AIOU Course Code343-2 Solved Assignment Spring 2023

کورس: اسلامیات

کوڈ : 343

مشق نمبر2

پروگرام: ایف اے

سمسٹر:بہار 2023

حج کے احکام

حج کے تفصیلی احکام

8/ذوالحج(یوم الترویہ)

مکہ مکرمہ میں جہاں آپ رہائش پذیر ہیں وہیں سے حج کا احرام باندھ لیں.احرام حج کا طریقہ بھی وہی ہے جو احرام عمرہ کا ہے.لہذا صفائی اور غسل کرکے اور بدن پر خوشبو لگا کر احرام کا لباس پہن لیں.پھر “لبيك اللهم حجا” کہتے ہوئے حج کی نیت کرلیں اور تلبیہ شروع کردیں اور دس ذوالحج کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ پڑھتے رہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھا.(متفق علیہ)

احرام باندھ کر ظہر سے پہلے منی کی طرف روانہ ہوجائیں.منی میں ظہر ، عصر،مغرب،عشاءاور نو ذوالحج کی فجر کی نمازیں قصر کرکے اپنے اپنے وقت پر پڑھیں اور رات کو وہیں قیام کریں.یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے.(متفق علیہ)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں ہی ظہر ،عصر ،مغرب،عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھائیں اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کو روانہ ہوئے.(الترمذی:879-و صححہ الالبانی)

ذوالحج(یوم عرفہ)

یوم عرفہ انتہائی عظیم دن ہے،اس دن عرفات کا وقوف حج کا سب سے اہم رکن ہے.اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وقوف عرفہ کو حج قرار دیا ہے.(ترمذی:889- و صححہ الالبانی)

اس دن کی فضیلت بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبدا من النار من يوم عرفة، و إنه ليدنو ثم يباهي بهم الملائكة فيقول: ما أراد هؤلاء؟”(مسلم:1348).

جبکہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں وقوف فرمایا اور جب سورج غروب ہونے والا تھا تو آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا:اے بلال!ذرا لوگوں کو خاموش کرکے میری طرف متوجہ کرو.چنانچہ انھوں نے لوگوں کو خاموش کرایا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “معاشر الناس، أتاني جبريل آنفا، فأقرأني من ربي السلام، و قال: إن الله عز و جل غفر لأهل عرفات، و أهل المشعر، و ضمن عنهم التبعات” تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ ہمارے لئے خاص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “هذا لكم و لمن أتى من بعدكم إلى يوم القيامة” (صحيح الترغيب و الترهيب للألباني:1151).

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عرفہ کو فجر کی نماز منی میں ادا فرمائی،اور پھر(طلوع شمس کے بعد)آپ عرفات کو روانہ ہوگئے.عرفات میں پہونچ کر آپ نمرہ میں اترے.اور وہ مقام ہے جہاں عرفات میں امام اترتا ہےیہاں تک کہ جب ظہر کی نماز کا وقت ہوا تو آپ نے اول وقت میں ظہر اور عصر کو جمع کیا.پھر آپ نے لوگوں کو خطاب کیا: اس کے بعد آپ نے عرفات میں وقوف کیا.(ابوداود:1913-وحسنہ الالبانی)

1) نو ذوالحج کو طلوع شمس کے بعد تکبیر اور تلبیہ کہتے ہوئے عرفات کی طرف روانہ ہوجائیں.عرفات میں پہونچ کر اس بات کا یقین کرلیں کہ آپ حدود عرفہ کے اندر ہیں؟پھر (زوال شمس کے بعد)اگر ہوسکے تو امام کا خطبہ حج سنیں اور اس کے ساتھ ظہر اور عصر کی نماز جمع اور قصر کرکے پڑھیں.اور اگر ایسا نہ ہوسکے تو اپنے خیمے میں ہی دونوں نمازیں جمع و قصر کرتے ہوئے ادا کرلیں.

2) پھرغروب شمس تک ذکر، دعا،تلبیہ اور تلاوت قرآن میں مشغول رہیں.اور اللہ تعالی کے سامنےعاجزی و انکساری ظاہر کریں، اپنی گناہوں سے سچی توبہ کریں اور ہاتھ اٹھا کردنیا و آخرت میں خیر و بھلائی کی دعا کریں.رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:”خير الدعاء دعاء يوم عرفة، و خير ما قلت أنا و النبيون من قبلي: “لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك و له الحمد، و هو على كل شيء قدير” (الترمذي:3585و حسبه الألباني- الصحيحة:1503)

3) وقوف عرفہ کا وقت زوال شمس سے لیکر دس ذوالحج کی رات کو طلوع فجر تک رہتا ہے .اس دوران حاجی ایک گھڑی کے لئے بھی عرفات میں چلا جائے تو حج کا یہ رکن پورا ہوجائے گا.

4) غروب شمس کے بعد عرفات سے انتہائی سکون کے ساتھ مزدلفہ کو روانہ ہوجائیں.حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ یوم عرفہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفہ سے واپس لوٹے.نبی کریم نے اپنے پیچھے سے سواریوں کو مارنے اور شدید ڈانٹنے کی آوازیں سنیں تو آپ نے اپنے کوڑے سے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: “أيها الناس، عليكم بالسكينة فإن البر ليس بالإيضاع” (البخاري:1671)

5)یوم عرفہ کو مغرب کی نماز عرفات میں نہیں بلکہ مزدلفہ میں پہنچ کر عشاء کے ساتھ جمع کرکے پڑھیں.

6)مزدلفہ میں سب سے پہلےمغرب و عشا ء کی نمازیں جمع و قصر کرکے با جماعت ادا کریں،پھر اپنی ضرورتیں پوری کرکے سو جائیں.جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں جمع فرمائیں.ہر نماز کے لئے الگ الگ اقامت کہی گئی اور ان دونوں کے درمیان اور اسی طرح ان کے بعد آپ نے کوئی نفل نماز نہیں پڑھی.(البخاری:1673)

7)عورتوں کے لئے اور ان کے ساتھ جانے والے مردوں اور بچوں کے لئے اور اسی طرح کمزوروں کے لئے جائز ہے کی وہ آدھی رات کے بعدمزدلفہ سے منی چلے جائیں.حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے گھر والوں میں سے کمزور لوگ مزدلفہ المشعر الحرام کے پاس رات کے وقت وقوف کرتے تھے اور وہ جتنا چاہتے اللہ تعالی کا ذکر کرتے.پھر حضرت ابن عمر امام کے وقوف اور اس کے منی کو لوٹنے سے پہلے ہی ان کمزور لوگوں کومزدلفہ سے جلدی روانہ کردیتے.چنانچہ ان میں سے کوئی نماز فجر کے وقت منی میں پہنچتا اور کوئی اس کے بعد.اور وہ جیسے ہی منی میں پہنچتے جمرہ عقبہ کو رمی کرتے.اور حضرت عبد اللہ بن عمر کہا کرتے تھےکہ ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی تھی.(متفق علیہ)

اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ہم نے مزدلفہ میں پڑاو ڈالا تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ لوگوں کے ازدحام سے پہلے وہاں سے منی کو چلی جائیں؟ وہ بھاری جسم کی مالک تھیں اور بہت آہستہ آہستہ چلتی تھیں.چنانچہ رسول اللہ نے انہیں اجازت دیدی، اس لئے وہ لوگوں کے رش سے پہلے ہی روانہ ہوگئیں.اور ہم صبح تک آپ کے ساتھ ہی ٹھہرے رہے، پھر آپ کے ساتھ ہی منی کو واپس لوٹے. اور اگر میں نے بھی رسول اللہ سے اجازت طلب کرلی ہوتی جیسا کہ سودہ نے طلب کی تھی تو یہ میرے لئے اس بات سے بہتر ہوتا جس پر میں خوش ہو رہی تھی(آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے پر)(متفق علیہ)

بعض غلطیاں: (1)حدود عرفہ سے باہر وقوف کرنا.(2)یہ عقیدہ رکھنا کہ جبل رحمت پر چڑھے بغیر وقوف عرفہ مکمل نہیں ہوتا حالانکہ جبل رحمت پر چڑھنے کی کوئی فضیلت نہیں ہے اور نہ ہی یہ کار ثواب ہے.(3)غروب شمس سے پہلے عرفات سے روانہ ہوجانا.(4)مزدلفہ میں پہونچ کر سب سے پہلے مغرب و عشاء کی نمازوں کی ادائیگی کے بجائے کنکریاں چننے میں لگ جانا.(5)مزدلفہ کی رات میں نوافل پڑھنا.

ذوالحج(یوم عید)

1)فجر کی نماز مزدلفہ میں ادا کریں،پھر صبح کی روشنی پھیلنے تک قبلہ رخ ہوکرذکر، دعا اور تلاوت قرآن میں مشغول رہیں.

2) بڑے جمرۃ کو کنکریاں مارنے کے لئے مزدلفہ سے چنے کے برابر کنکریاں اٹھا سکتے ہیں.البتہ یہ لازم نہیں کہ مزدلفہ سے ہی اٹھائی جائیں.جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مزدلفہ سے منی واپس لوٹتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب محسر میں پہنچے جو کہ منی میں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ]”عليكم بحصى الحذف الذي يرمى به الجمرة” (مسلم:1282)

(3)پھر طلوع شمس سے پہلے منی سے روانہ ہوجائیں،راستے میں وادی محسر کو عبور کرتے ہوئے تیز تیز چلیں.

4) منی میں بڑے جمرۃکے پاس پہنچ کر تلبیہ بند کردیں اور بڑے جمرۃ کو جو کہ مکہ مکرمہ کی طرف ہے سات کنکریاں ایک ایک کرکے ماریں،ہر کنکری کے ساتھ “اللہ اکبر” کہیں.کمزور یا بیمار مرد، بچے اور اسی طرح کمزور یا عمر رسیدہ خواتین کنکریاں مارنے کے لئے کسی دوسرے شخص کو وکیل بنا سکتے ہیں.

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوم النحر کو چاشت کے وقت کنکریاں مارتے اور اس کے بعد دیگر ایام میں زوال شمس کے بعد رمی کرتے.(مسلم:1299)

5) پھر قربانی کا جانورذبح کریں جو بے عیب ہو اور مطلوبہ عمر کے مطابق ہو.قربانی کے جانور کی عمر کا لحاظ نہ کرنا اور عیب دار جانور قربان کردینا ناجائز ہے.یاد رہے کہ آپ قربانی11یا12یا13ذوالحج کو بھی کرسکتے ہیں.یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کسی با اعتماد شرکہ میں پیسہ جمع کروا دیں جو آپ کی طرف سے قربانی کرنے کی پابند ہوگی.اور اگر آپ مالی مجبوری کی بنا پر قربانی نہ کرسکیں تو آپ کو دس روزے رکھنا ہونگے.تین ایام حج میں اور سات وطن لوٹ کر.

6)پھر سر کے بال منڈوا دیں یا پورے سرکے بال چھوٹے کروادیں،البتہ بال منڈوانا افضل ہے.کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال منڈوانے والوں کے لئے مغفرت(ایک روایت میں رحمت) کی دعا تین مرتبہ فرمائی جبکہ بال چھوٹے کروانے والوں کے لئے آپ نے یہ دعا ایک بار ہی فرمائی.خواتین اپنی ہر چوٹی سے انگلی کے ایک پور کے برابر بال کٹوا‏ئیں.

اس کے ساتھ ہی آپ کو تحلل اصغرحاصل ہوجائے گا.اب آپ احرام اتار کر صفائی اور غسل وغیرہ کرکے اپنا عام لباس پہن لیں اور طواف افاضہ کے لئے خانہ کعبہ چلے جائیں.

7) طواف افاضہ حج کا رکن ہے.اگر کسی وجہ سے آپ دس ذوالحج کو طواف افاضہ نہ کرسکیں تو اسے بعد میں بھی کرسکتے ہیں.اگر خواتین مخصوص ایام میں ہوں تو وہ طہارت کے بعد طواف کریں.

8) طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعات ادا کریں،پھر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کریں اور منی کو واپس چلے جائیں.

9) دس ذوالحج کےچار کام(کنکریاں مارنا،قربانی کرنا،حلق یا تقصیر،طواف و سعی)ترتیب یہی ہے ان میں تقدیم و تاخیر بھی جائز ہے.حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منی میں کھڑے ہوئے تھے تو لوگوں نے آپ سے سوالات کرنا شروع کرد‏یئے.چنانچہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا:اے اللہ کے رسول!مجھے پتہ نہیں چلا اور میں نےحلق قربانی کرنے سے پہلے کرلیاہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اذبح و لا حرج” پھر ایک اور شخص آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے بھی پتہ نہیں چلا اور میں نے قربانی رمی کرنے سے پہلے کرلی ہے تو آپ نے فرمایا:”ارم و لا حرج”اس کے بعد رسول اللہ سے ان امور کی تقدیم و تاخیر کے بارے میں جو سوال کیا گیا آپ نے فرمایا: “افعل و لا حرج” (متفق عليه)

ایام تشریق

1)11اور12ذوالحج کی راتیں منی میں گزارنا واجب ہے.12کو کنکریاں مارنے کے بعدمنی سے جا سکتے ہیں تاہم13کی رات وہیں گزارنا اور13 کے دن کنکریاں مار کے وہاں سے جانا افضل ہے.ان ایام میں تینوں جمرات کو کنکریاں مارنی ہیں جس کا وقت زوال شمس سے لیکر آدھی رات تک ہوتا ہے.حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “لما أتى إبراهيم خليل الله المناسك عرض له الشيطان عند الجمرة العقبة، فرماه بسبع حصيات حتى ساخ في الأرض، ثم عرض له عند الجمرة الثانية، فرماه بسبع حصيات حتى ساخ في الأرض، ثم عرض له عند الجمرة الثالثة، فرماه بسبع حصيات حتى ساخ في الأرض” پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:تم شیطان کو رجم کرتے ہو اور اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کے دین کی پیروی کرتے ہو.(صحیح الترغیب و الترہیب:1156)

2)سب سے پہلےچھوٹے جمرۃ کو سات کنکریاں ایک ایک کرکے ماریں،ہر کنکری کے ساتھ “اللہ اکبر” کہیں، پھر اسی طرح درمیانے جمرۃ کو کنکریں ماریں.اور اگر آپ کو کسی دوسرے کی طرف سے بھی کنکریاں مارنی ہوں تو پہلے اپنی کنکریاں مار کر پھر اس کی کنکریاں ماریں.چھوٹے اور درمیانے جمرۃ کو کنکریاں مارنے کے بعد قبلہ رخ ہو کر اور ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا مسنون ہے.بڑے جمرۃکو بھی اسی طرح کنکریاں ماریں اس کے بعد دعا نہ کریں.

3)تینوں جمرات کو کنکریاں مارنے کے لئے کنکریاں منی میں کسی بھی جگہ سے اٹھا سکتے ہیں.کنکریاں جمرات کا نشانہ لیکر اور حسب استطاعت قریب جاکر ماریں.جمرات کو شیطان تصور کرکے انہیں گالیاں دینا یا جوتے رسید کرنا جہالت ہے.

بعض غلطیاں: (1)کنکریاں دھونا (2)ساتوں کنکریاں ایک ساتھ مار دینا (3)کنکریاں مارنے کے مشروع وقت کا لحاظ نہ کرنا (4)ترتیب کا لحاظ نہ کرنا (5)بڑے سائز کے کنکر یا پتھر مارنا(6)ایام تشریق کی راتیں منی میں نہ گزارنا.

طواف الوداع

مکہ مکرمہ سے روانگی سے پہلے طواف وداع کرنا واجب ہے.رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: “لا ينفرن أحد حتى يكون آخر عهده بالبيت” (مسلم:1327).

ہاں اگر خواتین مخصوص ایام میں ہوں تو ان پر طواف وداع واجب نہیں ہے.حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ مناسک حج میں ان کا سب سے آخری کام بیت اللہ کا طواف ہو،ہاں البتہ حائضہ عورت کو اس کی اجازت دیدی گئی ہے.(متفق علیہ).

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *