AIOU 4631-1 مطالعہ فقہ اسلامی Solved Assignment Autumn 2022

AIOU Course Code 4631-1 Solved Assignment Autumn 2022

کورس کوڈ۔4631

مشق نمبر۔1۔

سوال نمبر 1- صغار صحابہ کرام کے دور میں قانون سازی کی تفصیل تحریر کریں

جواب۔

دنیاکی تاریخ بادشاہوں کے تذکروں سے بھری پڑی ہے۔ایک سے ایک قابل اور ایک سے بڑھ کرایک نااہل ترین حکمرانوں نے اس دنیاکی تاریخ میں اپنے نام کھرچے لیکن گنتی کے چند حکمران گزرے ہیں جو بذات خود قانون ساز تھے اور انہوں نے صرف حکمرانی ہی نہیں کی بلکہ انسانیت کو جہاں قانون سازی کے طریقے بتائے وہاںقوانینِ حکمرانی و جہانبانی بھی بنائے۔ایسے حکمران انسانیت کااثاثہ تھے۔امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب خلیفہ ثانی انہی حکمرانوں میں سے ہیں جنہوں نے عالم انسانیت کو وحی الہٰی کے مطابق قوانین بناکر دیئے اور قانون سازی کے طریقے بھی تعلیم کیے۔

    رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتاتووہ حضرت عمر ہوتے۔حضرت عمر رضی اﷲتعالی عنہ نے نبیکے اس قول کو سچ کردکھایااور حدوداﷲسے لے انتظام ِسلطنت تک میں اس طرح کی قانون سازی کی کہ آج21یں صدی کی دہلیزپر بھی سائنس اور تکنالوجی اور علوم و معارف کی دنیاؤں میں آپ رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے بنائے ہوئے قوانین ’’عمرلا(Umar Law)‘‘کے ہی نام سے رائج و نافذ ہیں اور عالم انسانیت تک حضرت عمررضی اﷲتعالیٰ عنہ کافیضِ عام پہنچ رہاہے۔دنیاکے دیگربادشاہوں نے جوکچھ بھی قانون بنائے وہ اپنی ذات،،نسل،خاندان یااپنی قوم و ملک کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنائے جبکہ حضرت عمر کے بنائے ہوئے قوانین میں خالصتاًشریعت اسلامیہ کے فراہم کیے ہوئے اصول و مبادی شامل تھے۔

    باقی بادشاہوں اور حضرت عمرؓ کی قانون سازی میں ایک اور بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ باقی بادشاہوں کے قوانین ایک مرتبہ بننے کے بعد ان بادشاہوں کی اناکامسئلہ بن جاتے،اور کوئی بادشاہ بھی ان قوانین میں تبدیلی کو اپنی اناوخودی کی تذلیل سمجھتاجبکہ حضرت عمررضی اﷲتعالیٰ عنہ کوجب بھی اپنی قانون سازی کے برخلاف کوئی نص میسر آتی توآپ فوراًرجوع کرلیتے اور کبھی بھی اپنی جھوٹی اناکے خول میں گرفتار نہ ہوتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ آج تک کُل اسلامی مکاتب فکر میں آپ ؓکے فیصلوں کو قانونی نظیرکی حیثیت حاصل رہی ہے۔

03038507371

 

سوال 2۔ امام ابو حنیفہ اور حنفی مسلک کا تفصیلی تعارف پیش کریں

جواب۔

فقہِ حنفی سے مراد وہ مسائل ہیں جو امام اعظم ابوحنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  کے منہجِ استنباط کے مطابق اَخذ کیے جاتے ہیں۔ اور ’’منہجِ استنباط‘‘ سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے اس مسلک سے وابستہ اہلِ علم نِت نئے مسائل کا شرعی حل دریافت کرتے ہیں۔ اس معنیٰ کے لیے دوسرا مشہور لفظ ’’اُصولِ اجتہاد‘‘ ہے، جس کی تفصیلات ’’علمِ اصولِ فقہ‘‘ کی کتب میں بیان کی جاتی ہیں۔

بحث آگے بڑھانے سے قبل مناسب ہے کہ اس عنوان کی تعریف ذکر کر دی جائے۔

’’مَنْہَج‘‘ کہتے ہیں ’’واضح راستے‘‘ کو، اور ’’مَنْہَج‘‘کی جمع ’’مَنَاہِج‘‘ ہے۔ ’’استنباط‘‘ کامعنی ہے: ’’الاستخراج بفہمٍ و اجتہادٍ‘‘ یعنی سمجھ بوجھ اور کوشش کر کے کسی چیز کو نکالنا۔ فقہ میں اس کا معنی ہے: ’’استخراج المجتہد المعانيَ و الأحکامَ الشرعیۃَ من النصوص و مصادر الأدلۃ الأخرٰی‘‘ یعنی مجتہد کا الفاظ سے معانی، اور نصوص اور دیگر دلائل سے احکامِ شرعیہ حاصل کرنا۔

پھر ’’منہجِ استنباط‘‘ کی لقبی تعریف کی جائے تو وہ کچھ یوں بنے گی:

’’ھو علم یعرف فیہ الدلائل التي یستنبط منہا الأحکام الشرعیۃ العملیۃ۔‘‘

یعنی ایسا علم جس کے ذریعے اُن دلائل کی معرفت حاصل ہو، جن کی بنیاد پر اَحکامِ شرعیہ عملیہ کو سمجھ بوجھ اور محنت و کوشش سے معلوم کیا جاتا ہے۔

(۱)حنفی مذہب اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  کا جامع تعارف

حنفی مذہب کے امام، امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت  رحمۃ اللہ علیہ ہیں، جن کی ولادت کوفہ میں سن ۸۰ ہجری میں، اور وفات بغداد میں سن ۱۵۰ ہجری میں ہوئی اور اس وقت جہاں آپ کی قبر ہے، اس علاقے کو ’’اعظمیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ آپ کے زمانے میں اہلِ سنت کے اہلِ علم دو گروہوں میں تقسیم تھے :

اہلِ حدیث: ….. اس سے مراد وہ لوگ تھے جن کی توجہ اور کاوشوں کا اصل محور احادیثِ نبویہ تھیں، اور اجتہادی مسائل کی طرف توجہ بس ضرورت کے کم سے کم درجے تک محدود تھی۔

 …………………………………………………………………………………………………………..

………………………………………………………………………………………………………..

…………………………………………………………………………………………………………..

 

سوال 3۔ پاکستان میں اسلامی قانون سازی اور اس سے متعلقہ اداروں پر تفصیلی بحث کریں

جواب۔

قانون سازی

حصہ اول۔ مسودات قانون پیش کرنا

(اے) غیر سرکاری اراکین کے مسودات قانون

89۔ غیر سرکاری اراکین کے مسودات قانون کا نوٹس۔ (1) ذیلی قاعدہ (2)کی شرائط کے تابع کوئی غیر سرکاری رکن سیکرٹری کو اپنے مسودہ قانون پیش کرنے کے ارادے سے متعلق پندرہ روز کا تحریری نوٹس دینے کے بعد مسودہ قانون پیش کرنے کے لئے اجازت طلبی کی تحریک پیش کر سکتا ہے۔

(2) سپیکر قلیل المہلت نوٹس پر بھی مسودہ قانون پیش کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔

][1](3) نوٹس کے ساتھ رکن کی جانب سے دستخط شدہ مسودہ قانون کی ایک نقل مع بیان اغراض و وجوہ لف ہونی چاہیے اور اگر مسودہ قانون، کوئی ایسا مسودہ قانون ہو، جسے اسمبلی میں پیش کرنے کےلئے آئین کےتابع حکومت کی منظوری درکار ہو تو نوٹس کے ساتھ یہ درخواست بھی لف ہوگی کہ یہ منظوری حاصل کی جائے۔[

][2](4) اگر کسی مسودہ قانون کے ساتھ ذیلی قاعدہ (3)کے تحت درخواست لف ہو تو سیکرٹری حکومت کے احکامات کے حصول کےلئے مسودہ قانون کی ایک نقل متعلقہ محکمہ کو بھجوانے کا اہتمام کرے گا اور یہ احکامات موصول ہونے پر رکن متعلقہ کو مطلع کرے گا۔

[3]](5) اگر یہ سوال پیدا ہوجائے کہ آیا کسی مسودہ قانون یا کسی مسودہ قانون میں ترمیم کےلیے حکومت کی منظوری درکار ہے یا نہیں تو اس بارے میں فیصلہ سپیکر کرے گا اور اس کا فیصلہ حتمی ہوگا۔[

(6) سپیکر ایسے مسودہ قانون کو پیش کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر سکتا ہے جو اس کی رائے میں اسمبلی میں پیش نہ کیا جا سکتا ہو یا بصورت دیگر باضابطہ نہ ہو۔

 90۔ غیر سرکاری اراکین کا مسودات قانون پیش کرنا۔ (1) غیر سرکاری اراکین کے مسودات قانون پیش کرنے کی اجازت طلبی کی تحاریک،جن کی سپیکر نے اجازت دے دی ہو، اس دن کی فہرست کارروائی میں شامل کی جائیں گی جو غیر سرکاری اراکین کی کارروائی کے لئے مقرر کیا گیا ہو۔

03038507371

 

سوال4۔ ہندوستان میں مدون کی گئی اہم کتب فتاوی کا تعارف کروائیں

جواب۔

فتاویٰ عالمگیری اور اس کے مؤلفین

جناب نبی کریم ا کے زمانے سے لے کر آج تک مسلمان جہاں کہیں گئے، وہاں انہوں نے اپنے علمی، اخلاقی، عملی اور تمدنی مآثر چھوڑے، جو آج تک ان کی پہچان بنے ہوئے ہیں۔

دینی علوم میں خدمات کے اعتبار سے بر صغیر پاک وہند کو ایک ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ یہاں مختلف اسلامی علوم نے اپنے لئے جگہ بنائی، مفسرین پیدا ہوئے، محدثین نے علم حدیث کی بساط بچھائی اور فقہاء نے فہم ودرک کی مسندیں آراستہ کیں، نوپیش آمدہ مسائل کی گِرہ کشائی کی، کتابیں لکھیں، مدرسے قائم کئے اور وعظ وارشاد کی محفلیں سجائیں۔اس کارِ خیر میں علماء امت کے فرض منصبی کی بجا آوری میں بعض سلاطین اسلام کی دین دوستی کا بہت بڑا حصہ بھی شامل ہے۔

ایسے ہی علمی کارناموں میں سے ایک اہم کارنامہ ’’الفتاویٰ الہندیۃ‘‘ معروف بہ فتاویٰ عالمگیری بھی ہے، جسے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیرؒکی ایماء وتمنا پر علماء کی ایک جماعت نے مرتب کیا۔

…………………………………………………………………………………………………………..

………………………………………………………………………………………………………..

…………………………………………………………………………………………………………..

 

 

سوال5۔اصول فقہ کے مختلف اصطلاحات اور ان کا تعارف کا بیان کریں

جواب۔

فقہ کا معنی و مفہوم

لغوی وضاحت:

لفظ فقہ فہم، سمجھ اور دانش کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیساکہ مندرجہ ذیل دلائل سے واضح ہے:

قَالُواْ يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِّمَّا تَقُولُ ۔﴿۱﴾

ترجمہ : انہوں نے کہا اے شعیب!تیری اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں نہیں آتیںـ”

فَمَا لِهَؤُلاء الْقَوْمِ لاَ يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا ۔ ﴿۲﴾

ترجمہ : انہیں کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات سمجھنے کے بھی قریب نہیںـ”

ارشاد باری تعالی ہے کہ :فَلَوْلاَ نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُواْ فِي الدِّينِ ۔﴿۳﴾

ترجمہ :ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت نکلے تاکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریںـ”

حدیث نبوی ہے کہ : من یرد اللہ بہ خیرا یفقہ فی الدین

ترجمہ : “اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں، اسے دین کی سمجھ عطا فرمادیتے ہیں ﴿۴﴾ ـ ​

یہ لفظ عربی گرائمر کے اعتبار سے باب فَقِہَ ، فَقُہَ (سمع،کرم) کا مصدر ہےـ باب تَفَقَّہَ(تفعّل) بھی اسی معنی میں استعمال کیا جاتا ہےـ فَقَّہَ ، اَفُقَہَ (تفعیل، افعال) یہ ابواب ، سکھانا اور سمجھانا،، کے معانی میں مستعمل ہیں ـ لفظِ فقیہ “علمِ فقہ جاننے والے اور بہت سمجھ دار شخص پر بولا جاتا ہےـ اس کی جمع “فُقَھَاءُ” مستعمل ہے ﴿۵﴾

یعنی فقہ کے حقیقی معنی کسی شئی کو کھولنا اور واضح کرنا ہے۔ فقیہ اس عالم کو کہتے ہیں جو احکام شریعہ کو واضح کرے اور ان کے حقائق کا سراغ لگاۓ او مغلق و پچیدہ مسائل کو واضح کرے ۔ فقہ کے لغوی معنی کیسی چیز کو جاننا ہے۔ پھریہ علم شریعت کے ساتھ خاص ہو گيا۔

03038507371

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected ! click on any one google Ads to copy meterial
//
Muhammad Usman
04:00 PM- 07:00 AM
//
Muhammad Rizwan
07:00 AM-04:00 PM
Chat On Whatsapp

AdBlocker Dectected

Please turn off Ad Blocker and refresh the page