشروں میں عورت کا مقام و معیار بلند کرنے میں مدد ملے گی جس سے ملکی ترقی اور ملک کی آبادی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں

مدد ملے گی۔

۔ قدرتی وسائل کا بہتر استعمال:

معاشی ومعاشرتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا بیج استعمال بھی آبادی کے اضافے کو کنٹرو ل کر سکتا ہے کیوں کہ جتنا کوئی معاشرہ خوشحال ہوگا اور وسائل کی فراوانی ہوگی اضافہ آبادی بھی بھی منا نہیں بنے گی قدرتی وسائل میں پانی کا صحیح استعمال جیسا کہ ڈیز کی تعمیر کے ذریعے پانی کے ذخائر بڑھانا ، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، جدید زرعی آلات کا استعمال ، کھاد میں اور توانائی کے نئے ذخائر وغیرہ کی دریافت شامل ہیں ان اصولوں پر ٹیل کیا جاۓ اور دیہی علاقوں کی ترقی پر خاص توجہ دی جائے تو پورا معاشرہ خوشحال ہوگا اور بے روز گاری کم ہو جائے گی وسائل کے بیج استعمال و منصفا تقسیم سے لوگوں میں محنت کا جذ بداجا گر ہو گا اور افراد کا معیار زندگی بلند ہوگا اور یوں معاشرہ امن وخوشحالی کی جانب گامزن ہو گا اور کثرت آبادی کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوگا۔

سوال نمبر :02۔غربت کے معاشرے پر عمومی اثرات بیان کر میں نیز غربت کی شدت کو کم کرنے کیلئے کس قسم کے اقدامات زیادہ مئوثر ثابت ہوں گے

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غربت معاشرے میں بگاڑ کی ایک بہت بنیادی وجہ ہے ۔ پر ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں جن کی وجہ سے ان منفی رویوں میں کمی لائی جاسکتی ہے اور ایک خوشگوار ماحول وفضا کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

 ا۔نظام تعلیم کی اصلاح اور ترقی:

ہمارے معاشرے میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں رہی اور غیر رکی تعلیم دی جاتی ہے تا کہ بچہ اپنے مستقبل میں معاشرے کا ایک کامیاب فرد بن سکے۔ موجودہ نظام کی اصلاح کی جاۓ ۔ جہاں خامیاں اور کمزوریاں ہیں انہیں دور کیا جائے تا کہ جب و عملی میدان میں آئیں تو منظم زندگی گزار ہیں ۔ خاندان کے بعد دوسرا ہم معاشرتی اور تعلیم کا ہے ۔ جہاں فروکی ابتدائی عمر میں اخلاقی تربیت کی جاتی ہے اور اس میں حب الوطنی کا جذ بہ ابھارا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں Guidance and Councilling کے مراکز ہیں ۔استاد جب بچے کو اوسط درجے سے منحرف دیکھتا ہے تو اسے مراکز میں بھیج دیتا ہے جہاں تجربہ کار مشیر اور نفسیاتی طبیب بچوں کا علاج نہایت محنت اور خلوص سے کرتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک جن میں اداروں اور مشیروں کا تعلق عدالتوں سے نہیں ہوتا ان کا اصل کام خطا کاری کوروکن نہیں ہوتا بلکہ مریض کی جذباتی اور شخصیاتی نکالیف کا حل ڈھونڈ نا ہوتا ہے ممکن ہے خطا کار کی خطاؤں کی تہہ میں ان کی بیجانی یانی تکالیف موجودنہ ہوں کیونکہ خطا کے اسباب صرف نفسیاتی ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی قسم کے ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح مقطرب بچوں اور نو جوانوں کیلئے ایک اسلامی طریقہ گروہی علاج معالجہ Group Thesaphy ہے ۔ یہ گروہ خود نفسیاتی طبیب چھتا ہے۔اس میں کھیل کود اور اسی قسم کی دوسری تفریحی سرگرمیاں کا انتظام کیا جا تا ہے جو گروہ کا لیڈر ہوتا ہے اسے اس کا علم ہوتا ہے کہ بچوں کو کیا تکلیف ہے یا انہیں کیا مسائل درپیش ہیں ۔ وہ ہر بچے کے کردار کا مطالعہ کرتا ہے۔ اسے تسلی دلاسہ دیتا ہے اور پیار محبت سے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان گروہوں کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں ہوتا۔ بچے خو اپنی تکالیف کا مظاہرہ کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کا حل ڈھونڈتے ہیں ۔ اگر بڑوں کیلئے گروہ بنا ہوتو کھیل تماشے کے بجائے انتلو، بحث مباحثہ مذاکرہ ہوسکتا ہے۔ انتلو کیلئے بھی کوئی موضوع پہلے سے بھی طے نہیں کیا جا تا بلکہ جو موضوع بھی گروہ زیر بحث ا نا چاہتا ہوا سکتا ہے۔ علاج معالجہ کے جو مختلف طریقے بیان ہو چکے ہیں ان کی بنیاد اس مفروضہ پر ہے کہ خطا کاری میں خاندان کا بڑا حصہ ہے۔ خاندان کی اگر اصلاح ہو جائے تو مجرمانہ رویے میں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن خاندان بھی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اس کی اصلاح بھی معاشرے کی اصلاح پر منصر ہے ۔

ii۔ مجرمانہ روی اور اصلاحی طریقہ کار

مجرمانہ رویوں کیلئے جو اصلاحی طریقے استعمال ہوتے ہیں وہ مغربی ماہرنفسیات اور ماہر جرمیات کے مرتب کردہ ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طریقہ ان لوگوں کو اور ان کے والدین کو نفسیاتی طبی معاجہ مہیا کرتا ہے۔ اس کیلئے شرط یہ ہوتی ہے کہ ایسی پنی علامات موجود ہوں جو نشاندہی کر سکیں کہ اصلاح کے مثبت نتائج ہوں گے۔ وہ بچے جو عدم تحفظ ،احساس کمتری یا کسی اور ایسے ہی مخصوص رویے کا شکار ہوں جو کہ انہیں مطمئن زندگی گزارنے میں رکاوٹ کا احساس دلاے تو انہیں نفسیاتی کلینک میں علاج معالجہ کیلئے داخل کرا دینا چاہیے

۔ معاشرتی و ثقافتی اقدار

: جرائم کنٹرول کرنے میں معاشرتی اور ثقافتی اقداربھی اہمیت رکھتے ہیں جب تک معاشرے میں عملی طور پر برائی کے خلاف سخت ریمل نہیں ہو گا اس وقت تک جرائم کی جڑیں مضبوط رہیں گی ۔ جرائم کو یکسر تو کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن معاشرے میں اجتماعی رویے کی وجہ سے منفی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصایشکنی کی جاسکتی ہے۔ معاشرتی اور ثقافتی اقدار میں جرائم اور غیر ذمہ دارانہ معاشرتی رویوں کا سختی سے نوٹس لیا جائے لیکن جہاں تک اصلاحی پہلو کا تعلق ہے اس کیلئے معاشرتی نظام میں اتنی چیک ضرور ہونی چاہیے کہ وہ اس فرد کے ساتھ ہمدردی اور ذمہ دارانہ رو میدر کھے جو جرائم کی دنیا سے نہ صرف نکل آتا ہے بلکہ شائستہ اطوار اپنا تا ہے اور معاشرے میں ایک معتبر مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

۱۷۔ بے روزگاری میں کمی اور موجودہ ذرائع کا استعمال:

معیشت کسی بھی ملک یا معاشرے کے اقدار اور طرز زندگی پر گہرا اثر رکھتی ہے ۔ جس معاشرے کی معیشت مضبوط ہوگی وہاں جرائم کسی حد تک کم ہوں گے یا وہ جرائم سرزد ہوں گے جن کا تعلق معیشت سے کم ہو گا ایسے معاشرے میں زیادہ تر وہ جرائم سرزد ہوتے ہیں جو عیاشی کے تصور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معیشت کا نظام ایسی پالیسی کی ٹھوس بنیادوں پر ہونا چاہیے جہاں ہر فر دکواس کی اپنی قابلیت یا جسمانی مشقت کے مطابق اجرت ملے ۔ ان ممالک نے زندگی کے ہر دوسرے شعبے میں ترقی کی ہے جہاں ہر کام کرنے والے کو اس کی اہمیت و قابلیت اور ضرورت کے مطابق اجرت اور سہولیات ملتی ہیں ۔ موجودہ ذرائع کے استعمال میں زیادہ سے زیادہ افراد کو شامل کیا جاۓ ۔ بچھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے انہیں مزید بہتری کیلئے آسان اقساط پر قرضنے کی سہولیات آسانی سے فراہم ہوں ۔ ہنر مندوں کی مزید تربیت کا بہتر انتظام موجود ہو اور ان سے حاصل شد و پیداوار کا نہیں جائز حصہ دیا جائے

شادی شدہ افراد کی تربیت:

شادی شدہ مردوں اور عورتوں کیلئے مشاورتی مراکز ہونے چاہیے ۔ جہاں ڈاکٹر ، نفسیاتی طبیب ، وکیل اور معاشرتی ماہر ہوں شادی شدہ اشخاص کو صلاح مشورہ د میں جو میاں بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہ کر پائے ہوں ۔ بعض عائلی عدالتیں بھی اس نوعیت کی ہوتی ہیں وہ بھی میاں بیوی کو سمجھا بجھا سکتی ہیں اور ان کی قانونی مشکلات دور کر سکتی ہیں ان مشاورتی مراکز اور عائلی عدالتوں کو گو جرمانہ رویے کی روک تھام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن بالواسط تعلق ضرور ہے ۔ تجربات کی روشنی میں ثابت ہے کہ جن گھروں میں جھگڑے عام ہوتے ہیں وہاں مجرمانہ رویے پرورش پاتے ہیں ۔اس لئے جو مدو بھی والدین کو دیجاسکے جوان کی اور نوعمروں کی زندگی کو آسودہ بنا سکے وہ مجرمانہ رویے کو کم کرنے کیلئے ایک باہمت اور حوصلہ افزاء قدم ہوگا۔

معاشرے کا غیر ذمہ داراندرو یار اس کے اثرات:

ہمارے معاشرے میں کئی جرم لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں لیکن عوام کسی قسم کا رول کرنے سے گریز کرتی ہے یہ بالکل ایسی حقیقت کی مانند ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے ہمارے روز مرہ زندگی سے اس کی مثال کچھ اس طرح بھی دی جاسکتی ہے جیسے راہ چلتی لڑکیوں پر فقرے بازی ہو یا نہیں کسی اور طریقے سے تنگ کیا جاۓ ، لیکن دوسرے افرادائیں حرکات پر دھیان نہیں دیتے اور خاموشی اختیار کرتے ہیں اسی طرح محلوں میں فحاشی ، جوۓ اور شراب نوشی کھلے عام ہوتی ہے لیکن معاشرے کاریٹیل سر در بتا ہے جب معاشرے میں ایسے حالات ہوں تو جرائم کا سد باب کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اگر عوام باشعور ، بیدار اور ذمہ دار ہوں تو جرائم پیشہ لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے ۔ اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عار محسوس نہیں کرتے مثلا دکا نداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورا نہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تا ہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اس طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جوصرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور ٹینزم انہیں بھی دھوکہ.       دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بد عہدی نہ کریں تو وہ بھی شکایت نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کام کو براگر دائیں گے ، اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آگاہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی بینک لونے جاتے ہیں پاراہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نا مناسب سلوک کیا جا تا تب معاشر وقتی طور پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتاہے لیکن پھر ٹہراؤ آجاتا ہے موم ہمارا معاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھٹری دکھائی دے تو نام مطمئن ہو جاتے ہیں اورکسی تنظیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے ۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اور ظلم وتشد د کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو ٹیکس زیادہ دینے پڑتے ہیں اس طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عارمحسوس نہیں کرتے مشار دکانداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورانہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تاہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اسی طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جو صرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور مجرم نہیں بھی دھوکہ دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بدعہدی نہ کر میں تو وہ بھی شکایت نہیں کر یں گے اور نہ ہی اس کام کو برا گردانیں گے ،اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آ گا ہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی جینک لوٹے جاتے ہیں یا راہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا تا تب معاشرہ وقتی طور پر اپنے رومل کا اظہار کرتا ہے لیکن پھر ٹھہراؤ آ جاتا ہے عمو ماہمارامعاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھڑی دکھائی دے تو ہم مطمئن ہو جاتے ہیں اور کی تعلیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رو بی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اورظلم وتشدو کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو یکس زیاد دینے پڑتے میں اسی طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیں ہیں اور جرم وسیاست کا کوئی باضابطہ تعلق نہیں ہے تو جرم اور مجرمانہ رویوں میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے ۔

سوال نمبر: 03۔ شراب نوشی کے سابی نقصانات کی فہرست مرتب کر میں نیز پاکستان میں پچی شراب کے استعمال کی حوصاٹیکنی کیلئے تجاویز دیں۔

جواب۔

ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی برائیاں جنم لے چکی ہیں وہیں نشہ جیسی برائی نے بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہے ۔ کثیر تعداد میں لوگ نشے کے عادی ہو چکے ہیں۔ بوڑھا ہو یا نو جوان ، مرد ہو یا عورت ،امیر ہو یا غریب ،افسر ہو یا حا کم ،تاجر ہو یا کسان بے شمار افراد جانے انجانے نشے کی لت میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انسان بڑا ہی نادان ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے جب کہ اللہ نے قران کریم میں ارشاد فرمایا اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو (البقر 195- ) ۔اسلام نے ہر نشہ آور اشیاء کوحرام قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ حضور سے کسی نے آپ کے تبع کے بارے میں پوچھا جو شہد سے بنا تھاتو آپنے فرمایا کہ ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے ( بخاری ومسلم )۔ اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہر دوشی جو نشہ دینے والی ہے و واسلام کی نظر میں حرام ہے اور اہل اسلام کو اس کا استعمال ہرگز روا نہیں۔ خواہ وہ بھانگ ہو،افیون ، چرس ، یا شراب اور اس کے علاوہ دیگر نشہ آور منشیات سب اسلام میں حرام ہے ایک اور حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب نے نشہ لانے والی اور فتور پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا(ابوداؤد ) ۔ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ بیشمار برائیوں میں ملوث تھے۔ وہیں شراب بھی عام تھی ،لوگ کثرت سے شراب پیتے تھے، جب اسلام آیا تو قرآن میں اللہ نے اس کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کو بھی بیان کیا اور ہمیشہ کے لئے شراب کو حرام کر دیا۔ اللہ جل شانہ نے ارشادفرمایا اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام میں سوان سے بچتے رہوتا کہ تم نجات پاؤ‘‘(المائد 90-)۔ شراب کی نحوست کا انداز اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس کو شیطانی کام کیا اور بت پرستی کے ساتھ بیان کیا۔ اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں شراب کی مذمت اور اس کی قباحت و خباثت کو واضح انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ سے شراب کے متعلق دریافت فرمایا تو اللہ کے حبیب نے فرمایا کہ میکبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ سب برائی کی سردار ہے (الزواجر )۔ اللہ کے نبی نے ارشادفر مایا کہ جوشخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز شراب نہ پیئے اور جواللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب ہو( طبرانی)۔امام طبرانی نے جم کبیر میں ایک حدیث حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے ۔ آپ فرماتیں ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہوئی تو میں نے پیالے میں نبیذ بنایا جوھجور سے بنایا ہوا ایک قسم کا مشروب ہے ) اللہ کے رسول میرے گھر تشریف لاۓ تو و وابل ( چولھے پر رہی تھی۔ آپ نے فرمایا ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا میری بیٹی بیمار ہے اس کی دوا بنا رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایاکہ اللہ نے حرام کردہ اشیاء میں میری امت کے لئے شفا نہیں رکھی ہے۔ ایک حد میں حضرت وائل حضری سے مروی ہے کہ طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا ، آپ نے ان کو منع فرمایا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ میں تو صرف دوا کے لیے شراب بنا تا ہوں حضور نے ارشادفرمایا کہ وہ دوا نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی بیماری ہے (مشکوۃ )۔ مذکورہ احادیث سے شراب کی حرمت اور اس کی قباحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ حرام اشیاء میں شفانہیں ہے ۔ ایک جگہ اللہ کے حبیب نے ارشادفرمایا کہ شراب نہ ہو کہ میام الخبائث ہے اور ای ام الخبائث کہ انسان شراب کی حالت بھی بھی اپنی ماں اور پھوبھی کے ساتھ بھی بدکاری کر بیٹھتا ہے ۔ اور بھی بہت ہی حدیثیں شراب کی مذمت میں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔شراب پینے والوں کے بارے میں اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں وعید میں بیان فرمائی ہیں حضور نے فرمایا کہ جودنیامیں شراب پیتے ہیں اللہ تعالی انہیں جہنمی سانیوں کا زہر پائے گا جسے پینے سے پہلے ہی اس کے چہرے کا گوشت گل کر برتن میں گر جائے گا اور جب وہ اسے اپنے گا تو اس کا گوشت اور کھال ادھر جائے گی جس سے سمی اذیت پائیں گے ( روح البیان ج ۴) ۔ ایک جگہ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جوشخص دنیا میں شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا اللہ تعالی اسے آخرت میں جہنم کی پیپ پلاۓ گا (روح البیان ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ دائی طور پر شراب پینے والا اگر مر گیا اسی حالت میں تو در بارخداوندی میں اس طرح آۓ گا جیسے ایک بت پرست ( مشکوۃ شریف) ۔ حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میری عزت و جلال کی قسم جو بندہ ایک گھونٹ بھی شراب پیئے گا میں اس کو اتناہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اسے چھوڑے گا میں اسے مقدس حوض سے پاؤں گا ( امام احمد بن حنبل ) ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ نے تین آدمیوں پر جنت حرام کر دی ہے ۔ وہ تین میں ہیں (۱) ہمیشہ شراب پینے والا ( ۲ ) والدین کی نافرمانی کرنے والا ( ۳ ) دیوث جو اپنے اہل میں بے حیائی کو دیکھے اور منع نہ کرے(نسائی)۔

شراب انسان کے لئے دین و دنیا دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے ۔ دینی نقصان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نارانسگی کوخرید کر اپنی آخرت بر باد کر لیتا ہے ۔ دنیوی نقصان یہ ہے کہ مختلف قسم کی مہلک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جو ہلاکت کا سبب بنتی ہیں ، لاکھوں عورتیں شرابی شوہر کے ظلم وستم کا نشانہ بنتی ہیں شراب پینے والا بے مروت ہو جاتا ہے، سماج اور معاشرہ کے لئے دردسر بن جا تا ہے ۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ شراب میں ہر طرف سے تباہی اور بربادی ہے، مال کی بھی اور جان کی بھی ۔ اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے ۔

سوال نمبر :04۔ پاکستان میں مختلف دیہی ترقیاتی پروگراموں کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ نیز دیہی ترقی کے طریقہ کار کی وضاحت کر یں۔

جواب۔

دیہات کے لوگوں کی زندگی کا ایک اور اہم پہلوتعلیم سے بے بہرہ ہونا ہے اگر چہ حکومت تعلیم کو عام کرنے کے لیے بہت ہی کوششیں کر رہی ہے مگر اس کے باوجود ہمارے اکثر دیہات میں ابھی تک تعلیم کی روشنی نہیں پہنچ پائی اس کے ساتھ ساتھ لوگ بھی تعلیم حاصل کرنا ضروری تصور نہیں کرتے ان کے خیال میں سکول بھیجنے کی بجائے بچے کو ھیتوں میں بھجنا زیادہ فائدہ مند ہے ۔ دیہات کے لوگ اپنی غربت کے ہاتھوں نہ تو پڑھائی کے لیے پیسہ خرچ کر سکتے ہیں اور نہ ہی وقت ۔ اس کے علاوہ اکثر دیہات ایسے ہیں جہاں پرائمری سکول بھی نہیں ہیں اس لیے لوگ دوسرے دیہات میں اپنے بچے بھیجنا پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان پڑھے ہیں یہ حالت صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ اکثر ترقی پذیر ممالک میں خواند و یا پڑھے لکھے افراد کی تعداد بہت ہی کم ہے اور جتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اکثر شہروں میں رہتے ہیں دیہات میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے مندرجہ ذیل جدول جو کہ آئی پی پی ایف کے جرید پی پی پی کے جرید نے پیپلز سے لیا گیا ہے اس سے ترقی پذیر ممالک میں نا خواندگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ علمی پسماندگی اور غربت و افلاس لازم وملزوم ہیں۔ ناخواندگی کے باعث کاشت کا ر جد ید زری معلومات سے بے بہرور ہتے ہیں زرعی

پیداوار میں اضافہ کرنے کی تدابیراور طریقوں کاعلم نہیں رکھتے ۔ اگر کاشتکار پڑھے لکھے ہوں تو وہ نہ صرف جدید معلومات زرمی سے استفادہ کر کے اپنی زرعی پیداوار بڑھنے کی تدابیر کر سکتے ہیں بلکہ اپنے روز مرہ کا حساب کتاب رکھ سکتے ہیں تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان کی معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا اور ان کے ذہن میں نئی ایجادات کے لیے وسعت اور بالغ نظری پیدانہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں نئی یجادات اپنانے کا حوصلہ پیدانہیں ہوتا۔ تعلیم ایک ایسا معاشرتی عمل ہے جس کے بغیر ہم افراد معا شر وترقی کی اہمیت نہیں سمجھا سکتے اور وہی ترقیاتی کاموں میں سرگرم حصہ لینے پر آما وہ کر سکتے ہیں تعلیم کے بغیر سابی اور ثقافتی تربیت بھی ممکن نہیں ہوتی چنانچہ لوگوں کی حالت بدلنے کے لیے ان کو اور ان کے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو تعلیم دینے کا بندوبست کرنا نہایت ضروری ہے۔ و یہی معاشرتی زندگی: دیہی زندگی شہری زندگی سے مختلف ہوتی ہے چونکہ ہماری آبادی کا تقریبا72 فیصد حصہ دیہات میں و بستا ہے اس لیے ان لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں اور دیہات کو ترقی دینے والے طریقہ کارکومندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو درج ذیل ہے

دیہات کاطبیعی ڈھانچہ

جونہی ہم شہروں سے وہی علاقوں کی طرف جاتے ہیں سب سے پہلے سرسبز کھیت اور کسان ہمارا استقبال کرتے ہیں جن میں کوئی فصل کو پانی دے رہا ہوتا کوئی زمین میں ہل چلا رہا ہوتا ہے کوئی بیچ ہور ہا ہوتا ہے تو کوئی فصل کاٹ رہا ہوتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نام دیہی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں پاکستان کے دیہی علاقوں میں لوگ زیادہ تر کچے مکانوں میں رہتے ہیں جن کی چھتیں شہتیروں پر گھاس پھونس ڈال کر بنائی جاتی ہے یہ گھر عموما کھلے کھلے ہوتے ہیں درمیان میں محن ہوتا ہے گھر کے کمروں میں عموماً کھڑ کی باروشندان ہوتے ہیں گلیاں اور محلے ترتیب سے نہیں بنے ہوتے اکثر گلیاں ٹیڑھی میڑھی ہوتی ہیں اور عموما گندی ہوتی ہیں اگر چہ ہر گھر انفرادی طور پر بیکوشش ضرور کرتا ہے کہ اپنے گھر کے سامنے کا حصہ صاف رکھے مگر اس کے باوجود چونکہ سرکاری طور پرکوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا اس لیے کئی جگہوں پر اس کے ڈھیر ملتے ہیں زندگی میں جدید سہولتوں کا فقدان ہے بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچ سکی سوئی گیس کی سہولت بھی موجود ہیں اکثر دیہات تک پکی سڑک نہیں جاتی پانی عموما ہنڈ پمپ سے حاصل کیا جا تا ہے بعض علاقوں میں جہاں پانی کی تلخ اونچی نہیں کنو میں کھودے جاتے ہیں

زرعی ترقیاتی بینک آف پاکستان

ا۔ مقاصد: بنک کا قیام 1961 ء میں عمل میں آیا۔ اس کا مقصد زری شعبوں میں کاشتکارکوقرضے فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ گاؤں کی طح پر گھر یا منعتیں لگانے کیلئے بھی قرضے فراہم کرنا اس بنک کا بنیادی مقصد تھا۔

ii۔ طریقہ کار: بنک کا شتکاروں کوان کی بہت فصل کیلئے قرضے فراہم کرتا ہے یہ قرضے آسمان مشعلوں میں واپس لئے جاتے ہیں اور کسان کو ں نے ان میں ورکر اس کی زمین کے مطابق قرضہ ماتا ہے عموماز میں گروی رکھی جاتی ہے یا فصل کے مطابق قرضہ کی شرائط طے کی جاتی ہیں ۔

نتائج:

پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق 81-1980 تک بنک نے 62-1066 ملین روپے کے قرضے فراہم کئے ۔ان

قرضوں کی رقم میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ 82-1991 ء میں یہ قرضے 38-1557 ملین تک پہنچ گئے ہیں۔ ان قرضوں کا 45 فیصد سے بھی زیادہ حصہ زرعی مشینری خریدنے کے کام آیا مگر بنک کی ان سہولتوں کے زیادہ تر فائدے بڑے کاشتکاروں کو حاصل ہوۓ کاشتکاروں کو کل رقم کا بمشکل 21 فیصد دیا گیا تا ہم اس قرضے کی بدولت بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور زراعت میں ترقی کا سبب بنا۔ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے طریق کار میں کارکن کے کردار کی اہمیت: کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کا انحصار صرف ایک شخص پر ہوتا ہے جسے ہم ترقیاتی کارکن یا ترقیاتی رہنما بھی کہ سکتے ہیں۔ چنانچہ اسے ہر دلعزیز اور قابل قبول شخصیت ہونے کے علاوہ جنتی اور دیانتدار بھی ہونا چاہئے ۔ اس کے علاوہ اسے اس کمیونٹی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے فوری حل کے بارے میں تھوڑا بہت علم بھی ضرور ہونا چاہئے مثلا چھوٹی چھوٹی بیماریوں کی صورت میں بیان کیلئے معالج ثابت ہوا تعلیم وتربیت میں استاد ، گھر یلو معاملات میں مشیر ، جھگڑے لے کرانے میں بیج اور مصالحت کنند و در اجتماعی کاموں میں ان کا رہنما ہونا چاہئے ۔اگر چہ وہ ان تمام معاملات میں ماہرین کی جگہ تو نہیں لے سکتا مگرلیکن ان تمام معاملات میں اس کی ایسی رائے ہونی چاہئے جو زیادہ تر لوگوں کو قبول ہو اور ان کے فوائد میں ہو ۔ اسے اس آبادی کیلئے جس ترقی پر اسے معمور کیا گیا ہو ایک مثال ہونا چاہئے تب جا کر کہیں اس طریقہ کار سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ تر قیاتی کارکن کو مندرجہ ذیل اصولوں کی روشنی میں اپنے کام کا آغاز کرنا چاہئے

1۔ کارکن کو ان لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرنے چاہئیں جن کے ساتھ وہ کام کرنا چاہتا ہے۔

کارکن لوگوں کی چھوٹی چھوٹی اور ہنگامی ضرورتوں کو پورا کر کے ان کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اگر وہ ان کی کسی معمولی بیماری کا علاج کر کے ان کو صحت و صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہے گا تو وہ آسانی سے اس کی بات سمجھ جائیں گے ۔ چونکہ یہ اعتاد اس نے حال ہی میں حاصل کیا ہوتا ہے اور اہل خانہ کو ایک مصیبت سے نجات دلانی ہوتی ہے اس لئے اس وقت ان کے جذبات واحساسات کا احترام کر کے انہیں سمجھا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ جب کوئی اس سے مشورہ طلب کرے تو کارکن کو اس کے ساتھ اس طرح سے بات کرنی چاہئے کہ وہ جان لے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اس کا کوئی ہدر نہیں اور اسے اپنے ایمان اور مسلم کے مطابق سیح مشور و دینا چاہئے ۔ اس طرح کے لگاتار عمل سے و واس معاشرتی گروہ میں ایک قابل احترام شخصیت بن جائے گا اور اسے کام کرنے میں آسانی ہوگی۔

2۔ کارکن کو ہرائی جانے والی تبد یلی کیلئے لوگوں کی رضامندی حاصل کر لینی چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ

کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے ۔

کارکن اگر ان لوگوں کی مقامی زبان میں بات کرنے والا ہو جن لوگوں میں اسے بھیجا گیا ہوتو وہ اس کی بات کو آسانی سے سمجھ جائیں گے نیز مقامی واقفیت کی بناء پر وہ مختلف منصوبے بنانے اور ان کی ترجیحات مرتب کرنے میں بھی زیادہ ماہر ہوگا۔ علاوہ ان میں اگر وہ ان لوگوں کا ہم عقید بھی ہوتو زیادہ اچھا ہے اس کے برعکس بیرونی ماہرین اور ٹیکنیک فتی لحاظ سے پیا ہے کتنی بھی املی کیوں نہ ہو وہ اگر لوگوں کے جذبات و احساسات سے ہم آہنگ نہ ہوگی تو مطلوبہ نتائج پیدا کرنے سے قاصر رہے گی ۔ اسی بات کوئی ۔آرمین نے اپنی کتاب ’’معاشرے اور ان کی ترقی میں ایشیائی ممالک کی فنی امداد کے سلسلے میں ہونے والی کانفرنس میں جنوب مشرقی ایشیاء کے نمائندوں کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ تمام نمائندے اس بات پر متفق تھے کہ گذسته چند سالوں کے دوران مختلف اداروں کی طرف سے دی جانے والے فنی امداد نہ صرف نتیجہ رہی بلکہ بعض حالات میں نقصان رساں بھی ثابت ہوئی کیونکہ و مغربی ممالک سے آنے والے ساز و سامان اور وہیں پر ترتیب دی گئی ٹیکنیک پریٹی تھی جس کا مقصد تیزی سے حاصل ہونے والے اور نظر آنے والے نتائج پیدا کرنا تھا۔ اس ساز و سامان اور ٹیکنیک پر کام کرنے والے بھی مغربی ماہرین تھے جو ٹیکنیک کی حد تک تو بہت ماہر تھے لیکن مقامی حالات سے بالکل ناواقف تھے۔ وہ ہر متوقع سوال کا جواب جانتے تھے لیکن جب وہ موقع پر پہنچتے تو ان کی تمام مہارت بے کار ثابت ہوتی ‘‘۔ مزیدآگے چل کر لکھتے ہیں کہ درحقیقت اب وہ تمام کارکن محسوس کرنے لگے ہیں کہ اگر وہ بھیں گے کہ وہ تمام خیالات اور منصوبے جو ان کے اپنے ماحول اور تہذیب وتمدن میں درست کسی دوسرے میں اسی طرح درست نتائج کے حامل ہوں گے تو نا کامی ان کا مقدمہ بن جائے گی‘۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ کارکن کا ان لوگوں میں سے ہونا لازمی ہے اور دو ان کا ہم عقید ہ ہونے بنا پر ان کی خوشی اورمی میں بھی شامل ہو سکے تو وہ ان میں مزید شیر و شکر ہو سکے گا اور پیاس کی اپنے مشن میں کامیابی ضمانت ہوگی ۔

کارکن کو انہیں اس بات کی یقین دہانی کروانی چاہیے کہ مجوزہ تبدیلی نہایت محفوظ ہے۔

کسی تبد یلی کوقبول کرتے ہوۓ لوگ اس بات کا پہلے سے یقین کرنا ضروری خیال کر ہیں گے کہ وہ نہیں ایسا کرنے سے لوگوں کی تضحیک کا نشانہ تو نہیں بن جائیں گے ۔ یا نہیں مالی طور پر نقصان تو نہیں برداشت کرنا پڑے گا مثال کے طور پر ہمارا ان پڑھ کاشت کار نے بیج ، نئے آلات زراعت اورکھیتی باڑی کے نئے طریقوں کو اپنانے سے ہچکچائے گا اور سوچے گا کہ ایسا کرنے سے کہیں میری فصل تو نہیں ماری جاۓ گی ۔ میرا سال تو ضائع نہیں ہو جائے گا وہ ان تبدیلیوں کو حکومت کی طرف سے کئے گئے تجربوں کی روشنی میں بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوگا کہ اس لئے کہ جب وہ اپنے اور حکومت کے وسائل کا موازنہ کرے گا یہی مجھے گا کہ حکومت تو یہ سب کچھ کر سکتی ہے میں انہیں ضمانت فراہم کر کے تمام لوگوں کیلئے کا عملی مظاہرہ کرنے کا بندوبست کر نا ہوگا تب کہیں جا کر وہ انہیں قائل کر سکے گا۔

سوال نمبر :05۔ مندرجہ ذیل پرنوٹ لکھیں۔

) شہری علاقوں میں مختلف جرائم

جواب: دراصل بچوں کی بے راہ روی میں گھر کے برے ماحول اور ناقص نگرانی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ والدین کو آج کل اقتصادی و سماجی ذمہ داریوں سے بہت کم وقت ماتا ہے۔ نیچے اپنا بیشتر وقت گلی کو چوں اورآوار ومزاج لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں ۔ بچوں کو نیک و بد بنانے میں دوستوں کی صحبت کافی اہمیت رکھتی ہے ۔ پڑوس میں اچھے برے ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں ۔ والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو سلجھے ہوۓ بچوں کی صحبت سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کر میں اورانہیں بے راہ رو نیچے کی صحبت سے بچائیں تا کہ وہ نیکی کے راستے پر گامزن رہ ہیں بچوں کیلئے صالح تعلیم و تربیت کی سخت ضرورت ہے ۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ ان کو اسلامی اقدار و نظریات اور قانون کی اہمیت سے آگاہ کر میں وہ خود کو بھی تربیت اطفال سے آگاہ کر میں ۔ تا کہ مستقبل کے رہنماؤں کو صالح زندگی بسر کرنے میں آسانی رہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تربیت اطفال پر معیاری کتابیں لکھوائی جائیں اور انہیں سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے کہ بچوں کوخوش اسلوبی سے حاصل کرنے کیلئے تربیت اطفال کی تعلیم کو عام کر نے ضرورت ہے۔ جرائم کی روک تھام کیسے ممکن ہے: پاکستان اسلامی قوانین کے فروغ و نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور اب ان قوانین کوفروغ دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ۔ اس لئے یتوقع پیل ہے کہ اس سے انسداد جرائم میں کافی مدد ملے گی ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر ہمارے قوانین مذہبی تعلقات سے نم آہنگ ہوں اور سماجی انحراف اور جرم ومصیبت کا دروازہ بند ہو جائے۔ لیکن اس مقصد کے لئے ہمیں مذہبی اور قانونی تعلیمات کو بھی کافی رواج دینا پڑے گا اور زندگی میں دین ودنیا کی جوتسیم پیدا ہوگئی ہے اسے بھی ختم کرنا ہوگا ۔ اسلام کے شہری اصولوں کی اگر لوگ پیروی مکمل طور پر کرنا شروع کردیں تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ ملک میں مکمل امن وامان اور سکون قائم ہو جائے گا۔ مذہب اسلام انسان میں خدا کے سامنے جوابدہی ،خوف خدا اور خدا ترسی پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان کو اس بات کو یقین ہو جائے نیز اس بات کا با قاعدہ پر پاراور تبلیغ کی جائے تو جرائم قتل ، ڈکیتی، چوری کا قلع قمع ہوسکتا ہے ۔ اسلامی سزائیں بھی رائج کر دی جائیں تو ایسے جرائم بہت کم ہو جائیں گے جس طرح کہ سعودی عرب میں جرائم بہت کم پاۓ جاتے ہیں کیونکہ وہاں اسلام کے مطابق انصاف ملتا ہے۔ اور مجرم کو سخت سزادی جاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جائے ۔ کیونکہ اگر افراد کو یہ بھی یقین ہو کہ قوانین کی خلاف ورزی پر نہ صرف وہ حکومت کا مجرم ہے بلکہ خدا کا مجرم بھی ہو گا تو جرائم کرنے سے پہلے و وضرور سوچے گا ۔

 ناقص منڈی کے دیہی زندگی پراثرات

جواب: ناقص منڈی کے دیہی زندگی پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں :

1۔ ناقص منڈی کی وجہ سے اشیاء کی خرید وفروخت میں مشکل پیش آتی ہے۔

2 ۔ ناقص منڈی کی وجہ سے صحت کے اصولوں کا پاس نہیں رکھا جا تا ۔

3۔ ناقص منڈی کی وجہ سے کاشت کا کوا پنی فصل کا ؤں میں ہی آ ڑھی کے ہاتھوں اونے پونے فروخت کرنی پڑتی ہے ۔

4۔ ناقص منڈی دیہی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

 

Course  Sociology -II( 413 )

Assignmen:: t no 2.

Semester::  2022 spring

 

 

 

سوال نمبر: 01۔ کثرت آبادی ترقی پذیر ممالک کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے کیا اسباب میں وضاحت کریں۔

 جواب:

کثرت آبادی سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے اگر چہ اللہ تعالی نے زمین کو طرح طرح کی نعمتوں اور وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن آج کے ترقیاتی یافتہ دور میں خدا کی نیمتیں بتدریج کم ہوتی جارہی ہیں اور دنیا کی ایک بڑی آبادی کو ایک وقت کی روٹی بڑی مشکل سے میسر آتی ہے ماہرین عمرانیات ، اقتصادیات و آبادیات اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ وسائل سے زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیتے ہیں بڑھتی ہوئی آبادی کا یہ سیلاب پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے کثرت آبادی کی روک تھام کے لیے چند اقدامات درج ذیل ہیں

: ا۔ عورت کے روایتی کردار میں تبدیلی:

پاکستان میں برادری نظام کی موجودگی مشترکہ خاندانی نظام اور دیگر ثقافتی اثرات کی وجہ سے معاشرے میں مردکوعورت پر فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے عورت اپنے روایتی کردار یعنی گھر اور بچوں کی پرورش تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اس تصور کوتوڑنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر ملک کی آدھی آبادی گھر میں قید ہو کر رہ جاۓ یا ایسے کام کرے جس کی نوعیت غیر پیداواری ہو تو ظاہر ہے یہ بات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور کثرت آبادی کا باعث ہے خواتین کا مجاب کر ناکسی حد تک اس مسئلے کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

خواتین کی تعلیم:

خواتین میں خواندگی کی سطح خصوصا دیہی علاقوں میں بہت کم ہے خواتین میں تعلیم کے پھیلاؤ کی افادیت کا انداز داس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ نا خواند و خواتین کی نسبت ایسی خواتین جنہوں نے تعلیم حاصل کی ہوان کے ہاں بچوں کی تعداد نصف ہوتی ہے اس لیے چھوٹے خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے اور شرح پیدائش کو کنٹرول کرنے کے لیے خواتین کی تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔

افرادی قوت کا صحیح استعمال:

افرادی قوت کا بیج استعمال بھی آبادی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جیسے کہ نو جوانوں کو ہنر سکھائے جائیں اور ان کی پیداواری صلاحیتوں کو بروے کا را یا جاۓ تا کہ بھکاری نہ بنیں اور بے کار نہ پھر ہیں

۴۔ خاندانی منصوبہ بندی کا شعور

خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد ، خاندان میں افراد کی تعداد کو خاندان کے وسائل کے مطابق رکھتا ہے نہ کے نسل انسانی کی بندش ہے پاکستان میں آبادی کے کنٹرول سے متعلق جتنے بھی منصوبے کام کر رہے ہیں ان کی تیج افادیت کی آگاہی کے لیے ملک گیر سطح پر نظم کوششوں کی ضرورت ہے جس کے لیے تمام ذرائع بروئے کارلانے چاہئیں جن میں میڈ یاتعلیمی اداروں اور دیہی سطح پر بزرگوں کو شامل کعنا ضروری ہے

۵۔ دیہی آبادی کی ترقی

دیہی آبادی کو معاشی و معاشرتی ترقی دینے اور بہترین صحت غذا اورتعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے دیہی معاشروں میں عورت کا مقام و معیار بلند کرنے میں مدد ملے گی جس سے ملکی ترقی اور ملک کی آبادی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں

مدد ملے گی۔

۔ قدرتی وسائل کا بہتر استعمال:

معاشی ومعاشرتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا بیج استعمال بھی آبادی کے اضافے کو کنٹرو ل کر سکتا ہے کیوں کہ جتنا کوئی معاشرہ خوشحال ہوگا اور وسائل کی فراوانی ہوگی اضافہ آبادی بھی بھی منا نہیں بنے گی قدرتی وسائل میں پانی کا صحیح استعمال جیسا کہ ڈیز کی تعمیر کے ذریعے پانی کے ذخائر بڑھانا ، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، جدید زرعی آلات کا استعمال ، کھاد میں اور توانائی کے نئے ذخائر وغیرہ کی دریافت شامل ہیں ان اصولوں پر ٹیل کیا جاۓ اور دیہی علاقوں کی ترقی پر خاص توجہ دی جائے تو پورا معاشرہ خوشحال ہوگا اور بے روز گاری کم ہو جائے گی وسائل کے بیج استعمال و منصفا تقسیم سے لوگوں میں محنت کا جذ بداجا گر ہو گا اور افراد کا معیار زندگی بلند ہوگا اور یوں معاشرہ امن وخوشحالی کی جانب گامزن ہو گا اور کثرت آبادی کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوگا۔

سوال نمبر :02۔غربت کے معاشرے پر عمومی اثرات بیان کر میں نیز غربت کی شدت کو کم کرنے کیلئے کس قسم کے اقدامات زیادہ مئوثر ثابت ہوں گے

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غربت معاشرے میں بگاڑ کی ایک بہت بنیادی وجہ ہے ۔ پر ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں جن کی وجہ سے ان منفی رویوں میں کمی لائی جاسکتی ہے اور ایک خوشگوار ماحول وفضا کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

 ا۔نظام تعلیم کی اصلاح اور ترقی:

ہمارے معاشرے میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں رہی اور غیر رکی تعلیم دی جاتی ہے تا کہ بچہ اپنے مستقبل میں معاشرے کا ایک کامیاب فرد بن سکے۔ موجودہ نظام کی اصلاح کی جاۓ ۔ جہاں خامیاں اور کمزوریاں ہیں انہیں دور کیا جائے تا کہ جب و عملی میدان میں آئیں تو منظم زندگی گزار ہیں ۔ خاندان کے بعد دوسرا ہم معاشرتی اور تعلیم کا ہے ۔ جہاں فروکی ابتدائی عمر میں اخلاقی تربیت کی جاتی ہے اور اس میں حب الوطنی کا جذ بہ ابھارا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں Guidance and Councilling کے مراکز ہیں ۔استاد جب بچے کو اوسط درجے سے منحرف دیکھتا ہے تو اسے مراکز میں بھیج دیتا ہے جہاں تجربہ کار مشیر اور نفسیاتی طبیب بچوں کا علاج نہایت محنت اور خلوص سے کرتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک جن میں اداروں اور مشیروں کا تعلق عدالتوں سے نہیں ہوتا ان کا اصل کام خطا کاری کوروکن نہیں ہوتا بلکہ مریض کی جذباتی اور شخصیاتی نکالیف کا حل ڈھونڈ نا ہوتا ہے ممکن ہے خطا کار کی خطاؤں کی تہہ میں ان کی بیجانی یانی تکالیف موجودنہ ہوں کیونکہ خطا کے اسباب صرف نفسیاتی ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی قسم کے ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح مقطرب بچوں اور نو جوانوں کیلئے ایک اسلامی طریقہ گروہی علاج معالجہ Group Thesaphy ہے ۔ یہ گروہ خود نفسیاتی طبیب چھتا ہے۔اس میں کھیل کود اور اسی قسم کی دوسری تفریحی سرگرمیاں کا انتظام کیا جا تا ہے جو گروہ کا لیڈر ہوتا ہے اسے اس کا علم ہوتا ہے کہ بچوں کو کیا تکلیف ہے یا انہیں کیا مسائل درپیش ہیں ۔ وہ ہر بچے کے کردار کا مطالعہ کرتا ہے۔ اسے تسلی دلاسہ دیتا ہے اور پیار محبت سے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان گروہوں کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں ہوتا۔ بچے خو اپنی تکالیف کا مظاہرہ کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کا حل ڈھونڈتے ہیں ۔ اگر بڑوں کیلئے گروہ بنا ہوتو کھیل تماشے کے بجائے انتلو، بحث مباحثہ مذاکرہ ہوسکتا ہے۔ انتلو کیلئے بھی کوئی موضوع پہلے سے بھی طے نہیں کیا جا تا بلکہ جو موضوع بھی گروہ زیر بحث ا نا چاہتا ہوا سکتا ہے۔ علاج معالجہ کے جو مختلف طریقے بیان ہو چکے ہیں ان کی بنیاد اس مفروضہ پر ہے کہ خطا کاری میں خاندان کا بڑا حصہ ہے۔ خاندان کی اگر اصلاح ہو جائے تو مجرمانہ رویے میں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن خاندان بھی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اس کی اصلاح بھی معاشرے کی اصلاح پر منصر ہے ۔

ii۔ مجرمانہ روی اور اصلاحی طریقہ کار

مجرمانہ رویوں کیلئے جو اصلاحی طریقے استعمال ہوتے ہیں وہ مغربی ماہرنفسیات اور ماہر جرمیات کے مرتب کردہ ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طریقہ ان لوگوں کو اور ان کے والدین کو نفسیاتی طبی معاجہ مہیا کرتا ہے۔ اس کیلئے شرط یہ ہوتی ہے کہ ایسی پنی علامات موجود ہوں جو نشاندہی کر سکیں کہ اصلاح کے مثبت نتائج ہوں گے۔ وہ بچے جو عدم تحفظ ،احساس کمتری یا کسی اور ایسے ہی مخصوص رویے کا شکار ہوں جو کہ انہیں مطمئن زندگی گزارنے میں رکاوٹ کا احساس دلاے تو انہیں نفسیاتی کلینک میں علاج معالجہ کیلئے داخل کرا دینا چاہیے

۔ معاشرتی و ثقافتی اقدار

: جرائم کنٹرول کرنے میں معاشرتی اور ثقافتی اقداربھی اہمیت رکھتے ہیں جب تک معاشرے میں عملی طور پر برائی کے خلاف سخت ریمل نہیں ہو گا اس وقت تک جرائم کی جڑیں مضبوط رہیں گی ۔ جرائم کو یکسر تو کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن معاشرے میں اجتماعی رویے کی وجہ سے منفی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصایشکنی کی جاسکتی ہے۔ معاشرتی اور ثقافتی اقدار میں جرائم اور غیر ذمہ دارانہ معاشرتی رویوں کا سختی سے نوٹس لیا جائے لیکن جہاں تک اصلاحی پہلو کا تعلق ہے اس کیلئے معاشرتی نظام میں اتنی چیک ضرور ہونی چاہیے کہ وہ اس فرد کے ساتھ ہمدردی اور ذمہ دارانہ رو میدر کھے جو جرائم کی دنیا سے نہ صرف نکل آتا ہے بلکہ شائستہ اطوار اپنا تا ہے اور معاشرے میں ایک معتبر مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

۱۷۔ بے روزگاری میں کمی اور موجودہ ذرائع کا استعمال:

معیشت کسی بھی ملک یا معاشرے کے اقدار اور طرز زندگی پر گہرا اثر رکھتی ہے ۔ جس معاشرے کی معیشت مضبوط ہوگی وہاں جرائم کسی حد تک کم ہوں گے یا وہ جرائم سرزد ہوں گے جن کا تعلق معیشت سے کم ہو گا ایسے معاشرے میں زیادہ تر وہ جرائم سرزد ہوتے ہیں جو عیاشی کے تصور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معیشت کا نظام ایسی پالیسی کی ٹھوس بنیادوں پر ہونا چاہیے جہاں ہر فر دکواس کی اپنی قابلیت یا جسمانی مشقت کے مطابق اجرت ملے ۔ ان ممالک نے زندگی کے ہر دوسرے شعبے میں ترقی کی ہے جہاں ہر کام کرنے والے کو اس کی اہمیت و قابلیت اور ضرورت کے مطابق اجرت اور سہولیات ملتی ہیں ۔ موجودہ ذرائع کے استعمال میں زیادہ سے زیادہ افراد کو شامل کیا جاۓ ۔ بچھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے انہیں مزید بہتری کیلئے آسان اقساط پر قرضنے کی سہولیات آسانی سے فراہم ہوں ۔ ہنر مندوں کی مزید تربیت کا بہتر انتظام موجود ہو اور ان سے حاصل شد و پیداوار کا نہیں جائز حصہ دیا جائے

شادی شدہ افراد کی تربیت:

شادی شدہ مردوں اور عورتوں کیلئے مشاورتی مراکز ہونے چاہیے ۔ جہاں ڈاکٹر ، نفسیاتی طبیب ، وکیل اور معاشرتی ماہر ہوں شادی شدہ اشخاص کو صلاح مشورہ د میں جو میاں بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہ کر پائے ہوں ۔ بعض عائلی عدالتیں بھی اس نوعیت کی ہوتی ہیں وہ بھی میاں بیوی کو سمجھا بجھا سکتی ہیں اور ان کی قانونی مشکلات دور کر سکتی ہیں ان مشاورتی مراکز اور عائلی عدالتوں کو گو جرمانہ رویے کی روک تھام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن بالواسط تعلق ضرور ہے ۔ تجربات کی روشنی میں ثابت ہے کہ جن گھروں میں جھگڑے عام ہوتے ہیں وہاں مجرمانہ رویے پرورش پاتے ہیں ۔اس لئے جو مدو بھی والدین کو دیجاسکے جوان کی اور نوعمروں کی زندگی کو آسودہ بنا سکے وہ مجرمانہ رویے کو کم کرنے کیلئے ایک باہمت اور حوصلہ افزاء قدم ہوگا۔

معاشرے کا غیر ذمہ داراندرو یار اس کے اثرات:

ہمارے معاشرے میں کئی جرم لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں لیکن عوام کسی قسم کا رول کرنے سے گریز کرتی ہے یہ بالکل ایسی حقیقت کی مانند ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے ہمارے روز مرہ زندگی سے اس کی مثال کچھ اس طرح بھی دی جاسکتی ہے جیسے راہ چلتی لڑکیوں پر فقرے بازی ہو یا نہیں کسی اور طریقے سے تنگ کیا جاۓ ، لیکن دوسرے افرادائیں حرکات پر دھیان نہیں دیتے اور خاموشی اختیار کرتے ہیں اسی طرح محلوں میں فحاشی ، جوۓ اور شراب نوشی کھلے عام ہوتی ہے لیکن معاشرے کاریٹیل سر در بتا ہے جب معاشرے میں ایسے حالات ہوں تو جرائم کا سد باب کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اگر عوام باشعور ، بیدار اور ذمہ دار ہوں تو جرائم پیشہ لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے ۔ اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عار محسوس نہیں کرتے مثلا دکا نداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورا نہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تا ہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اس طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جوصرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور ٹینزم انہیں بھی دھوکہ.       دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بد عہدی نہ کریں تو وہ بھی شکایت نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کام کو براگر دائیں گے ، اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آگاہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی بینک لونے جاتے ہیں پاراہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نا مناسب سلوک کیا جا تا تب معاشر وقتی طور پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتاہے لیکن پھر ٹہراؤ آجاتا ہے موم ہمارا معاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھٹری دکھائی دے تو نام مطمئن ہو جاتے ہیں اورکسی تنظیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے ۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اور ظلم وتشد د کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو ٹیکس زیادہ دینے پڑتے ہیں اس طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عارمحسوس نہیں کرتے مشار دکانداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورانہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تاہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اسی طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جو صرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور مجرم نہیں بھی دھوکہ دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بدعہدی نہ کر میں تو وہ بھی شکایت نہیں کر یں گے اور نہ ہی اس کام کو برا گردانیں گے ،اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آ گا ہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی جینک لوٹے جاتے ہیں یا راہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا تا تب معاشرہ وقتی طور پر اپنے رومل کا اظہار کرتا ہے لیکن پھر ٹھہراؤ آ جاتا ہے عمو ماہمارامعاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھڑی دکھائی دے تو ہم مطمئن ہو جاتے ہیں اور کی تعلیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رو بی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اورظلم وتشدو کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو یکس زیاد دینے پڑتے میں اسی طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیں ہیں اور جرم وسیاست کا کوئی باضابطہ تعلق نہیں ہے تو جرم اور مجرمانہ رویوں میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے ۔

سوال نمبر: 03۔ شراب نوشی کے سابی نقصانات کی فہرست مرتب کر میں نیز پاکستان میں پچی شراب کے استعمال کی حوصاٹیکنی کیلئے تجاویز دیں۔

جواب۔

ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی برائیاں جنم لے چکی ہیں وہیں نشہ جیسی برائی نے بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہے ۔ کثیر تعداد میں لوگ نشے کے عادی ہو چکے ہیں۔ بوڑھا ہو یا نو جوان ، مرد ہو یا عورت ،امیر ہو یا غریب ،افسر ہو یا حا کم ،تاجر ہو یا کسان بے شمار افراد جانے انجانے نشے کی لت میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انسان بڑا ہی نادان ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے جب کہ اللہ نے قران کریم میں ارشاد فرمایا اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو (البقر 195- ) ۔اسلام نے ہر نشہ آور اشیاء کوحرام قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ حضور سے کسی نے آپ کے تبع کے بارے میں پوچھا جو شہد سے بنا تھاتو آپنے فرمایا کہ ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے ( بخاری ومسلم )۔ اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہر دوشی جو نشہ دینے والی ہے و واسلام کی نظر میں حرام ہے اور اہل اسلام کو اس کا استعمال ہرگز روا نہیں۔ خواہ وہ بھانگ ہو،افیون ، چرس ، یا شراب اور اس کے علاوہ دیگر نشہ آور منشیات سب اسلام میں حرام ہے ایک اور حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب نے نشہ لانے والی اور فتور پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا(ابوداؤد ) ۔ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ بیشمار برائیوں میں ملوث تھے۔ وہیں شراب بھی عام تھی ،لوگ کثرت سے شراب پیتے تھے، جب اسلام آیا تو قرآن میں اللہ نے اس کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کو بھی بیان کیا اور ہمیشہ کے لئے شراب کو حرام کر دیا۔ اللہ جل شانہ نے ارشادفرمایا اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام میں سوان سے بچتے رہوتا کہ تم نجات پاؤ‘‘(المائد 90-)۔ شراب کی نحوست کا انداز اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس کو شیطانی کام کیا اور بت پرستی کے ساتھ بیان کیا۔ اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں شراب کی مذمت اور اس کی قباحت و خباثت کو واضح انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ سے شراب کے متعلق دریافت فرمایا تو اللہ کے حبیب نے فرمایا کہ میکبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ سب برائی کی سردار ہے (الزواجر )۔ اللہ کے نبی نے ارشادفر مایا کہ جوشخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز شراب نہ پیئے اور جواللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب ہو( طبرانی)۔امام طبرانی نے جم کبیر میں ایک حدیث حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے ۔ آپ فرماتیں ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہوئی تو میں نے پیالے میں نبیذ بنایا جوھجور سے بنایا ہوا ایک قسم کا مشروب ہے ) اللہ کے رسول میرے گھر تشریف لاۓ تو و وابل ( چولھے پر رہی تھی۔ آپ نے فرمایا ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا میری بیٹی بیمار ہے اس کی دوا بنا رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایاکہ اللہ نے حرام کردہ اشیاء میں میری امت کے لئے شفا نہیں رکھی ہے۔ ایک حد میں حضرت وائل حضری سے مروی ہے کہ طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا ، آپ نے ان کو منع فرمایا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ میں تو صرف دوا کے لیے شراب بنا تا ہوں حضور نے ارشادفرمایا کہ وہ دوا نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی بیماری ہے (مشکوۃ )۔ مذکورہ احادیث سے شراب کی حرمت اور اس کی قباحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ حرام اشیاء میں شفانہیں ہے ۔ ایک جگہ اللہ کے حبیب نے ارشادفرمایا کہ شراب نہ ہو کہ میام الخبائث ہے اور ای ام الخبائث کہ انسان شراب کی حالت بھی بھی اپنی ماں اور پھوبھی کے ساتھ بھی بدکاری کر بیٹھتا ہے ۔ اور بھی بہت ہی حدیثیں شراب کی مذمت میں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔شراب پینے والوں کے بارے میں اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں وعید میں بیان فرمائی ہیں حضور نے فرمایا کہ جودنیامیں شراب پیتے ہیں اللہ تعالی انہیں جہنمی سانیوں کا زہر پائے گا جسے پینے سے پہلے ہی اس کے چہرے کا گوشت گل کر برتن میں گر جائے گا اور جب وہ اسے اپنے گا تو اس کا گوشت اور کھال ادھر جائے گی جس سے سمی اذیت پائیں گے ( روح البیان ج ۴) ۔ ایک جگہ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جوشخص دنیا میں شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا اللہ تعالی اسے آخرت میں جہنم کی پیپ پلاۓ گا (روح البیان ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ دائی طور پر شراب پینے والا اگر مر گیا اسی حالت میں تو در بارخداوندی میں اس طرح آۓ گا جیسے ایک بت پرست ( مشکوۃ شریف) ۔ حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میری عزت و جلال کی قسم جو بندہ ایک گھونٹ بھی شراب پیئے گا میں اس کو اتناہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اسے چھوڑے گا میں اسے مقدس حوض سے پاؤں گا ( امام احمد بن حنبل ) ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ نے تین آدمیوں پر جنت حرام کر دی ہے ۔ وہ تین میں ہیں (۱) ہمیشہ شراب پینے والا ( ۲ ) والدین کی نافرمانی کرنے والا ( ۳ ) دیوث جو اپنے اہل میں بے حیائی کو دیکھے اور منع نہ کرے(نسائی)۔

شراب انسان کے لئے دین و دنیا دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے ۔ دینی نقصان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نارانسگی کوخرید کر اپنی آخرت بر باد کر لیتا ہے ۔ دنیوی نقصان یہ ہے کہ مختلف قسم کی مہلک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جو ہلاکت کا سبب بنتی ہیں ، لاکھوں عورتیں شرابی شوہر کے ظلم وستم کا نشانہ بنتی ہیں شراب پینے والا بے مروت ہو جاتا ہے، سماج اور معاشرہ کے لئے دردسر بن جا تا ہے ۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ شراب میں ہر طرف سے تباہی اور بربادی ہے، مال کی بھی اور جان کی بھی ۔ اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے ۔

سوال نمبر :04۔ پاکستان میں مختلف دیہی ترقیاتی پروگراموں کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ نیز دیہی ترقی کے طریقہ کار کی وضاحت کر یں۔

جواب۔

دیہات کے لوگوں کی زندگی کا ایک اور اہم پہلوتعلیم سے بے بہرہ ہونا ہے اگر چہ حکومت تعلیم کو عام کرنے کے لیے بہت ہی کوششیں کر رہی ہے مگر اس کے باوجود ہمارے اکثر دیہات میں ابھی تک تعلیم کی روشنی نہیں پہنچ پائی اس کے ساتھ ساتھ لوگ بھی تعلیم حاصل کرنا ضروری تصور نہیں کرتے ان کے خیال میں سکول بھیجنے کی بجائے بچے کو ھیتوں میں بھجنا زیادہ فائدہ مند ہے ۔ دیہات کے لوگ اپنی غربت کے ہاتھوں نہ تو پڑھائی کے لیے پیسہ خرچ کر سکتے ہیں اور نہ ہی وقت ۔ اس کے علاوہ اکثر دیہات ایسے ہیں جہاں پرائمری سکول بھی نہیں ہیں اس لیے لوگ دوسرے دیہات میں اپنے بچے بھیجنا پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان پڑھے ہیں یہ حالت صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ اکثر ترقی پذیر ممالک میں خواند و یا پڑھے لکھے افراد کی تعداد بہت ہی کم ہے اور جتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اکثر شہروں میں رہتے ہیں دیہات میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے مندرجہ ذیل جدول جو کہ آئی پی پی ایف کے جرید پی پی پی کے جرید نے پیپلز سے لیا گیا ہے اس سے ترقی پذیر ممالک میں نا خواندگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ علمی پسماندگی اور غربت و افلاس لازم وملزوم ہیں۔ ناخواندگی کے باعث کاشت کا ر جد ید زری معلومات سے بے بہرور ہتے ہیں زرعی

پیداوار میں اضافہ کرنے کی تدابیراور طریقوں کاعلم نہیں رکھتے ۔ اگر کاشتکار پڑھے لکھے ہوں تو وہ نہ صرف جدید معلومات زرمی سے استفادہ کر کے اپنی زرعی پیداوار بڑھنے کی تدابیر کر سکتے ہیں بلکہ اپنے روز مرہ کا حساب کتاب رکھ سکتے ہیں تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان کی معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا اور ان کے ذہن میں نئی ایجادات کے لیے وسعت اور بالغ نظری پیدانہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں نئی یجادات اپنانے کا حوصلہ پیدانہیں ہوتا۔ تعلیم ایک ایسا معاشرتی عمل ہے جس کے بغیر ہم افراد معا شر وترقی کی اہمیت نہیں سمجھا سکتے اور وہی ترقیاتی کاموں میں سرگرم حصہ لینے پر آما وہ کر سکتے ہیں تعلیم کے بغیر سابی اور ثقافتی تربیت بھی ممکن نہیں ہوتی چنانچہ لوگوں کی حالت بدلنے کے لیے ان کو اور ان کے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو تعلیم دینے کا بندوبست کرنا نہایت ضروری ہے۔ و یہی معاشرتی زندگی: دیہی زندگی شہری زندگی سے مختلف ہوتی ہے چونکہ ہماری آبادی کا تقریبا72 فیصد حصہ دیہات میں و بستا ہے اس لیے ان لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں اور دیہات کو ترقی دینے والے طریقہ کارکومندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو درج ذیل ہے

دیہات کاطبیعی ڈھانچہ

جونہی ہم شہروں سے وہی علاقوں کی طرف جاتے ہیں سب سے پہلے سرسبز کھیت اور کسان ہمارا استقبال کرتے ہیں جن میں کوئی فصل کو پانی دے رہا ہوتا کوئی زمین میں ہل چلا رہا ہوتا ہے کوئی بیچ ہور ہا ہوتا ہے تو کوئی فصل کاٹ رہا ہوتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نام دیہی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں پاکستان کے دیہی علاقوں میں لوگ زیادہ تر کچے مکانوں میں رہتے ہیں جن کی چھتیں شہتیروں پر گھاس پھونس ڈال کر بنائی جاتی ہے یہ گھر عموما کھلے کھلے ہوتے ہیں درمیان میں محن ہوتا ہے گھر کے کمروں میں عموماً کھڑ کی باروشندان ہوتے ہیں گلیاں اور محلے ترتیب سے نہیں بنے ہوتے اکثر گلیاں ٹیڑھی میڑھی ہوتی ہیں اور عموما گندی ہوتی ہیں اگر چہ ہر گھر انفرادی طور پر بیکوشش ضرور کرتا ہے کہ اپنے گھر کے سامنے کا حصہ صاف رکھے مگر اس کے باوجود چونکہ سرکاری طور پرکوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا اس لیے کئی جگہوں پر اس کے ڈھیر ملتے ہیں زندگی میں جدید سہولتوں کا فقدان ہے بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچ سکی سوئی گیس کی سہولت بھی موجود ہیں اکثر دیہات تک پکی سڑک نہیں جاتی پانی عموما ہنڈ پمپ سے حاصل کیا جا تا ہے بعض علاقوں میں جہاں پانی کی تلخ اونچی نہیں کنو میں کھودے جاتے ہیں

زرعی ترقیاتی بینک آف پاکستان

ا۔ مقاصد: بنک کا قیام 1961 ء میں عمل میں آیا۔ اس کا مقصد زری شعبوں میں کاشتکارکوقرضے فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ گاؤں کی طح پر گھر یا منعتیں لگانے کیلئے بھی قرضے فراہم کرنا اس بنک کا بنیادی مقصد تھا۔

ii۔ طریقہ کار: بنک کا شتکاروں کوان کی بہت فصل کیلئے قرضے فراہم کرتا ہے یہ قرضے آسمان مشعلوں میں واپس لئے جاتے ہیں اور کسان کو ں نے ان میں ورکر اس کی زمین کے مطابق قرضہ ماتا ہے عموماز میں گروی رکھی جاتی ہے یا فصل کے مطابق قرضہ کی شرائط طے کی جاتی ہیں ۔

نتائج:

پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق 81-1980 تک بنک نے 62-1066 ملین روپے کے قرضے فراہم کئے ۔ان

قرضوں کی رقم میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ 82-1991 ء میں یہ قرضے 38-1557 ملین تک پہنچ گئے ہیں۔ ان قرضوں کا 45 فیصد سے بھی زیادہ حصہ زرعی مشینری خریدنے کے کام آیا مگر بنک کی ان سہولتوں کے زیادہ تر فائدے بڑے کاشتکاروں کو حاصل ہوۓ کاشتکاروں کو کل رقم کا بمشکل 21 فیصد دیا گیا تا ہم اس قرضے کی بدولت بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور زراعت میں ترقی کا سبب بنا۔ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے طریق کار میں کارکن کے کردار کی اہمیت: کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کا انحصار صرف ایک شخص پر ہوتا ہے جسے ہم ترقیاتی کارکن یا ترقیاتی رہنما بھی کہ سکتے ہیں۔ چنانچہ اسے ہر دلعزیز اور قابل قبول شخصیت ہونے کے علاوہ جنتی اور دیانتدار بھی ہونا چاہئے ۔ اس کے علاوہ اسے اس کمیونٹی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے فوری حل کے بارے میں تھوڑا بہت علم بھی ضرور ہونا چاہئے مثلا چھوٹی چھوٹی بیماریوں کی صورت میں بیان کیلئے معالج ثابت ہوا تعلیم وتربیت میں استاد ، گھر یلو معاملات میں مشیر ، جھگڑے لے کرانے میں بیج اور مصالحت کنند و در اجتماعی کاموں میں ان کا رہنما ہونا چاہئے ۔اگر چہ وہ ان تمام معاملات میں ماہرین کی جگہ تو نہیں لے سکتا مگرلیکن ان تمام معاملات میں اس کی ایسی رائے ہونی چاہئے جو زیادہ تر لوگوں کو قبول ہو اور ان کے فوائد میں ہو ۔ اسے اس آبادی کیلئے جس ترقی پر اسے معمور کیا گیا ہو ایک مثال ہونا چاہئے تب جا کر کہیں اس طریقہ کار سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ تر قیاتی کارکن کو مندرجہ ذیل اصولوں کی روشنی میں اپنے کام کا آغاز کرنا چاہئے

1۔ کارکن کو ان لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرنے چاہئیں جن کے ساتھ وہ کام کرنا چاہتا ہے۔

کارکن لوگوں کی چھوٹی چھوٹی اور ہنگامی ضرورتوں کو پورا کر کے ان کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اگر وہ ان کی کسی معمولی بیماری کا علاج کر کے ان کو صحت و صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہے گا تو وہ آسانی سے اس کی بات سمجھ جائیں گے ۔ چونکہ یہ اعتاد اس نے حال ہی میں حاصل کیا ہوتا ہے اور اہل خانہ کو ایک مصیبت سے نجات دلانی ہوتی ہے اس لئے اس وقت ان کے جذبات واحساسات کا احترام کر کے انہیں سمجھا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ جب کوئی اس سے مشورہ طلب کرے تو کارکن کو اس کے ساتھ اس طرح سے بات کرنی چاہئے کہ وہ جان لے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اس کا کوئی ہدر نہیں اور اسے اپنے ایمان اور مسلم کے مطابق سیح مشور و دینا چاہئے ۔ اس طرح کے لگاتار عمل سے و واس معاشرتی گروہ میں ایک قابل احترام شخصیت بن جائے گا اور اسے کام کرنے میں آسانی ہوگی۔

2۔ کارکن کو ہرائی جانے والی تبد یلی کیلئے لوگوں کی رضامندی حاصل کر لینی چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ

کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے ۔

کارکن اگر ان لوگوں کی مقامی زبان میں بات کرنے والا ہو جن لوگوں میں اسے بھیجا گیا ہوتو وہ اس کی بات کو آسانی سے سمجھ جائیں گے نیز مقامی واقفیت کی بناء پر وہ مختلف منصوبے بنانے اور ان کی ترجیحات مرتب کرنے میں بھی زیادہ ماہر ہوگا۔ علاوہ ان میں اگر وہ ان لوگوں کا ہم عقید بھی ہوتو زیادہ اچھا ہے اس کے برعکس بیرونی ماہرین اور ٹیکنیک فتی لحاظ سے پیا ہے کتنی بھی املی کیوں نہ ہو وہ اگر لوگوں کے جذبات و احساسات سے ہم آہنگ نہ ہوگی تو مطلوبہ نتائج پیدا کرنے سے قاصر رہے گی ۔ اسی بات کوئی ۔آرمین نے اپنی کتاب ’’معاشرے اور ان کی ترقی میں ایشیائی ممالک کی فنی امداد کے سلسلے میں ہونے والی کانفرنس میں جنوب مشرقی ایشیاء کے نمائندوں کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ تمام نمائندے اس بات پر متفق تھے کہ گذسته چند سالوں کے دوران مختلف اداروں کی طرف سے دی جانے والے فنی امداد نہ صرف نتیجہ رہی بلکہ بعض حالات میں نقصان رساں بھی ثابت ہوئی کیونکہ و مغربی ممالک سے آنے والے ساز و سامان اور وہیں پر ترتیب دی گئی ٹیکنیک پریٹی تھی جس کا مقصد تیزی سے حاصل ہونے والے اور نظر آنے والے نتائج پیدا کرنا تھا۔ اس ساز و سامان اور ٹیکنیک پر کام کرنے والے بھی مغربی ماہرین تھے جو ٹیکنیک کی حد تک تو بہت ماہر تھے لیکن مقامی حالات سے بالکل ناواقف تھے۔ وہ ہر متوقع سوال کا جواب جانتے تھے لیکن جب وہ موقع پر پہنچتے تو ان کی تمام مہارت بے کار ثابت ہوتی ‘‘۔ مزیدآگے چل کر لکھتے ہیں کہ درحقیقت اب وہ تمام کارکن محسوس کرنے لگے ہیں کہ اگر وہ بھیں گے کہ وہ تمام خیالات اور منصوبے جو ان کے اپنے ماحول اور تہذیب وتمدن میں درست کسی دوسرے میں اسی طرح درست نتائج کے حامل ہوں گے تو نا کامی ان کا مقدمہ بن جائے گی‘۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ کارکن کا ان لوگوں میں سے ہونا لازمی ہے اور دو ان کا ہم عقید ہ ہونے بنا پر ان کی خوشی اورمی میں بھی شامل ہو سکے تو وہ ان میں مزید شیر و شکر ہو سکے گا اور پیاس کی اپنے مشن میں کامیابی ضمانت ہوگی ۔

کارکن کو انہیں اس بات کی یقین دہانی کروانی چاہیے کہ مجوزہ تبدیلی نہایت محفوظ ہے۔

کسی تبد یلی کوقبول کرتے ہوۓ لوگ اس بات کا پہلے سے یقین کرنا ضروری خیال کر ہیں گے کہ وہ نہیں ایسا کرنے سے لوگوں کی تضحیک کا نشانہ تو نہیں بن جائیں گے ۔ یا نہیں مالی طور پر نقصان تو نہیں برداشت کرنا پڑے گا مثال کے طور پر ہمارا ان پڑھ کاشت کار نے بیج ، نئے آلات زراعت اورکھیتی باڑی کے نئے طریقوں کو اپنانے سے ہچکچائے گا اور سوچے گا کہ ایسا کرنے سے کہیں میری فصل تو نہیں ماری جاۓ گی ۔ میرا سال تو ضائع نہیں ہو جائے گا وہ ان تبدیلیوں کو حکومت کی طرف سے کئے گئے تجربوں کی روشنی میں بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوگا کہ اس لئے کہ جب وہ اپنے اور حکومت کے وسائل کا موازنہ کرے گا یہی مجھے گا کہ حکومت تو یہ سب کچھ کر سکتی ہے میں انہیں ضمانت فراہم کر کے تمام لوگوں کیلئے کا عملی مظاہرہ کرنے کا بندوبست کر نا ہوگا تب کہیں جا کر وہ انہیں قائل کر سکے گا۔

سوال نمبر :05۔ مندرجہ ذیل پرنوٹ لکھیں۔

) شہری علاقوں میں مختلف جرائم

جواب: دراصل بچوں کی بے راہ روی میں گھر کے برے ماحول اور ناقص نگرانی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ والدین کو آج کل اقتصادی و سماجی ذمہ داریوں سے بہت کم وقت ماتا ہے۔ نیچے اپنا بیشتر وقت گلی کو چوں اورآوار ومزاج لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں ۔ بچوں کو نیک و بد بنانے میں دوستوں کی صحبت کافی اہمیت رکھتی ہے ۔ پڑوس میں اچھے برے ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں ۔ والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو سلجھے ہوۓ بچوں کی صحبت سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کر میں اورانہیں بے راہ رو نیچے کی صحبت سے بچائیں تا کہ وہ نیکی کے راستے پر گامزن رہ ہیں بچوں کیلئے صالح تعلیم و تربیت کی سخت ضرورت ہے ۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ ان کو اسلامی اقدار و نظریات اور قانون کی اہمیت سے آگاہ کر میں وہ خود کو بھی تربیت اطفال سے آگاہ کر میں ۔ تا کہ مستقبل کے رہنماؤں کو صالح زندگی بسر کرنے میں آسانی رہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تربیت اطفال پر معیاری کتابیں لکھوائی جائیں اور انہیں سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے کہ بچوں کوخوش اسلوبی سے حاصل کرنے کیلئے تربیت اطفال کی تعلیم کو عام کر نے ضرورت ہے۔ جرائم کی روک تھام کیسے ممکن ہے: پاکستان اسلامی قوانین کے فروغ و نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور اب ان قوانین کوفروغ دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ۔ اس لئے یتوقع پیل ہے کہ اس سے انسداد جرائم میں کافی مدد ملے گی ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر ہمارے قوانین مذہبی تعلقات سے نم آہنگ ہوں اور سماجی انحراف اور جرم ومصیبت کا دروازہ بند ہو جائے۔ لیکن اس مقصد کے لئے ہمیں مذہبی اور قانونی تعلیمات کو بھی کافی رواج دینا پڑے گا اور زندگی میں دین ودنیا کی جوتسیم پیدا ہوگئی ہے اسے بھی ختم کرنا ہوگا ۔ اسلام کے شہری اصولوں کی اگر لوگ پیروی مکمل طور پر کرنا شروع کردیں تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ ملک میں مکمل امن وامان اور سکون قائم ہو جائے گا۔ مذہب اسلام انسان میں خدا کے سامنے جوابدہی ،خوف خدا اور خدا ترسی پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان کو اس بات کو یقین ہو جائے نیز اس بات کا با قاعدہ پر پاراور تبلیغ کی جائے تو جرائم قتل ، ڈکیتی، چوری کا قلع قمع ہوسکتا ہے ۔ اسلامی سزائیں بھی رائج کر دی جائیں تو ایسے جرائم بہت کم ہو جائیں گے جس طرح کہ سعودی عرب میں جرائم بہت کم پاۓ جاتے ہیں کیونکہ وہاں اسلام کے مطابق انصاف ملتا ہے۔ اور مجرم کو سخت سزادی جاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جائے ۔ کیونکہ اگر افراد کو یہ بھی یقین ہو کہ قوانین کی خلاف ورزی پر نہ صرف وہ حکومت کا مجرم ہے بلکہ خدا کا مجرم بھی ہو گا تو جرائم کرنے سے پہلے و وضرور سوچے گا ۔

 ناقص منڈی کے دیہی زندگی پراثرات

جواب: ناقص منڈی کے دیہی زندگی پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں :

1۔ ناقص منڈی کی وجہ سے اشیاء کی خرید وفروخت میں مشکل پیش آتی ہے۔

2 ۔ ناقص منڈی کی وجہ سے صحت کے اصولوں کا پاس نہیں رکھا جا تا ۔

3۔ ناقص منڈی کی وجہ سے کاشت کا کوا پنی فصل کا ؤں میں ہی آ ڑھی کے ہاتھوں اونے پونے فروخت کرنی پڑتی ہے ۔

4۔ ناقص منڈی دیہی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

 

Course  Sociology -II( 413 )

Assignmen:: t no 2.

Semester::  2022 spring

 

 

 

سوال نمبر: 01۔ کثرت آبادی ترقی پذیر ممالک کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے کیا اسباب میں وضاحت کریں۔

 جواب:

کثرت آبادی سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے اگر چہ اللہ تعالی نے زمین کو طرح طرح کی نعمتوں اور وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن آج کے ترقیاتی یافتہ دور میں خدا کی نیمتیں بتدریج کم ہوتی جارہی ہیں اور دنیا کی ایک بڑی آبادی کو ایک وقت کی روٹی بڑی مشکل سے میسر آتی ہے ماہرین عمرانیات ، اقتصادیات و آبادیات اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ وسائل سے زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیتے ہیں بڑھتی ہوئی آبادی کا یہ سیلاب پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے کثرت آبادی کی روک تھام کے لیے چند اقدامات درج ذیل ہیں

: ا۔ عورت کے روایتی کردار میں تبدیلی:

پاکستان میں برادری نظام کی موجودگی مشترکہ خاندانی نظام اور دیگر ثقافتی اثرات کی وجہ سے معاشرے میں مردکوعورت پر فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے عورت اپنے روایتی کردار یعنی گھر اور بچوں کی پرورش تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اس تصور کوتوڑنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر ملک کی آدھی آبادی گھر میں قید ہو کر رہ جاۓ یا ایسے کام کرے جس کی نوعیت غیر پیداواری ہو تو ظاہر ہے یہ بات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور کثرت آبادی کا باعث ہے خواتین کا مجاب کر ناکسی حد تک اس مسئلے کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

خواتین کی تعلیم:

خواتین میں خواندگی کی سطح خصوصا دیہی علاقوں میں بہت کم ہے خواتین میں تعلیم کے پھیلاؤ کی افادیت کا انداز داس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ نا خواند و خواتین کی نسبت ایسی خواتین جنہوں نے تعلیم حاصل کی ہوان کے ہاں بچوں کی تعداد نصف ہوتی ہے اس لیے چھوٹے خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے اور شرح پیدائش کو کنٹرول کرنے کے لیے خواتین کی تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔

افرادی قوت کا صحیح استعمال:

افرادی قوت کا بیج استعمال بھی آبادی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جیسے کہ نو جوانوں کو ہنر سکھائے جائیں اور ان کی پیداواری صلاحیتوں کو بروے کا را یا جاۓ تا کہ بھکاری نہ بنیں اور بے کار نہ پھر ہیں

۴۔ خاندانی منصوبہ بندی کا شعور

خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد ، خاندان میں افراد کی تعداد کو خاندان کے وسائل کے مطابق رکھتا ہے نہ کے نسل انسانی کی بندش ہے پاکستان میں آبادی کے کنٹرول سے متعلق جتنے بھی منصوبے کام کر رہے ہیں ان کی تیج افادیت کی آگاہی کے لیے ملک گیر سطح پر نظم کوششوں کی ضرورت ہے جس کے لیے تمام ذرائع بروئے کارلانے چاہئیں جن میں میڈ یاتعلیمی اداروں اور دیہی سطح پر بزرگوں کو شامل کعنا ضروری ہے

۵۔ دیہی آبادی کی ترقی

دیہی آبادی کو معاشی و معاشرتی ترقی دینے اور بہترین صحت غذا اورتعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے دیہی معاشروں میں عورت کا مقام و معیار بلند کرنے میں مدد ملے گی جس سے ملکی ترقی اور ملک کی آبادی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں

مدد ملے گی۔

۔ قدرتی وسائل کا بہتر استعمال:

معاشی ومعاشرتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا بیج استعمال بھی آبادی کے اضافے کو کنٹرو ل کر سکتا ہے کیوں کہ جتنا کوئی معاشرہ خوشحال ہوگا اور وسائل کی فراوانی ہوگی اضافہ آبادی بھی بھی منا نہیں بنے گی قدرتی وسائل میں پانی کا صحیح استعمال جیسا کہ ڈیز کی تعمیر کے ذریعے پانی کے ذخائر بڑھانا ، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، جدید زرعی آلات کا استعمال ، کھاد میں اور توانائی کے نئے ذخائر وغیرہ کی دریافت شامل ہیں ان اصولوں پر ٹیل کیا جاۓ اور دیہی علاقوں کی ترقی پر خاص توجہ دی جائے تو پورا معاشرہ خوشحال ہوگا اور بے روز گاری کم ہو جائے گی وسائل کے بیج استعمال و منصفا تقسیم سے لوگوں میں محنت کا جذ بداجا گر ہو گا اور افراد کا معیار زندگی بلند ہوگا اور یوں معاشرہ امن وخوشحالی کی جانب گامزن ہو گا اور کثرت آبادی کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوگا۔

سوال نمبر :02۔غربت کے معاشرے پر عمومی اثرات بیان کر میں نیز غربت کی شدت کو کم کرنے کیلئے کس قسم کے اقدامات زیادہ مئوثر ثابت ہوں گے

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غربت معاشرے میں بگاڑ کی ایک بہت بنیادی وجہ ہے ۔ پر ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں جن کی وجہ سے ان منفی رویوں میں کمی لائی جاسکتی ہے اور ایک خوشگوار ماحول وفضا کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

 ا۔نظام تعلیم کی اصلاح اور ترقی:

ہمارے معاشرے میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں رہی اور غیر رکی تعلیم دی جاتی ہے تا کہ بچہ اپنے مستقبل میں معاشرے کا ایک کامیاب فرد بن سکے۔ موجودہ نظام کی اصلاح کی جاۓ ۔ جہاں خامیاں اور کمزوریاں ہیں انہیں دور کیا جائے تا کہ جب و عملی میدان میں آئیں تو منظم زندگی گزار ہیں ۔ خاندان کے بعد دوسرا ہم معاشرتی اور تعلیم کا ہے ۔ جہاں فروکی ابتدائی عمر میں اخلاقی تربیت کی جاتی ہے اور اس میں حب الوطنی کا جذ بہ ابھارا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں Guidance and Councilling کے مراکز ہیں ۔استاد جب بچے کو اوسط درجے سے منحرف دیکھتا ہے تو اسے مراکز میں بھیج دیتا ہے جہاں تجربہ کار مشیر اور نفسیاتی طبیب بچوں کا علاج نہایت محنت اور خلوص سے کرتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک جن میں اداروں اور مشیروں کا تعلق عدالتوں سے نہیں ہوتا ان کا اصل کام خطا کاری کوروکن نہیں ہوتا بلکہ مریض کی جذباتی اور شخصیاتی نکالیف کا حل ڈھونڈ نا ہوتا ہے ممکن ہے خطا کار کی خطاؤں کی تہہ میں ان کی بیجانی یانی تکالیف موجودنہ ہوں کیونکہ خطا کے اسباب صرف نفسیاتی ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی قسم کے ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح مقطرب بچوں اور نو جوانوں کیلئے ایک اسلامی طریقہ گروہی علاج معالجہ Group Thesaphy ہے ۔ یہ گروہ خود نفسیاتی طبیب چھتا ہے۔اس میں کھیل کود اور اسی قسم کی دوسری تفریحی سرگرمیاں کا انتظام کیا جا تا ہے جو گروہ کا لیڈر ہوتا ہے اسے اس کا علم ہوتا ہے کہ بچوں کو کیا تکلیف ہے یا انہیں کیا مسائل درپیش ہیں ۔ وہ ہر بچے کے کردار کا مطالعہ کرتا ہے۔ اسے تسلی دلاسہ دیتا ہے اور پیار محبت سے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان گروہوں کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں ہوتا۔ بچے خو اپنی تکالیف کا مظاہرہ کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کا حل ڈھونڈتے ہیں ۔ اگر بڑوں کیلئے گروہ بنا ہوتو کھیل تماشے کے بجائے انتلو، بحث مباحثہ مذاکرہ ہوسکتا ہے۔ انتلو کیلئے بھی کوئی موضوع پہلے سے بھی طے نہیں کیا جا تا بلکہ جو موضوع بھی گروہ زیر بحث ا نا چاہتا ہوا سکتا ہے۔ علاج معالجہ کے جو مختلف طریقے بیان ہو چکے ہیں ان کی بنیاد اس مفروضہ پر ہے کہ خطا کاری میں خاندان کا بڑا حصہ ہے۔ خاندان کی اگر اصلاح ہو جائے تو مجرمانہ رویے میں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن خاندان بھی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اس کی اصلاح بھی معاشرے کی اصلاح پر منصر ہے ۔

ii۔ مجرمانہ روی اور اصلاحی طریقہ کار

مجرمانہ رویوں کیلئے جو اصلاحی طریقے استعمال ہوتے ہیں وہ مغربی ماہرنفسیات اور ماہر جرمیات کے مرتب کردہ ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طریقہ ان لوگوں کو اور ان کے والدین کو نفسیاتی طبی معاجہ مہیا کرتا ہے۔ اس کیلئے شرط یہ ہوتی ہے کہ ایسی پنی علامات موجود ہوں جو نشاندہی کر سکیں کہ اصلاح کے مثبت نتائج ہوں گے۔ وہ بچے جو عدم تحفظ ،احساس کمتری یا کسی اور ایسے ہی مخصوص رویے کا شکار ہوں جو کہ انہیں مطمئن زندگی گزارنے میں رکاوٹ کا احساس دلاے تو انہیں نفسیاتی کلینک میں علاج معالجہ کیلئے داخل کرا دینا چاہیے

۔ معاشرتی و ثقافتی اقدار

: جرائم کنٹرول کرنے میں معاشرتی اور ثقافتی اقداربھی اہمیت رکھتے ہیں جب تک معاشرے میں عملی طور پر برائی کے خلاف سخت ریمل نہیں ہو گا اس وقت تک جرائم کی جڑیں مضبوط رہیں گی ۔ جرائم کو یکسر تو کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن معاشرے میں اجتماعی رویے کی وجہ سے منفی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصایشکنی کی جاسکتی ہے۔ معاشرتی اور ثقافتی اقدار میں جرائم اور غیر ذمہ دارانہ معاشرتی رویوں کا سختی سے نوٹس لیا جائے لیکن جہاں تک اصلاحی پہلو کا تعلق ہے اس کیلئے معاشرتی نظام میں اتنی چیک ضرور ہونی چاہیے کہ وہ اس فرد کے ساتھ ہمدردی اور ذمہ دارانہ رو میدر کھے جو جرائم کی دنیا سے نہ صرف نکل آتا ہے بلکہ شائستہ اطوار اپنا تا ہے اور معاشرے میں ایک معتبر مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

۱۷۔ بے روزگاری میں کمی اور موجودہ ذرائع کا استعمال:

معیشت کسی بھی ملک یا معاشرے کے اقدار اور طرز زندگی پر گہرا اثر رکھتی ہے ۔ جس معاشرے کی معیشت مضبوط ہوگی وہاں جرائم کسی حد تک کم ہوں گے یا وہ جرائم سرزد ہوں گے جن کا تعلق معیشت سے کم ہو گا ایسے معاشرے میں زیادہ تر وہ جرائم سرزد ہوتے ہیں جو عیاشی کے تصور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معیشت کا نظام ایسی پالیسی کی ٹھوس بنیادوں پر ہونا چاہیے جہاں ہر فر دکواس کی اپنی قابلیت یا جسمانی مشقت کے مطابق اجرت ملے ۔ ان ممالک نے زندگی کے ہر دوسرے شعبے میں ترقی کی ہے جہاں ہر کام کرنے والے کو اس کی اہمیت و قابلیت اور ضرورت کے مطابق اجرت اور سہولیات ملتی ہیں ۔ موجودہ ذرائع کے استعمال میں زیادہ سے زیادہ افراد کو شامل کیا جاۓ ۔ بچھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے انہیں مزید بہتری کیلئے آسان اقساط پر قرضنے کی سہولیات آسانی سے فراہم ہوں ۔ ہنر مندوں کی مزید تربیت کا بہتر انتظام موجود ہو اور ان سے حاصل شد و پیداوار کا نہیں جائز حصہ دیا جائے

شادی شدہ افراد کی تربیت:

شادی شدہ مردوں اور عورتوں کیلئے مشاورتی مراکز ہونے چاہیے ۔ جہاں ڈاکٹر ، نفسیاتی طبیب ، وکیل اور معاشرتی ماہر ہوں شادی شدہ اشخاص کو صلاح مشورہ د میں جو میاں بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہ کر پائے ہوں ۔ بعض عائلی عدالتیں بھی اس نوعیت کی ہوتی ہیں وہ بھی میاں بیوی کو سمجھا بجھا سکتی ہیں اور ان کی قانونی مشکلات دور کر سکتی ہیں ان مشاورتی مراکز اور عائلی عدالتوں کو گو جرمانہ رویے کی روک تھام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن بالواسط تعلق ضرور ہے ۔ تجربات کی روشنی میں ثابت ہے کہ جن گھروں میں جھگڑے عام ہوتے ہیں وہاں مجرمانہ رویے پرورش پاتے ہیں ۔اس لئے جو مدو بھی والدین کو دیجاسکے جوان کی اور نوعمروں کی زندگی کو آسودہ بنا سکے وہ مجرمانہ رویے کو کم کرنے کیلئے ایک باہمت اور حوصلہ افزاء قدم ہوگا۔

معاشرے کا غیر ذمہ داراندرو یار اس کے اثرات:

ہمارے معاشرے میں کئی جرم لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں لیکن عوام کسی قسم کا رول کرنے سے گریز کرتی ہے یہ بالکل ایسی حقیقت کی مانند ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے ہمارے روز مرہ زندگی سے اس کی مثال کچھ اس طرح بھی دی جاسکتی ہے جیسے راہ چلتی لڑکیوں پر فقرے بازی ہو یا نہیں کسی اور طریقے سے تنگ کیا جاۓ ، لیکن دوسرے افرادائیں حرکات پر دھیان نہیں دیتے اور خاموشی اختیار کرتے ہیں اسی طرح محلوں میں فحاشی ، جوۓ اور شراب نوشی کھلے عام ہوتی ہے لیکن معاشرے کاریٹیل سر در بتا ہے جب معاشرے میں ایسے حالات ہوں تو جرائم کا سد باب کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اگر عوام باشعور ، بیدار اور ذمہ دار ہوں تو جرائم پیشہ لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے ۔ اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عار محسوس نہیں کرتے مثلا دکا نداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورا نہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تا ہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اس طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جوصرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور ٹینزم انہیں بھی دھوکہ.       دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بد عہدی نہ کریں تو وہ بھی شکایت نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کام کو براگر دائیں گے ، اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آگاہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی بینک لونے جاتے ہیں پاراہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نا مناسب سلوک کیا جا تا تب معاشر وقتی طور پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتاہے لیکن پھر ٹہراؤ آجاتا ہے موم ہمارا معاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھٹری دکھائی دے تو نام مطمئن ہو جاتے ہیں اورکسی تنظیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے ۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اور ظلم وتشد د کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو ٹیکس زیادہ دینے پڑتے ہیں اس طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عارمحسوس نہیں کرتے مشار دکانداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورانہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تاہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اسی طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جو صرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور مجرم نہیں بھی دھوکہ دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بدعہدی نہ کر میں تو وہ بھی شکایت نہیں کر یں گے اور نہ ہی اس کام کو برا گردانیں گے ،اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آ گا ہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی جینک لوٹے جاتے ہیں یا راہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا تا تب معاشرہ وقتی طور پر اپنے رومل کا اظہار کرتا ہے لیکن پھر ٹھہراؤ آ جاتا ہے عمو ماہمارامعاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھڑی دکھائی دے تو ہم مطمئن ہو جاتے ہیں اور کی تعلیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رو بی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اورظلم وتشدو کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو یکس زیاد دینے پڑتے میں اسی طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیں ہیں اور جرم وسیاست کا کوئی باضابطہ تعلق نہیں ہے تو جرم اور مجرمانہ رویوں میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے ۔

سوال نمبر: 03۔ شراب نوشی کے سابی نقصانات کی فہرست مرتب کر میں نیز پاکستان میں پچی شراب کے استعمال کی حوصاٹیکنی کیلئے تجاویز دیں۔

جواب۔

ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی برائیاں جنم لے چکی ہیں وہیں نشہ جیسی برائی نے بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہے ۔ کثیر تعداد میں لوگ نشے کے عادی ہو چکے ہیں۔ بوڑھا ہو یا نو جوان ، مرد ہو یا عورت ،امیر ہو یا غریب ،افسر ہو یا حا کم ،تاجر ہو یا کسان بے شمار افراد جانے انجانے نشے کی لت میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انسان بڑا ہی نادان ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے جب کہ اللہ نے قران کریم میں ارشاد فرمایا اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو (البقر 195- ) ۔اسلام نے ہر نشہ آور اشیاء کوحرام قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ حضور سے کسی نے آپ کے تبع کے بارے میں پوچھا جو شہد سے بنا تھاتو آپنے فرمایا کہ ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے ( بخاری ومسلم )۔ اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہر دوشی جو نشہ دینے والی ہے و واسلام کی نظر میں حرام ہے اور اہل اسلام کو اس کا استعمال ہرگز روا نہیں۔ خواہ وہ بھانگ ہو،افیون ، چرس ، یا شراب اور اس کے علاوہ دیگر نشہ آور منشیات سب اسلام میں حرام ہے ایک اور حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب نے نشہ لانے والی اور فتور پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا(ابوداؤد ) ۔ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ بیشمار برائیوں میں ملوث تھے۔ وہیں شراب بھی عام تھی ،لوگ کثرت سے شراب پیتے تھے، جب اسلام آیا تو قرآن میں اللہ نے اس کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کو بھی بیان کیا اور ہمیشہ کے لئے شراب کو حرام کر دیا۔ اللہ جل شانہ نے ارشادفرمایا اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام میں سوان سے بچتے رہوتا کہ تم نجات پاؤ‘‘(المائد 90-)۔ شراب کی نحوست کا انداز اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس کو شیطانی کام کیا اور بت پرستی کے ساتھ بیان کیا۔ اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں شراب کی مذمت اور اس کی قباحت و خباثت کو واضح انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ سے شراب کے متعلق دریافت فرمایا تو اللہ کے حبیب نے فرمایا کہ میکبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ سب برائی کی سردار ہے (الزواجر )۔ اللہ کے نبی نے ارشادفر مایا کہ جوشخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز شراب نہ پیئے اور جواللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب ہو( طبرانی)۔امام طبرانی نے جم کبیر میں ایک حدیث حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے ۔ آپ فرماتیں ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہوئی تو میں نے پیالے میں نبیذ بنایا جوھجور سے بنایا ہوا ایک قسم کا مشروب ہے ) اللہ کے رسول میرے گھر تشریف لاۓ تو و وابل ( چولھے پر رہی تھی۔ آپ نے فرمایا ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا میری بیٹی بیمار ہے اس کی دوا بنا رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایاکہ اللہ نے حرام کردہ اشیاء میں میری امت کے لئے شفا نہیں رکھی ہے۔ ایک حد میں حضرت وائل حضری سے مروی ہے کہ طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا ، آپ نے ان کو منع فرمایا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ میں تو صرف دوا کے لیے شراب بنا تا ہوں حضور نے ارشادفرمایا کہ وہ دوا نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی بیماری ہے (مشکوۃ )۔ مذکورہ احادیث سے شراب کی حرمت اور اس کی قباحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ حرام اشیاء میں شفانہیں ہے ۔ ایک جگہ اللہ کے حبیب نے ارشادفرمایا کہ شراب نہ ہو کہ میام الخبائث ہے اور ای ام الخبائث کہ انسان شراب کی حالت بھی بھی اپنی ماں اور پھوبھی کے ساتھ بھی بدکاری کر بیٹھتا ہے ۔ اور بھی بہت ہی حدیثیں شراب کی مذمت میں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔شراب پینے والوں کے بارے میں اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں وعید میں بیان فرمائی ہیں حضور نے فرمایا کہ جودنیامیں شراب پیتے ہیں اللہ تعالی انہیں جہنمی سانیوں کا زہر پائے گا جسے پینے سے پہلے ہی اس کے چہرے کا گوشت گل کر برتن میں گر جائے گا اور جب وہ اسے اپنے گا تو اس کا گوشت اور کھال ادھر جائے گی جس سے سمی اذیت پائیں گے ( روح البیان ج ۴) ۔ ایک جگہ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جوشخص دنیا میں شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا اللہ تعالی اسے آخرت میں جہنم کی پیپ پلاۓ گا (روح البیان ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ دائی طور پر شراب پینے والا اگر مر گیا اسی حالت میں تو در بارخداوندی میں اس طرح آۓ گا جیسے ایک بت پرست ( مشکوۃ شریف) ۔ حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میری عزت و جلال کی قسم جو بندہ ایک گھونٹ بھی شراب پیئے گا میں اس کو اتناہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اسے چھوڑے گا میں اسے مقدس حوض سے پاؤں گا ( امام احمد بن حنبل ) ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ نے تین آدمیوں پر جنت حرام کر دی ہے ۔ وہ تین میں ہیں (۱) ہمیشہ شراب پینے والا ( ۲ ) والدین کی نافرمانی کرنے والا ( ۳ ) دیوث جو اپنے اہل میں بے حیائی کو دیکھے اور منع نہ کرے(نسائی)۔

شراب انسان کے لئے دین و دنیا دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے ۔ دینی نقصان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نارانسگی کوخرید کر اپنی آخرت بر باد کر لیتا ہے ۔ دنیوی نقصان یہ ہے کہ مختلف قسم کی مہلک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جو ہلاکت کا سبب بنتی ہیں ، لاکھوں عورتیں شرابی شوہر کے ظلم وستم کا نشانہ بنتی ہیں شراب پینے والا بے مروت ہو جاتا ہے، سماج اور معاشرہ کے لئے دردسر بن جا تا ہے ۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ شراب میں ہر طرف سے تباہی اور بربادی ہے، مال کی بھی اور جان کی بھی ۔ اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے ۔

سوال نمبر :04۔ پاکستان میں مختلف دیہی ترقیاتی پروگراموں کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ نیز دیہی ترقی کے طریقہ کار کی وضاحت کر یں۔

جواب۔

دیہات کے لوگوں کی زندگی کا ایک اور اہم پہلوتعلیم سے بے بہرہ ہونا ہے اگر چہ حکومت تعلیم کو عام کرنے کے لیے بہت ہی کوششیں کر رہی ہے مگر اس کے باوجود ہمارے اکثر دیہات میں ابھی تک تعلیم کی روشنی نہیں پہنچ پائی اس کے ساتھ ساتھ لوگ بھی تعلیم حاصل کرنا ضروری تصور نہیں کرتے ان کے خیال میں سکول بھیجنے کی بجائے بچے کو ھیتوں میں بھجنا زیادہ فائدہ مند ہے ۔ دیہات کے لوگ اپنی غربت کے ہاتھوں نہ تو پڑھائی کے لیے پیسہ خرچ کر سکتے ہیں اور نہ ہی وقت ۔ اس کے علاوہ اکثر دیہات ایسے ہیں جہاں پرائمری سکول بھی نہیں ہیں اس لیے لوگ دوسرے دیہات میں اپنے بچے بھیجنا پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان پڑھے ہیں یہ حالت صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ اکثر ترقی پذیر ممالک میں خواند و یا پڑھے لکھے افراد کی تعداد بہت ہی کم ہے اور جتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اکثر شہروں میں رہتے ہیں دیہات میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے مندرجہ ذیل جدول جو کہ آئی پی پی ایف کے جرید پی پی پی کے جرید نے پیپلز سے لیا گیا ہے اس سے ترقی پذیر ممالک میں نا خواندگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ علمی پسماندگی اور غربت و افلاس لازم وملزوم ہیں۔ ناخواندگی کے باعث کاشت کا ر جد ید زری معلومات سے بے بہرور ہتے ہیں زرعی

پیداوار میں اضافہ کرنے کی تدابیراور طریقوں کاعلم نہیں رکھتے ۔ اگر کاشتکار پڑھے لکھے ہوں تو وہ نہ صرف جدید معلومات زرمی سے استفادہ کر کے اپنی زرعی پیداوار بڑھنے کی تدابیر کر سکتے ہیں بلکہ اپنے روز مرہ کا حساب کتاب رکھ سکتے ہیں تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان کی معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا اور ان کے ذہن میں نئی ایجادات کے لیے وسعت اور بالغ نظری پیدانہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں نئی یجادات اپنانے کا حوصلہ پیدانہیں ہوتا۔ تعلیم ایک ایسا معاشرتی عمل ہے جس کے بغیر ہم افراد معا شر وترقی کی اہمیت نہیں سمجھا سکتے اور وہی ترقیاتی کاموں میں سرگرم حصہ لینے پر آما وہ کر سکتے ہیں تعلیم کے بغیر سابی اور ثقافتی تربیت بھی ممکن نہیں ہوتی چنانچہ لوگوں کی حالت بدلنے کے لیے ان کو اور ان کے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو تعلیم دینے کا بندوبست کرنا نہایت ضروری ہے۔ و یہی معاشرتی زندگی: دیہی زندگی شہری زندگی سے مختلف ہوتی ہے چونکہ ہماری آبادی کا تقریبا72 فیصد حصہ دیہات میں و بستا ہے اس لیے ان لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں اور دیہات کو ترقی دینے والے طریقہ کارکومندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو درج ذیل ہے

دیہات کاطبیعی ڈھانچہ

جونہی ہم شہروں سے وہی علاقوں کی طرف جاتے ہیں سب سے پہلے سرسبز کھیت اور کسان ہمارا استقبال کرتے ہیں جن میں کوئی فصل کو پانی دے رہا ہوتا کوئی زمین میں ہل چلا رہا ہوتا ہے کوئی بیچ ہور ہا ہوتا ہے تو کوئی فصل کاٹ رہا ہوتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نام دیہی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں پاکستان کے دیہی علاقوں میں لوگ زیادہ تر کچے مکانوں میں رہتے ہیں جن کی چھتیں شہتیروں پر گھاس پھونس ڈال کر بنائی جاتی ہے یہ گھر عموما کھلے کھلے ہوتے ہیں درمیان میں محن ہوتا ہے گھر کے کمروں میں عموماً کھڑ کی باروشندان ہوتے ہیں گلیاں اور محلے ترتیب سے نہیں بنے ہوتے اکثر گلیاں ٹیڑھی میڑھی ہوتی ہیں اور عموما گندی ہوتی ہیں اگر چہ ہر گھر انفرادی طور پر بیکوشش ضرور کرتا ہے کہ اپنے گھر کے سامنے کا حصہ صاف رکھے مگر اس کے باوجود چونکہ سرکاری طور پرکوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا اس لیے کئی جگہوں پر اس کے ڈھیر ملتے ہیں زندگی میں جدید سہولتوں کا فقدان ہے بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچ سکی سوئی گیس کی سہولت بھی موجود ہیں اکثر دیہات تک پکی سڑک نہیں جاتی پانی عموما ہنڈ پمپ سے حاصل کیا جا تا ہے بعض علاقوں میں جہاں پانی کی تلخ اونچی نہیں کنو میں کھودے جاتے ہیں

زرعی ترقیاتی بینک آف پاکستان

ا۔ مقاصد: بنک کا قیام 1961 ء میں عمل میں آیا۔ اس کا مقصد زری شعبوں میں کاشتکارکوقرضے فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ گاؤں کی طح پر گھر یا منعتیں لگانے کیلئے بھی قرضے فراہم کرنا اس بنک کا بنیادی مقصد تھا۔

ii۔ طریقہ کار: بنک کا شتکاروں کوان کی بہت فصل کیلئے قرضے فراہم کرتا ہے یہ قرضے آسمان مشعلوں میں واپس لئے جاتے ہیں اور کسان کو ں نے ان میں ورکر اس کی زمین کے مطابق قرضہ ماتا ہے عموماز میں گروی رکھی جاتی ہے یا فصل کے مطابق قرضہ کی شرائط طے کی جاتی ہیں ۔

نتائج:

پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق 81-1980 تک بنک نے 62-1066 ملین روپے کے قرضے فراہم کئے ۔ان

قرضوں کی رقم میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ 82-1991 ء میں یہ قرضے 38-1557 ملین تک پہنچ گئے ہیں۔ ان قرضوں کا 45 فیصد سے بھی زیادہ حصہ زرعی مشینری خریدنے کے کام آیا مگر بنک کی ان سہولتوں کے زیادہ تر فائدے بڑے کاشتکاروں کو حاصل ہوۓ کاشتکاروں کو کل رقم کا بمشکل 21 فیصد دیا گیا تا ہم اس قرضے کی بدولت بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور زراعت میں ترقی کا سبب بنا۔ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے طریق کار میں کارکن کے کردار کی اہمیت: کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کا انحصار صرف ایک شخص پر ہوتا ہے جسے ہم ترقیاتی کارکن یا ترقیاتی رہنما بھی کہ سکتے ہیں۔ چنانچہ اسے ہر دلعزیز اور قابل قبول شخصیت ہونے کے علاوہ جنتی اور دیانتدار بھی ہونا چاہئے ۔ اس کے علاوہ اسے اس کمیونٹی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے فوری حل کے بارے میں تھوڑا بہت علم بھی ضرور ہونا چاہئے مثلا چھوٹی چھوٹی بیماریوں کی صورت میں بیان کیلئے معالج ثابت ہوا تعلیم وتربیت میں استاد ، گھر یلو معاملات میں مشیر ، جھگڑے لے کرانے میں بیج اور مصالحت کنند و در اجتماعی کاموں میں ان کا رہنما ہونا چاہئے ۔اگر چہ وہ ان تمام معاملات میں ماہرین کی جگہ تو نہیں لے سکتا مگرلیکن ان تمام معاملات میں اس کی ایسی رائے ہونی چاہئے جو زیادہ تر لوگوں کو قبول ہو اور ان کے فوائد میں ہو ۔ اسے اس آبادی کیلئے جس ترقی پر اسے معمور کیا گیا ہو ایک مثال ہونا چاہئے تب جا کر کہیں اس طریقہ کار سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ تر قیاتی کارکن کو مندرجہ ذیل اصولوں کی روشنی میں اپنے کام کا آغاز کرنا چاہئے

1۔ کارکن کو ان لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرنے چاہئیں جن کے ساتھ وہ کام کرنا چاہتا ہے۔

کارکن لوگوں کی چھوٹی چھوٹی اور ہنگامی ضرورتوں کو پورا کر کے ان کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اگر وہ ان کی کسی معمولی بیماری کا علاج کر کے ان کو صحت و صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہے گا تو وہ آسانی سے اس کی بات سمجھ جائیں گے ۔ چونکہ یہ اعتاد اس نے حال ہی میں حاصل کیا ہوتا ہے اور اہل خانہ کو ایک مصیبت سے نجات دلانی ہوتی ہے اس لئے اس وقت ان کے جذبات واحساسات کا احترام کر کے انہیں سمجھا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ جب کوئی اس سے مشورہ طلب کرے تو کارکن کو اس کے ساتھ اس طرح سے بات کرنی چاہئے کہ وہ جان لے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اس کا کوئی ہدر نہیں اور اسے اپنے ایمان اور مسلم کے مطابق سیح مشور و دینا چاہئے ۔ اس طرح کے لگاتار عمل سے و واس معاشرتی گروہ میں ایک قابل احترام شخصیت بن جائے گا اور اسے کام کرنے میں آسانی ہوگی۔

2۔ کارکن کو ہرائی جانے والی تبد یلی کیلئے لوگوں کی رضامندی حاصل کر لینی چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ

کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے ۔

کارکن اگر ان لوگوں کی مقامی زبان میں بات کرنے والا ہو جن لوگوں میں اسے بھیجا گیا ہوتو وہ اس کی بات کو آسانی سے سمجھ جائیں گے نیز مقامی واقفیت کی بناء پر وہ مختلف منصوبے بنانے اور ان کی ترجیحات مرتب کرنے میں بھی زیادہ ماہر ہوگا۔ علاوہ ان میں اگر وہ ان لوگوں کا ہم عقید بھی ہوتو زیادہ اچھا ہے اس کے برعکس بیرونی ماہرین اور ٹیکنیک فتی لحاظ سے پیا ہے کتنی بھی املی کیوں نہ ہو وہ اگر لوگوں کے جذبات و احساسات سے ہم آہنگ نہ ہوگی تو مطلوبہ نتائج پیدا کرنے سے قاصر رہے گی ۔ اسی بات کوئی ۔آرمین نے اپنی کتاب ’’معاشرے اور ان کی ترقی میں ایشیائی ممالک کی فنی امداد کے سلسلے میں ہونے والی کانفرنس میں جنوب مشرقی ایشیاء کے نمائندوں کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ تمام نمائندے اس بات پر متفق تھے کہ گذسته چند سالوں کے دوران مختلف اداروں کی طرف سے دی جانے والے فنی امداد نہ صرف نتیجہ رہی بلکہ بعض حالات میں نقصان رساں بھی ثابت ہوئی کیونکہ و مغربی ممالک سے آنے والے ساز و سامان اور وہیں پر ترتیب دی گئی ٹیکنیک پریٹی تھی جس کا مقصد تیزی سے حاصل ہونے والے اور نظر آنے والے نتائج پیدا کرنا تھا۔ اس ساز و سامان اور ٹیکنیک پر کام کرنے والے بھی مغربی ماہرین تھے جو ٹیکنیک کی حد تک تو بہت ماہر تھے لیکن مقامی حالات سے بالکل ناواقف تھے۔ وہ ہر متوقع سوال کا جواب جانتے تھے لیکن جب وہ موقع پر پہنچتے تو ان کی تمام مہارت بے کار ثابت ہوتی ‘‘۔ مزیدآگے چل کر لکھتے ہیں کہ درحقیقت اب وہ تمام کارکن محسوس کرنے لگے ہیں کہ اگر وہ بھیں گے کہ وہ تمام خیالات اور منصوبے جو ان کے اپنے ماحول اور تہذیب وتمدن میں درست کسی دوسرے میں اسی طرح درست نتائج کے حامل ہوں گے تو نا کامی ان کا مقدمہ بن جائے گی‘۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ کارکن کا ان لوگوں میں سے ہونا لازمی ہے اور دو ان کا ہم عقید ہ ہونے بنا پر ان کی خوشی اورمی میں بھی شامل ہو سکے تو وہ ان میں مزید شیر و شکر ہو سکے گا اور پیاس کی اپنے مشن میں کامیابی ضمانت ہوگی ۔

کارکن کو انہیں اس بات کی یقین دہانی کروانی چاہیے کہ مجوزہ تبدیلی نہایت محفوظ ہے۔

کسی تبد یلی کوقبول کرتے ہوۓ لوگ اس بات کا پہلے سے یقین کرنا ضروری خیال کر ہیں گے کہ وہ نہیں ایسا کرنے سے لوگوں کی تضحیک کا نشانہ تو نہیں بن جائیں گے ۔ یا نہیں مالی طور پر نقصان تو نہیں برداشت کرنا پڑے گا مثال کے طور پر ہمارا ان پڑھ کاشت کار نے بیج ، نئے آلات زراعت اورکھیتی باڑی کے نئے طریقوں کو اپنانے سے ہچکچائے گا اور سوچے گا کہ ایسا کرنے سے کہیں میری فصل تو نہیں ماری جاۓ گی ۔ میرا سال تو ضائع نہیں ہو جائے گا وہ ان تبدیلیوں کو حکومت کی طرف سے کئے گئے تجربوں کی روشنی میں بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوگا کہ اس لئے کہ جب وہ اپنے اور حکومت کے وسائل کا موازنہ کرے گا یہی مجھے گا کہ حکومت تو یہ سب کچھ کر سکتی ہے میں انہیں ضمانت فراہم کر کے تمام لوگوں کیلئے کا عملی مظاہرہ کرنے کا بندوبست کر نا ہوگا تب کہیں جا کر وہ انہیں قائل کر سکے گا۔

سوال نمبر :05۔ مندرجہ ذیل پرنوٹ لکھیں۔

) شہری علاقوں میں مختلف جرائم

جواب: دراصل بچوں کی بے راہ روی میں گھر کے برے ماحول اور ناقص نگرانی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ والدین کو آج کل اقتصادی و سماجی ذمہ داریوں سے بہت کم وقت ماتا ہے۔ نیچے اپنا بیشتر وقت گلی کو چوں اورآوار ومزاج لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں ۔ بچوں کو نیک و بد بنانے میں دوستوں کی صحبت کافی اہمیت رکھتی ہے ۔ پڑوس میں اچھے برے ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں ۔ والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو سلجھے ہوۓ بچوں کی صحبت سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کر میں اورانہیں بے راہ رو نیچے کی صحبت سے بچائیں تا کہ وہ نیکی کے راستے پر گامزن رہ ہیں بچوں کیلئے صالح تعلیم و تربیت کی سخت ضرورت ہے ۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ ان کو اسلامی اقدار و نظریات اور قانون کی اہمیت سے آگاہ کر میں وہ خود کو بھی تربیت اطفال سے آگاہ کر میں ۔ تا کہ مستقبل کے رہنماؤں کو صالح زندگی بسر کرنے میں آسانی رہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تربیت اطفال پر معیاری کتابیں لکھوائی جائیں اور انہیں سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے کہ بچوں کوخوش اسلوبی سے حاصل کرنے کیلئے تربیت اطفال کی تعلیم کو عام کر نے ضرورت ہے۔ جرائم کی روک تھام کیسے ممکن ہے: پاکستان اسلامی قوانین کے فروغ و نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور اب ان قوانین کوفروغ دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ۔ اس لئے یتوقع پیل ہے کہ اس سے انسداد جرائم میں کافی مدد ملے گی ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر ہمارے قوانین مذہبی تعلقات سے نم آہنگ ہوں اور سماجی انحراف اور جرم ومصیبت کا دروازہ بند ہو جائے۔ لیکن اس مقصد کے لئے ہمیں مذہبی اور قانونی تعلیمات کو بھی کافی رواج دینا پڑے گا اور زندگی میں دین ودنیا کی جوتسیم پیدا ہوگئی ہے اسے بھی ختم کرنا ہوگا ۔ اسلام کے شہری اصولوں کی اگر لوگ پیروی مکمل طور پر کرنا شروع کردیں تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ ملک میں مکمل امن وامان اور سکون قائم ہو جائے گا۔ مذہب اسلام انسان میں خدا کے سامنے جوابدہی ،خوف خدا اور خدا ترسی پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان کو اس بات کو یقین ہو جائے نیز اس بات کا با قاعدہ پر پاراور تبلیغ کی جائے تو جرائم قتل ، ڈکیتی، چوری کا قلع قمع ہوسکتا ہے ۔ اسلامی سزائیں بھی رائج کر دی جائیں تو ایسے جرائم بہت کم ہو جائیں گے جس طرح کہ سعودی عرب میں جرائم بہت کم پاۓ جاتے ہیں کیونکہ وہاں اسلام کے مطابق انصاف ملتا ہے۔ اور مجرم کو سخت سزادی جاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جائے ۔ کیونکہ اگر افراد کو یہ بھی یقین ہو کہ قوانین کی خلاف ورزی پر نہ صرف وہ حکومت کا مجرم ہے بلکہ خدا کا مجرم بھی ہو گا تو جرائم کرنے سے پہلے و وضرور سوچے گا ۔

 ناقص منڈی کے دیہی زندگی پراثرات

جواب: ناقص منڈی کے دیہی زندگی پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں :

1۔ ناقص منڈی کی وجہ سے اشیاء کی خرید وفروخت میں مشکل پیش آتی ہے۔

2 ۔ ناقص منڈی کی وجہ سے صحت کے اصولوں کا پاس نہیں رکھا جا تا ۔

3۔ ناقص منڈی کی وجہ سے کاشت کا کوا پنی فصل کا ؤں میں ہی آ ڑھی کے ہاتھوں اونے پونے فروخت کرنی پڑتی ہے ۔

4۔ ناقص منڈی دیہی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

 

Course  Sociology -II( 413 )

Assignmen:: t no 2.

Semester::  2022 spring

 

 

 

سوال نمبر: 01۔ کثرت آبادی ترقی پذیر ممالک کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے کیا اسباب میں وضاحت کریں۔

 جواب:

کثرت آبادی سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے اگر چہ اللہ تعالی نے زمین کو طرح طرح کی نعمتوں اور وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن آج کے ترقیاتی یافتہ دور میں خدا کی نیمتیں بتدریج کم ہوتی جارہی ہیں اور دنیا کی ایک بڑی آبادی کو ایک وقت کی روٹی بڑی مشکل سے میسر آتی ہے ماہرین عمرانیات ، اقتصادیات و آبادیات اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ وسائل سے زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیتے ہیں بڑھتی ہوئی آبادی کا یہ سیلاب پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے کثرت آبادی کی روک تھام کے لیے چند اقدامات درج ذیل ہیں

: ا۔ عورت کے روایتی کردار میں تبدیلی:

پاکستان میں برادری نظام کی موجودگی مشترکہ خاندانی نظام اور دیگر ثقافتی اثرات کی وجہ سے معاشرے میں مردکوعورت پر فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے عورت اپنے روایتی کردار یعنی گھر اور بچوں کی پرورش تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اس تصور کوتوڑنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر ملک کی آدھی آبادی گھر میں قید ہو کر رہ جاۓ یا ایسے کام کرے جس کی نوعیت غیر پیداواری ہو تو ظاہر ہے یہ بات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور کثرت آبادی کا باعث ہے خواتین کا مجاب کر ناکسی حد تک اس مسئلے کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

خواتین کی تعلیم:

خواتین میں خواندگی کی سطح خصوصا دیہی علاقوں میں بہت کم ہے خواتین میں تعلیم کے پھیلاؤ کی افادیت کا انداز داس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ نا خواند و خواتین کی نسبت ایسی خواتین جنہوں نے تعلیم حاصل کی ہوان کے ہاں بچوں کی تعداد نصف ہوتی ہے اس لیے چھوٹے خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے اور شرح پیدائش کو کنٹرول کرنے کے لیے خواتین کی تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔

افرادی قوت کا صحیح استعمال:

افرادی قوت کا بیج استعمال بھی آبادی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جیسے کہ نو جوانوں کو ہنر سکھائے جائیں اور ان کی پیداواری صلاحیتوں کو بروے کا را یا جاۓ تا کہ بھکاری نہ بنیں اور بے کار نہ پھر ہیں

۴۔ خاندانی منصوبہ بندی کا شعور

خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد ، خاندان میں افراد کی تعداد کو خاندان کے وسائل کے مطابق رکھتا ہے نہ کے نسل انسانی کی بندش ہے پاکستان میں آبادی کے کنٹرول سے متعلق جتنے بھی منصوبے کام کر رہے ہیں ان کی تیج افادیت کی آگاہی کے لیے ملک گیر سطح پر نظم کوششوں کی ضرورت ہے جس کے لیے تمام ذرائع بروئے کارلانے چاہئیں جن میں میڈ یاتعلیمی اداروں اور دیہی سطح پر بزرگوں کو شامل کعنا ضروری ہے

۵۔ دیہی آبادی کی ترقی

دیہی آبادی کو معاشی و معاشرتی ترقی دینے اور بہترین صحت غذا اورتعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے دیہی معاشروں میں عورت کا مقام و معیار بلند کرنے میں مدد ملے گی جس سے ملکی ترقی اور ملک کی آبادی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں

مدد ملے گی۔

۔ قدرتی وسائل کا بہتر استعمال:

معاشی ومعاشرتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا بیج استعمال بھی آبادی کے اضافے کو کنٹرو ل کر سکتا ہے کیوں کہ جتنا کوئی معاشرہ خوشحال ہوگا اور وسائل کی فراوانی ہوگی اضافہ آبادی بھی بھی منا نہیں بنے گی قدرتی وسائل میں پانی کا صحیح استعمال جیسا کہ ڈیز کی تعمیر کے ذریعے پانی کے ذخائر بڑھانا ، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، جدید زرعی آلات کا استعمال ، کھاد میں اور توانائی کے نئے ذخائر وغیرہ کی دریافت شامل ہیں ان اصولوں پر ٹیل کیا جاۓ اور دیہی علاقوں کی ترقی پر خاص توجہ دی جائے تو پورا معاشرہ خوشحال ہوگا اور بے روز گاری کم ہو جائے گی وسائل کے بیج استعمال و منصفا تقسیم سے لوگوں میں محنت کا جذ بداجا گر ہو گا اور افراد کا معیار زندگی بلند ہوگا اور یوں معاشرہ امن وخوشحالی کی جانب گامزن ہو گا اور کثرت آبادی کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوگا۔

سوال نمبر :02۔غربت کے معاشرے پر عمومی اثرات بیان کر میں نیز غربت کی شدت کو کم کرنے کیلئے کس قسم کے اقدامات زیادہ مئوثر ثابت ہوں گے

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غربت معاشرے میں بگاڑ کی ایک بہت بنیادی وجہ ہے ۔ پر ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں جن کی وجہ سے ان منفی رویوں میں کمی لائی جاسکتی ہے اور ایک خوشگوار ماحول وفضا کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

 ا۔نظام تعلیم کی اصلاح اور ترقی:

ہمارے معاشرے میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں رہی اور غیر رکی تعلیم دی جاتی ہے تا کہ بچہ اپنے مستقبل میں معاشرے کا ایک کامیاب فرد بن سکے۔ موجودہ نظام کی اصلاح کی جاۓ ۔ جہاں خامیاں اور کمزوریاں ہیں انہیں دور کیا جائے تا کہ جب و عملی میدان میں آئیں تو منظم زندگی گزار ہیں ۔ خاندان کے بعد دوسرا ہم معاشرتی اور تعلیم کا ہے ۔ جہاں فروکی ابتدائی عمر میں اخلاقی تربیت کی جاتی ہے اور اس میں حب الوطنی کا جذ بہ ابھارا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں Guidance and Councilling کے مراکز ہیں ۔استاد جب بچے کو اوسط درجے سے منحرف دیکھتا ہے تو اسے مراکز میں بھیج دیتا ہے جہاں تجربہ کار مشیر اور نفسیاتی طبیب بچوں کا علاج نہایت محنت اور خلوص سے کرتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک جن میں اداروں اور مشیروں کا تعلق عدالتوں سے نہیں ہوتا ان کا اصل کام خطا کاری کوروکن نہیں ہوتا بلکہ مریض کی جذباتی اور شخصیاتی نکالیف کا حل ڈھونڈ نا ہوتا ہے ممکن ہے خطا کار کی خطاؤں کی تہہ میں ان کی بیجانی یانی تکالیف موجودنہ ہوں کیونکہ خطا کے اسباب صرف نفسیاتی ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی قسم کے ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح مقطرب بچوں اور نو جوانوں کیلئے ایک اسلامی طریقہ گروہی علاج معالجہ Group Thesaphy ہے ۔ یہ گروہ خود نفسیاتی طبیب چھتا ہے۔اس میں کھیل کود اور اسی قسم کی دوسری تفریحی سرگرمیاں کا انتظام کیا جا تا ہے جو گروہ کا لیڈر ہوتا ہے اسے اس کا علم ہوتا ہے کہ بچوں کو کیا تکلیف ہے یا انہیں کیا مسائل درپیش ہیں ۔ وہ ہر بچے کے کردار کا مطالعہ کرتا ہے۔ اسے تسلی دلاسہ دیتا ہے اور پیار محبت سے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان گروہوں کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں ہوتا۔ بچے خو اپنی تکالیف کا مظاہرہ کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کا حل ڈھونڈتے ہیں ۔ اگر بڑوں کیلئے گروہ بنا ہوتو کھیل تماشے کے بجائے انتلو، بحث مباحثہ مذاکرہ ہوسکتا ہے۔ انتلو کیلئے بھی کوئی موضوع پہلے سے بھی طے نہیں کیا جا تا بلکہ جو موضوع بھی گروہ زیر بحث ا نا چاہتا ہوا سکتا ہے۔ علاج معالجہ کے جو مختلف طریقے بیان ہو چکے ہیں ان کی بنیاد اس مفروضہ پر ہے کہ خطا کاری میں خاندان کا بڑا حصہ ہے۔ خاندان کی اگر اصلاح ہو جائے تو مجرمانہ رویے میں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن خاندان بھی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اس کی اصلاح بھی معاشرے کی اصلاح پر منصر ہے ۔

ii۔ مجرمانہ روی اور اصلاحی طریقہ کار

مجرمانہ رویوں کیلئے جو اصلاحی طریقے استعمال ہوتے ہیں وہ مغربی ماہرنفسیات اور ماہر جرمیات کے مرتب کردہ ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طریقہ ان لوگوں کو اور ان کے والدین کو نفسیاتی طبی معاجہ مہیا کرتا ہے۔ اس کیلئے شرط یہ ہوتی ہے کہ ایسی پنی علامات موجود ہوں جو نشاندہی کر سکیں کہ اصلاح کے مثبت نتائج ہوں گے۔ وہ بچے جو عدم تحفظ ،احساس کمتری یا کسی اور ایسے ہی مخصوص رویے کا شکار ہوں جو کہ انہیں مطمئن زندگی گزارنے میں رکاوٹ کا احساس دلاے تو انہیں نفسیاتی کلینک میں علاج معالجہ کیلئے داخل کرا دینا چاہیے

۔ معاشرتی و ثقافتی اقدار

: جرائم کنٹرول کرنے میں معاشرتی اور ثقافتی اقداربھی اہمیت رکھتے ہیں جب تک معاشرے میں عملی طور پر برائی کے خلاف سخت ریمل نہیں ہو گا اس وقت تک جرائم کی جڑیں مضبوط رہیں گی ۔ جرائم کو یکسر تو کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن معاشرے میں اجتماعی رویے کی وجہ سے منفی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصایشکنی کی جاسکتی ہے۔ معاشرتی اور ثقافتی اقدار میں جرائم اور غیر ذمہ دارانہ معاشرتی رویوں کا سختی سے نوٹس لیا جائے لیکن جہاں تک اصلاحی پہلو کا تعلق ہے اس کیلئے معاشرتی نظام میں اتنی چیک ضرور ہونی چاہیے کہ وہ اس فرد کے ساتھ ہمدردی اور ذمہ دارانہ رو میدر کھے جو جرائم کی دنیا سے نہ صرف نکل آتا ہے بلکہ شائستہ اطوار اپنا تا ہے اور معاشرے میں ایک معتبر مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

۱۷۔ بے روزگاری میں کمی اور موجودہ ذرائع کا استعمال:

معیشت کسی بھی ملک یا معاشرے کے اقدار اور طرز زندگی پر گہرا اثر رکھتی ہے ۔ جس معاشرے کی معیشت مضبوط ہوگی وہاں جرائم کسی حد تک کم ہوں گے یا وہ جرائم سرزد ہوں گے جن کا تعلق معیشت سے کم ہو گا ایسے معاشرے میں زیادہ تر وہ جرائم سرزد ہوتے ہیں جو عیاشی کے تصور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معیشت کا نظام ایسی پالیسی کی ٹھوس بنیادوں پر ہونا چاہیے جہاں ہر فر دکواس کی اپنی قابلیت یا جسمانی مشقت کے مطابق اجرت ملے ۔ ان ممالک نے زندگی کے ہر دوسرے شعبے میں ترقی کی ہے جہاں ہر کام کرنے والے کو اس کی اہمیت و قابلیت اور ضرورت کے مطابق اجرت اور سہولیات ملتی ہیں ۔ موجودہ ذرائع کے استعمال میں زیادہ سے زیادہ افراد کو شامل کیا جاۓ ۔ بچھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے انہیں مزید بہتری کیلئے آسان اقساط پر قرضنے کی سہولیات آسانی سے فراہم ہوں ۔ ہنر مندوں کی مزید تربیت کا بہتر انتظام موجود ہو اور ان سے حاصل شد و پیداوار کا نہیں جائز حصہ دیا جائے

شادی شدہ افراد کی تربیت:

شادی شدہ مردوں اور عورتوں کیلئے مشاورتی مراکز ہونے چاہیے ۔ جہاں ڈاکٹر ، نفسیاتی طبیب ، وکیل اور معاشرتی ماہر ہوں شادی شدہ اشخاص کو صلاح مشورہ د میں جو میاں بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہ کر پائے ہوں ۔ بعض عائلی عدالتیں بھی اس نوعیت کی ہوتی ہیں وہ بھی میاں بیوی کو سمجھا بجھا سکتی ہیں اور ان کی قانونی مشکلات دور کر سکتی ہیں ان مشاورتی مراکز اور عائلی عدالتوں کو گو جرمانہ رویے کی روک تھام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن بالواسط تعلق ضرور ہے ۔ تجربات کی روشنی میں ثابت ہے کہ جن گھروں میں جھگڑے عام ہوتے ہیں وہاں مجرمانہ رویے پرورش پاتے ہیں ۔اس لئے جو مدو بھی والدین کو دیجاسکے جوان کی اور نوعمروں کی زندگی کو آسودہ بنا سکے وہ مجرمانہ رویے کو کم کرنے کیلئے ایک باہمت اور حوصلہ افزاء قدم ہوگا۔

معاشرے کا غیر ذمہ داراندرو یار اس کے اثرات:

ہمارے معاشرے میں کئی جرم لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں لیکن عوام کسی قسم کا رول کرنے سے گریز کرتی ہے یہ بالکل ایسی حقیقت کی مانند ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے ہمارے روز مرہ زندگی سے اس کی مثال کچھ اس طرح بھی دی جاسکتی ہے جیسے راہ چلتی لڑکیوں پر فقرے بازی ہو یا نہیں کسی اور طریقے سے تنگ کیا جاۓ ، لیکن دوسرے افرادائیں حرکات پر دھیان نہیں دیتے اور خاموشی اختیار کرتے ہیں اسی طرح محلوں میں فحاشی ، جوۓ اور شراب نوشی کھلے عام ہوتی ہے لیکن معاشرے کاریٹیل سر در بتا ہے جب معاشرے میں ایسے حالات ہوں تو جرائم کا سد باب کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اگر عوام باشعور ، بیدار اور ذمہ دار ہوں تو جرائم پیشہ لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے ۔ اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عار محسوس نہیں کرتے مثلا دکا نداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورا نہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تا ہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اس طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جوصرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور ٹینزم انہیں بھی دھوکہ.       دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بد عہدی نہ کریں تو وہ بھی شکایت نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کام کو براگر دائیں گے ، اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آگاہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی بینک لونے جاتے ہیں پاراہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نا مناسب سلوک کیا جا تا تب معاشر وقتی طور پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتاہے لیکن پھر ٹہراؤ آجاتا ہے موم ہمارا معاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھٹری دکھائی دے تو نام مطمئن ہو جاتے ہیں اورکسی تنظیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے ۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اور ظلم وتشد د کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو ٹیکس زیادہ دینے پڑتے ہیں اس طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عارمحسوس نہیں کرتے مشار دکانداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورانہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تاہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اسی طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جو صرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور مجرم نہیں بھی دھوکہ دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بدعہدی نہ کر میں تو وہ بھی شکایت نہیں کر یں گے اور نہ ہی اس کام کو برا گردانیں گے ،اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آ گا ہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی جینک لوٹے جاتے ہیں یا راہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا تا تب معاشرہ وقتی طور پر اپنے رومل کا اظہار کرتا ہے لیکن پھر ٹھہراؤ آ جاتا ہے عمو ماہمارامعاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھڑی دکھائی دے تو ہم مطمئن ہو جاتے ہیں اور کی تعلیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رو بی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اورظلم وتشدو کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو یکس زیاد دینے پڑتے میں اسی طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیں ہیں اور جرم وسیاست کا کوئی باضابطہ تعلق نہیں ہے تو جرم اور مجرمانہ رویوں میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے ۔

سوال نمبر: 03۔ شراب نوشی کے سابی نقصانات کی فہرست مرتب کر میں نیز پاکستان میں پچی شراب کے استعمال کی حوصاٹیکنی کیلئے تجاویز دیں۔

جواب۔

ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی برائیاں جنم لے چکی ہیں وہیں نشہ جیسی برائی نے بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہے ۔ کثیر تعداد میں لوگ نشے کے عادی ہو چکے ہیں۔ بوڑھا ہو یا نو جوان ، مرد ہو یا عورت ،امیر ہو یا غریب ،افسر ہو یا حا کم ،تاجر ہو یا کسان بے شمار افراد جانے انجانے نشے کی لت میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انسان بڑا ہی نادان ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے جب کہ اللہ نے قران کریم میں ارشاد فرمایا اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو (البقر 195- ) ۔اسلام نے ہر نشہ آور اشیاء کوحرام قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ حضور سے کسی نے آپ کے تبع کے بارے میں پوچھا جو شہد سے بنا تھاتو آپنے فرمایا کہ ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے ( بخاری ومسلم )۔ اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہر دوشی جو نشہ دینے والی ہے و واسلام کی نظر میں حرام ہے اور اہل اسلام کو اس کا استعمال ہرگز روا نہیں۔ خواہ وہ بھانگ ہو،افیون ، چرس ، یا شراب اور اس کے علاوہ دیگر نشہ آور منشیات سب اسلام میں حرام ہے ایک اور حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب نے نشہ لانے والی اور فتور پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا(ابوداؤد ) ۔ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ بیشمار برائیوں میں ملوث تھے۔ وہیں شراب بھی عام تھی ،لوگ کثرت سے شراب پیتے تھے، جب اسلام آیا تو قرآن میں اللہ نے اس کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کو بھی بیان کیا اور ہمیشہ کے لئے شراب کو حرام کر دیا۔ اللہ جل شانہ نے ارشادفرمایا اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام میں سوان سے بچتے رہوتا کہ تم نجات پاؤ‘‘(المائد 90-)۔ شراب کی نحوست کا انداز اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس کو شیطانی کام کیا اور بت پرستی کے ساتھ بیان کیا۔ اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں شراب کی مذمت اور اس کی قباحت و خباثت کو واضح انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ سے شراب کے متعلق دریافت فرمایا تو اللہ کے حبیب نے فرمایا کہ میکبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ سب برائی کی سردار ہے (الزواجر )۔ اللہ کے نبی نے ارشادفر مایا کہ جوشخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز شراب نہ پیئے اور جواللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب ہو( طبرانی)۔امام طبرانی نے جم کبیر میں ایک حدیث حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے ۔ آپ فرماتیں ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہوئی تو میں نے پیالے میں نبیذ بنایا جوھجور سے بنایا ہوا ایک قسم کا مشروب ہے ) اللہ کے رسول میرے گھر تشریف لاۓ تو و وابل ( چولھے پر رہی تھی۔ آپ نے فرمایا ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا میری بیٹی بیمار ہے اس کی دوا بنا رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایاکہ اللہ نے حرام کردہ اشیاء میں میری امت کے لئے شفا نہیں رکھی ہے۔ ایک حد میں حضرت وائل حضری سے مروی ہے کہ طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا ، آپ نے ان کو منع فرمایا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ میں تو صرف دوا کے لیے شراب بنا تا ہوں حضور نے ارشادفرمایا کہ وہ دوا نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی بیماری ہے (مشکوۃ )۔ مذکورہ احادیث سے شراب کی حرمت اور اس کی قباحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ حرام اشیاء میں شفانہیں ہے ۔ ایک جگہ اللہ کے حبیب نے ارشادفرمایا کہ شراب نہ ہو کہ میام الخبائث ہے اور ای ام الخبائث کہ انسان شراب کی حالت بھی بھی اپنی ماں اور پھوبھی کے ساتھ بھی بدکاری کر بیٹھتا ہے ۔ اور بھی بہت ہی حدیثیں شراب کی مذمت میں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔شراب پینے والوں کے بارے میں اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں وعید میں بیان فرمائی ہیں حضور نے فرمایا کہ جودنیامیں شراب پیتے ہیں اللہ تعالی انہیں جہنمی سانیوں کا زہر پائے گا جسے پینے سے پہلے ہی اس کے چہرے کا گوشت گل کر برتن میں گر جائے گا اور جب وہ اسے اپنے گا تو اس کا گوشت اور کھال ادھر جائے گی جس سے سمی اذیت پائیں گے ( روح البیان ج ۴) ۔ ایک جگہ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جوشخص دنیا میں شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا اللہ تعالی اسے آخرت میں جہنم کی پیپ پلاۓ گا (روح البیان ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ دائی طور پر شراب پینے والا اگر مر گیا اسی حالت میں تو در بارخداوندی میں اس طرح آۓ گا جیسے ایک بت پرست ( مشکوۃ شریف) ۔ حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میری عزت و جلال کی قسم جو بندہ ایک گھونٹ بھی شراب پیئے گا میں اس کو اتناہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اسے چھوڑے گا میں اسے مقدس حوض سے پاؤں گا ( امام احمد بن حنبل ) ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ نے تین آدمیوں پر جنت حرام کر دی ہے ۔ وہ تین میں ہیں (۱) ہمیشہ شراب پینے والا ( ۲ ) والدین کی نافرمانی کرنے والا ( ۳ ) دیوث جو اپنے اہل میں بے حیائی کو دیکھے اور منع نہ کرے(نسائی)۔

شراب انسان کے لئے دین و دنیا دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے ۔ دینی نقصان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نارانسگی کوخرید کر اپنی آخرت بر باد کر لیتا ہے ۔ دنیوی نقصان یہ ہے کہ مختلف قسم کی مہلک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جو ہلاکت کا سبب بنتی ہیں ، لاکھوں عورتیں شرابی شوہر کے ظلم وستم کا نشانہ بنتی ہیں شراب پینے والا بے مروت ہو جاتا ہے، سماج اور معاشرہ کے لئے دردسر بن جا تا ہے ۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ شراب میں ہر طرف سے تباہی اور بربادی ہے، مال کی بھی اور جان کی بھی ۔ اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے ۔

سوال نمبر :04۔ پاکستان میں مختلف دیہی ترقیاتی پروگراموں کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ نیز دیہی ترقی کے طریقہ کار کی وضاحت کر یں۔

جواب۔

دیہات کے لوگوں کی زندگی کا ایک اور اہم پہلوتعلیم سے بے بہرہ ہونا ہے اگر چہ حکومت تعلیم کو عام کرنے کے لیے بہت ہی کوششیں کر رہی ہے مگر اس کے باوجود ہمارے اکثر دیہات میں ابھی تک تعلیم کی روشنی نہیں پہنچ پائی اس کے ساتھ ساتھ لوگ بھی تعلیم حاصل کرنا ضروری تصور نہیں کرتے ان کے خیال میں سکول بھیجنے کی بجائے بچے کو ھیتوں میں بھجنا زیادہ فائدہ مند ہے ۔ دیہات کے لوگ اپنی غربت کے ہاتھوں نہ تو پڑھائی کے لیے پیسہ خرچ کر سکتے ہیں اور نہ ہی وقت ۔ اس کے علاوہ اکثر دیہات ایسے ہیں جہاں پرائمری سکول بھی نہیں ہیں اس لیے لوگ دوسرے دیہات میں اپنے بچے بھیجنا پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان پڑھے ہیں یہ حالت صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ اکثر ترقی پذیر ممالک میں خواند و یا پڑھے لکھے افراد کی تعداد بہت ہی کم ہے اور جتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اکثر شہروں میں رہتے ہیں دیہات میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے مندرجہ ذیل جدول جو کہ آئی پی پی ایف کے جرید پی پی پی کے جرید نے پیپلز سے لیا گیا ہے اس سے ترقی پذیر ممالک میں نا خواندگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ علمی پسماندگی اور غربت و افلاس لازم وملزوم ہیں۔ ناخواندگی کے باعث کاشت کا ر جد ید زری معلومات سے بے بہرور ہتے ہیں زرعی

پیداوار میں اضافہ کرنے کی تدابیراور طریقوں کاعلم نہیں رکھتے ۔ اگر کاشتکار پڑھے لکھے ہوں تو وہ نہ صرف جدید معلومات زرمی سے استفادہ کر کے اپنی زرعی پیداوار بڑھنے کی تدابیر کر سکتے ہیں بلکہ اپنے روز مرہ کا حساب کتاب رکھ سکتے ہیں تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان کی معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا اور ان کے ذہن میں نئی ایجادات کے لیے وسعت اور بالغ نظری پیدانہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں نئی یجادات اپنانے کا حوصلہ پیدانہیں ہوتا۔ تعلیم ایک ایسا معاشرتی عمل ہے جس کے بغیر ہم افراد معا شر وترقی کی اہمیت نہیں سمجھا سکتے اور وہی ترقیاتی کاموں میں سرگرم حصہ لینے پر آما وہ کر سکتے ہیں تعلیم کے بغیر سابی اور ثقافتی تربیت بھی ممکن نہیں ہوتی چنانچہ لوگوں کی حالت بدلنے کے لیے ان کو اور ان کے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو تعلیم دینے کا بندوبست کرنا نہایت ضروری ہے۔ و یہی معاشرتی زندگی: دیہی زندگی شہری زندگی سے مختلف ہوتی ہے چونکہ ہماری آبادی کا تقریبا72 فیصد حصہ دیہات میں و بستا ہے اس لیے ان لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں اور دیہات کو ترقی دینے والے طریقہ کارکومندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو درج ذیل ہے

دیہات کاطبیعی ڈھانچہ

جونہی ہم شہروں سے وہی علاقوں کی طرف جاتے ہیں سب سے پہلے سرسبز کھیت اور کسان ہمارا استقبال کرتے ہیں جن میں کوئی فصل کو پانی دے رہا ہوتا کوئی زمین میں ہل چلا رہا ہوتا ہے کوئی بیچ ہور ہا ہوتا ہے تو کوئی فصل کاٹ رہا ہوتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نام دیہی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں پاکستان کے دیہی علاقوں میں لوگ زیادہ تر کچے مکانوں میں رہتے ہیں جن کی چھتیں شہتیروں پر گھاس پھونس ڈال کر بنائی جاتی ہے یہ گھر عموما کھلے کھلے ہوتے ہیں درمیان میں محن ہوتا ہے گھر کے کمروں میں عموماً کھڑ کی باروشندان ہوتے ہیں گلیاں اور محلے ترتیب سے نہیں بنے ہوتے اکثر گلیاں ٹیڑھی میڑھی ہوتی ہیں اور عموما گندی ہوتی ہیں اگر چہ ہر گھر انفرادی طور پر بیکوشش ضرور کرتا ہے کہ اپنے گھر کے سامنے کا حصہ صاف رکھے مگر اس کے باوجود چونکہ سرکاری طور پرکوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا اس لیے کئی جگہوں پر اس کے ڈھیر ملتے ہیں زندگی میں جدید سہولتوں کا فقدان ہے بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچ سکی سوئی گیس کی سہولت بھی موجود ہیں اکثر دیہات تک پکی سڑک نہیں جاتی پانی عموما ہنڈ پمپ سے حاصل کیا جا تا ہے بعض علاقوں میں جہاں پانی کی تلخ اونچی نہیں کنو میں کھودے جاتے ہیں

زرعی ترقیاتی بینک آف پاکستان

ا۔ مقاصد: بنک کا قیام 1961 ء میں عمل میں آیا۔ اس کا مقصد زری شعبوں میں کاشتکارکوقرضے فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ گاؤں کی طح پر گھر یا منعتیں لگانے کیلئے بھی قرضے فراہم کرنا اس بنک کا بنیادی مقصد تھا۔

ii۔ طریقہ کار: بنک کا شتکاروں کوان کی بہت فصل کیلئے قرضے فراہم کرتا ہے یہ قرضے آسمان مشعلوں میں واپس لئے جاتے ہیں اور کسان کو ں نے ان میں ورکر اس کی زمین کے مطابق قرضہ ماتا ہے عموماز میں گروی رکھی جاتی ہے یا فصل کے مطابق قرضہ کی شرائط طے کی جاتی ہیں ۔

نتائج:

پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق 81-1980 تک بنک نے 62-1066 ملین روپے کے قرضے فراہم کئے ۔ان

قرضوں کی رقم میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ 82-1991 ء میں یہ قرضے 38-1557 ملین تک پہنچ گئے ہیں۔ ان قرضوں کا 45 فیصد سے بھی زیادہ حصہ زرعی مشینری خریدنے کے کام آیا مگر بنک کی ان سہولتوں کے زیادہ تر فائدے بڑے کاشتکاروں کو حاصل ہوۓ کاشتکاروں کو کل رقم کا بمشکل 21 فیصد دیا گیا تا ہم اس قرضے کی بدولت بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور زراعت میں ترقی کا سبب بنا۔ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے طریق کار میں کارکن کے کردار کی اہمیت: کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کا انحصار صرف ایک شخص پر ہوتا ہے جسے ہم ترقیاتی کارکن یا ترقیاتی رہنما بھی کہ سکتے ہیں۔ چنانچہ اسے ہر دلعزیز اور قابل قبول شخصیت ہونے کے علاوہ جنتی اور دیانتدار بھی ہونا چاہئے ۔ اس کے علاوہ اسے اس کمیونٹی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے فوری حل کے بارے میں تھوڑا بہت علم بھی ضرور ہونا چاہئے مثلا چھوٹی چھوٹی بیماریوں کی صورت میں بیان کیلئے معالج ثابت ہوا تعلیم وتربیت میں استاد ، گھر یلو معاملات میں مشیر ، جھگڑے لے کرانے میں بیج اور مصالحت کنند و در اجتماعی کاموں میں ان کا رہنما ہونا چاہئے ۔اگر چہ وہ ان تمام معاملات میں ماہرین کی جگہ تو نہیں لے سکتا مگرلیکن ان تمام معاملات میں اس کی ایسی رائے ہونی چاہئے جو زیادہ تر لوگوں کو قبول ہو اور ان کے فوائد میں ہو ۔ اسے اس آبادی کیلئے جس ترقی پر اسے معمور کیا گیا ہو ایک مثال ہونا چاہئے تب جا کر کہیں اس طریقہ کار سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ تر قیاتی کارکن کو مندرجہ ذیل اصولوں کی روشنی میں اپنے کام کا آغاز کرنا چاہئے

1۔ کارکن کو ان لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرنے چاہئیں جن کے ساتھ وہ کام کرنا چاہتا ہے۔

کارکن لوگوں کی چھوٹی چھوٹی اور ہنگامی ضرورتوں کو پورا کر کے ان کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اگر وہ ان کی کسی معمولی بیماری کا علاج کر کے ان کو صحت و صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہے گا تو وہ آسانی سے اس کی بات سمجھ جائیں گے ۔ چونکہ یہ اعتاد اس نے حال ہی میں حاصل کیا ہوتا ہے اور اہل خانہ کو ایک مصیبت سے نجات دلانی ہوتی ہے اس لئے اس وقت ان کے جذبات واحساسات کا احترام کر کے انہیں سمجھا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ جب کوئی اس سے مشورہ طلب کرے تو کارکن کو اس کے ساتھ اس طرح سے بات کرنی چاہئے کہ وہ جان لے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اس کا کوئی ہدر نہیں اور اسے اپنے ایمان اور مسلم کے مطابق سیح مشور و دینا چاہئے ۔ اس طرح کے لگاتار عمل سے و واس معاشرتی گروہ میں ایک قابل احترام شخصیت بن جائے گا اور اسے کام کرنے میں آسانی ہوگی۔

2۔ کارکن کو ہرائی جانے والی تبد یلی کیلئے لوگوں کی رضامندی حاصل کر لینی چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ

کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے ۔

کارکن اگر ان لوگوں کی مقامی زبان میں بات کرنے والا ہو جن لوگوں میں اسے بھیجا گیا ہوتو وہ اس کی بات کو آسانی سے سمجھ جائیں گے نیز مقامی واقفیت کی بناء پر وہ مختلف منصوبے بنانے اور ان کی ترجیحات مرتب کرنے میں بھی زیادہ ماہر ہوگا۔ علاوہ ان میں اگر وہ ان لوگوں کا ہم عقید بھی ہوتو زیادہ اچھا ہے اس کے برعکس بیرونی ماہرین اور ٹیکنیک فتی لحاظ سے پیا ہے کتنی بھی املی کیوں نہ ہو وہ اگر لوگوں کے جذبات و احساسات سے ہم آہنگ نہ ہوگی تو مطلوبہ نتائج پیدا کرنے سے قاصر رہے گی ۔ اسی بات کوئی ۔آرمین نے اپنی کتاب ’’معاشرے اور ان کی ترقی میں ایشیائی ممالک کی فنی امداد کے سلسلے میں ہونے والی کانفرنس میں جنوب مشرقی ایشیاء کے نمائندوں کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ تمام نمائندے اس بات پر متفق تھے کہ گذسته چند سالوں کے دوران مختلف اداروں کی طرف سے دی جانے والے فنی امداد نہ صرف نتیجہ رہی بلکہ بعض حالات میں نقصان رساں بھی ثابت ہوئی کیونکہ و مغربی ممالک سے آنے والے ساز و سامان اور وہیں پر ترتیب دی گئی ٹیکنیک پریٹی تھی جس کا مقصد تیزی سے حاصل ہونے والے اور نظر آنے والے نتائج پیدا کرنا تھا۔ اس ساز و سامان اور ٹیکنیک پر کام کرنے والے بھی مغربی ماہرین تھے جو ٹیکنیک کی حد تک تو بہت ماہر تھے لیکن مقامی حالات سے بالکل ناواقف تھے۔ وہ ہر متوقع سوال کا جواب جانتے تھے لیکن جب وہ موقع پر پہنچتے تو ان کی تمام مہارت بے کار ثابت ہوتی ‘‘۔ مزیدآگے چل کر لکھتے ہیں کہ درحقیقت اب وہ تمام کارکن محسوس کرنے لگے ہیں کہ اگر وہ بھیں گے کہ وہ تمام خیالات اور منصوبے جو ان کے اپنے ماحول اور تہذیب وتمدن میں درست کسی دوسرے میں اسی طرح درست نتائج کے حامل ہوں گے تو نا کامی ان کا مقدمہ بن جائے گی‘۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ کارکن کا ان لوگوں میں سے ہونا لازمی ہے اور دو ان کا ہم عقید ہ ہونے بنا پر ان کی خوشی اورمی میں بھی شامل ہو سکے تو وہ ان میں مزید شیر و شکر ہو سکے گا اور پیاس کی اپنے مشن میں کامیابی ضمانت ہوگی ۔

کارکن کو انہیں اس بات کی یقین دہانی کروانی چاہیے کہ مجوزہ تبدیلی نہایت محفوظ ہے۔

کسی تبد یلی کوقبول کرتے ہوۓ لوگ اس بات کا پہلے سے یقین کرنا ضروری خیال کر ہیں گے کہ وہ نہیں ایسا کرنے سے لوگوں کی تضحیک کا نشانہ تو نہیں بن جائیں گے ۔ یا نہیں مالی طور پر نقصان تو نہیں برداشت کرنا پڑے گا مثال کے طور پر ہمارا ان پڑھ کاشت کار نے بیج ، نئے آلات زراعت اورکھیتی باڑی کے نئے طریقوں کو اپنانے سے ہچکچائے گا اور سوچے گا کہ ایسا کرنے سے کہیں میری فصل تو نہیں ماری جاۓ گی ۔ میرا سال تو ضائع نہیں ہو جائے گا وہ ان تبدیلیوں کو حکومت کی طرف سے کئے گئے تجربوں کی روشنی میں بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوگا کہ اس لئے کہ جب وہ اپنے اور حکومت کے وسائل کا موازنہ کرے گا یہی مجھے گا کہ حکومت تو یہ سب کچھ کر سکتی ہے میں انہیں ضمانت فراہم کر کے تمام لوگوں کیلئے کا عملی مظاہرہ کرنے کا بندوبست کر نا ہوگا تب کہیں جا کر وہ انہیں قائل کر سکے گا۔

سوال نمبر :05۔ مندرجہ ذیل پرنوٹ لکھیں۔

) شہری علاقوں میں مختلف جرائم

جواب: دراصل بچوں کی بے راہ روی میں گھر کے برے ماحول اور ناقص نگرانی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ والدین کو آج کل اقتصادی و سماجی ذمہ داریوں سے بہت کم وقت ماتا ہے۔ نیچے اپنا بیشتر وقت گلی کو چوں اورآوار ومزاج لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں ۔ بچوں کو نیک و بد بنانے میں دوستوں کی صحبت کافی اہمیت رکھتی ہے ۔ پڑوس میں اچھے برے ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں ۔ والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو سلجھے ہوۓ بچوں کی صحبت سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کر میں اورانہیں بے راہ رو نیچے کی صحبت سے بچائیں تا کہ وہ نیکی کے راستے پر گامزن رہ ہیں بچوں کیلئے صالح تعلیم و تربیت کی سخت ضرورت ہے ۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ ان کو اسلامی اقدار و نظریات اور قانون کی اہمیت سے آگاہ کر میں وہ خود کو بھی تربیت اطفال سے آگاہ کر میں ۔ تا کہ مستقبل کے رہنماؤں کو صالح زندگی بسر کرنے میں آسانی رہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تربیت اطفال پر معیاری کتابیں لکھوائی جائیں اور انہیں سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے کہ بچوں کوخوش اسلوبی سے حاصل کرنے کیلئے تربیت اطفال کی تعلیم کو عام کر نے ضرورت ہے۔ جرائم کی روک تھام کیسے ممکن ہے: پاکستان اسلامی قوانین کے فروغ و نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور اب ان قوانین کوفروغ دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ۔ اس لئے یتوقع پیل ہے کہ اس سے انسداد جرائم میں کافی مدد ملے گی ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر ہمارے قوانین مذہبی تعلقات سے نم آہنگ ہوں اور سماجی انحراف اور جرم ومصیبت کا دروازہ بند ہو جائے۔ لیکن اس مقصد کے لئے ہمیں مذہبی اور قانونی تعلیمات کو بھی کافی رواج دینا پڑے گا اور زندگی میں دین ودنیا کی جوتسیم پیدا ہوگئی ہے اسے بھی ختم کرنا ہوگا ۔ اسلام کے شہری اصولوں کی اگر لوگ پیروی مکمل طور پر کرنا شروع کردیں تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ ملک میں مکمل امن وامان اور سکون قائم ہو جائے گا۔ مذہب اسلام انسان میں خدا کے سامنے جوابدہی ،خوف خدا اور خدا ترسی پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان کو اس بات کو یقین ہو جائے نیز اس بات کا با قاعدہ پر پاراور تبلیغ کی جائے تو جرائم قتل ، ڈکیتی، چوری کا قلع قمع ہوسکتا ہے ۔ اسلامی سزائیں بھی رائج کر دی جائیں تو ایسے جرائم بہت کم ہو جائیں گے جس طرح کہ سعودی عرب میں جرائم بہت کم پاۓ جاتے ہیں کیونکہ وہاں اسلام کے مطابق انصاف ملتا ہے۔ اور مجرم کو سخت سزادی جاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جائے ۔ کیونکہ اگر افراد کو یہ بھی یقین ہو کہ قوانین کی خلاف ورزی پر نہ صرف وہ حکومت کا مجرم ہے بلکہ خدا کا مجرم بھی ہو گا تو جرائم کرنے سے پہلے و وضرور سوچے گا ۔

 ناقص منڈی کے دیہی زندگی پراثرات

جواب: ناقص منڈی کے دیہی زندگی پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں :

1۔ ناقص منڈی کی وجہ سے اشیاء کی خرید وفروخت میں مشکل پیش آتی ہے۔

2 ۔ ناقص منڈی کی وجہ سے صحت کے اصولوں کا پاس نہیں رکھا جا تا ۔

3۔ ناقص منڈی کی وجہ سے کاشت کا کوا پنی فصل کا ؤں میں ہی آ ڑھی کے ہاتھوں اونے پونے فروخت کرنی پڑتی ہے ۔

4۔ ناقص منڈی دیہی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

 

Course  Sociology -II( 413 )

Assignmen:: t no 2.

Semester::  2022 spring

 

 

 

سوال نمبر: 01۔ کثرت آبادی ترقی پذیر ممالک کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے کیا اسباب میں وضاحت کریں۔

 جواب:

کثرت آبادی سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے اگر چہ اللہ تعالی نے زمین کو طرح طرح کی نعمتوں اور وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن آج کے ترقیاتی یافتہ دور میں خدا کی نیمتیں بتدریج کم ہوتی جارہی ہیں اور دنیا کی ایک بڑی آبادی کو ایک وقت کی روٹی بڑی مشکل سے میسر آتی ہے ماہرین عمرانیات ، اقتصادیات و آبادیات اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ وسائل سے زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیتے ہیں بڑھتی ہوئی آبادی کا یہ سیلاب پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے کثرت آبادی کی روک تھام کے لیے چند اقدامات درج ذیل ہیں

: ا۔ عورت کے روایتی کردار میں تبدیلی:

پاکستان میں برادری نظام کی موجودگی مشترکہ خاندانی نظام اور دیگر ثقافتی اثرات کی وجہ سے معاشرے میں مردکوعورت پر فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے عورت اپنے روایتی کردار یعنی گھر اور بچوں کی پرورش تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اس تصور کوتوڑنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر ملک کی آدھی آبادی گھر میں قید ہو کر رہ جاۓ یا ایسے کام کرے جس کی نوعیت غیر پیداواری ہو تو ظاہر ہے یہ بات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور کثرت آبادی کا باعث ہے خواتین کا مجاب کر ناکسی حد تک اس مسئلے کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

خواتین کی تعلیم:

خواتین میں خواندگی کی سطح خصوصا دیہی علاقوں میں بہت کم ہے خواتین میں تعلیم کے پھیلاؤ کی افادیت کا انداز داس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ نا خواند و خواتین کی نسبت ایسی خواتین جنہوں نے تعلیم حاصل کی ہوان کے ہاں بچوں کی تعداد نصف ہوتی ہے اس لیے چھوٹے خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے اور شرح پیدائش کو کنٹرول کرنے کے لیے خواتین کی تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔

افرادی قوت کا صحیح استعمال:

افرادی قوت کا بیج استعمال بھی آبادی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جیسے کہ نو جوانوں کو ہنر سکھائے جائیں اور ان کی پیداواری صلاحیتوں کو بروے کا را یا جاۓ تا کہ بھکاری نہ بنیں اور بے کار نہ پھر ہیں

۴۔ خاندانی منصوبہ بندی کا شعور

خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد ، خاندان میں افراد کی تعداد کو خاندان کے وسائل کے مطابق رکھتا ہے نہ کے نسل انسانی کی بندش ہے پاکستان میں آبادی کے کنٹرول سے متعلق جتنے بھی منصوبے کام کر رہے ہیں ان کی تیج افادیت کی آگاہی کے لیے ملک گیر سطح پر نظم کوششوں کی ضرورت ہے جس کے لیے تمام ذرائع بروئے کارلانے چاہئیں جن میں میڈ یاتعلیمی اداروں اور دیہی سطح پر بزرگوں کو شامل کعنا ضروری ہے

۵۔ دیہی آبادی کی ترقی

دیہی آبادی کو معاشی و معاشرتی ترقی دینے اور بہترین صحت غذا اورتعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے دیہی معاشروں میں عورت کا مقام و معیار بلند کرنے میں مدد ملے گی جس سے ملکی ترقی اور ملک کی آبادی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں

مدد ملے گی۔

۔ قدرتی وسائل کا بہتر استعمال:

معاشی ومعاشرتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا بیج استعمال بھی آبادی کے اضافے کو کنٹرو ل کر سکتا ہے کیوں کہ جتنا کوئی معاشرہ خوشحال ہوگا اور وسائل کی فراوانی ہوگی اضافہ آبادی بھی بھی منا نہیں بنے گی قدرتی وسائل میں پانی کا صحیح استعمال جیسا کہ ڈیز کی تعمیر کے ذریعے پانی کے ذخائر بڑھانا ، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، جدید زرعی آلات کا استعمال ، کھاد میں اور توانائی کے نئے ذخائر وغیرہ کی دریافت شامل ہیں ان اصولوں پر ٹیل کیا جاۓ اور دیہی علاقوں کی ترقی پر خاص توجہ دی جائے تو پورا معاشرہ خوشحال ہوگا اور بے روز گاری کم ہو جائے گی وسائل کے بیج استعمال و منصفا تقسیم سے لوگوں میں محنت کا جذ بداجا گر ہو گا اور افراد کا معیار زندگی بلند ہوگا اور یوں معاشرہ امن وخوشحالی کی جانب گامزن ہو گا اور کثرت آبادی کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوگا۔

سوال نمبر :02۔غربت کے معاشرے پر عمومی اثرات بیان کر میں نیز غربت کی شدت کو کم کرنے کیلئے کس قسم کے اقدامات زیادہ مئوثر ثابت ہوں گے

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غربت معاشرے میں بگاڑ کی ایک بہت بنیادی وجہ ہے ۔ پر ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں جن کی وجہ سے ان منفی رویوں میں کمی لائی جاسکتی ہے اور ایک خوشگوار ماحول وفضا کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

 ا۔نظام تعلیم کی اصلاح اور ترقی:

ہمارے معاشرے میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں رہی اور غیر رکی تعلیم دی جاتی ہے تا کہ بچہ اپنے مستقبل میں معاشرے کا ایک کامیاب فرد بن سکے۔ موجودہ نظام کی اصلاح کی جاۓ ۔ جہاں خامیاں اور کمزوریاں ہیں انہیں دور کیا جائے تا کہ جب و عملی میدان میں آئیں تو منظم زندگی گزار ہیں ۔ خاندان کے بعد دوسرا ہم معاشرتی اور تعلیم کا ہے ۔ جہاں فروکی ابتدائی عمر میں اخلاقی تربیت کی جاتی ہے اور اس میں حب الوطنی کا جذ بہ ابھارا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں Guidance and Councilling کے مراکز ہیں ۔استاد جب بچے کو اوسط درجے سے منحرف دیکھتا ہے تو اسے مراکز میں بھیج دیتا ہے جہاں تجربہ کار مشیر اور نفسیاتی طبیب بچوں کا علاج نہایت محنت اور خلوص سے کرتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک جن میں اداروں اور مشیروں کا تعلق عدالتوں سے نہیں ہوتا ان کا اصل کام خطا کاری کوروکن نہیں ہوتا بلکہ مریض کی جذباتی اور شخصیاتی نکالیف کا حل ڈھونڈ نا ہوتا ہے ممکن ہے خطا کار کی خطاؤں کی تہہ میں ان کی بیجانی یانی تکالیف موجودنہ ہوں کیونکہ خطا کے اسباب صرف نفسیاتی ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی قسم کے ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح مقطرب بچوں اور نو جوانوں کیلئے ایک اسلامی طریقہ گروہی علاج معالجہ Group Thesaphy ہے ۔ یہ گروہ خود نفسیاتی طبیب چھتا ہے۔اس میں کھیل کود اور اسی قسم کی دوسری تفریحی سرگرمیاں کا انتظام کیا جا تا ہے جو گروہ کا لیڈر ہوتا ہے اسے اس کا علم ہوتا ہے کہ بچوں کو کیا تکلیف ہے یا انہیں کیا مسائل درپیش ہیں ۔ وہ ہر بچے کے کردار کا مطالعہ کرتا ہے۔ اسے تسلی دلاسہ دیتا ہے اور پیار محبت سے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان گروہوں کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں ہوتا۔ بچے خو اپنی تکالیف کا مظاہرہ کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کا حل ڈھونڈتے ہیں ۔ اگر بڑوں کیلئے گروہ بنا ہوتو کھیل تماشے کے بجائے انتلو، بحث مباحثہ مذاکرہ ہوسکتا ہے۔ انتلو کیلئے بھی کوئی موضوع پہلے سے بھی طے نہیں کیا جا تا بلکہ جو موضوع بھی گروہ زیر بحث ا نا چاہتا ہوا سکتا ہے۔ علاج معالجہ کے جو مختلف طریقے بیان ہو چکے ہیں ان کی بنیاد اس مفروضہ پر ہے کہ خطا کاری میں خاندان کا بڑا حصہ ہے۔ خاندان کی اگر اصلاح ہو جائے تو مجرمانہ رویے میں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن خاندان بھی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اس کی اصلاح بھی معاشرے کی اصلاح پر منصر ہے ۔

ii۔ مجرمانہ روی اور اصلاحی طریقہ کار

مجرمانہ رویوں کیلئے جو اصلاحی طریقے استعمال ہوتے ہیں وہ مغربی ماہرنفسیات اور ماہر جرمیات کے مرتب کردہ ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طریقہ ان لوگوں کو اور ان کے والدین کو نفسیاتی طبی معاجہ مہیا کرتا ہے۔ اس کیلئے شرط یہ ہوتی ہے کہ ایسی پنی علامات موجود ہوں جو نشاندہی کر سکیں کہ اصلاح کے مثبت نتائج ہوں گے۔ وہ بچے جو عدم تحفظ ،احساس کمتری یا کسی اور ایسے ہی مخصوص رویے کا شکار ہوں جو کہ انہیں مطمئن زندگی گزارنے میں رکاوٹ کا احساس دلاے تو انہیں نفسیاتی کلینک میں علاج معالجہ کیلئے داخل کرا دینا چاہیے

۔ معاشرتی و ثقافتی اقدار

: جرائم کنٹرول کرنے میں معاشرتی اور ثقافتی اقداربھی اہمیت رکھتے ہیں جب تک معاشرے میں عملی طور پر برائی کے خلاف سخت ریمل نہیں ہو گا اس وقت تک جرائم کی جڑیں مضبوط رہیں گی ۔ جرائم کو یکسر تو کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن معاشرے میں اجتماعی رویے کی وجہ سے منفی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصایشکنی کی جاسکتی ہے۔ معاشرتی اور ثقافتی اقدار میں جرائم اور غیر ذمہ دارانہ معاشرتی رویوں کا سختی سے نوٹس لیا جائے لیکن جہاں تک اصلاحی پہلو کا تعلق ہے اس کیلئے معاشرتی نظام میں اتنی چیک ضرور ہونی چاہیے کہ وہ اس فرد کے ساتھ ہمدردی اور ذمہ دارانہ رو میدر کھے جو جرائم کی دنیا سے نہ صرف نکل آتا ہے بلکہ شائستہ اطوار اپنا تا ہے اور معاشرے میں ایک معتبر مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

۱۷۔ بے روزگاری میں کمی اور موجودہ ذرائع کا استعمال:

معیشت کسی بھی ملک یا معاشرے کے اقدار اور طرز زندگی پر گہرا اثر رکھتی ہے ۔ جس معاشرے کی معیشت مضبوط ہوگی وہاں جرائم کسی حد تک کم ہوں گے یا وہ جرائم سرزد ہوں گے جن کا تعلق معیشت سے کم ہو گا ایسے معاشرے میں زیادہ تر وہ جرائم سرزد ہوتے ہیں جو عیاشی کے تصور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معیشت کا نظام ایسی پالیسی کی ٹھوس بنیادوں پر ہونا چاہیے جہاں ہر فر دکواس کی اپنی قابلیت یا جسمانی مشقت کے مطابق اجرت ملے ۔ ان ممالک نے زندگی کے ہر دوسرے شعبے میں ترقی کی ہے جہاں ہر کام کرنے والے کو اس کی اہمیت و قابلیت اور ضرورت کے مطابق اجرت اور سہولیات ملتی ہیں ۔ موجودہ ذرائع کے استعمال میں زیادہ سے زیادہ افراد کو شامل کیا جاۓ ۔ بچھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے انہیں مزید بہتری کیلئے آسان اقساط پر قرضنے کی سہولیات آسانی سے فراہم ہوں ۔ ہنر مندوں کی مزید تربیت کا بہتر انتظام موجود ہو اور ان سے حاصل شد و پیداوار کا نہیں جائز حصہ دیا جائے

شادی شدہ افراد کی تربیت:

شادی شدہ مردوں اور عورتوں کیلئے مشاورتی مراکز ہونے چاہیے ۔ جہاں ڈاکٹر ، نفسیاتی طبیب ، وکیل اور معاشرتی ماہر ہوں شادی شدہ اشخاص کو صلاح مشورہ د میں جو میاں بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہ کر پائے ہوں ۔ بعض عائلی عدالتیں بھی اس نوعیت کی ہوتی ہیں وہ بھی میاں بیوی کو سمجھا بجھا سکتی ہیں اور ان کی قانونی مشکلات دور کر سکتی ہیں ان مشاورتی مراکز اور عائلی عدالتوں کو گو جرمانہ رویے کی روک تھام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن بالواسط تعلق ضرور ہے ۔ تجربات کی روشنی میں ثابت ہے کہ جن گھروں میں جھگڑے عام ہوتے ہیں وہاں مجرمانہ رویے پرورش پاتے ہیں ۔اس لئے جو مدو بھی والدین کو دیجاسکے جوان کی اور نوعمروں کی زندگی کو آسودہ بنا سکے وہ مجرمانہ رویے کو کم کرنے کیلئے ایک باہمت اور حوصلہ افزاء قدم ہوگا۔

معاشرے کا غیر ذمہ داراندرو یار اس کے اثرات:

ہمارے معاشرے میں کئی جرم لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں لیکن عوام کسی قسم کا رول کرنے سے گریز کرتی ہے یہ بالکل ایسی حقیقت کی مانند ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے ہمارے روز مرہ زندگی سے اس کی مثال کچھ اس طرح بھی دی جاسکتی ہے جیسے راہ چلتی لڑکیوں پر فقرے بازی ہو یا نہیں کسی اور طریقے سے تنگ کیا جاۓ ، لیکن دوسرے افرادائیں حرکات پر دھیان نہیں دیتے اور خاموشی اختیار کرتے ہیں اسی طرح محلوں میں فحاشی ، جوۓ اور شراب نوشی کھلے عام ہوتی ہے لیکن معاشرے کاریٹیل سر در بتا ہے جب معاشرے میں ایسے حالات ہوں تو جرائم کا سد باب کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اگر عوام باشعور ، بیدار اور ذمہ دار ہوں تو جرائم پیشہ لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے ۔ اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عار محسوس نہیں کرتے مثلا دکا نداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورا نہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تا ہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اس طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جوصرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور ٹینزم انہیں بھی دھوکہ.       دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بد عہدی نہ کریں تو وہ بھی شکایت نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کام کو براگر دائیں گے ، اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آگاہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی بینک لونے جاتے ہیں پاراہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نا مناسب سلوک کیا جا تا تب معاشر وقتی طور پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتاہے لیکن پھر ٹہراؤ آجاتا ہے موم ہمارا معاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھٹری دکھائی دے تو نام مطمئن ہو جاتے ہیں اورکسی تنظیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے ۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اور ظلم وتشد د کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو ٹیکس زیادہ دینے پڑتے ہیں اس طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عارمحسوس نہیں کرتے مشار دکانداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورانہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تاہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اسی طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جو صرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور مجرم نہیں بھی دھوکہ دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بدعہدی نہ کر میں تو وہ بھی شکایت نہیں کر یں گے اور نہ ہی اس کام کو برا گردانیں گے ،اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آ گا ہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی جینک لوٹے جاتے ہیں یا راہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا تا تب معاشرہ وقتی طور پر اپنے رومل کا اظہار کرتا ہے لیکن پھر ٹھہراؤ آ جاتا ہے عمو ماہمارامعاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھڑی دکھائی دے تو ہم مطمئن ہو جاتے ہیں اور کی تعلیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رو بی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اورظلم وتشدو کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو یکس زیاد دینے پڑتے میں اسی طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیں ہیں اور جرم وسیاست کا کوئی باضابطہ تعلق نہیں ہے تو جرم اور مجرمانہ رویوں میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے ۔

سوال نمبر: 03۔ شراب نوشی کے سابی نقصانات کی فہرست مرتب کر میں نیز پاکستان میں پچی شراب کے استعمال کی حوصاٹیکنی کیلئے تجاویز دیں۔

جواب۔

ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی برائیاں جنم لے چکی ہیں وہیں نشہ جیسی برائی نے بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہے ۔ کثیر تعداد میں لوگ نشے کے عادی ہو چکے ہیں۔ بوڑھا ہو یا نو جوان ، مرد ہو یا عورت ،امیر ہو یا غریب ،افسر ہو یا حا کم ،تاجر ہو یا کسان بے شمار افراد جانے انجانے نشے کی لت میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انسان بڑا ہی نادان ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے جب کہ اللہ نے قران کریم میں ارشاد فرمایا اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو (البقر 195- ) ۔اسلام نے ہر نشہ آور اشیاء کوحرام قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ حضور سے کسی نے آپ کے تبع کے بارے میں پوچھا جو شہد سے بنا تھاتو آپنے فرمایا کہ ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے ( بخاری ومسلم )۔ اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہر دوشی جو نشہ دینے والی ہے و واسلام کی نظر میں حرام ہے اور اہل اسلام کو اس کا استعمال ہرگز روا نہیں۔ خواہ وہ بھانگ ہو،افیون ، چرس ، یا شراب اور اس کے علاوہ دیگر نشہ آور منشیات سب اسلام میں حرام ہے ایک اور حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب نے نشہ لانے والی اور فتور پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا(ابوداؤد ) ۔ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ بیشمار برائیوں میں ملوث تھے۔ وہیں شراب بھی عام تھی ،لوگ کثرت سے شراب پیتے تھے، جب اسلام آیا تو قرآن میں اللہ نے اس کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کو بھی بیان کیا اور ہمیشہ کے لئے شراب کو حرام کر دیا۔ اللہ جل شانہ نے ارشادفرمایا اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام میں سوان سے بچتے رہوتا کہ تم نجات پاؤ‘‘(المائد 90-)۔ شراب کی نحوست کا انداز اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس کو شیطانی کام کیا اور بت پرستی کے ساتھ بیان کیا۔ اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں شراب کی مذمت اور اس کی قباحت و خباثت کو واضح انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ سے شراب کے متعلق دریافت فرمایا تو اللہ کے حبیب نے فرمایا کہ میکبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ سب برائی کی سردار ہے (الزواجر )۔ اللہ کے نبی نے ارشادفر مایا کہ جوشخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز شراب نہ پیئے اور جواللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب ہو( طبرانی)۔امام طبرانی نے جم کبیر میں ایک حدیث حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے ۔ آپ فرماتیں ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہوئی تو میں نے پیالے میں نبیذ بنایا جوھجور سے بنایا ہوا ایک قسم کا مشروب ہے ) اللہ کے رسول میرے گھر تشریف لاۓ تو و وابل ( چولھے پر رہی تھی۔ آپ نے فرمایا ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا میری بیٹی بیمار ہے اس کی دوا بنا رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایاکہ اللہ نے حرام کردہ اشیاء میں میری امت کے لئے شفا نہیں رکھی ہے۔ ایک حد میں حضرت وائل حضری سے مروی ہے کہ طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا ، آپ نے ان کو منع فرمایا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ میں تو صرف دوا کے لیے شراب بنا تا ہوں حضور نے ارشادفرمایا کہ وہ دوا نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی بیماری ہے (مشکوۃ )۔ مذکورہ احادیث سے شراب کی حرمت اور اس کی قباحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ حرام اشیاء میں شفانہیں ہے ۔ ایک جگہ اللہ کے حبیب نے ارشادفرمایا کہ شراب نہ ہو کہ میام الخبائث ہے اور ای ام الخبائث کہ انسان شراب کی حالت بھی بھی اپنی ماں اور پھوبھی کے ساتھ بھی بدکاری کر بیٹھتا ہے ۔ اور بھی بہت ہی حدیثیں شراب کی مذمت میں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔شراب پینے والوں کے بارے میں اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں وعید میں بیان فرمائی ہیں حضور نے فرمایا کہ جودنیامیں شراب پیتے ہیں اللہ تعالی انہیں جہنمی سانیوں کا زہر پائے گا جسے پینے سے پہلے ہی اس کے چہرے کا گوشت گل کر برتن میں گر جائے گا اور جب وہ اسے اپنے گا تو اس کا گوشت اور کھال ادھر جائے گی جس سے سمی اذیت پائیں گے ( روح البیان ج ۴) ۔ ایک جگہ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جوشخص دنیا میں شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا اللہ تعالی اسے آخرت میں جہنم کی پیپ پلاۓ گا (روح البیان ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ دائی طور پر شراب پینے والا اگر مر گیا اسی حالت میں تو در بارخداوندی میں اس طرح آۓ گا جیسے ایک بت پرست ( مشکوۃ شریف) ۔ حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میری عزت و جلال کی قسم جو بندہ ایک گھونٹ بھی شراب پیئے گا میں اس کو اتناہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اسے چھوڑے گا میں اسے مقدس حوض سے پاؤں گا ( امام احمد بن حنبل ) ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ نے تین آدمیوں پر جنت حرام کر دی ہے ۔ وہ تین میں ہیں (۱) ہمیشہ شراب پینے والا ( ۲ ) والدین کی نافرمانی کرنے والا ( ۳ ) دیوث جو اپنے اہل میں بے حیائی کو دیکھے اور منع نہ کرے(نسائی)۔

شراب انسان کے لئے دین و دنیا دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے ۔ دینی نقصان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نارانسگی کوخرید کر اپنی آخرت بر باد کر لیتا ہے ۔ دنیوی نقصان یہ ہے کہ مختلف قسم کی مہلک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جو ہلاکت کا سبب بنتی ہیں ، لاکھوں عورتیں شرابی شوہر کے ظلم وستم کا نشانہ بنتی ہیں شراب پینے والا بے مروت ہو جاتا ہے، سماج اور معاشرہ کے لئے دردسر بن جا تا ہے ۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ شراب میں ہر طرف سے تباہی اور بربادی ہے، مال کی بھی اور جان کی بھی ۔ اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے ۔

سوال نمبر :04۔ پاکستان میں مختلف دیہی ترقیاتی پروگراموں کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ نیز دیہی ترقی کے طریقہ کار کی وضاحت کر یں۔

جواب۔

دیہات کے لوگوں کی زندگی کا ایک اور اہم پہلوتعلیم سے بے بہرہ ہونا ہے اگر چہ حکومت تعلیم کو عام کرنے کے لیے بہت ہی کوششیں کر رہی ہے مگر اس کے باوجود ہمارے اکثر دیہات میں ابھی تک تعلیم کی روشنی نہیں پہنچ پائی اس کے ساتھ ساتھ لوگ بھی تعلیم حاصل کرنا ضروری تصور نہیں کرتے ان کے خیال میں سکول بھیجنے کی بجائے بچے کو ھیتوں میں بھجنا زیادہ فائدہ مند ہے ۔ دیہات کے لوگ اپنی غربت کے ہاتھوں نہ تو پڑھائی کے لیے پیسہ خرچ کر سکتے ہیں اور نہ ہی وقت ۔ اس کے علاوہ اکثر دیہات ایسے ہیں جہاں پرائمری سکول بھی نہیں ہیں اس لیے لوگ دوسرے دیہات میں اپنے بچے بھیجنا پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان پڑھے ہیں یہ حالت صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ اکثر ترقی پذیر ممالک میں خواند و یا پڑھے لکھے افراد کی تعداد بہت ہی کم ہے اور جتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اکثر شہروں میں رہتے ہیں دیہات میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے مندرجہ ذیل جدول جو کہ آئی پی پی ایف کے جرید پی پی پی کے جرید نے پیپلز سے لیا گیا ہے اس سے ترقی پذیر ممالک میں نا خواندگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ علمی پسماندگی اور غربت و افلاس لازم وملزوم ہیں۔ ناخواندگی کے باعث کاشت کا ر جد ید زری معلومات سے بے بہرور ہتے ہیں زرعی

پیداوار میں اضافہ کرنے کی تدابیراور طریقوں کاعلم نہیں رکھتے ۔ اگر کاشتکار پڑھے لکھے ہوں تو وہ نہ صرف جدید معلومات زرمی سے استفادہ کر کے اپنی زرعی پیداوار بڑھنے کی تدابیر کر سکتے ہیں بلکہ اپنے روز مرہ کا حساب کتاب رکھ سکتے ہیں تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان کی معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا اور ان کے ذہن میں نئی ایجادات کے لیے وسعت اور بالغ نظری پیدانہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں نئی یجادات اپنانے کا حوصلہ پیدانہیں ہوتا۔ تعلیم ایک ایسا معاشرتی عمل ہے جس کے بغیر ہم افراد معا شر وترقی کی اہمیت نہیں سمجھا سکتے اور وہی ترقیاتی کاموں میں سرگرم حصہ لینے پر آما وہ کر سکتے ہیں تعلیم کے بغیر سابی اور ثقافتی تربیت بھی ممکن نہیں ہوتی چنانچہ لوگوں کی حالت بدلنے کے لیے ان کو اور ان کے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو تعلیم دینے کا بندوبست کرنا نہایت ضروری ہے۔ و یہی معاشرتی زندگی: دیہی زندگی شہری زندگی سے مختلف ہوتی ہے چونکہ ہماری آبادی کا تقریبا72 فیصد حصہ دیہات میں و بستا ہے اس لیے ان لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں اور دیہات کو ترقی دینے والے طریقہ کارکومندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو درج ذیل ہے

دیہات کاطبیعی ڈھانچہ

جونہی ہم شہروں سے وہی علاقوں کی طرف جاتے ہیں سب سے پہلے سرسبز کھیت اور کسان ہمارا استقبال کرتے ہیں جن میں کوئی فصل کو پانی دے رہا ہوتا کوئی زمین میں ہل چلا رہا ہوتا ہے کوئی بیچ ہور ہا ہوتا ہے تو کوئی فصل کاٹ رہا ہوتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نام دیہی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں پاکستان کے دیہی علاقوں میں لوگ زیادہ تر کچے مکانوں میں رہتے ہیں جن کی چھتیں شہتیروں پر گھاس پھونس ڈال کر بنائی جاتی ہے یہ گھر عموما کھلے کھلے ہوتے ہیں درمیان میں محن ہوتا ہے گھر کے کمروں میں عموماً کھڑ کی باروشندان ہوتے ہیں گلیاں اور محلے ترتیب سے نہیں بنے ہوتے اکثر گلیاں ٹیڑھی میڑھی ہوتی ہیں اور عموما گندی ہوتی ہیں اگر چہ ہر گھر انفرادی طور پر بیکوشش ضرور کرتا ہے کہ اپنے گھر کے سامنے کا حصہ صاف رکھے مگر اس کے باوجود چونکہ سرکاری طور پرکوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا اس لیے کئی جگہوں پر اس کے ڈھیر ملتے ہیں زندگی میں جدید سہولتوں کا فقدان ہے بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچ سکی سوئی گیس کی سہولت بھی موجود ہیں اکثر دیہات تک پکی سڑک نہیں جاتی پانی عموما ہنڈ پمپ سے حاصل کیا جا تا ہے بعض علاقوں میں جہاں پانی کی تلخ اونچی نہیں کنو میں کھودے جاتے ہیں

زرعی ترقیاتی بینک آف پاکستان

ا۔ مقاصد: بنک کا قیام 1961 ء میں عمل میں آیا۔ اس کا مقصد زری شعبوں میں کاشتکارکوقرضے فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ گاؤں کی طح پر گھر یا منعتیں لگانے کیلئے بھی قرضے فراہم کرنا اس بنک کا بنیادی مقصد تھا۔

ii۔ طریقہ کار: بنک کا شتکاروں کوان کی بہت فصل کیلئے قرضے فراہم کرتا ہے یہ قرضے آسمان مشعلوں میں واپس لئے جاتے ہیں اور کسان کو ں نے ان میں ورکر اس کی زمین کے مطابق قرضہ ماتا ہے عموماز میں گروی رکھی جاتی ہے یا فصل کے مطابق قرضہ کی شرائط طے کی جاتی ہیں ۔

نتائج:

پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق 81-1980 تک بنک نے 62-1066 ملین روپے کے قرضے فراہم کئے ۔ان

قرضوں کی رقم میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ 82-1991 ء میں یہ قرضے 38-1557 ملین تک پہنچ گئے ہیں۔ ان قرضوں کا 45 فیصد سے بھی زیادہ حصہ زرعی مشینری خریدنے کے کام آیا مگر بنک کی ان سہولتوں کے زیادہ تر فائدے بڑے کاشتکاروں کو حاصل ہوۓ کاشتکاروں کو کل رقم کا بمشکل 21 فیصد دیا گیا تا ہم اس قرضے کی بدولت بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور زراعت میں ترقی کا سبب بنا۔ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے طریق کار میں کارکن کے کردار کی اہمیت: کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کا انحصار صرف ایک شخص پر ہوتا ہے جسے ہم ترقیاتی کارکن یا ترقیاتی رہنما بھی کہ سکتے ہیں۔ چنانچہ اسے ہر دلعزیز اور قابل قبول شخصیت ہونے کے علاوہ جنتی اور دیانتدار بھی ہونا چاہئے ۔ اس کے علاوہ اسے اس کمیونٹی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے فوری حل کے بارے میں تھوڑا بہت علم بھی ضرور ہونا چاہئے مثلا چھوٹی چھوٹی بیماریوں کی صورت میں بیان کیلئے معالج ثابت ہوا تعلیم وتربیت میں استاد ، گھر یلو معاملات میں مشیر ، جھگڑے لے کرانے میں بیج اور مصالحت کنند و در اجتماعی کاموں میں ان کا رہنما ہونا چاہئے ۔اگر چہ وہ ان تمام معاملات میں ماہرین کی جگہ تو نہیں لے سکتا مگرلیکن ان تمام معاملات میں اس کی ایسی رائے ہونی چاہئے جو زیادہ تر لوگوں کو قبول ہو اور ان کے فوائد میں ہو ۔ اسے اس آبادی کیلئے جس ترقی پر اسے معمور کیا گیا ہو ایک مثال ہونا چاہئے تب جا کر کہیں اس طریقہ کار سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ تر قیاتی کارکن کو مندرجہ ذیل اصولوں کی روشنی میں اپنے کام کا آغاز کرنا چاہئے

1۔ کارکن کو ان لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرنے چاہئیں جن کے ساتھ وہ کام کرنا چاہتا ہے۔

کارکن لوگوں کی چھوٹی چھوٹی اور ہنگامی ضرورتوں کو پورا کر کے ان کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اگر وہ ان کی کسی معمولی بیماری کا علاج کر کے ان کو صحت و صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہے گا تو وہ آسانی سے اس کی بات سمجھ جائیں گے ۔ چونکہ یہ اعتاد اس نے حال ہی میں حاصل کیا ہوتا ہے اور اہل خانہ کو ایک مصیبت سے نجات دلانی ہوتی ہے اس لئے اس وقت ان کے جذبات واحساسات کا احترام کر کے انہیں سمجھا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ جب کوئی اس سے مشورہ طلب کرے تو کارکن کو اس کے ساتھ اس طرح سے بات کرنی چاہئے کہ وہ جان لے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اس کا کوئی ہدر نہیں اور اسے اپنے ایمان اور مسلم کے مطابق سیح مشور و دینا چاہئے ۔ اس طرح کے لگاتار عمل سے و واس معاشرتی گروہ میں ایک قابل احترام شخصیت بن جائے گا اور اسے کام کرنے میں آسانی ہوگی۔

2۔ کارکن کو ہرائی جانے والی تبد یلی کیلئے لوگوں کی رضامندی حاصل کر لینی چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ

کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے ۔

کارکن اگر ان لوگوں کی مقامی زبان میں بات کرنے والا ہو جن لوگوں میں اسے بھیجا گیا ہوتو وہ اس کی بات کو آسانی سے سمجھ جائیں گے نیز مقامی واقفیت کی بناء پر وہ مختلف منصوبے بنانے اور ان کی ترجیحات مرتب کرنے میں بھی زیادہ ماہر ہوگا۔ علاوہ ان میں اگر وہ ان لوگوں کا ہم عقید بھی ہوتو زیادہ اچھا ہے اس کے برعکس بیرونی ماہرین اور ٹیکنیک فتی لحاظ سے پیا ہے کتنی بھی املی کیوں نہ ہو وہ اگر لوگوں کے جذبات و احساسات سے ہم آہنگ نہ ہوگی تو مطلوبہ نتائج پیدا کرنے سے قاصر رہے گی ۔ اسی بات کوئی ۔آرمین نے اپنی کتاب ’’معاشرے اور ان کی ترقی میں ایشیائی ممالک کی فنی امداد کے سلسلے میں ہونے والی کانفرنس میں جنوب مشرقی ایشیاء کے نمائندوں کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ تمام نمائندے اس بات پر متفق تھے کہ گذسته چند سالوں کے دوران مختلف اداروں کی طرف سے دی جانے والے فنی امداد نہ صرف نتیجہ رہی بلکہ بعض حالات میں نقصان رساں بھی ثابت ہوئی کیونکہ و مغربی ممالک سے آنے والے ساز و سامان اور وہیں پر ترتیب دی گئی ٹیکنیک پریٹی تھی جس کا مقصد تیزی سے حاصل ہونے والے اور نظر آنے والے نتائج پیدا کرنا تھا۔ اس ساز و سامان اور ٹیکنیک پر کام کرنے والے بھی مغربی ماہرین تھے جو ٹیکنیک کی حد تک تو بہت ماہر تھے لیکن مقامی حالات سے بالکل ناواقف تھے۔ وہ ہر متوقع سوال کا جواب جانتے تھے لیکن جب وہ موقع پر پہنچتے تو ان کی تمام مہارت بے کار ثابت ہوتی ‘‘۔ مزیدآگے چل کر لکھتے ہیں کہ درحقیقت اب وہ تمام کارکن محسوس کرنے لگے ہیں کہ اگر وہ بھیں گے کہ وہ تمام خیالات اور منصوبے جو ان کے اپنے ماحول اور تہذیب وتمدن میں درست کسی دوسرے میں اسی طرح درست نتائج کے حامل ہوں گے تو نا کامی ان کا مقدمہ بن جائے گی‘۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ کارکن کا ان لوگوں میں سے ہونا لازمی ہے اور دو ان کا ہم عقید ہ ہونے بنا پر ان کی خوشی اورمی میں بھی شامل ہو سکے تو وہ ان میں مزید شیر و شکر ہو سکے گا اور پیاس کی اپنے مشن میں کامیابی ضمانت ہوگی ۔

کارکن کو انہیں اس بات کی یقین دہانی کروانی چاہیے کہ مجوزہ تبدیلی نہایت محفوظ ہے۔

کسی تبد یلی کوقبول کرتے ہوۓ لوگ اس بات کا پہلے سے یقین کرنا ضروری خیال کر ہیں گے کہ وہ نہیں ایسا کرنے سے لوگوں کی تضحیک کا نشانہ تو نہیں بن جائیں گے ۔ یا نہیں مالی طور پر نقصان تو نہیں برداشت کرنا پڑے گا مثال کے طور پر ہمارا ان پڑھ کاشت کار نے بیج ، نئے آلات زراعت اورکھیتی باڑی کے نئے طریقوں کو اپنانے سے ہچکچائے گا اور سوچے گا کہ ایسا کرنے سے کہیں میری فصل تو نہیں ماری جاۓ گی ۔ میرا سال تو ضائع نہیں ہو جائے گا وہ ان تبدیلیوں کو حکومت کی طرف سے کئے گئے تجربوں کی روشنی میں بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوگا کہ اس لئے کہ جب وہ اپنے اور حکومت کے وسائل کا موازنہ کرے گا یہی مجھے گا کہ حکومت تو یہ سب کچھ کر سکتی ہے میں انہیں ضمانت فراہم کر کے تمام لوگوں کیلئے کا عملی مظاہرہ کرنے کا بندوبست کر نا ہوگا تب کہیں جا کر وہ انہیں قائل کر سکے گا۔

سوال نمبر :05۔ مندرجہ ذیل پرنوٹ لکھیں۔

) شہری علاقوں میں مختلف جرائم

جواب: دراصل بچوں کی بے راہ روی میں گھر کے برے ماحول اور ناقص نگرانی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ والدین کو آج کل اقتصادی و سماجی ذمہ داریوں سے بہت کم وقت ماتا ہے۔ نیچے اپنا بیشتر وقت گلی کو چوں اورآوار ومزاج لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں ۔ بچوں کو نیک و بد بنانے میں دوستوں کی صحبت کافی اہمیت رکھتی ہے ۔ پڑوس میں اچھے برے ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں ۔ والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو سلجھے ہوۓ بچوں کی صحبت سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کر میں اورانہیں بے راہ رو نیچے کی صحبت سے بچائیں تا کہ وہ نیکی کے راستے پر گامزن رہ ہیں بچوں کیلئے صالح تعلیم و تربیت کی سخت ضرورت ہے ۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ ان کو اسلامی اقدار و نظریات اور قانون کی اہمیت سے آگاہ کر میں وہ خود کو بھی تربیت اطفال سے آگاہ کر میں ۔ تا کہ مستقبل کے رہنماؤں کو صالح زندگی بسر کرنے میں آسانی رہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تربیت اطفال پر معیاری کتابیں لکھوائی جائیں اور انہیں سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے کہ بچوں کوخوش اسلوبی سے حاصل کرنے کیلئے تربیت اطفال کی تعلیم کو عام کر نے ضرورت ہے۔ جرائم کی روک تھام کیسے ممکن ہے: پاکستان اسلامی قوانین کے فروغ و نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور اب ان قوانین کوفروغ دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ۔ اس لئے یتوقع پیل ہے کہ اس سے انسداد جرائم میں کافی مدد ملے گی ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر ہمارے قوانین مذہبی تعلقات سے نم آہنگ ہوں اور سماجی انحراف اور جرم ومصیبت کا دروازہ بند ہو جائے۔ لیکن اس مقصد کے لئے ہمیں مذہبی اور قانونی تعلیمات کو بھی کافی رواج دینا پڑے گا اور زندگی میں دین ودنیا کی جوتسیم پیدا ہوگئی ہے اسے بھی ختم کرنا ہوگا ۔ اسلام کے شہری اصولوں کی اگر لوگ پیروی مکمل طور پر کرنا شروع کردیں تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ ملک میں مکمل امن وامان اور سکون قائم ہو جائے گا۔ مذہب اسلام انسان میں خدا کے سامنے جوابدہی ،خوف خدا اور خدا ترسی پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان کو اس بات کو یقین ہو جائے نیز اس بات کا با قاعدہ پر پاراور تبلیغ کی جائے تو جرائم قتل ، ڈکیتی، چوری کا قلع قمع ہوسکتا ہے ۔ اسلامی سزائیں بھی رائج کر دی جائیں تو ایسے جرائم بہت کم ہو جائیں گے جس طرح کہ سعودی عرب میں جرائم بہت کم پاۓ جاتے ہیں کیونکہ وہاں اسلام کے مطابق انصاف ملتا ہے۔ اور مجرم کو سخت سزادی جاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جائے ۔ کیونکہ اگر افراد کو یہ بھی یقین ہو کہ قوانین کی خلاف ورزی پر نہ صرف وہ حکومت کا مجرم ہے بلکہ خدا کا مجرم بھی ہو گا تو جرائم کرنے سے پہلے و وضرور سوچے گا ۔

 ناقص منڈی کے دیہی زندگی پراثرات

جواب: ناقص منڈی کے دیہی زندگی پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں :

1۔ ناقص منڈی کی وجہ سے اشیاء کی خرید وفروخت میں مشکل پیش آتی ہے۔

2 ۔ ناقص منڈی کی وجہ سے صحت کے اصولوں کا پاس نہیں رکھا جا تا ۔

3۔ ناقص منڈی کی وجہ سے کاشت کا کوا پنی فصل کا ؤں میں ہی آ ڑھی کے ہاتھوں اونے پونے فروخت کرنی پڑتی ہے ۔

4۔ ناقص منڈی دیہی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

 

Course  Sociology -II( 413 )

Assignmen:: t no 2.

Semester::  2022 spring

 

 

 

سوال نمبر: 01۔ کثرت آبادی ترقی پذیر ممالک کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے کیا اسباب میں وضاحت کریں۔

 جواب:

کثرت آبادی سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے اگر چہ اللہ تعالی نے زمین کو طرح طرح کی نعمتوں اور وسائل سے مالا مال کیا ہے لیکن آج کے ترقیاتی یافتہ دور میں خدا کی نیمتیں بتدریج کم ہوتی جارہی ہیں اور دنیا کی ایک بڑی آبادی کو ایک وقت کی روٹی بڑی مشکل سے میسر آتی ہے ماہرین عمرانیات ، اقتصادیات و آبادیات اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ وسائل سے زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیتے ہیں بڑھتی ہوئی آبادی کا یہ سیلاب پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے کثرت آبادی کی روک تھام کے لیے چند اقدامات درج ذیل ہیں

: ا۔ عورت کے روایتی کردار میں تبدیلی:

پاکستان میں برادری نظام کی موجودگی مشترکہ خاندانی نظام اور دیگر ثقافتی اثرات کی وجہ سے معاشرے میں مردکوعورت پر فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے عورت اپنے روایتی کردار یعنی گھر اور بچوں کی پرورش تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اس تصور کوتوڑنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر ملک کی آدھی آبادی گھر میں قید ہو کر رہ جاۓ یا ایسے کام کرے جس کی نوعیت غیر پیداواری ہو تو ظاہر ہے یہ بات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور کثرت آبادی کا باعث ہے خواتین کا مجاب کر ناکسی حد تک اس مسئلے کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

خواتین کی تعلیم:

خواتین میں خواندگی کی سطح خصوصا دیہی علاقوں میں بہت کم ہے خواتین میں تعلیم کے پھیلاؤ کی افادیت کا انداز داس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ نا خواند و خواتین کی نسبت ایسی خواتین جنہوں نے تعلیم حاصل کی ہوان کے ہاں بچوں کی تعداد نصف ہوتی ہے اس لیے چھوٹے خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے اور شرح پیدائش کو کنٹرول کرنے کے لیے خواتین کی تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔

افرادی قوت کا صحیح استعمال:

افرادی قوت کا بیج استعمال بھی آبادی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جیسے کہ نو جوانوں کو ہنر سکھائے جائیں اور ان کی پیداواری صلاحیتوں کو بروے کا را یا جاۓ تا کہ بھکاری نہ بنیں اور بے کار نہ پھر ہیں

۴۔ خاندانی منصوبہ بندی کا شعور

خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد ، خاندان میں افراد کی تعداد کو خاندان کے وسائل کے مطابق رکھتا ہے نہ کے نسل انسانی کی بندش ہے پاکستان میں آبادی کے کنٹرول سے متعلق جتنے بھی منصوبے کام کر رہے ہیں ان کی تیج افادیت کی آگاہی کے لیے ملک گیر سطح پر نظم کوششوں کی ضرورت ہے جس کے لیے تمام ذرائع بروئے کارلانے چاہئیں جن میں میڈ یاتعلیمی اداروں اور دیہی سطح پر بزرگوں کو شامل کعنا ضروری ہے

۵۔ دیہی آبادی کی ترقی

دیہی آبادی کو معاشی و معاشرتی ترقی دینے اور بہترین صحت غذا اورتعلیمی سہولیات فراہم کرنے سے دیہی معاشروں میں عورت کا مقام و معیار بلند کرنے میں مدد ملے گی جس سے ملکی ترقی اور ملک کی آبادی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں

مدد ملے گی۔

۔ قدرتی وسائل کا بہتر استعمال:

معاشی ومعاشرتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا بیج استعمال بھی آبادی کے اضافے کو کنٹرو ل کر سکتا ہے کیوں کہ جتنا کوئی معاشرہ خوشحال ہوگا اور وسائل کی فراوانی ہوگی اضافہ آبادی بھی بھی منا نہیں بنے گی قدرتی وسائل میں پانی کا صحیح استعمال جیسا کہ ڈیز کی تعمیر کے ذریعے پانی کے ذخائر بڑھانا ، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، جدید زرعی آلات کا استعمال ، کھاد میں اور توانائی کے نئے ذخائر وغیرہ کی دریافت شامل ہیں ان اصولوں پر ٹیل کیا جاۓ اور دیہی علاقوں کی ترقی پر خاص توجہ دی جائے تو پورا معاشرہ خوشحال ہوگا اور بے روز گاری کم ہو جائے گی وسائل کے بیج استعمال و منصفا تقسیم سے لوگوں میں محنت کا جذ بداجا گر ہو گا اور افراد کا معیار زندگی بلند ہوگا اور یوں معاشرہ امن وخوشحالی کی جانب گامزن ہو گا اور کثرت آبادی کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوگا۔

سوال نمبر :02۔غربت کے معاشرے پر عمومی اثرات بیان کر میں نیز غربت کی شدت کو کم کرنے کیلئے کس قسم کے اقدامات زیادہ مئوثر ثابت ہوں گے

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غربت معاشرے میں بگاڑ کی ایک بہت بنیادی وجہ ہے ۔ پر ایسے اقدامات کئے جاسکتے ہیں جن کی وجہ سے ان منفی رویوں میں کمی لائی جاسکتی ہے اور ایک خوشگوار ماحول وفضا کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

 ا۔نظام تعلیم کی اصلاح اور ترقی:

ہمارے معاشرے میں تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں رہی اور غیر رکی تعلیم دی جاتی ہے تا کہ بچہ اپنے مستقبل میں معاشرے کا ایک کامیاب فرد بن سکے۔ موجودہ نظام کی اصلاح کی جاۓ ۔ جہاں خامیاں اور کمزوریاں ہیں انہیں دور کیا جائے تا کہ جب و عملی میدان میں آئیں تو منظم زندگی گزار ہیں ۔ خاندان کے بعد دوسرا ہم معاشرتی اور تعلیم کا ہے ۔ جہاں فروکی ابتدائی عمر میں اخلاقی تربیت کی جاتی ہے اور اس میں حب الوطنی کا جذ بہ ابھارا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں Guidance and Councilling کے مراکز ہیں ۔استاد جب بچے کو اوسط درجے سے منحرف دیکھتا ہے تو اسے مراکز میں بھیج دیتا ہے جہاں تجربہ کار مشیر اور نفسیاتی طبیب بچوں کا علاج نہایت محنت اور خلوص سے کرتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک جن میں اداروں اور مشیروں کا تعلق عدالتوں سے نہیں ہوتا ان کا اصل کام خطا کاری کوروکن نہیں ہوتا بلکہ مریض کی جذباتی اور شخصیاتی نکالیف کا حل ڈھونڈ نا ہوتا ہے ممکن ہے خطا کار کی خطاؤں کی تہہ میں ان کی بیجانی یانی تکالیف موجودنہ ہوں کیونکہ خطا کے اسباب صرف نفسیاتی ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی قسم کے ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح مقطرب بچوں اور نو جوانوں کیلئے ایک اسلامی طریقہ گروہی علاج معالجہ Group Thesaphy ہے ۔ یہ گروہ خود نفسیاتی طبیب چھتا ہے۔اس میں کھیل کود اور اسی قسم کی دوسری تفریحی سرگرمیاں کا انتظام کیا جا تا ہے جو گروہ کا لیڈر ہوتا ہے اسے اس کا علم ہوتا ہے کہ بچوں کو کیا تکلیف ہے یا انہیں کیا مسائل درپیش ہیں ۔ وہ ہر بچے کے کردار کا مطالعہ کرتا ہے۔ اسے تسلی دلاسہ دیتا ہے اور پیار محبت سے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ان گروہوں کا کوئی طے شدہ پروگرام نہیں ہوتا۔ بچے خو اپنی تکالیف کا مظاہرہ کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کا حل ڈھونڈتے ہیں ۔ اگر بڑوں کیلئے گروہ بنا ہوتو کھیل تماشے کے بجائے انتلو، بحث مباحثہ مذاکرہ ہوسکتا ہے۔ انتلو کیلئے بھی کوئی موضوع پہلے سے بھی طے نہیں کیا جا تا بلکہ جو موضوع بھی گروہ زیر بحث ا نا چاہتا ہوا سکتا ہے۔ علاج معالجہ کے جو مختلف طریقے بیان ہو چکے ہیں ان کی بنیاد اس مفروضہ پر ہے کہ خطا کاری میں خاندان کا بڑا حصہ ہے۔ خاندان کی اگر اصلاح ہو جائے تو مجرمانہ رویے میں کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن خاندان بھی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اس کی اصلاح بھی معاشرے کی اصلاح پر منصر ہے ۔

ii۔ مجرمانہ روی اور اصلاحی طریقہ کار

مجرمانہ رویوں کیلئے جو اصلاحی طریقے استعمال ہوتے ہیں وہ مغربی ماہرنفسیات اور ماہر جرمیات کے مرتب کردہ ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طریقہ ان لوگوں کو اور ان کے والدین کو نفسیاتی طبی معاجہ مہیا کرتا ہے۔ اس کیلئے شرط یہ ہوتی ہے کہ ایسی پنی علامات موجود ہوں جو نشاندہی کر سکیں کہ اصلاح کے مثبت نتائج ہوں گے۔ وہ بچے جو عدم تحفظ ،احساس کمتری یا کسی اور ایسے ہی مخصوص رویے کا شکار ہوں جو کہ انہیں مطمئن زندگی گزارنے میں رکاوٹ کا احساس دلاے تو انہیں نفسیاتی کلینک میں علاج معالجہ کیلئے داخل کرا دینا چاہیے

۔ معاشرتی و ثقافتی اقدار

: جرائم کنٹرول کرنے میں معاشرتی اور ثقافتی اقداربھی اہمیت رکھتے ہیں جب تک معاشرے میں عملی طور پر برائی کے خلاف سخت ریمل نہیں ہو گا اس وقت تک جرائم کی جڑیں مضبوط رہیں گی ۔ جرائم کو یکسر تو کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن معاشرے میں اجتماعی رویے کی وجہ سے منفی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصایشکنی کی جاسکتی ہے۔ معاشرتی اور ثقافتی اقدار میں جرائم اور غیر ذمہ دارانہ معاشرتی رویوں کا سختی سے نوٹس لیا جائے لیکن جہاں تک اصلاحی پہلو کا تعلق ہے اس کیلئے معاشرتی نظام میں اتنی چیک ضرور ہونی چاہیے کہ وہ اس فرد کے ساتھ ہمدردی اور ذمہ دارانہ رو میدر کھے جو جرائم کی دنیا سے نہ صرف نکل آتا ہے بلکہ شائستہ اطوار اپنا تا ہے اور معاشرے میں ایک معتبر مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

۱۷۔ بے روزگاری میں کمی اور موجودہ ذرائع کا استعمال:

معیشت کسی بھی ملک یا معاشرے کے اقدار اور طرز زندگی پر گہرا اثر رکھتی ہے ۔ جس معاشرے کی معیشت مضبوط ہوگی وہاں جرائم کسی حد تک کم ہوں گے یا وہ جرائم سرزد ہوں گے جن کا تعلق معیشت سے کم ہو گا ایسے معاشرے میں زیادہ تر وہ جرائم سرزد ہوتے ہیں جو عیاشی کے تصور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معیشت کا نظام ایسی پالیسی کی ٹھوس بنیادوں پر ہونا چاہیے جہاں ہر فر دکواس کی اپنی قابلیت یا جسمانی مشقت کے مطابق اجرت ملے ۔ ان ممالک نے زندگی کے ہر دوسرے شعبے میں ترقی کی ہے جہاں ہر کام کرنے والے کو اس کی اہمیت و قابلیت اور ضرورت کے مطابق اجرت اور سہولیات ملتی ہیں ۔ موجودہ ذرائع کے استعمال میں زیادہ سے زیادہ افراد کو شامل کیا جاۓ ۔ بچھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے انہیں مزید بہتری کیلئے آسان اقساط پر قرضنے کی سہولیات آسانی سے فراہم ہوں ۔ ہنر مندوں کی مزید تربیت کا بہتر انتظام موجود ہو اور ان سے حاصل شد و پیداوار کا نہیں جائز حصہ دیا جائے

شادی شدہ افراد کی تربیت:

شادی شدہ مردوں اور عورتوں کیلئے مشاورتی مراکز ہونے چاہیے ۔ جہاں ڈاکٹر ، نفسیاتی طبیب ، وکیل اور معاشرتی ماہر ہوں شادی شدہ اشخاص کو صلاح مشورہ د میں جو میاں بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہ کر پائے ہوں ۔ بعض عائلی عدالتیں بھی اس نوعیت کی ہوتی ہیں وہ بھی میاں بیوی کو سمجھا بجھا سکتی ہیں اور ان کی قانونی مشکلات دور کر سکتی ہیں ان مشاورتی مراکز اور عائلی عدالتوں کو گو جرمانہ رویے کی روک تھام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن بالواسط تعلق ضرور ہے ۔ تجربات کی روشنی میں ثابت ہے کہ جن گھروں میں جھگڑے عام ہوتے ہیں وہاں مجرمانہ رویے پرورش پاتے ہیں ۔اس لئے جو مدو بھی والدین کو دیجاسکے جوان کی اور نوعمروں کی زندگی کو آسودہ بنا سکے وہ مجرمانہ رویے کو کم کرنے کیلئے ایک باہمت اور حوصلہ افزاء قدم ہوگا۔

معاشرے کا غیر ذمہ داراندرو یار اس کے اثرات:

ہمارے معاشرے میں کئی جرم لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں لیکن عوام کسی قسم کا رول کرنے سے گریز کرتی ہے یہ بالکل ایسی حقیقت کی مانند ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے ہمارے روز مرہ زندگی سے اس کی مثال کچھ اس طرح بھی دی جاسکتی ہے جیسے راہ چلتی لڑکیوں پر فقرے بازی ہو یا نہیں کسی اور طریقے سے تنگ کیا جاۓ ، لیکن دوسرے افرادائیں حرکات پر دھیان نہیں دیتے اور خاموشی اختیار کرتے ہیں اسی طرح محلوں میں فحاشی ، جوۓ اور شراب نوشی کھلے عام ہوتی ہے لیکن معاشرے کاریٹیل سر در بتا ہے جب معاشرے میں ایسے حالات ہوں تو جرائم کا سد باب کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ اگر عوام باشعور ، بیدار اور ذمہ دار ہوں تو جرائم پیشہ لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے ۔ اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عار محسوس نہیں کرتے مثلا دکا نداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورا نہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تا ہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اس طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جوصرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور ٹینزم انہیں بھی دھوکہ.       دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بد عہدی نہ کریں تو وہ بھی شکایت نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کام کو براگر دائیں گے ، اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آگاہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی بینک لونے جاتے ہیں پاراہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نا مناسب سلوک کیا جا تا تب معاشر وقتی طور پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتاہے لیکن پھر ٹہراؤ آجاتا ہے موم ہمارا معاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھٹری دکھائی دے تو نام مطمئن ہو جاتے ہیں اورکسی تنظیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے ۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اور ظلم وتشد د کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو ٹیکس زیادہ دینے پڑتے ہیں اس طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں اسی طرح عوام بھی کئی خلاف قانون کام کرتے ہیں عارمحسوس نہیں کرتے مشار دکانداری میں بے ایمانی ہوتی ہے چیزوں میں ملاوٹ کھلے عام ہوتی ہے تول پورانہیں ہوتا، میٹر تیز چلائے جاتے ہیں یہ سب غیر اخلاقی اور غیر قانونی کام ہیں جنہیں معاشرے میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تاہم سنجیدگی سے ایسے مسائل کا حل تلاش بھی نہیں کیا جا تا اور نہ ہی ان کے سد باب کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں اسی طرح بہت سے جرائم ایسے ہیں جو صرف جرائم پیشہ لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ عام شہری بھی وہ جرائم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اعتماد کو دھوکہ دہی کے مقدمات وہی لوگ درج کراتے ہیں جو پہلے اس جرم میں محرم کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن جب پیشہ ور مجرم نہیں بھی دھوکہ دے دیتے ہیں تو پھر یاوہ پولیس کا سہارا لیتے ہیں یا پھر عدالت کا رخ کرتے ہیں لیکن پیشہ ور مجرم ان سے بدعہدی نہ کر میں تو وہ بھی شکایت نہیں کر یں گے اور نہ ہی اس کام کو برا گردانیں گے ،اگر مجرم اور عام لوگوں کے رویوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوگا کہ جرائم کی روک تھام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک عوام بیدار نہیں ہوتے اور معاشرے کو جرم کی حقیقت اس کے مختلف اسباب اور اس کے خطرناک نتائج سے پوری طرح آ گا ہی نہیں ہوتی ۔ اسی طرح جب بھی جینک لوٹے جاتے ہیں یا راہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا تا تب معاشرہ وقتی طور پر اپنے رومل کا اظہار کرتا ہے لیکن پھر ٹھہراؤ آ جاتا ہے عمو ماہمارامعاشرتی رویہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں پولیس ادھر ادھر کھڑی دکھائی دے تو ہم مطمئن ہو جاتے ہیں اور کی تعلیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے حالانکہ ایسا معاشرتی رو بی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ ہر شہری کو بدعنوانیوں ، رشوت ستانی ، چوری چکاری اورظلم وتشدو کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے عوام کو یکس زیاد دینے پڑتے میں اسی طرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے اگر عوام اپنے رویے سے ثابت کر میں کہ جرم کا کوئی مثبت نتیں ہیں اور جرم وسیاست کا کوئی باضابطہ تعلق نہیں ہے تو جرم اور مجرمانہ رویوں میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے ۔

سوال نمبر: 03۔ شراب نوشی کے سابی نقصانات کی فہرست مرتب کر میں نیز پاکستان میں پچی شراب کے استعمال کی حوصاٹیکنی کیلئے تجاویز دیں۔

جواب۔

ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی برائیاں جنم لے چکی ہیں وہیں نشہ جیسی برائی نے بھی اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہے ۔ کثیر تعداد میں لوگ نشے کے عادی ہو چکے ہیں۔ بوڑھا ہو یا نو جوان ، مرد ہو یا عورت ،امیر ہو یا غریب ،افسر ہو یا حا کم ،تاجر ہو یا کسان بے شمار افراد جانے انجانے نشے کی لت میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انسان بڑا ہی نادان ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے جب کہ اللہ نے قران کریم میں ارشاد فرمایا اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو (البقر 195- ) ۔اسلام نے ہر نشہ آور اشیاء کوحرام قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ حضور سے کسی نے آپ کے تبع کے بارے میں پوچھا جو شہد سے بنا تھاتو آپنے فرمایا کہ ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے ( بخاری ومسلم )۔ اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہر دوشی جو نشہ دینے والی ہے و واسلام کی نظر میں حرام ہے اور اہل اسلام کو اس کا استعمال ہرگز روا نہیں۔ خواہ وہ بھانگ ہو،افیون ، چرس ، یا شراب اور اس کے علاوہ دیگر نشہ آور منشیات سب اسلام میں حرام ہے ایک اور حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب نے نشہ لانے والی اور فتور پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا(ابوداؤد ) ۔ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ بیشمار برائیوں میں ملوث تھے۔ وہیں شراب بھی عام تھی ،لوگ کثرت سے شراب پیتے تھے، جب اسلام آیا تو قرآن میں اللہ نے اس کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات کو بھی بیان کیا اور ہمیشہ کے لئے شراب کو حرام کر دیا۔ اللہ جل شانہ نے ارشادفرمایا اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام میں سوان سے بچتے رہوتا کہ تم نجات پاؤ‘‘(المائد 90-)۔ شراب کی نحوست کا انداز اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس کو شیطانی کام کیا اور بت پرستی کے ساتھ بیان کیا۔ اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں شراب کی مذمت اور اس کی قباحت و خباثت کو واضح انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ سے شراب کے متعلق دریافت فرمایا تو اللہ کے حبیب نے فرمایا کہ میکبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ سب برائی کی سردار ہے (الزواجر )۔ اللہ کے نبی نے ارشادفر مایا کہ جوشخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز شراب نہ پیئے اور جواللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب ہو( طبرانی)۔امام طبرانی نے جم کبیر میں ایک حدیث حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے ۔ آپ فرماتیں ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہوئی تو میں نے پیالے میں نبیذ بنایا جوھجور سے بنایا ہوا ایک قسم کا مشروب ہے ) اللہ کے رسول میرے گھر تشریف لاۓ تو و وابل ( چولھے پر رہی تھی۔ آپ نے فرمایا ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا میری بیٹی بیمار ہے اس کی دوا بنا رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایاکہ اللہ نے حرام کردہ اشیاء میں میری امت کے لئے شفا نہیں رکھی ہے۔ ایک حد میں حضرت وائل حضری سے مروی ہے کہ طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا ، آپ نے ان کو منع فرمایا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ میں تو صرف دوا کے لیے شراب بنا تا ہوں حضور نے ارشادفرمایا کہ وہ دوا نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی بیماری ہے (مشکوۃ )۔ مذکورہ احادیث سے شراب کی حرمت اور اس کی قباحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ حرام اشیاء میں شفانہیں ہے ۔ ایک جگہ اللہ کے حبیب نے ارشادفرمایا کہ شراب نہ ہو کہ میام الخبائث ہے اور ای ام الخبائث کہ انسان شراب کی حالت بھی بھی اپنی ماں اور پھوبھی کے ساتھ بھی بدکاری کر بیٹھتا ہے ۔ اور بھی بہت ہی حدیثیں شراب کی مذمت میں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔شراب پینے والوں کے بارے میں اللہ کے حبیب نے بے شمار احادیث میں وعید میں بیان فرمائی ہیں حضور نے فرمایا کہ جودنیامیں شراب پیتے ہیں اللہ تعالی انہیں جہنمی سانیوں کا زہر پائے گا جسے پینے سے پہلے ہی اس کے چہرے کا گوشت گل کر برتن میں گر جائے گا اور جب وہ اسے اپنے گا تو اس کا گوشت اور کھال ادھر جائے گی جس سے سمی اذیت پائیں گے ( روح البیان ج ۴) ۔ ایک جگہ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جوشخص دنیا میں شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا اللہ تعالی اسے آخرت میں جہنم کی پیپ پلاۓ گا (روح البیان ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ دائی طور پر شراب پینے والا اگر مر گیا اسی حالت میں تو در بارخداوندی میں اس طرح آۓ گا جیسے ایک بت پرست ( مشکوۃ شریف) ۔ حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میری عزت و جلال کی قسم جو بندہ ایک گھونٹ بھی شراب پیئے گا میں اس کو اتناہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اسے چھوڑے گا میں اسے مقدس حوض سے پاؤں گا ( امام احمد بن حنبل ) ۔ حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ نے تین آدمیوں پر جنت حرام کر دی ہے ۔ وہ تین میں ہیں (۱) ہمیشہ شراب پینے والا ( ۲ ) والدین کی نافرمانی کرنے والا ( ۳ ) دیوث جو اپنے اہل میں بے حیائی کو دیکھے اور منع نہ کرے(نسائی)۔

شراب انسان کے لئے دین و دنیا دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے ۔ دینی نقصان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نارانسگی کوخرید کر اپنی آخرت بر باد کر لیتا ہے ۔ دنیوی نقصان یہ ہے کہ مختلف قسم کی مہلک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جو ہلاکت کا سبب بنتی ہیں ، لاکھوں عورتیں شرابی شوہر کے ظلم وستم کا نشانہ بنتی ہیں شراب پینے والا بے مروت ہو جاتا ہے، سماج اور معاشرہ کے لئے دردسر بن جا تا ہے ۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ شراب میں ہر طرف سے تباہی اور بربادی ہے، مال کی بھی اور جان کی بھی ۔ اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے ۔

سوال نمبر :04۔ پاکستان میں مختلف دیہی ترقیاتی پروگراموں کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ نیز دیہی ترقی کے طریقہ کار کی وضاحت کر یں۔

جواب۔

دیہات کے لوگوں کی زندگی کا ایک اور اہم پہلوتعلیم سے بے بہرہ ہونا ہے اگر چہ حکومت تعلیم کو عام کرنے کے لیے بہت ہی کوششیں کر رہی ہے مگر اس کے باوجود ہمارے اکثر دیہات میں ابھی تک تعلیم کی روشنی نہیں پہنچ پائی اس کے ساتھ ساتھ لوگ بھی تعلیم حاصل کرنا ضروری تصور نہیں کرتے ان کے خیال میں سکول بھیجنے کی بجائے بچے کو ھیتوں میں بھجنا زیادہ فائدہ مند ہے ۔ دیہات کے لوگ اپنی غربت کے ہاتھوں نہ تو پڑھائی کے لیے پیسہ خرچ کر سکتے ہیں اور نہ ہی وقت ۔ اس کے علاوہ اکثر دیہات ایسے ہیں جہاں پرائمری سکول بھی نہیں ہیں اس لیے لوگ دوسرے دیہات میں اپنے بچے بھیجنا پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان پڑھے ہیں یہ حالت صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ اکثر ترقی پذیر ممالک میں خواند و یا پڑھے لکھے افراد کی تعداد بہت ہی کم ہے اور جتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اکثر شہروں میں رہتے ہیں دیہات میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے مندرجہ ذیل جدول جو کہ آئی پی پی ایف کے جرید پی پی پی کے جرید نے پیپلز سے لیا گیا ہے اس سے ترقی پذیر ممالک میں نا خواندگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ علمی پسماندگی اور غربت و افلاس لازم وملزوم ہیں۔ ناخواندگی کے باعث کاشت کا ر جد ید زری معلومات سے بے بہرور ہتے ہیں زرعی

پیداوار میں اضافہ کرنے کی تدابیراور طریقوں کاعلم نہیں رکھتے ۔ اگر کاشتکار پڑھے لکھے ہوں تو وہ نہ صرف جدید معلومات زرمی سے استفادہ کر کے اپنی زرعی پیداوار بڑھنے کی تدابیر کر سکتے ہیں بلکہ اپنے روز مرہ کا حساب کتاب رکھ سکتے ہیں تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان کی معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا اور ان کے ذہن میں نئی ایجادات کے لیے وسعت اور بالغ نظری پیدانہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں نئی یجادات اپنانے کا حوصلہ پیدانہیں ہوتا۔ تعلیم ایک ایسا معاشرتی عمل ہے جس کے بغیر ہم افراد معا شر وترقی کی اہمیت نہیں سمجھا سکتے اور وہی ترقیاتی کاموں میں سرگرم حصہ لینے پر آما وہ کر سکتے ہیں تعلیم کے بغیر سابی اور ثقافتی تربیت بھی ممکن نہیں ہوتی چنانچہ لوگوں کی حالت بدلنے کے لیے ان کو اور ان کے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو تعلیم دینے کا بندوبست کرنا نہایت ضروری ہے۔ و یہی معاشرتی زندگی: دیہی زندگی شہری زندگی سے مختلف ہوتی ہے چونکہ ہماری آبادی کا تقریبا72 فیصد حصہ دیہات میں و بستا ہے اس لیے ان لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں اور دیہات کو ترقی دینے والے طریقہ کارکومندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو درج ذیل ہے

دیہات کاطبیعی ڈھانچہ

جونہی ہم شہروں سے وہی علاقوں کی طرف جاتے ہیں سب سے پہلے سرسبز کھیت اور کسان ہمارا استقبال کرتے ہیں جن میں کوئی فصل کو پانی دے رہا ہوتا کوئی زمین میں ہل چلا رہا ہوتا ہے کوئی بیچ ہور ہا ہوتا ہے تو کوئی فصل کاٹ رہا ہوتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نام دیہی علاقے میں داخل ہو چکے ہیں پاکستان کے دیہی علاقوں میں لوگ زیادہ تر کچے مکانوں میں رہتے ہیں جن کی چھتیں شہتیروں پر گھاس پھونس ڈال کر بنائی جاتی ہے یہ گھر عموما کھلے کھلے ہوتے ہیں درمیان میں محن ہوتا ہے گھر کے کمروں میں عموماً کھڑ کی باروشندان ہوتے ہیں گلیاں اور محلے ترتیب سے نہیں بنے ہوتے اکثر گلیاں ٹیڑھی میڑھی ہوتی ہیں اور عموما گندی ہوتی ہیں اگر چہ ہر گھر انفرادی طور پر بیکوشش ضرور کرتا ہے کہ اپنے گھر کے سامنے کا حصہ صاف رکھے مگر اس کے باوجود چونکہ سرکاری طور پرکوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا اس لیے کئی جگہوں پر اس کے ڈھیر ملتے ہیں زندگی میں جدید سہولتوں کا فقدان ہے بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچ سکی سوئی گیس کی سہولت بھی موجود ہیں اکثر دیہات تک پکی سڑک نہیں جاتی پانی عموما ہنڈ پمپ سے حاصل کیا جا تا ہے بعض علاقوں میں جہاں پانی کی تلخ اونچی نہیں کنو میں کھودے جاتے ہیں

زرعی ترقیاتی بینک آف پاکستان

ا۔ مقاصد: بنک کا قیام 1961 ء میں عمل میں آیا۔ اس کا مقصد زری شعبوں میں کاشتکارکوقرضے فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ گاؤں کی طح پر گھر یا منعتیں لگانے کیلئے بھی قرضے فراہم کرنا اس بنک کا بنیادی مقصد تھا۔

ii۔ طریقہ کار: بنک کا شتکاروں کوان کی بہت فصل کیلئے قرضے فراہم کرتا ہے یہ قرضے آسمان مشعلوں میں واپس لئے جاتے ہیں اور کسان کو ں نے ان میں ورکر اس کی زمین کے مطابق قرضہ ماتا ہے عموماز میں گروی رکھی جاتی ہے یا فصل کے مطابق قرضہ کی شرائط طے کی جاتی ہیں ۔

نتائج:

پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق 81-1980 تک بنک نے 62-1066 ملین روپے کے قرضے فراہم کئے ۔ان

قرضوں کی رقم میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ 82-1991 ء میں یہ قرضے 38-1557 ملین تک پہنچ گئے ہیں۔ ان قرضوں کا 45 فیصد سے بھی زیادہ حصہ زرعی مشینری خریدنے کے کام آیا مگر بنک کی ان سہولتوں کے زیادہ تر فائدے بڑے کاشتکاروں کو حاصل ہوۓ کاشتکاروں کو کل رقم کا بمشکل 21 فیصد دیا گیا تا ہم اس قرضے کی بدولت بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور زراعت میں ترقی کا سبب بنا۔ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے طریق کار میں کارکن کے کردار کی اہمیت: کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کا انحصار صرف ایک شخص پر ہوتا ہے جسے ہم ترقیاتی کارکن یا ترقیاتی رہنما بھی کہ سکتے ہیں۔ چنانچہ اسے ہر دلعزیز اور قابل قبول شخصیت ہونے کے علاوہ جنتی اور دیانتدار بھی ہونا چاہئے ۔ اس کے علاوہ اسے اس کمیونٹی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے فوری حل کے بارے میں تھوڑا بہت علم بھی ضرور ہونا چاہئے مثلا چھوٹی چھوٹی بیماریوں کی صورت میں بیان کیلئے معالج ثابت ہوا تعلیم وتربیت میں استاد ، گھر یلو معاملات میں مشیر ، جھگڑے لے کرانے میں بیج اور مصالحت کنند و در اجتماعی کاموں میں ان کا رہنما ہونا چاہئے ۔اگر چہ وہ ان تمام معاملات میں ماہرین کی جگہ تو نہیں لے سکتا مگرلیکن ان تمام معاملات میں اس کی ایسی رائے ہونی چاہئے جو زیادہ تر لوگوں کو قبول ہو اور ان کے فوائد میں ہو ۔ اسے اس آبادی کیلئے جس ترقی پر اسے معمور کیا گیا ہو ایک مثال ہونا چاہئے تب جا کر کہیں اس طریقہ کار سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ تر قیاتی کارکن کو مندرجہ ذیل اصولوں کی روشنی میں اپنے کام کا آغاز کرنا چاہئے

1۔ کارکن کو ان لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرنے چاہئیں جن کے ساتھ وہ کام کرنا چاہتا ہے۔

کارکن لوگوں کی چھوٹی چھوٹی اور ہنگامی ضرورتوں کو پورا کر کے ان کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اگر وہ ان کی کسی معمولی بیماری کا علاج کر کے ان کو صحت و صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہے گا تو وہ آسانی سے اس کی بات سمجھ جائیں گے ۔ چونکہ یہ اعتاد اس نے حال ہی میں حاصل کیا ہوتا ہے اور اہل خانہ کو ایک مصیبت سے نجات دلانی ہوتی ہے اس لئے اس وقت ان کے جذبات واحساسات کا احترام کر کے انہیں سمجھا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ جب کوئی اس سے مشورہ طلب کرے تو کارکن کو اس کے ساتھ اس طرح سے بات کرنی چاہئے کہ وہ جان لے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اس کا کوئی ہدر نہیں اور اسے اپنے ایمان اور مسلم کے مطابق سیح مشور و دینا چاہئے ۔ اس طرح کے لگاتار عمل سے و واس معاشرتی گروہ میں ایک قابل احترام شخصیت بن جائے گا اور اسے کام کرنے میں آسانی ہوگی۔

2۔ کارکن کو ہرائی جانے والی تبد یلی کیلئے لوگوں کی رضامندی حاصل کر لینی چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ

کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے

عموماً کسی ضروری مسئلے پر کارکن کے نقط نظر میں ور لوگوں کی کی نظر میں تضاد پایا جاتا ہے چنان نام نیم کیلئے کارکنان کی خوبیوں اور خامیوں سے انہیں آگاہ کرتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اسے مان جاتے ہیں لیکن بعض اوقات پھر بھی اختلاف باقی رہتا ہے ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ لوگ غلطی پر ہوں ۔ کارکن بھی غلطی پر ہوسکتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکن اپنے خیالات میں تبدیلی لاۓ ۔ ایسے حالات عموماً اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اس علاقہ سے باہر بیٹھ کر ان کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرتا ہے اس لئے کہ معاشرتی اکائی کی اپنی ضروریات الگ ہوتی ہیں اور انہیں کسی دوسری اکائی کی ضروریات پر منطبق نہیں کیا جاسکتا اسلئے جگہ کی تبدیلی کے ساتھ منصوبہ بندی کو بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ کسی تبدیلی کو اس وقت تک اچھا ہونے کی سند نہیں دی جاسکتی جب تک کہ تجر بہا اسے ثابت نہ کرے ۔اس کے علاوہ کارکن کو لوگوں کے رسم ورواج ،ان کی اقدار اور ان کے اعتمادات کے ساتھ ساتھ ان کے وسائل کا بھی مطالعہ کرتا چاہئے ۔لوگ اپنے رسم و رواج کو آسانی سے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ، چنانچہ تبد یلیوں کو لوگوں کے اعتمادات سے اہم آہنگ کر دینے سے عموما اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کسی مسلمان کیلئے تبدیلی کے حق میں قرآن وحدیث کے دلیل ارنا اور کسی عیسائی کیلئے بائیول کا حوالہ دیا نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے

3۔ کارکن حتی الوسع ان لوگوں میں سے ہونا چاہئے اور انہیں کا ہم عقیدہ ہونا چاہئے ۔

کارکن اگر ان لوگوں کی مقامی زبان میں بات کرنے والا ہو جن لوگوں میں اسے بھیجا گیا ہوتو وہ اس کی بات کو آسانی سے سمجھ جائیں گے نیز مقامی واقفیت کی بناء پر وہ مختلف منصوبے بنانے اور ان کی ترجیحات مرتب کرنے میں بھی زیادہ ماہر ہوگا۔ علاوہ ان میں اگر وہ ان لوگوں کا ہم عقید بھی ہوتو زیادہ اچھا ہے اس کے برعکس بیرونی ماہرین اور ٹیکنیک فتی لحاظ سے پیا ہے کتنی بھی املی کیوں نہ ہو وہ اگر لوگوں کے جذبات و احساسات سے ہم آہنگ نہ ہوگی تو مطلوبہ نتائج پیدا کرنے سے قاصر رہے گی ۔ اسی بات کوئی ۔آرمین نے اپنی کتاب ’’معاشرے اور ان کی ترقی میں ایشیائی ممالک کی فنی امداد کے سلسلے میں ہونے والی کانفرنس میں جنوب مشرقی ایشیاء کے نمائندوں کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ تمام نمائندے اس بات پر متفق تھے کہ گذسته چند سالوں کے دوران مختلف اداروں کی طرف سے دی جانے والے فنی امداد نہ صرف نتیجہ رہی بلکہ بعض حالات میں نقصان رساں بھی ثابت ہوئی کیونکہ و مغربی ممالک سے آنے والے ساز و سامان اور وہیں پر ترتیب دی گئی ٹیکنیک پریٹی تھی جس کا مقصد تیزی سے حاصل ہونے والے اور نظر آنے والے نتائج پیدا کرنا تھا۔ اس ساز و سامان اور ٹیکنیک پر کام کرنے والے بھی مغربی ماہرین تھے جو ٹیکنیک کی حد تک تو بہت ماہر تھے لیکن مقامی حالات سے بالکل ناواقف تھے۔ وہ ہر متوقع سوال کا جواب جانتے تھے لیکن جب وہ موقع پر پہنچتے تو ان کی تمام مہارت بے کار ثابت ہوتی ‘‘۔ مزیدآگے چل کر لکھتے ہیں کہ درحقیقت اب وہ تمام کارکن محسوس کرنے لگے ہیں کہ اگر وہ بھیں گے کہ وہ تمام خیالات اور منصوبے جو ان کے اپنے ماحول اور تہذیب وتمدن میں درست کسی دوسرے میں اسی طرح درست نتائج کے حامل ہوں گے تو نا کامی ان کا مقدمہ بن جائے گی‘۔ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ کارکن کا ان لوگوں میں سے ہونا لازمی ہے اور دو ان کا ہم عقید ہ ہونے بنا پر ان کی خوشی اورمی میں بھی شامل ہو سکے تو وہ ان میں مزید شیر و شکر ہو سکے گا اور پیاس کی اپنے مشن میں کامیابی ضمانت ہوگی ۔

کارکن کو انہیں اس بات کی یقین دہانی کروانی چاہیے کہ مجوزہ تبدیلی نہایت محفوظ ہے۔

کسی تبد یلی کوقبول کرتے ہوۓ لوگ اس بات کا پہلے سے یقین کرنا ضروری خیال کر ہیں گے کہ وہ نہیں ایسا کرنے سے لوگوں کی تضحیک کا نشانہ تو نہیں بن جائیں گے ۔ یا نہیں مالی طور پر نقصان تو نہیں برداشت کرنا پڑے گا مثال کے طور پر ہمارا ان پڑھ کاشت کار نے بیج ، نئے آلات زراعت اورکھیتی باڑی کے نئے طریقوں کو اپنانے سے ہچکچائے گا اور سوچے گا کہ ایسا کرنے سے کہیں میری فصل تو نہیں ماری جاۓ گی ۔ میرا سال تو ضائع نہیں ہو جائے گا وہ ان تبدیلیوں کو حکومت کی طرف سے کئے گئے تجربوں کی روشنی میں بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوگا کہ اس لئے کہ جب وہ اپنے اور حکومت کے وسائل کا موازنہ کرے گا یہی مجھے گا کہ حکومت تو یہ سب کچھ کر سکتی ہے میں انہیں ضمانت فراہم کر کے تمام لوگوں کیلئے کا عملی مظاہرہ کرنے کا بندوبست کر نا ہوگا تب کہیں جا کر وہ انہیں قائل کر سکے گا۔

سوال نمبر :05۔ مندرجہ ذیل پرنوٹ لکھیں۔

) شہری علاقوں میں مختلف جرائم

جواب: دراصل بچوں کی بے راہ روی میں گھر کے برے ماحول اور ناقص نگرانی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ والدین کو آج کل اقتصادی و سماجی ذمہ داریوں سے بہت کم وقت ماتا ہے۔ نیچے اپنا بیشتر وقت گلی کو چوں اورآوار ومزاج لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں ۔ بچوں کو نیک و بد بنانے میں دوستوں کی صحبت کافی اہمیت رکھتی ہے ۔ پڑوس میں اچھے برے ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں ۔ والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو سلجھے ہوۓ بچوں کی صحبت سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کر میں اورانہیں بے راہ رو نیچے کی صحبت سے بچائیں تا کہ وہ نیکی کے راستے پر گامزن رہ ہیں بچوں کیلئے صالح تعلیم و تربیت کی سخت ضرورت ہے ۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ ان کو اسلامی اقدار و نظریات اور قانون کی اہمیت سے آگاہ کر میں وہ خود کو بھی تربیت اطفال سے آگاہ کر میں ۔ تا کہ مستقبل کے رہنماؤں کو صالح زندگی بسر کرنے میں آسانی رہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تربیت اطفال پر معیاری کتابیں لکھوائی جائیں اور انہیں سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے کہ بچوں کوخوش اسلوبی سے حاصل کرنے کیلئے تربیت اطفال کی تعلیم کو عام کر نے ضرورت ہے۔ جرائم کی روک تھام کیسے ممکن ہے: پاکستان اسلامی قوانین کے فروغ و نفاذ کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور اب ان قوانین کوفروغ دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے ۔ اس لئے یتوقع پیل ہے کہ اس سے انسداد جرائم میں کافی مدد ملے گی ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر ہمارے قوانین مذہبی تعلقات سے نم آہنگ ہوں اور سماجی انحراف اور جرم ومصیبت کا دروازہ بند ہو جائے۔ لیکن اس مقصد کے لئے ہمیں مذہبی اور قانونی تعلیمات کو بھی کافی رواج دینا پڑے گا اور زندگی میں دین ودنیا کی جوتسیم پیدا ہوگئی ہے اسے بھی ختم کرنا ہوگا ۔ اسلام کے شہری اصولوں کی اگر لوگ پیروی مکمل طور پر کرنا شروع کردیں تو ہمارے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ ملک میں مکمل امن وامان اور سکون قائم ہو جائے گا۔ مذہب اسلام انسان میں خدا کے سامنے جوابدہی ،خوف خدا اور خدا ترسی پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان کو اس بات کو یقین ہو جائے نیز اس بات کا با قاعدہ پر پاراور تبلیغ کی جائے تو جرائم قتل ، ڈکیتی، چوری کا قلع قمع ہوسکتا ہے ۔ اسلامی سزائیں بھی رائج کر دی جائیں تو ایسے جرائم بہت کم ہو جائیں گے جس طرح کہ سعودی عرب میں جرائم بہت کم پاۓ جاتے ہیں کیونکہ وہاں اسلام کے مطابق انصاف ملتا ہے۔ اور مجرم کو سخت سزادی جاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جائے ۔ کیونکہ اگر افراد کو یہ بھی یقین ہو کہ قوانین کی خلاف ورزی پر نہ صرف وہ حکومت کا مجرم ہے بلکہ خدا کا مجرم بھی ہو گا تو جرائم کرنے سے پہلے و وضرور سوچے گا ۔

 ناقص منڈی کے دیہی زندگی پراثرات

جواب: ناقص منڈی کے دیہی زندگی پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں :

1۔ ناقص منڈی کی وجہ سے اشیاء کی خرید وفروخت میں مشکل پیش آتی ہے۔

2 ۔ ناقص منڈی کی وجہ سے صحت کے اصولوں کا پاس نہیں رکھا جا تا ۔

3۔ ناقص منڈی کی وجہ سے کاشت کا کوا پنی فصل کا ؤں میں ہی آ ڑھی کے ہاتھوں اونے پونے فروخت کرنی پڑتی ہے ۔

4۔ ناقص منڈی دیہی ترقی کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے۔