AIOU solved assignment spring 2023 course code 1346-1

کوڈ ۔1346

کورس ۔تجارتی لوازمات

سمسٹر ۔بہار۔2023

امتحانی مشق -1

سوال نمبر 1۔

ایک اچھے سیلز مین کی خصوصیات بیان کر یں نیز سیلز مین اور گا ہک کی مختلف اقسام بیان کر یں ۔

ایک اچھے سیلز مین کی خصوصیات درج ذیل ہیں-

خوش اخلاقی:

ایک اچھے سیلز مین کو دوسروں کی سننے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔ وہ دوسروں سے خوبصورت اور محترم طریقے سے بات کرنے کا انداز رکھتا ہو۔

تجارتی دانش:

ایک اچھے سیلز مین کو اس کے بیع و فروخت کرنے والے صنعت اور مشتریوں کے بارے میں کامل جانکاری ہونی چاہئے۔

قابلیت سمجھ:

سیلز مین کو اس کی صلاحیت ہونی چاہئے کہ وہ مشتریوں کے ضروریات کو سمجھ سکے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ان کی مدد کر سکے۔

خلاقیت:

ایک اچھے سیلز مین کو خلاقیت اور نئی تراکیب کے استعمال کی صلاحیت ہونی چاہئے تاکہ وہ مشتریوں کے دلوں کو جیت سکے۔

خوبصورتی کی پیروی:

ایک اچھے سیلز مین کو اپنے بارے میں بہترین تصور پیدا کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔ وہ اپنے بارے میں خوبصورتی کی پیروی کرنے کے ساتھ ساتھ مشتریوں کے لئے بھی خوبصورت تجربے فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہو۔

گا ہک کی مختلف اقسام

گاہک کی مختلف اقسام درج ذیل ہیں

سرمایہ کار گاہک:

اس قسم کے گاہک وہ ہوتے ہیں جو بڑے حجم کے سرمایہ کاری کے ذریعے کسی شرکت کو مالی امداد فراہم کرتے ہیں۔

ریٹیل گاہک:

ریٹیل گاہک وہ شخص ہوتا ہے جو مارکیٹ سے صرف اپنی ضروریات اور خریداری کے لئے سامان خریدنے آتا ہے۔

شرکتی گاہک:

شرکتی گاہک وہ شخص ہوتا ہے جو ایک شرکت کے لئے خریداری کرتا ہے۔ ان کے ذریعے کسی شرکت کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔

واسطہ کار گاہک:

اس قسم کے گاہک وہ ہوتے ہیں جو دوسری شرکتوں کے لئے مصنوعات خریدتے ہیں اور پھر انہیں دوسرے گاہکوں کو فروخت کرتے ہیں۔

گمشدہ گاہک:

اگر کسی گاہک کے مطالبہ کے بعد بھی مال سامان منقطع ہو جائے تو وہ گمشدہ گاہک کہلاتا ہے۔ یہ مشتری آنے والے دنوں میں بھی شرکت کے ساتھ آنے والے فائدے کے حامل ہوتا ہے۔

سیلز مین کی مختلف اقسام

سیلز مین کی مختلف اقسام درج ذیل ہیں

سیلز مینیجر:

یہ افراد ایک ٹیم کو نافذ کرتے ہیں اور تجارتی اہداف پر کام کرتے ہیں۔ وہ مشتریوں کے ساتھ ملاقات کرتے ہیں اور ان کے تجربات سے باہر نکالتے ہیں کہ کس طرح ان کو بہترین پیش کرنے کے لئے تجارتی سامان کی فہرست کی ضرورت ہے۔

بیزنس ڈیولپمنٹ سیلز:

اس قسم کے سیلز مین وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایک بیزنس کی توسیع سے وابستہ ہوتے ہیں۔ وہ نئے مشتریوں کی تلاش کرتے ہیں اور ان کے لئے سیلز پروپوزل بناتے ہیں تاکہ بیزنس کو بڑھانے کے لئے نئے مشتری حاصل کیے جا سکیں۔

دستیابی سیلز:

ایک دستیابی سیلز مین ایسا شخص ہے جو مشتریوں کو اپنے پاس لاتا ہے۔ وہ فون کالز کرتے ہیں، رائے لیتے ہیں اور مشتریوں کے ساتھ سلسلہ وار رابطہ رکھتے ہیں۔

فروش سپورٹ سپیشلسٹ:

ایک فروش سپورٹ سپیشلسٹ وہ شخص ہوتا ہے جو ایک فروش ٹیم کو سپورٹ کرتا ہے۔ وہ تجارتی مسائل حل کرتے ہیں، مشتریوں کی مدد کرتے ہیں اور آرڈرز کی معلومات فراہم کرتے ہیں-

سوال نمبر 2۔

پرچون فروش اور تھوک فروش میں فرق واضح کیجیے نیز پرچون فروش کی اقسام بیان کر یں ۔

تھوک فروش

تھوک فروش اشیاء کو صنعتی تجارتی اور پیشہ ورانہ استعمال کنندوں کے ہاتھوں فروخت کر دینے کا نام ہے گویاتھوک فروش اشیاء جن افرادکوفروخت کرتا ہے ان کا مقصد مز ید اشیاء پیدا کرنا ہے۔

ایولن تھامس نے تھوک فروش کی انتہائی مختلف مگر جامع تعریف کی ہے۔ ان کے خیال میں تھوک فروش صنعت کا اور پرچون فروش کے درمیان رابطے کا نام ہے۔۔

لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ تھوک فرش ایسا کاروباری عنصر ہے جو اشیاء کو کارخانے داروں سے بڑی مقداروں میں خریدتا اور پرچون فروش کے ہاتھوں چھوٹی چھوٹی مقداروں میں فروخت کرتا ہے۔

تھوک فروش کے فرائض پر اگر نظر ڈالی جائے تو واضح ہو گا کہ تھوک فروش اشیاء کی صنعتی اکائیوں کو بھی فروخت کرتا ہے اور پر چون فروشوں کو بھی وہ خام مال صنعتی اداروں اور ایجنسیوں کو فراہم کرتا ہے ۔ اور مصنوعات پر چون فروشوں کو مہیا کرتا ہے تا ہم وہ صارفین کو براہ راست کچھ فروخت نہیں کرتا اور اگر ایسا ہے تو یہ محض شازو نادرہی ہوتا ہے۔

تھوک فروش کے فرائض ۔

تھوک فروش منافع کی غرض سے اشیاء کی خرید و فروخت کرتا ہے ۔اس کے فرائض مندرجہ ذیل ہیں ۔

اشیاء کو کارخانوں کھیتوں اور کانوں وغیرہ سے جمع کرنا اور خریدنا ۔

اشیاء کا ذخیرہ کرنا ۔

اشیاء کی باربرداری کے انتظامات کرنا ۔

کاروباری مقاصد کے لیے خام مال فراہم کرنا ۔

اشیاء کے خراب ہو جانے آگ لگ جانے یا چوری ہو جانے کی صورت میں نقصان کی ذمہ داری قبول کرنا۔

قیمتوں طلب اور رسد جیسے اہم امور کے بارے میں کارخانہ داروں کو اطلاعات فراہم کرنا ۔

پرچون فروش کی ضرورت واہمیت

پرچون فروش ایک ایسا کاروباری ہے جو اشیاء کو لوگوں کی ضرورت کے مطابق چھوٹی چھوٹی مقداروں میں فروخت کرتا ہے وہ اپنے مقامی مراکز میں مختلف اقسام کی اشیاء فروخت کی غرض سے پیش کرتا ہے۔ پرچون فروش آجر اورصارفین کے درمیان رابطے کا کام دیتا ہے اور یہ اس سلسلے کی آخری کڑی ثابت ہوتا ہے۔

پرچون فروشی کاروبار کی قدیم ترین شکل ہے اس کاروبار کا تعلق اشیاء کو فروخت کرنے اور انہیں صارفین تک پہنچانے سے ہوتا ہے۔ ہر شخص کی آمدنی محدود ہوتی ہے۔لہذا کہ اس کی ضروریات بھی محدود ہوتی ہیں۔ چونکہ پرچون فروش بہت سی اشیاء کی فروخت سے منسلک ہوتا ہے۔اس لیے صارف کی ہر طرح کی ضروریات کو وہی پورا کر سکتا ہے۔ پرچون فروش مختلف کارخانوں سے مال جمع کرتا ہے۔ اس کے پاس سے صارف کو اس کی پسند اور ذوق کے مطابق شے مل جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کاروباری افراد کا ایک بڑا حصہ پر چون فروشی میں مصروف ہے۔ دور حاضر میں پرچون فروشی کے کاروبار کیم مختلف قسمیں ملتی ہیں ۔ ہر پرچون فروش اپنے کاروبار کے نجم تنظیم کے لحاظ سے دوسرے پر چون فروش سے مختلف نظر آتا ہے۔

کسی قوم کے افراد جتنی زیادہ اشیاء و خدمات استعمال کر یں گے ان کا معیار زندگی اتنا ہی بلند ہو گا جب افراد کا معیار زندگی بلند ہوگا تو ان کی فلاح و بہبود میں اضافہ ہوگا۔ پر چون فروش اشیاء و خدمات کی بھاری مقدار افراد تک پہنچانےاور ان کے معیار زندگی کو بلند کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے ۔موجودہ دور میں جب صنعت کار اور صارف کے درمیان فاصلہ بہت بڑھ گیا ہے ، پرچون فروش را بطے کا کام دیتا ہے ۔ آجر اور سند تکار کے وجود کو قائم رکھنے کے لیے پرچون فروش کاوجود بہت ضروری ہے ۔

پرچون فروش کے فرائض ۔

پرچون کا کاروبار ایک یا چند افراد کی ملکیت ہوتا ہے ۔کچھ پرچون فروش صرف اشیاء فروخت کر رہے ہوتے ہیں ۔کچھ دوسرے بہت ساری اشیاء فروخت کر رہے ہوتے ہیں ۔اپنے کاروبار کی ساخت کے اعتبار سے تو مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان سب کے فرائض ایک جیسے ہوتے ہیں ۔جن کو درج ذیل طریق پر پیش کیا جاتا ہے ۔

وہ اشیاء کو چھوٹی چھوٹی مقداروں میں فروخت کرتا ہے ۔

وہ شاۓ کو صارف کے مقام تک چھوڑ کر جاتا ہے اور ان کے آرام کا خیال رکھتا ہے ۔

پرچون فروش شے کی مختلف خصوصیات سے صارف کو آگاہ کرتا ہے۔اس مقصد کے لیے نمونے کے طور پر صارف کو پیش کرتا اور اشیاء کی نمائش کرتا ہے ۔

وہ افراد کو پسند و ناپسند کا خیال کرتا ہے اور اس کے مطابق صنعت کار سے مال تیار کرواتا ہے ۔

جو صارفین قیمت کی ادائیگی نہیں کرسکتے ۔پرچون فروش انہیں ادھار کی سہولت بہم پہنچاتے ہیں ۔

پرچون فروش اور تھوک فروش میں فرق

تھوک فروش اور پرچون فروش دو اہم کاروباری ایجنٹ ہیں جو منافع کی غرض سے اشیاء کے لین دین کا کاروبارکرتے ہیں۔ یہ دونوں کارخانے دار اور صارفین کے درمیان رابطے کا کام دیتے ہیں۔ اس قدر مشترک کے باوجودان میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ جو ذیل کی سطور میں ظاہر کیا گیا ہے۔

تھوک فروش کے ہاں شے کی قیمت کم اور پرچون فروش کے ہاں ان شے کی قیمت زیادہ ہوتی ہے۔

تھوک فروش کے منافع کی شرح کم جب کہ پرچون فروش کے منافع کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔

عام طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ تھوک فروش نقد لین دین کرتا ہے جب کہ پرچون فروش اشیاء ادھار بھی دےدیتا ہے۔

تھوک فروش کارخانے دار اور پرچون فروش کے درمیانی رابطے کا کام دیتا ہے جب کہ پرچون فروش کارخانےدار اور صارف کے درمیان رابطے کا کام دیتا ہے ۔

تھوک فروش عام طور پر کسی ایک شے کی خرید وفروخت کر سکتا ہے ۔ اس کے برعکس پرچون فروش روز مرہ کےاستعمال کی بہت سی اشیاء کی فروخت ہے۔

تھوک فروش شے کو بڑی مقدار میں خریدتا اور بیچتا ہے ۔ پر چون فروش لوگوں کی فوری ضروریات کو ملحوظ خاطر رکھتےہوۓ اشیاء کو چھوٹی چھوٹی مقدار میں خریدتا اور بیچتا ہے ۔

تھوک فروش اپنی اشیاء کاروباری افرادکوفروخت کرتا ہے ۔ پرچون فروش اشیاء صارفین کو فروخت کرتا ہے۔

تھوک فروش کی فروخت کردہ اشیاء پیدائش دولت کے کام آتی ہیں ۔ پرچون فروش کی فروخت کر دہ اشیاء صرف صارف کے کام آتی ہیں ۔استعمال کے بعد اس کی فروخت کردہ اشیاء کا افادہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جا تا ہے۔

پرچون فروش کی اقسام

پرچون فروشی کے کاروبار کی تقسیم بندی مندرجہ ذیل انداز میں کی گئی ہے۔

گھوم پھر کر کاروبار کرنے والے پرچون فروش

دکان میں بیٹھ کر کاروبار کرنے والے پرچون فروش

گھوم پھر کر کاروبار کرنے والے پر چون فروش کی اقسام مندرجہ ذیل ہیں۔

پھیری والے خوانچہ والے

سستے فروخت کار

منڈی کے کاروبار

گلیوں کے کاروباری

پھیری والے اور خوانچہ فروش

پھیری والے اپنی اشیاء ٹھیلے پر لاد کر گھر گھر جاتے ہیں خوانچہ والے اشیاء اپنے سر یا پشت پر اٹھائے پھرتےہیں۔ یہ عام طور پر جلد ضائع ہو جانے والی اشیاء فروخت کرتے ہیں ۔

سستے فروخت کار

یہ وہ کاروباری ہیں جن کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ یہ رہائشی علاقوں میں جگہ کرائے پر حاصل کر لیتے ہیں لیکن دکان کی کوئی مستقل حیثیت نہیں ہوتی اس لیے جب کسی علاقے میں کاروبار چمک اٹھتا ہے تو یہ دکان بلا وقت ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کر سکتے ہیں ۔ یہ روز مرہ کے استعمال کی اشیاءفروخت کرتے ہیں جن میں فاؤنڈیشن میں تیار شدہ کپڑے اور بچوں کے کھلونے شامل ہوتے ہیں

منڈی کے کاروباری افراد

اس نوع کے پرچون فروش ہفتہ کے مخصوص دنوں میں مختلف مقامات پر اپنی دکان لگاتے ہیں ۔ دکان کے سامنےگاہک کے لیے اشیاء کی نمائش کرتے ہیں ۔ پاکستان میں پرچون فروش کی بہترین مثال جمعہ بازار ہیں ۔ اس کے علاوہ اتوار بازار اور منگل بازار بھی نہ صرف وجود میں آئیں بلکہ تیزی سے عوام میں مقبول ہیں ۔

گلیوں کے کاروباری افراد

گنجان آباد شہروں میں بڑی بڑی شاہراہوں گلیوں اور سڑکوں کے کنارے اشیاء کی خرید وفروخت دیکھنے میں آئی ہے۔ کاروباری شخص اپنا مال دری یا چادر پر پھیلا دیتا ہے۔ عام طور پر ایسے افراد کسی مخصوص شے کی فروخت سے وابستہ ہوتے ہیں اور سینما گھروں ، ریلوے سٹیشن اور بس سٹاپوں کے آس پاس پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ یہ افراد ایسی اشیاء بیچتے ہیں جو آانی سے استعمال پذیر ہوتی ہیں ایک وقت میں ایک شخص ایک ہی شے کا کاروبار کرتا ہے۔ جو شےفروخت کی جارہی ہے

اس کی طلب بڑی مقدار میں کی جاتی ہے۔

گھوم پھر کر کاروبار کرنے والے ان پرچون فروشوں میں کچھ خصوصیات مشترک ہوتی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔

ان پرچون فروشوں کی مستقل جگہ نہیں ہوتی ۔

یہ پرچون فروش چوٹی مقدار میں اشیاء لیے پھرتے ہیں ۔

ان کے سرمائے کی مقدار قلیل ہوتی ہے۔

مستقل ایک ہی شے کا کاروبار نہیں کرتے ۔

ان کے انتظامی اخراجات کم ترین ہوتے ہیں اس لیے مستقل سکونت والی پر چون تنظیموں کے مقابلے میں قیمتیں بھی کم ہوتی ہیں ۔ پرچون فروش عموماً جلد ضائع ہو جانے والی اشیاء جیسے پھل ، سبنریاں ، مچھلی ، دودھ اور انڈا وغیرہ کاکاروبار کرتے ہیں مستقل سکونت والی پر چون تنظیموں کا بڑھ چڑھ کر مقابلہ کرتے ہیں ۔

سوال نمبر 3۔

ذرائع نقل وحمل کا مفہوم واضح کریں اور کامرس میں اس کی اہمیت پر روشنی ڈالیں ۔

ذرائع نقل وحمل کا مفہوم واہمیت

کامرس کی تعریف کو اگر ہم ذہن میں لائیں تو اس سے مراد’’ وہ معاشی مشاغل ہیں جو اشیاء وخدمات کے تبادلہ کے سلسلے میں انسانوں ،جگہ اور وقت کی کاوٹوں کودور کرتے ہیں۔

وہ رکاوٹیں جو انسان اور وقت سے متعلق ہوں ، وہ تاجر طبقہ معاونین تجارت ، انشورنس کمپنیوں اور بنکوں کی مدد سے دور کر لیا جا تا ہے لیکن جور کا وٹیں جگہ سے متعلق ہوتی ہیں ان کو دور کر نے کے لیے ذرائع آمد ورفت کی ضرورت ہوتی ہے۔

کسی ملک کی صنعتی اور تجارت ترقی کا انحصار وہاں کے ذرائع آمد ورفت پر ہوتا ہے۔ اگر ملک میں بہتر قسم کے ذرائع آمد ورفت ہوں گے تو ان سے صرف تجارتی سامان کی منتقلی میں آسانی ہوگی بلکہ لوگوں کی طرز زندگی اور معیار زندگی پر بھی بہت اچھا اثر پڑے گا اچھے ذرائع آمدورفت کی وجہ سے تبذیب و تمدن پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔اگر ہم پرانی تہذیب پر نظر ڈالیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ اس وقت ذرائع بہتر نہیں تھے اس لیے وہ لوگ تجارتی اور معاشرتی طور پر انتہائی پس ماندہ تھے

اس دور میں اشیاء و خدمات کی منتقلی تو کیا ایک انسان دوسرے انسان کی رہن سہن سے واقف تک نہ تھا۔

موجودہ دور میں کوئی ملک اور شہر ایک دوسرے سے دور نہیں رہا۔ فاصلے سمٹ گئے ہیں ۔ یہ سب آ خر کس کی بدولت ہوا۔ ذرائع آمد ورفت ہی کی بدولت آج ہم چھ سات ہزار میل دورر بنے والے غیر ملکی افراد کو بھی خود سے دور نہیں سمجھتے صرف اس لیے کہ ہم اس لیے کہ ذرائع آمد ورفت کی ترقی سے وقت اور فاصلے میں خاطر خواہ بچت رونما ہوئی ہے ۔

ذرائع آمد رفت کی اہمیت کا احساس ایک گاڑی یا جہاز کے وقت پر نہ پہنچنے سے ہوسکتا ہے ۔ ڈاک گاڑی یا جہاز میں کتنے ہی ضروری خطوط ہوں گے ، کتنے ہی ضروری پیغامات ہوں گے، کتنے ہی نئے کاروباری معاہدوں کی دستاویزات ہوں گی کتنی ہی کا روباری اطلاعات ہوں گی کتنی ہی موصولی اور ترسیلی معلومات ہوں گی ،فرش جب وقت پر پڑھ بھی منزل پر نہ پہنچ کے گا تو سب نظام درہم برہم ہو جائے گا ۔ اسی طرح مال جب ایک مقام سے دوسرے مقام تک وقت پر نہ پہنچے گا تو تمام کاروبار شد ید متاثر ہو گا ۔ کئی لوگ بیماری سے مر جائیں گے ، اور کئی لوگ قحط اور بھوک کا شکار ہوجائیں گے ۔ اور کئی جگہ پر وافر مال گل سڑ کر تباہ ہو جائے گا ۔یہ ہنستی کھیلتی باگتی دوڑتی دنیا خوفناک منظر پیش کرنے لگے گی ۔

ان مثالوں سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ذرائع آمد و رفت کسی ملک میں اسی قدر آئی میں جس قدر جسم کو حرکت میں رکھنے کے لئے خون اہم ہے ۔موجودہ دور میں ٹرانسپورٹ کی حرکت سے ہی ترقی اور سہولت میسر ہے ۔

ذرائع نقل و حمل کی معاشی اہمیت

اشیاء کی فراہمی

ذرائع آمد ورفت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہم ان کے ذریعے اشیاء کوان مقامات تک پہنچادیتے ہیں جہاں پران کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم ایسا نہ کر سکتے تو اس کے دو نمایاں نقصان ہوتے کہ ایک تو اشیاء ضرورت مندوں تک نہ پہنچیں اور دوسرے ان مقامات پرگل سڑ کر ضائع ہو جائیں جہاں وہ زائد از ضرورت ہوتیں۔

قیمتوں میں استحکام

ذرائع آمد ورفت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اگر یہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل نہ ہوسکتیں تو پھر ان کی قیمتوں میں کبھی استحکام پیدا نہ ہوتا۔

زمین کی قدر

ذرائع آمد ورفت اگر میسر نہ ہوں تو ان زمینوں کی قدرختم ہو جاۓ جو وافر مقدار میں پیدا وار نہیں دیتیں کیونکہ ہم ان پیداوار کو بھی بھی دوسرے مقامات پر نہ بھیجواسکیں ۔ ذرائع آمد ورفت کی وجہ سے چونکہ وہ دورمنڈیوں میں بھیج دی جاتی ہیں اس لیے ان زمینوں کی قد ربھی برقرار رہتی ہے جو منڈیوں سے بہت دور ہیں ۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ دور دراز کی زمینوں کے کراۓ اور لگان بڑھتے رہتے ہیں ۔مناسب ذرائع آمد ورفت اگر مہیا نہ ہوں تو بہت سی زمینیں غیر نفع بخش ہو جاتی ہیں اور اس کے نتیجے میں بہت سے افراد بے روزگار ہوجاتے ۔

ہائی ویز کی ترقی سے جب میدانی علاقوں میں اشیاء کا ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانا بہت مشکل تھا تب زراعت اور قدرتی وسائل میں ترقی متاثر ہوئی تھی ۔

قیمتوں میں کمی

ترقی یافتہ ذرائع کا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے اشیاء کی قیمتوں میں کمی واقع ہوتی ہے ۔ سستی ٹرانسپورٹیشن سےاشیاءکی پیداوار پر لاگت کم آتی ہے جس سے اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہو جاتی ہے ۔اشیاء کی قیمتوں میں کمی مندرجہ ذیل طریقوں سے واقع ہوتی ہیں ۔

خام مال کی فراہمی ۔

بہتر اور سستے ذرائع آمدورفت سے ہم مال بھی کم کرایہ پر حاصل کر سکتے ہیں ۔

مزدوروں کی فراہمی ۔

آسان اور بہتر ذرائع آمدورفت سے مزدوروں کی فراہمی بھی آسانی سے ممکن ہوتی ہے ۔

مشینوں کی فراہمی ۔

ملک میں ذرائع آمد و رفت اگر معقول اور محفوظ ہو تو مشینوں کی فراہمی میں کافی سہولت میسر آ جاتی ہے ۔اور ان کی منتقلی پر لاگت بھی کم آتی ہے جس کا بالآخر اشیاء کی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے ۔

مقابلے کی حالت ۔

جہاں بھی ذرائع آمدورفت بہتر اور سستے ہوں گے وہاں منڈیوں میں مقابلے کی حالت پیدا ہو جائے گی ۔اور اس طرح اشیاء کی قیمتوں میں کمی واقع ہو جائے گی جس کا عام صارف کو فائدہ پہنچے گا

شہروں کی طرف رجحان ۔

ٹرانسپورٹیشن اگر بہتر ہو گئی تو لوگوں کا رجحان شہروں کی طرف ہو گا اور یوں کاروباری اور اداروں کو سستے اور بہتر مزدور میسر آئیں گے جس سے اشیاء کی پیداواری لاگت میں کمی واقع ہوگی ۔

معاشرے کی خوشحالی ۔

بہتر اور سستی ٹرانسپورٹیشن سے چونکہ قیمتوں میں کمی واقع ہوتی ہے ۔اس لئے عام لوگوں کی قوت خرید بڑھتی ہے ۔اس طرح معاشرہ خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے ۔

سوال نمبر 4۔

اندر نی تجارت کی تعریف کریں نیز اندررنی تجارت کے طریقہ کار پر مفصل نوٹ لکھیں ۔

تجارت دراصل اجناس اور خدمات کے رضاکارانہ تبادلے کو کہا جاتا ہے۔

تجارت کی اصل شکل تبادلۂ اجناس تھی، جس میں اجناس اور خدمات کا براہِ راست یا بلاواسطہ تبادلہ کیا جاتا تھا۔ جدید تاجر عموماً تبادلۂ اجناس کی بجائے تجارت کا ایک وسیلہ اِستعمال کرتے ہیں، مثلاً پیسہ. نتیجتاً، خریداری کو فروخت یا منافع سے تفریق کیا جاسکتا ہے۔ پیسے کی ایجاد نے تجارت کو سادہ اور غیر پیچیدہ بنادیا ہے اور اِس کو اور ترقی سے نوازا ہے۔

دو تاجروں کے درمیان تجارت کو دو طرفی تجارت جبکہ دو سے زیادہ تاجروں کے درمیان تجارت کو کثیر فرقی تجارت کہتے ہیں۔

تجارت، اُس عمل کو بھی کہا جاتا ہے جو تاجرین اور مالیاتی منڈیوں کے کماش یا کارندے انجام دیتے ہیں۔

اندررنی تجارت کے طریقہ کار کے بارے میں مفصل نوٹ مندرجہ ذیل ہے

انتخاب محصول

اندررنی تجارت کے طریقہ کار کا پہلا قدم محصول کا انتخاب ہے۔ شروع کرنے سے پہلے، شخص کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس طرح کے محصولات بیچنا چاہتا ہے اور کس حصہ کی آمدنی سے مطمئن ہوگا۔

تجارتی رابطہ برقرار کریں

اندررنی تجارت کے لئے، آپ کو بین الاقوامی تجارت کرنے والے اشخاص کے ساتھ تعامل قائم کرنا ہوگا۔ آپ وہاں کے تجارتی پلیٹ فارم استعمال کر سکتے ہیں جہاں آپ دیگر تجارت کرنے والوں سے رابطہ برقرار کر سکتے ہیں۔

محصولات کی تلاش کریں

آپ اسی تجارتی پلیٹ فارم کے ذریعہ مختلف محصولات کی تلاش کر سکتے ہیں۔ آپ کو محصول کی شرح، قیمت، حمل و نقل کی شرح اور دیگر تفصیلات کی معلومات فراہم کردی جائیں گی۔

سفارش کی تیاری

سفارش تیار کرنے کے لئے، آپ کو محصول کی معلومات، حمل و نقل کی شرح، قیمت، اور کاروباری شرائط کے متعلق معلومات اکٹھی کرنی ہوگی۔

سوال نمبر 5۔

ملک کی ترقی کے لیے غیر ملکی تجارت کتنی ضروری ہے؟ مثالوں سے وضاحت کریں ۔

معافیض کی شکل میں بھی کام آتے ہیں۔ مثلاً، کسی ملک میں پیدا کردہ کسی خصوصیت کو دوسرے ملک میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، دوسری ممالک سے مصنوعات اور خدمات خریدنے کے ذریعہ، ملک کی مصنوعات اور خدمات کی جانچ پڑتال کر سکتے ہیں اور اپنے مصنوعات اور خدمات کو بہتر بنانے کے لیے انہیں مدد کر سکتے ہیں۔

بالخصوص، ترقی یافتہ ملکوں کے لیے، غیر ملکی تجارت بہت اہم ثابت ہوتی ہے۔ ایسے ملکوں کی مصنوعات اور خدمات دنیا بھر میں مقبول ہوتی ہیں، جس سے ان کی ملیت کو بہتر معیار زندگی کی صورت میں فائدہ پہنچتا ہے۔ علاوہ ازیں، ان ملکوں کے لوگوں کے لیے غیر ملکی تجارت کی وجہ سے بہترین مصنوعات، سامان اور خدمات دستیاب ہوتے ہیں۔

لیکن، اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی تجارت سے متعلق کچھ مسائل بھی ہیں، جن کے حل کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً، غیر ملکی تجارت سے متعلق کچھ ممالک اپنی مقامی مصنوعات کی حفاظت کرنے کی خاطر تنگدستی کرتے ہیں، جس سے دوسری ممالک کو نقصان ہوتا ہے۔

غیر ملکی تجارت ایک ممالک کے تجارتی معاشیات کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے جس سے وہ اپنے مصنوعات اور خدمات کو دوسرے ممالک کے بازاروں تک پہنچا سکتا ہے۔ ایسا کرنے سے، ملک کی ترقی اور اقتصادی استحکام میں اضافہ ہوتا ہے۔

غیر ملکی تجارت کی اہمیت کے دیگر خواص میں شامل ہیں

اضافہ شدہ ترقی:

غیر ملکی تجارت کی بنیاد پر، ملک کی ترقی کی رفتار کو بڑھایا جا سکتا ہے۔

توسعہ شدہ مصنوعات:

غیر ملکی تجارت کے ذریعہ، ملک کے مصنوعات کی نوعیت، مقدار، اور کیفیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

بہترین خدمات:

غیر ملکی تجارت کے ذریعہ، ملک کے لوگوں کو بہترین خدمات فراہم کرنے کا موقع حاصل ہوتا ہے۔

ملک کی ترقی کے لیے غیر ملکی تجارت

غیر ملکی تجارت، ملک کی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔ ملک کی ترقی کے لیے ملی آمدنی کو بڑھانا، مصنوعات اور خدمات کی ترقی کو فروغ دینا، تجارتی تعاملات کو بڑھانا، ملک کے لئے بیشتر مواد کی دستیابی کرنا، جدید انقلاب کو ترقی دینا اور ملازمت کی بہترین فراہمی کرنا، غیر ملکی تجارت سے ممکن ہوتا ہے۔

ایک مثال کے طور پر، اگر کوئی ملک غیر ملکی تجارت کے ذریعہ ایک خاص قسم کے مصنوعات کو صادر کرتا ہے جو دوسرے ممالک میں مقبول ہیں، تو اس سے اس ملک کی مصنوعات اور خدمات کی قیمت بھی بڑھتی ہے اور اس ملک کی مصنوعات اور خدمات کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے دوسرے ممالک اس سے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں، غیر ملکی تجارت سے اس ملک کی مصنوعات اور خدمات کی قیمت بھی کم ہوتی ہے اور دوسرے ممالک سے اس ملک میں داخل کردہ مصنوعات اور خدمات کی وجہ سے اس ملک کی مصنوعات اور خدمات بھی بہتر ہوتی ہیں۔

غیر ملکی تجارت کے بہت سے مثال ہیں، چنانچہ ان میں سے کچھ ہیں

صادرات اور واردات:

یہ غیر ملکی تجارت کے سب سے عام اور بنیادی طریقوں میں سے ایک ہے۔ ملک سے باہر بیچے جانے والے مصنوعات کو صادرات کہتے ہیں، جبکہ دوسرے ممالک سے ملک میں داخل کردہ مصنوعات کو واردات کہتے ہیں۔

سیاحت:

سیاحت بھی غیر ملکی تجارت کا حصہ ہے۔ ملک میں آنے والے سیاحوں کے لئے تعدادی خدمات فراہم کی جاتی ہیں، جس میں ہوٹل، ٹرانسپورٹ، خریداری، کھانے پینے، سفری ایجنٹ وغیرہ شامل ہیں۔

سرمایہ کاری:

دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری کرنے کا بھی طریقہ غیر ملکی تجارت کا حصہ ہے۔ سرمایہ کار دوسرے ممالک میں پیسوں کی انویسٹمنٹ کرتا ہے، جس سے اس کی مالی صورتحال بہتر ہوتی ہے۔

لائسنسنگ:

لائسنسنگ یعنی ایک ملک کے مصنوعات، خدمات، یا تجربے کو دوسرے ممالک میں استعمال کرنے کی اجازت دینا۔ لائسنسنگ غیر ملکی تجارت کے طریقوں میں سے ایک ہے جس کے ذریعے مصنوعات کو دوسرے ممالک میں توسیع دی جاتی ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *